1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بلاتفریق سب کا احتساب ہونا چاہیے!((ظفر اقبال ظفر))

'معاشرتی نظام' میں موضوعات آغاز کردہ از ظفر اقبال, ‏جولائی 29، 2017۔

  1. ‏جولائی 29، 2017 #1
    ظفر اقبال

    ظفر اقبال رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 22، 2015
    پیغامات:
    218
    موصول شکریہ جات:
    16
    تمغے کے پوائنٹ:
    71

    بلاتفریق سب کا احتساب ہونا چاہیے!
    وطن عزیز کو معرض وجود میں آئے 70برس بیت چکے مگرآئے روزاس وطن عزیزکی بنیادوں کو جس طرح کھوکھلا کیا جاتا رہا اورکیا جا رہا ہے اللہ میری توبہ۔قائداعظم اورلیاقت علی خان کو گزرے کئی برس بیت گئےمگراسی دن سے اقتدار پر براجمان ہونے والوں نے جس طرح اس ملک کو قرضوں اور دہشت گردی کی نظرکیاتاریخ ثبوت کے لیے کافی ہے۔کہا جاتا ہے کہ تاریخ عبرت کا درس دیتی ہے مگرچند روزآہ و بکا کی آوازیں ضرور آتی ہیں مگرکچھ وقت بیت جانے پروہی عیاشی اورلاپرواہی اقتدارکا نشہ صاحب اقتدار کے دل ودماغ کو مفلوج اورآنکھوں پرتکبر اور غرور کی پٹیاں اس انداز سے باندھ دیتا ہےکہ کوئی برائی اور ظلم قابل مذمت محسوس نہیں ہوتا۔اگرہم دیانتداری سے اپنے گریبانوں میں جھانکیں تو ہمارا ضمیر سب ہماری کوتاہیاں واضح کر دیتا ہے۔ کہ ہم نے ان 70 سالوں میں عوام کے لیے کیا کیا اور کیا گل کھلائے سب ہمارا ضمیر ہم پر واضح کر دے گا ۔اس اسلامی نظریہ کی بنیاد پر حاصل کیے گئے وطن عزیز کو جس طرح اس نظریہ کی حفاظت کرنے والوں پہ تنگ کیا گیا تاریخ گواہ ہے کبھی پھانسیاں دی گئیں تو کبھی جلا وطنی پہ مجبور کیا گیا ۔کبھی بلا وجہ طویل المدتی نظربندی کے احکامات دئیے گئے تو کبھی جھوٹے مقدمات دائر کرکے قید و بند کی صعوبتیں دی گئیں ۔دوسری طرف اس ملک پاکستان کو وطن عزیز پہ اقتدار سنبھالنے والوں کے رحم وکرم پر اس طرح چھوڑ دیا گیا کہ جس کے جو دل میں آیا کرگزرا۔کبھی وی آئی پی پروٹوکول پہ قومی دولت کو لٹا گیا تو کبھی اغیار کے ہاتھوں وطن عظیم کی سودے بازی کی گئی ۔کبھی دہشت گردی کی سہولت کاری جیسے جرم سے ملکی اور قومی دفاع کو مذاق بنایا تو کبھی ذاتی جائیدادیں بنا لی گئیں۔کبھی ملک کو ٹیکسوں اور قرضوں میں جھکڑ دیا گیا تو کبھی ریمنڈیوس جیسے بڑے قاتل کو اغیار کی خوشنودی کے لیے با عزت بری کر دیا گیا۔ کبھی دھرنا سیاست کے ذریعے عوام کی جان و مال کو نیلام کیا گیا تو کبھی آئےروز سرحدی خلاف ورزی پہ خاموش تماشائی بنے رہے۔اس سے بڑا جرم قومی خزانے سے پیسہ چوری کر کے کسی دوسرے ملک لیجا کر تجارت کی گئی ۔ سوال یہ ہے کہ ملک قوم کی فلاح اور ترقی کی بات کرنے والے اگر قومی خزانے سے چرایا ہوا پیسہ ہو یا ذاتی ملکیت ہو جو وطن عزیز میں تجارت اور انویسٹمنٹ پہ نہیں لگاتے تاکہ ٹیکس سے بچا جا سکے وہ کسی دوسرے ملک جہاں ٹیکس نہیں یا بہت کم شرح کے ساتھ دینا پڑتا ہے اپنا پیسہ لے جاتے ہیں وہ کس منہ سے قومی اور ملکی ترقی کی بات کرتے ہیں ۔؟؟؟
    کیا وہ ملک کے خیر خواہ ہیں جو وطن عزیز میں پیسہ انویسٹ نہیں کرتے دوسرے ملکوں اور ان کی عوام کو فائدہ تو دے سکتے ہیں مگر جس ملک کی عوام سے اعتماد کا ووٹ لے کر اقتدار میں آتے ہیں وہ اس ملک اور قوم کے لیے اس ملک میں پیسہ انویسٹ کرنا وقت اور پیسہ کا ضیاع سمجھتے ہیں بتائیں وہ کس منہ سے عوام اور ملکی ترقی کا سوچ سکتے ہیں ۔
    28/7/2017 کو وقت کے وزیر اعظم کے خلاف عدالتی فیصلہ جس کی بنیاد انسداد کرپشن اور قومی خزانے کی لوٹی دولت سے افشور کمپنیوں کے نام سے بیرون ملک پیسہ اکھٹا کرنے کی تحقیقات کرنا تھیں ۔جے آئی ٹی کی تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ پر سپریم کورٹ نے 5 ججوں کی سربراہی میں 28/7/2017 بروز جمعہ کو وقت وزیر اعظم صاحب کو ملکی خزانے میں جھوٹ بھولنے پر حیات نا اہل قرار دے دیا گیا ۔یہ بہت اچھا فیصلہ ہے مگر اس وقت جب ان کو کرپشن اور قومی خزانے میں خیانت کرنے کے جرم میں نا اہلی کی سزا سنائی گئی ہے اس کو بنیاد بنا کر عدالت عظمیٰ کو چائیے کہ اگلے مرحلہ میں باری باری سب کا احتساب کیا جائے۔ چاہے کوئی بھی محکمہ ہو اگر واقعتا عدالت عظمیٰ ملک سے کرپشن کا خاتمہ چاہتی ہے تو سب سے قبل اپنے اندر سے احتساب کا آغاز کرے اور مذہبی و سیا سی شخصیات سے لے کر درجہ بدرجہ ہر شخص کو بلا تفریق کٹہرے میں لا کر تحقیقات کی جائیں اور جرم ثابت ہو جانے پر قانون کے مطابق کڑی سے کڑی سزا دی جائے۔ قومی خزانے اور کرپشن کے ذریعے لوٹی گئی دو لت کو واپس ملک میں لا کر قومی خزانے میں شامل کیا جائے تاکہ یہ ملک غیر ملکی قرضوں سے انحصار ختم کر کے اپنی معیشت کو خود مضبوط کرسکے ۔ رہی بات وزیر اعظم کی تاحیات نا اہلی کا ماتم کرنے والوں کی کہ تاحیات نا اہل قرار دینا قوم سے مذاق اور ظلم ہے۔ تو میں پوچھنا چاہوں گا کہ جب ملک کو غیر ملکی قرضوں میں جھکڑ دیا گیا ٹیکس پہ ٹیکس لگا کر عوامی فلاح کی بات کرنے والوں نے عوام کو ظلم کی چکی میں پسنے پہ مجبور کر دیا اس وقت کسی کو ظلم نظر نہ آیا۔؟ جب کسی کو اس کے جرم کی سزا دی جاتی ہےتو سب بانسریاں لے کر زیادتی اور ظلم کا ماتم کرنے لگتے ہیں۔اس طرح اگر ہوتا گیا تو کوئی کسی دوسرے کا احتساب نہیں کر سکے گا ۔اس طرح یہ ملک اور اس کی عوام کو ملکی غداروں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا جائے گا ۔اور اس ملک کی رہی سہی بسات کو نیلام کرنے کی سعی جاری رہے گی۔ افسوس اس بات کا ہے کہ کسی کے احتساب کے وقت زیادتی اور ظلم کی گردان کرنے والے اس وقت کیوں خاموش ہو جاتے ہیں جب احتساب کے وقت سب بیرون ملک بھاگ جاتے ہیں یہ ظلم اور قوم سے مذاق کسی کو نظر نہیں آتا ۔
    خدارا! قوم اور ملک کے ساتھ مذاق بند کیا جائے اور ہر کسی کو بلا تفریق کٹہرے میں لا کر کڑا احتساب کیا جائے۔ اس میں ان مذہبی اور سیاسی شخصیات کو بھی لانا چاہیے جو عوام سے اکھٹا کیا ہوا فنڈ چاہیے کسی فلاحی کام کی غرض سے ہو یا کسی اور غرض سے ذاتی جائیدادیں بنائیں اور خیانت کے مرتکب ہو ان سب کا بھی احتساب ہونا چاہیے تاکہ سچے اور جھوٹے کھرے اور کھوٹے کا پتہ چل سکے ۔کہ کون ملک اور قوم کے مفاد میں ہے اور کون اس ملک کی عوام سے جھوٹ بولتا رہا ہے ۔
     
    Last edited: ‏اگست 26، 2017
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں