1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بليوں كى خريد و فروخت كا حكم كيا ہے ؟

'خریدوفروخت' میں موضوعات آغاز کردہ از حافظ عمران الہی, ‏مارچ 17، 2014۔

  1. ‏مارچ 17، 2014 #1
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    بعض اہل علم بليوں كى خريد و فروخت كے جواز كے قائل ہيں، اور بعض اہل علم اس كے حرام ہونے كے قائل ہيں، اور يہ ظاہريوں كا قول اور امام احمد سے ايك روايت ہے، اور ابن منذر رحمہ اللہ نےاسے ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ سے بيان كيا ہے.
    اس كى خريد و فروخت حرام ہونے والا قول راجح ہے، كيونكہ اس كى بيع كى ممانعت اور نہى كا نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ثبوت ملتا ہے اور اس كے مخالف كوئى حديث نہيں.
    امام مسلم رحمہ اللہ نے ابو زبير رحمہ اللہ سے روايت كيا ہے وہ بيان كرتے ہيں كہ ميں نے جابر رضى اللہ تعالى عنہ سے كتے اور بلى كى خريد و فروخت كے متعلق دريافت كيا تو انہوں نے فرمايا:" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس سے ڈانٹا ہے "صحيح مسلم حديث نمبر ( 1569 ).
    اور ابوداود اور ترمذى نے جابر بن عبد اللہ رضى اللہ تعالى عنہما سے بيان كيا ہے كہ:" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے كتے اور بلى كى قيمت سے منع فرمايا ہے "سنن ابو داود حديث نمبر ( 3479 ) سنن ترمذى حديث نمبر ( 1279 ).
    علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ابو داود ميں اس حديث كو صحيح قرار ديا ہے.
    اور " السنور " بلى كو كہتے ہيں.
    اور بعض اہل علم نے ان احاديث كو ضعيف قرار ديا ہے، ليكن ان كا يہ قول مردود ہے صحيح نہيں.
    امام نووى رحمہ اللہ تعالى " المجموع " ميں لكھتے ہيں:
    " خطابى اور ابن منذر نے جو يہ بيان كيا ہے كہ يہ حديث ضعيف ہے، تو ان كا يہ كہنا غلط ہے، كيونكہ يہ حديث مسلم ميں صحيح سند كے ساتھ موجود ہے " : المجموع للنووى ( 9 / 269 ).
    اور " نيل الاوطار " ميں امام شوكانى رحمہ اللہ جمہور كا رد كرتے ہوئے كہتے ہيں جنہوں نے حديث ميں نہى كو كراہت تنزيہى پر محمول كيا ہے، اور يہ كہ اس كى فروخت مكارم اخلاق ميں سے نہيں، اور ايسا كرنا خلاف مروءت ميں شامل ہوتا ہے، اس كا رد كرتے ہوئے كہتے ہيں:
    " يہ مخفى نہيں كہ يہ نہى كو بغير كسى مقتضى كے نہى كو اس كے حقيقى معنى سے نكالنا ہے " : نيل الاوطار ( 6 / 227 ).
    اور امام بيھقى رحمہ اللہ بھى جمہور كا رد كرتے ہوئے كہتے ہيں:
    " بعض اہل علم نے اسے اس پر محمول كيا ہے كہ جب بلى وحشى بن جائے اور اسے سپرد كرنے پر قدرت نہ ركھى جائے، اور بعض نے يہ گمان كيا ہے كہ يہ ابتدائے اسلام ميں تھا جب كہ بلى كے نجس ہونے كا حكم تھا، پھر جب اس كے جھوٹے كے طاہر ہونے كا حكم جارى ہوا تو اس كى قيمت حلال ہو گئى، ان دونوں ميں سے كسى بھى قول كى كوئى واضح دليل نہيں ہے " : سنن البيھقى ( 6 / 18 ).
    اور ابن قيم رحمہ اللہ نے " زاد المعاد " ميں اسكى خريد و فروخت كو بالجزم حرام قرار ديتے ہوئے كہا ہے:
    " اور اسى طرح ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ نے بھى فتوى ديا، اور طاؤس، مجاھد، اور جابر بن زيد، اور سب اہل ظاہر كا يہى مسلك ہے، اور امام احمد كى ايك روايت بھى يہى ہے، اور اس كے متعلق بيان كردہ حديث كے صحيح ہونے كى بنا پر يہى قول صحيح ہے، اور اس كے مخالف كوئى نہيں تو اس كى حرمت كا كہنا واجب اور ضرورى ہے "
    : زاد المعاد ( 5 / 773 ).
    اور ابن منذر رحمہ اللہ كہتے ہيں:
    " اگر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے اس كى خريد و فروخت كى نہى اور ممانعت ثابت ہوجائے تو اس كى خريد و فروخت باطل ہے، وگرنہ جائز ہو گى: المجموع ( 9 / 269 ).
    اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے اس كى نہى اور ممانعت كا ثبوت ملتا ہے، جيسا كہ صحيح مسلم كى حديث بيان ہو چكى ہے.
    اور مستقل فتوى كميٹى كے فتاوى جات ميں درج ذيل فتوى درج ہے:
    " بليوں اور كتوں كى خريد و فروخت جائز نہيں، اور اسى طرح دوسرے چيڑ پھاڑ كرنے والے درندے جن كى كچلى ہو، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس سے منع فرمايا اور ايسا كرنے سے ڈانٹا ہے، اور اس ليے بھى كہ اس ميں مال كا ضياع ہے، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ايسا كرنے سے منع فرمايا ہے " : فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 13 / 37 ).
    واللہ اعلم .
     
    • پسند پسند x 4
    • زبردست زبردست x 3
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  2. ‏مارچ 20، 2014 #2
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  3. ‏مارچ 20، 2014 #3
    ساجد تاج

    ساجد تاج فعال رکن
    جگہ:
    پاکستان ، لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    7,174
    موصول شکریہ جات:
    4,488
    تمغے کے پوائنٹ:
    604

    جزاک اللہ خیرا بھائی عمران بھائی اور نعیم یونس بھائی، توجہ دلانے کا شکریہ

    نعیم بھائی بس اب آ پ تیاری پکڑیں ہم جلد آرہے ہیں
    محمد نعیم یونس
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  4. ‏مارچ 20، 2014 #4
    عبداللطیف حلیم

    عبداللطیف حلیم مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 20، 2014
    پیغامات:
    3
    موصول شکریہ جات:
    5
    تمغے کے پوائنٹ:
    3

    بھائی جان بہت علمی سوال اٹھایا ہے اللہ آپ کو جزاے خیر عطا فرماے
     
  5. ‏مارچ 20، 2014 #5
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    جواب QUOTE کے نیچے لکھیں۔ پھر علیحدہ نظر آئے گا۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  6. ‏مارچ 22، 2014 #6
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    میری بلی نے، کل تین بچے دئیے ہیں۔آپ تقریبا ڈیڑھ ماہ انتظار کرلیں۔بلی اور ہم مل کر ان کی پرورش کرلیں۔ ابتسامہ۔۔۔۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  7. ‏مارچ 22، 2014 #7
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,764
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

  8. ‏مارچ 22، 2014 #8
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم


    بچوں کی بلی نے دو مرتبہ بچے دئے تھے مگر کوئی بھی زندہ نہیں بچا۔

    والسلام
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  9. ‏مارچ 22، 2014 #9
    ساجد تاج

    ساجد تاج فعال رکن
    جگہ:
    پاکستان ، لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    7,174
    موصول شکریہ جات:
    4,488
    تمغے کے پوائنٹ:
    604

    جی جی اب ہمیں کچھ دنوں بعد دیکھنے آنا ہوگا تاکہ سلیکشن ہو سکے ، ورنہ کوئی اور ہاتھ صاف نہ کر جائے ، ویسے کلرز بلیک تو نہیں ؟
     
  10. ‏مارچ 22، 2014 #10
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ
    میری بلی نے بھی سب سے پہلے دو مرتبہ جو بچے دئیے تھے وه دو تین دن کے اندر مر گئے تھے. اس کے بعد دو مرتبہ دئیے گئے بچے زندہ رہے تھے. اب پانچویں بار دئیے هیں.
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں