1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بغیر نکاح غیرلڑکی سے جسمانی تعلقات قائم کرنا جائز ہے اگر وہ ۔۔۔

'متفرقات' میں موضوعات آغاز کردہ از کنعان, ‏جنوری 01، 2018۔

  1. ‏جنوری 01، 2018 #1
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    ”بغیر نکاح غیرلڑکی سے جسمانی تعلقات قائم کرنا جائز ہے اگر وہ ۔۔۔“ معروف عالم دین نے انتہائی متنازعہ فتویٰ دیدیا
    01 جنوری 2018 (14:42)

    لاہور (ویب ڈیسک) اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں ہرمسئلے کے بارے میں واضح ہدایات موجود ہیں اور اگر کوئی ضرورت محسوس ہو تو علماء حضرات تشریح کر دیتے ہیں لیکن ایک معروف پاکستانی عالم دین نے مخالف صنف سے جسمانی تعلقات کے بارے میں انتہائی متنازعہ فتویٰ دیدیا، وہ نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کر رہے تھے تاہم ان کی یہ پرانی ویڈیو آج کل انٹرنیٹ پر وائرل ہو رہی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق علامہ ابتسام الٰہی ظہیر کا کہنا تھا کہ ’غلام عورتوں کے ساتھ بغیر نکاح کے جسمانی تعلقات قائم کرنا جائز ہے، اسلام پر اعتراض کرنیوالے ہم کون ہوتے ہیں،

    مزید وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ جنگ کے دوران کمانڈر انچیف نے ایک عورت پکڑ لی تو اس کی دو صورتیں ہیں،

    • ایک یہ کہ قتل کر دیں
    • یا پھر منڈی بھیج دیا جائے،
    • تیسری صورت یہ ہے کہ کسی مسلمان کے سپرد کر دیں۔ اگر کمانڈر یا امیر لشکر کسی مسلمان کی تحویل میں دے تو وہ اپنی خواہشات پوری کرتا ہے ، اس میں کوئی قباحت نہیں۔
    ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ باندی یا لونڈی سے بغیر نکاح کے جسمانی تعلقات کی اجازت ہے“۔

    نیوز ویب سائٹ پڑھ لو کے مطابق یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ اسلام بغیر نکاح کے بھی جسمانی تعلقات کی اجازت دیتا ہے۔ جب کہ اگر حقیقی معنوں میں دیکھا جائے تو اسلام نے کبھی بھی معاشرے کو اس طرح بے لگام ہونے کا حکم نہیں دیا۔

    اس حوالے سے قرآن کی سورة النسا کی آیت نمبر 3 کی مثال پیش کی جاتی ہے

    اور اگر تم یتیم لڑکیوں سے بے انصافی کرنے سے ڈرتے ہو تو جو عورتیں تمہیں پسند آئیں ان میں سے دو دو تین تین چار چار سے نکاح کر لو، اگر تمہیں خطرہ ہو کہ انصاف نہ کر سکو گے تو پھر ایک ہی سے نکاح کرو یا جو لونڈی تمہارے ملِک میں ہو وہی سہی، یہ طریقہ بے انصافی سے بچنے کے لیے زیادہ قریب ہے“۔

    تاہم

    آیت نمبر 24 ”دوسروں کی بیویاں تم پر حرام ہیں البتہ تمھاری باندیاں تم پر حرام نہیں ہیں

    آیات کا سہارہ لے کر بہت سارے لوگ یہ دعوی کرتے نظر آتے ہیں کہ جن عورتوں کی قیمت ادا کر کے ان پر قبضہ کر لیا جائے ان کے ساتھ جسمانی تعلقات قائم کرنے کی بغیر نکاح کے بھی اجازت ہے۔ مگر یہ بالکل وہی مثال ہے کہ اللہ نے فرمایا کہ تم نماز نہ پڑھو اور اس بات کو مثال بنا کر کوئی نماز چھوڑ دے۔ جب کہ اگلی ہی آیت میں اللہ فرماتے ہیں کہ جب تم نشے کی حالت میں ہو یعنی اس وقت نماز ادا نہ کرو جب کہ نشے کی حالت میں ہو۔

    اسی طرح سورة النسا کی آیت 24 کا اگر پورا ترجمہ دیکھیں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ فرمان الٰہی ہے

    اور خاوند والی عورتیں (بھی حرام ہیں) مگر جن (لونڈیوں) کے تم مالک بن جاؤ، یہ اللہ کا قانون تم پر لازم ہے، اور ان کے سوا تم پر سب عورتیں حلال ہیں بشرطیکہ انہیں اپنے مال کے بدلے میں طلب کرو لیکن نکاح کرنے کے لیے نہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے لیے“۔

    ویڈیو اس لنک سے

    ؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛؛

    علامہ صاحب نے اپنی پرانی ویڈیو کے جواب میں ایک اور ویڈیو جاری کی مگر ان آیات کی روشنی میں اپنا موقف پھر بھی قائم رکھا یہ ویڈیو کوئی فاضل اس پر روشنی ڈال سکتا ہے تو ضرور ہماری معلومات میں اضافہ کریں، شخصیات اور فرقہ پر قلم چلانے سے پرہیز برتیں فوکس موضوع پر ہونا چاہئے، شکریہ!

     
  2. ‏جنوری 01، 2018 #2
    عبدالمنان

    عبدالمنان مشہور رکن
    جگہ:
    گلبرگہ، ہندوستان
    شمولیت:
    ‏اپریل 04، 2015
    پیغامات:
    735
    موصول شکریہ جات:
    164
    تمغے کے پوائنٹ:
    109

    السلام علیکم و رحمۃ اللّٰہ و برکاتہ
    آپ کا کہنا ہے کہ غلام عورتوں (لونڈیوں) کے ساتھ بغیر نکاح کے جسمانی تعلقات قائم کرنا جائز "نہیں" ہے؟
     
  3. ‏جنوری 01، 2018 #3
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,651
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    کنعان بھائی تحریر سے پیدا ہونے والےممکنہ شبہات کا ازالہ چاہتے ہیں!
     
  4. ‏جنوری 01، 2018 #4
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,337
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    جنگی قیدی خواتین لونڈیاں کہلاتی ہیں ، مال غنیمت کی تقسیم کے وقت وہ جس کے حصے میں آئیں گی ، وہ ان سے جنسی تعلقات قائم کرسکتا ہے ۔
    حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بیوی ہاجر ( ہاجرہ ) ان کی لونڈی تھیں ۔
    ماریہ قبطیہ جن سے ابراہیم پیدا ہوئے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی لونڈی تھیں ۔
    علما کے مابین اس مسئلہ میں کوئی اختلاف نہیں رہا ۔
    آزاد عورت کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے لیے نکاح کی ضرورت ہوتی ہے ، جبکہ لونڈی کے لیےنکاح کی ضرورت نہیں ، کیونکہ اس کا ’ ملکیت ‘ میں آجانا ہی تعلقات کے درست ہونے کے لیے کافی ہے ۔
    شرعی مسئلہ اتنا ہی ہے ، اور اسے اسی انداز سے ہی بیان کرنا چاہیے ، اور علامہ ابتسام صاحب کی ویڈیو میں بھی اسے اسی انداز سے ذکر کیاگیا ہے ۔ خبر نگار نے اسے خبر بناتے ہوئے اپنی پیشہ ورانہ مجبوریوں کے باعث اسے متنازعہ اور دلچسپ بنانے کی کوشش کی ہے ، جس عمل کی خبر کے اندر مذمت ہے یعنی ’ نماز کے قریب نہ جاؤ ‘ ، ’ جب تم نشے کی حالت میں ہو ‘ وہی کام اس خبر نگار نے کیا ہے ۔
    ویسے بھی جس زمانے میں ’ جہاد ‘ کو دہشت گردی کہا جاتاہے ، وہاں اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والے مال غنیمت یا ’ لونڈی ‘ کو زیر بحث لانے کا مطلب ؟
     
    • پسند پسند x 5
    • متفق متفق x 3
    • شکریہ شکریہ x 2
    • لسٹ
  5. ‏جنوری 02، 2018 #5
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,987
    موصول شکریہ جات:
    1,495
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    بہت خوب -
     
  6. ‏جنوری 02، 2018 #6
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    ایک مقام پر ایسے ہی ایک موضوع کے حوالے سے ایک کمنٹ کیا تھا.

    "بندے کی نظر میں اس کی دو وجوہات ہیں:
    1. چونکہ یہ جوان عورتیں ہوتی تھیں جن کی اپنی جنسی ضروریات بھی ہوتی تھیں اور ان کو رکھنے والے کے لیے بھی ان سے بچتے رہنا بہت مشکل تھا اس لیے ان سے ہمبستری کی اجازت دی گئی.
    2. اس طرح شریعت نے ایک اور چیز کا راستہ کھولا یعنی ام ولد ہونے کا. اگر کسی لونڈی کا اپنے مالک سے بچہ پیدا ہو جائے تو وہ ام ولد کہلاتی ہے. اسے نہ بیچا جا سکتا ہے اور نہ خریدا اور مالک کی موت کے بعد وہ آزاد ہوتی ہے. یہ شرعی حکم ہے. اس طرح ہمبستری سے ان کے ام ولد بننے کے اسی فیصد چانسز ہوتے تھے."
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  7. ‏جنوری 02، 2018 #7
    عبدالمنان

    عبدالمنان مشہور رکن
    جگہ:
    گلبرگہ، ہندوستان
    شمولیت:
    ‏اپریل 04، 2015
    پیغامات:
    735
    موصول شکریہ جات:
    164
    تمغے کے پوائنٹ:
    109

    یہ ٪80 فیصد کیسے معلوم ہوا۔۔۔۔ابتسامہ
     
  8. ‏جنوری 02، 2018 #8
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    اندازے سے۔۔۔۔۔ قہقہہ
    اچھا پوائنٹ نوٹ کیا ہے۔ اس طرح کے الفاظ کثرت کو بیان کرنے کے لیے ہوتے ہیں حقیقی مقدار کے لیے نہیں ہوتے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں