1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بلا عذر جماعت چھوڑنے پر کوڑے مارنے کا حکم

'فقہ عام' میں موضوعات آغاز کردہ از تلمیذ, ‏اپریل 08، 2014۔

  1. ‏اپریل 08، 2014 #1
    تلمیذ

    تلمیذ مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 12، 2011
    پیغامات:
    765
    موصول شکریہ جات:
    1,503
    تمغے کے پوائنٹ:
    191

    کچھ عرصہ قبل سعودی عرب میں ایک مصری ڈاکٹر کو بلا عذر جماعت سے غائب رہنے پر کوڑے مارے گئے
    ایک عربی فورم پر جہاں میں بھی موجود ہوں اس بات پر بحث ہو رہی ہے کہ کیا ایک شخص کو بلا عذر جماعت سے نماز نہ پڑھنے پر کوڑوں کی سزا دی جاسکتی ہے یا نہیں ؟؟
    مصری ممبر کا کہنا ہے کہ ایسی کسی سزا کا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثبوت نہیں ، اس لئیے ایسی سزا نہیں دی جاسکتی ۔ جماعت چھوڑنے کی اخروی وعیدات بہت آئی ہیں لیکن دنیاوی سزا کوڑوں کا احادیث میں کوئ ثبوت نہیں ہے ۔
    ایک حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جماعت سے عدم حاضری پر مسجد نہ آنے والوں کے گھروں کو جلانے سے متعلق بات ضرور کی تھی لیکن ان افراد کو جو جماعت سے غیر حاضر رہتے تھے ان کو دنیاوی کوئ سزا نہیں دی
    اس فورم پر موجود اہل علم سے گذارش ہے کہ اس بارے میں صحیح موقف سے آگاہ کریں
    جزاک اللہ خیرا
    انس
    خضر حیات
     
  2. ‏اپریل 08، 2014 #2
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    حاکم یا قاضی اپنی صوابدید پر کسی شرعی یا انتظامی مخالفت پر تعزیرا ( حدا نہیں ) سزا تجویز کرسکتا ہے ۔
    اس طرح کی سزائیں اسی قبیل سے ہوتی ہیں ۔ واللہ اعلم ۔
    امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ تارک صلاۃ کو قید کی سزا سنائی جائی اگر تین دن کے اندر توبہ کرلے تو ٹھیک ورنہ اس کو اس قدر مار ماری جائے کہ اس کا خون نکلنا شروع ہوجائے ۔
    بلکہ دیگر آئمہ کے نزدیک اس شخص کو قتل کردیا جائے گا ۔
    یہ احکام اگرچہ تارک الصلاۃ کے بارےمیں ہیں نہ کہ تارک جماعت کے بارے میں ۔
    لیکن بہر صورت اس سلسلے میں مفید ہیں کہ دونوں کی مقرر کردہ سزا شریعت میں نہیں ہے ۔
     
    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 2
    • لسٹ
  3. ‏اپریل 08، 2014 #3
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    نماز باجماعت پڑھنے میں سستی کرنا

    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    فجر کی نماز جماعت کے ساتھ نہیں پڑھتا سستی ہو جاتی ہے کوئی وظیفہ بتائیں کہ میں فجر کی نماز باجماعت ادا کر سکوں؟
    الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
    الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

    «اَللّٰہُمَّ مُصَرِّفَ الْقُلُوْبِ صَرِّفْ قُلُوْبَنَا عَلٰی طَاعَتِکَ»مشكوة كتاب الايمان باب الايمان بالقدر الفصل الاول
    وباللہ التوفیق
    احکام و مسائل
    نماز کا بیان ج1ص 161
    محدث فتویٰ
     
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  4. ‏اپریل 08، 2014 #4
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    گھر میں اکیلے نماز کا حکم

    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    سستی کی وجہ سے جان بوجھ کر نماز گھر میں اکیلے پڑھنے سے کیا نماز نہیں ہوتی۔؟
    الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
    الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

    جب مسجد قریب ہو تو پھر کسی کے لیے، خواہ وہ ایک آدمی ہو یا ایک سےزیادہ لوگ ہوں گھر میں نماز ادا کرنا جائز نہیں ہے، اوراگر مسجد دور ہو اور وہ لوگ اذان کی آواز نہ سنتے ہوں تو پھر گھر میں باجماعت نماز ادا کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ اس مسئلہ میں بعض لوگوں کی سستی بعض علماء کے اس قول پر مبنی ہے کہ نماز باجماعت سے مقصود یہ ہے کہ لوگ اجتماعی طور پر نماز ادا کریں، خواہ وہ مسجد کے علاوہ کسی اور جگہ پر ہی کیوں نہ ہوں، اس لئے اگر لوگ گھروں میں باجماعت نماز ادا کرلیں تو انہوں نے گویا کہ اپنے واجب کو ادا کر لیا۔ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ نماز باجماعت کا اہتمام مسجدوں میں ہو اور یہ ضروری بھی ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:
    «وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِالصَّلٰوةِ فَتُقَامَ ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَيُصَلِّی بِالنَّاسِ ثُمَّ أَنْطَلِقَ بِرِجَالٍ مَعَهُمْ حُزَمٌ مِنْ حَطَبٍ اِلٰی قَوْمٍ لَّا يَشْهَدُونَ الصَّلٰوةَ فَاُحَرِّقُ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ بِالنَّارِ» (صحيح البخاری، الاذان، باب وجوب صلاة الجماعة، ح: ۶۴۴ وصحيح مسلم، المساجد، باب فضل صلاة الجماعة... ح: ۶۵۱ (۲۵۲) واللفظ له)
    حالانکہ ممکن ہے ان لوگوں نے اپنی اپنی جگہ نماز ادا کر لی ہو، اس بنیادپر لوگوں کے لیے واجب ہے کہ وہ مسجد میں نماز باجماعت ادا کریں الا یہ کہ مسجد بہت دور ہو اور وہاں جانا مشکل ہو۔
    ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
    فتویٰ کمیٹی
    محدث فتویٰ
     
    • پسند پسند x 2
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  5. ‏اپریل 08، 2014 #5
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    عذر کے بغیر گھر اکیلے نماز پڑھنا

    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    اگر کوئی جان بوجھ کر اپنی طبیعت میں سستی کی وجہ سے نماز باجماعت ادا نہیں کرتا ، اور اس کو گھر میں اکیلے پڑھ لیتا ہے؟ تو یہ باجماعت نماز کے ثواب سے محرومی تو ضرور ہے، لیکن کیا اس سے نماز کا فرض بھی ادا ہو جاتا ہے یا وہ نماز نہیں ہوتی۔؟

    الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
    الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

    شیخ صالح عثیمین ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں،کہ نماز باجماعت واجب ہے،اگر کوئی شخص بغیر عذر کے اس واجب کو چھوڑ کر گھر میں اکیلا نماز پڑھتا ہے تو کیا اس کی نماز ہو جاتی ہے یا نہیں ہوتی؟ اس میں اہل علم کے دو قول پائے جاتے ہیں۔بعض کے نزدیک اس کی نماز نہیں ہوتی،اور یہ قول مرجوح ہے۔جبکہ صحیح قول یہ کہ اس واجب کو ترک کرنے والا گناہ گار اور فاسق ہے،اور اگر وہ اس پر ہمیشگی کرے تو اس کے فسق کی وجہ سے اس کی ولایت اور شہادت قبول نہیں کی جائے گی،اور اس کی نماز صحیح ہے۔اس کی دلیل وہی روایات ہیں ،جن میں نماز باجماعت کا ثواب ستائیس گنا بیان کیا گیا ہے،اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اکیلے نماز پڑھنے کا بھی کچھ ثواب موجود ہے ،اور اس میں ثواب کی موجودگی اس کی صحت پر دلالت کرتی ہے۔کیونکہ اگر وہ صحیح نہ ہوتی تو اس پر کوئی ثواب بھی نہ ہوتا۔لیکن یاد رہے کہ یہ ایک حرام عمل ہے،جس سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔تفصیل کے لئے دیکھیں فتوی نمبر2781پرکلک کریں۔
    ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
    فتوی کمیٹی
    محدث فتوی
     
    • پسند پسند x 2
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  6. ‏اپریل 09، 2014 #6
    تلمیذ

    تلمیذ مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 12، 2011
    پیغامات:
    765
    موصول شکریہ جات:
    1,503
    تمغے کے پوائنٹ:
    191

    خضر حیات بھائی
    کیا کوئی ایسی مثال صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے دور سے ثابت ہوتی ہے کہ تارک جماعت کو تعزیرا کوئی سزا دی گئی ہو
    اصل میں مجھے ایسی کوئی مثال نہیں ملی
    اگر آپ کے علم میں ہو تو ضرور شیئر کیجیئے گا
    جزاک اللہ خیرا
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  7. ‏اپریل 09، 2014 #7
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    محترم بھائی میرے خیال میں آپکی منشاء صحابہ کے دور میں خالی اسکی مثال کی معلومات لینا ہے جسکے بارے محترم خضر بھائی کو شاید کوئی معلومات ہوں مجھے بھی کسی مثال کا علم نہیں
    البتہ کوئی اگر یہ سمجھ لے کہ جب صحابہ کے دور میں ایسی سزا نہیں دی گئی تو اب کیسے جائز ہو سکتی ہے تو پھر ایسی سوچ درست نہیں

    banuri.edu.pk کی ویب سائیٹ پر شرعی سزاؤں کی مندرجہ ذیل وضاحت کی گئی ہے

    شریعت اسلامیہ میں جرائم کی سزاؤں کی تین قسمیں ہیں:
    ۱:․․․حدود ۲:․․․قصاص ۳:․․․تعزیرات۔
    جرائم کی وہ سزا جو قرآن وسنت اور اجماع نے متعین کردی ہو' اس کی دو قسمیں ہیں: ۱:․․․حدود،۲:․․․․قصاص
    حدود
    شرعی اصطلاح میں ایسے جرم کی سزا کو کہا جاتاہے جس میں حق اللہ غالب ہو۔
    قصاص
    ایسی سزا جس میں حق العبد غالب ہو۔
    تعزیرات
    کسی بھی جرم کی وہ سزا جو قرآن وسنت نے متعین نہیں فرمائی' بلکہ اسے حاکم ِ وقت یا قاضی کی صوابدید پر چھوڑدیا۔


    پس میرے خیال میں تعزیرات کے لئے قرآن و سنت سے نص یا صحابہ کا اجماع ہو ہی نہیں سکتا ورنہ وہ تعزیر نہیں رہے گی بلکہ یہ قاضی یا حاکم کی صوابدید پر ہے تو اوپر والا اعتراض نہیں بنتا واللہ اعلم
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  8. ‏اپریل 09، 2014 #8
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    السلام و علیکم بھائیوں :

    ایک تقریر سنی تھی جرجیس صاحب انڈیا والے کی جس میں انھوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ایک واقعہ بیان کیا تھا کہ ایک شخص نماز فجر کی دوسری رکعت میں شامل ہوا - جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سلام پہرا تو دیکھا وہ شخص باقی نماز پڑھ رہا ہے تو آپ نے اپنے سپاہی کو کہا کہ اس کو کہہ دے کہ اگر یہ تین دن تک اسی طرح نماز میں آیا تو اس کو کوڑے کی سزا دی جائے گی -

    اگر کسی بھائی کا اس واقعہ کے بارے میں علم ہو تو وہ حوالہ کے ساتھ یہاں پیش کر دیں - میں بھی تلاش کر رہا ہو۔
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  9. ‏اپریل 09، 2014 #9
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    سوال نمبر: 1 - فتوی نمبر:3866

    س 1: جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے میں ایسے شخص کا سستی کرنا جسے جماعت کی نماز ترک کرنا جائز نہيں ہے، تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟

    ج 1: بغیر عذر با جماعت نماز ادا نہ کرنا حرام ہے؛

    جیسا کہ ابو ہریرہ رضي الله عنه سے ثابت ہے کہ بيشک رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:

    قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، میں نے ارادہ کر لیا تھا کہ لکڑیوں کو جمع کرنے کا حکم دوں، پھر نماز کا حکم دوں اور اس کے لئے اذان دی جائے، پھر کسی شخص سے کہوں کہ وہ امامت کرے اور میں ان لوگوں کی طرف جاؤں (جو نماز باجماعت میں حاضر نہیں ہوتے ہیں) پھر انہیں ان کے گھروں سمیت جلا دوں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھـ میں میری جان ہے اگر یہ جماعت میں نہ شریک ہونے والے لوگ اتنی بات جان لیں کہ انہیں مسجد میں چربی دار بکرا یا ایک اچھے قسم کی گوشت والی ہڈی مل جائے گی، تو یہ عشاء کی جماعت کے لئے مسجد میں ضرور حاضر ہو جائیں۔ اس حدیث کو امام بخاری اور مسلم نے روايت كيا ہے۔

    نیز اس لئے کہ امام مسلم نے ( جلد کا نمبر 7; صفحہ 291)

    اپنی صحيح میں روایت کیا ہے ایک نابینا شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آيا، اور عرض کیا کہ اے اللہ كے رسول: میں نابینا ہوں، اور میرے پاس کوئی رہبر نہیں ہے، جو مجھے مسجد تک لے جا سکے، تو کیا مجھے رخصت مل سکتی ہے کہ میں گھر ميں نماز پڑھ لوں؟ تو آپ نے فرمایا: کیا تم اذان سنتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں، تو آپ نے فرمایا: تو پھر اس کا جواب دو

    وبالله التوفيق۔ وصلى الله على نبينا محمد، وآله وصحبه وسلم۔
    علمی تحقیقات اور فتاوی جات کی دائمی کمیٹی

    ممبر ممبر نائب صدر صدر
    عبد اللہ بن قعود عبد اللہ بن غدیان عبدالرزاق عفیفی عبدالعزیز بن عبداللہ بن باز

     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  10. ‏اپریل 09، 2014 #10
    محمد علی جواد

    محمد علی جواد سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 18، 2012
    پیغامات:
    1,987
    موصول شکریہ جات:
    1,495
    تمغے کے پوائنٹ:
    304

    السلام و علیکم -

    نماز دین کا ایک ایسا بنیادی رکن ہے کہ اس کو ترک کرنے والا اسلام سے خارج ہو جاتا ہے- نبی کریم صل الله علیہ و آ لہ وسلم نے عقیدہ توحید کے بعد جس فعل پر سب سے زیادہ زور دیا وہ نماز ہے :
    نبی کریم صل الله علیہ و لہ وسلم کا فرمان عالی شان ہے کہ :

    من ترك الصلاة متعمدًا فقد كفر جهرًا. (صحیح)
    جس نے جان بوجھ کر نماز کو چھوڑا اس نے اعلانیہ کفر کا ارتکاب کیا -

    عن أم أيمن أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لا تترك الصلاة، فإن من ترك الصلاة متعمدًا فقد برئت منه ذمة الله ورسوله. (وقال الألباني في صحيح الترغيب: صحيح لغيره).
    ام ایمن فرماتی ہیں رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمایا : نماز مت چھوڑو - جو نماز جان بوجھ کر چھوڑ (ترک) کردیتا پس اللہ اور اس کا رسول اس سے بری ہیں (یعنی وہ قیامت کے دن شفاعت کی امید نہ رکھے)-

    قرآن میں بھی ایسے بے نمازیوں کے بارے میں ہے کہ باوجود قیامت کے دن جب الله کچھ لوگوں کو کچھ گنہگاروں کی سفارش کا حق دے گا -لیکن ان بے نمازیوں کے حق میں ان کی سفارش بھی کام نہ آئے گی -

    فِي جَنَّاتٍ يَتَسَاءَلُونَ -عَنِ الْمُجْرِمِينَ- مَا سَلَكَكُمْ فِي سَقَرَ-قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ-وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ-وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ-وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ-حَتَّىٰ أَتَانَا الْيَقِينُ-فَمَا تَنْفَعُهُمْ شَفَاعَةُ الشَّافِعِينَ- سوره المدثر ٤٨-٤٠
    جنّتی جنّت کے باغوں میں ہو ں گے ایک دوسرے سے پوچھیں گے-گناہگارو ں کی نسبت- کہ کس چیز نے تمہیں دوزخ میں ڈالا ؟؟ وہ کہیں گے کہ ہم نمازی نہ تھے-اور نہ ہم مسکینوں کو کھانا کھلاتے تھے-اور ہم بہانے بناتے تھے بہانے بنانے والوں کے ساتھ -اور ہم انصاف کے دن کو جھٹلایا کرتے تھے-یہاں تک کہ ہمیں موت آ پہنچی- پس ان کو کسی سفارش کرنے والے کی سفارش نفع نہ دے گی-

    نماز کا قائم کرنا ہر شخص پر فرض ہے - چاہے مرد ہو، عورت ہو (بشرط ہے کہ مسلمان اور بالغ ہو)- امیر ہو غریب ہو ، حاکم ہو یا محکوم ہو (یعنی عام عوام ہو) - تندرست ہو یا بیمار ہو - امن میں ہو یا حالت جنگ میں ہو- قید میں ہو یا آزاد ہو ہر حالت میں نماز فرض ہے -

    (صرف دماغی طور پر مجنون انسان یا بیہوش انسان یا جس انسان کو جبر کرکے نماز کے لئے روک دیا جائے اس پر نماز فرض نہیں) -کیوں کہ الله کا قرآن میں فرمان ہے کہ:

    لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا سوره البقرہ ٢٨٦
    "الله کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا"

    لیکن جب وہ ان حالتوں سے باہر آجائے تو اس پر نماز فرض ہو جائے گی -

    جیسے نماز کا قائم کرنا ایک انفردی فعل ہے -اس طرح پورے معاشرے کی اصلاح کی خاطر حکومت وقت کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ معاشرے میں نماز کا نظام قائم کرے جس حد تک ممکن ہو -ملاحظه ہو نبی کریم صل الله علیہ وآ لہ وسلم کا فرمان عالی شان :

    عوف بن مالکؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صل الله علیہ وآ لہ وسلم کو فرماتے سنا تمہارے بہترین امراء وہ ہیں جن سے تم محبت رکھتے ہو اور وہ تم سے محبت رکھتے ہیں، اور جن کے لئے تم دعا کرتے ہو اور جو تمہارے لئے دعا کرتے ہیں، جبکہ تمہارے بدترین امراء وہ ہیں جن سے تم نفرت رکھتے ہو وہ تم سے نفرت رکھتے ہیں اور جن پر تم لعنت بھیجتے ہو اور جو تم پر لعنت بھیجتے ہیں، صحابہ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صل الله علیہ وآ لہ وسلم کیا ایسے موقع پر ہم ان کو قتل نہ کردیں؟ آپ صل الله علیہ وآ لہ وسلم نےفر مایا: نہیں، جب تک وہ تم میں نماز قائم کرتے رہیں، سن رکھو کہ جس پر کوئی امیر ہو اور وہ اسے کوئی ناجائز کام کرتا دیکھے، تو وہ اس نا جائز کام کو ناپسند کرے، مگر اس کی اطاعت سے ہاتھ نہ کھینچے ۔(مسلم:1855)۔

    یعنی اگر حاکم فاسق و فاجر ہو لیکن معاشرے میں نماز قائم کرتا ہو تو اس کے خلاف خروج جائز نہیں - بصورت دیگر اگر حاکم وقت معاشرے میں نماز قائم کرنے والا نہ ہوتو اس کے خلاف بغاوت جائز ہوجاتی ہے-اور اس کا قتل واجب ہو جاتا ہے- کیوں کہ اللہ کا فرمان ہے کہ :

    وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ لَيَقُولُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ قُلْ أَبِاللَّهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ oلا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ
    کہہ دیجئے ،کیا اﷲ اور اس کی آیات اور اس کے رسول کے ساتھ تم مذاق کرتے ہو،معذرت نہ کرو تحقیق تم ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے -

    یہاں مذاق سے مراد یہ ہے کہ صرف زبان سے ہی نہیں بلکہ عمل سے بھی استہزاء ہو سکتا ہے اور اس کے ذریے بھی قرآنی آیات اور احادیث نبوی کا مذاق بنایا جا سکتا ہے- یعنی یہ کہ الله کے واضح فرمان کو پس پشت ڈال دینا - جیسا کہ سوره المدثر میں الله نے جہنمی بے نمازیوں کا قول نقل کیا ہے کہ وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ - ہم بہانے بناتے تھے بہانے بنانے والوں کا ساتھ -

    یا جیسے قرآن میں اللہ کا فرمان کہ :
    إِنَّ الَّذِينَ ارْتَدُّوا عَلَى أَدْبَارِهِمْ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْهُدَى
    ''بے شک جو لوگ ہدایت واضح ہونے کے بعد مرتد ہوگئے
    -
    ان آیات کے مصداق یہی حکمران طبقہ ہے جو الله کے واضح حکامات کو جاننے کے باوجود ان کو معاشرے میں نافذ کرنے سے اپنا ہاتھ کھینچتا ہے- اور اس صورت میں وہ مرتدین کے زمرے میں آ جاتا ہے - اور اسلام سے خارج ہو جاتا ہے - جس کی بنا پر رسول اللہ صل الله علیہ وآ لہ وسلم نے ایسے فاسق حکمرانوں کے قتل کی اجازت دی ہے -

    باقی یہ بات کہ ایک معاشرے کو اصلاحی و اسلامی بنانے کے لئے اگر ایک حکمران تعزیری سزاؤں کا نفاذ کرتا ہے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں- بلکہ یہ اس کا فرض ہے - گناہوں کی بہت سی ایسی اقسام ہیں جن کا احاطہ اگرچہ الله نے قرآن میں نہیں کیا لیکن ان پر سزا کا اطلاق حاکم وقت کی ثواب دید پر چھوڑ دیا کہ وہ جو فیصلہ کردے اس کو مانا جائے -(بشرط ہے کہ اس گناہ کی سزا کسی قران یا سنّت نبوی کی نص سے ثابت نہ ہو) - جیسا کہ قرآن سے بھی ثابت ہے -

    يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ ۖ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ سوره النساء59
    اے ایمان والو الله کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور ان لوگوں کی جو تم میں سے حاکم ہوں-

    مثال کے طور پر:
    جیسے ہم جنس پرستی کی سزا -
    فحاشی و بے حیائی پھیلانے والوں کی سزا -
    ہیجڑے پن کی سزا-
    شراب بنانے اور بیچنے والوں کی سزا
    بھتہ خوری کرنے والوں کی سزا -
    زخیرہ اندوزی کرنے والے کی سزا -
    مختلف ذریے یا چیزوں سے لوگوں کو دھوکہ دینے والوں کی سزا -

    یا پھر جیسے جان بوجھ کر نماز چھوڑنے والوں کی سزا -(کیوں کہ نبی کریم صل الله علیہ و لہ وسلم کے دور میں نماز نہ پڑھنے والے کو کافر ہی سمجھا جاتا تھا)- ورنہ منافقین بھی نبی کریم صل الله علیہ و لہ وسلم کے پیچھے نماز نہیں چھوڑتے تھے یہ الگ بات ہے کہ وہ نماز کے معاملے میں کاہلی و سستی دکھاتے تھے اور الله کا ذکر بہت کم کرتے تھے - قرآن میں الله نے ان منافقین کا نقشہ اس طرح کھینچا ہے

    إِنَّ الْمُنَافِقِينَ يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ قَامُوا كُسَالَىٰ يُرَاءُونَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُونَ اللَّهَ إِلَّا قَلِيلًا سوره النسا ء ١٤٢
    بے شک منافق الله کو فریب دیتے ہیں اور وہی ان کو فریب دے گا اور جب وہ نماز میں کھڑے ہوتے ہیں تو سست بن کر کھڑے ہوتے ہیں لوگو ں کو دکھا تے ہیں اور الله کو بہت کم یاد کرتے ہیں-

    لہٰذا جن معاملات میں قرآن و حدیث کی نص سے کچھ ثابت نہ ہو اور نہ خلفاء راشدین کی سنّت سے ثابت ہو ایسی صورت میں حاکم وقت اپنے اجتہاد سے جو بھی تعزیری حکم جاری کرے گا -وہ قابل اطاعت ہو گا - (واللہ اعلم)-
     
    • علمی علمی x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں