1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بليوں كى خريد و فروخت كا حكم كيا ہے ؟

'خریدوفروخت' میں موضوعات آغاز کردہ از حافظ عمران الہی, ‏مارچ 17، 2014۔

  1. ‏مارچ 24، 2014 #21
    ساجد تاج

    ساجد تاج فعال رکن
    جگہ:
    پاکستان ، لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    7,174
    موصول شکریہ جات:
    4,488
    تمغے کے پوائنٹ:
    604

    بہت شکریہ کنعان بھائی بہترین شیئرنگ کا
    کبھی بلیوں کا پالا تو نہیں اب ارادہ رکھتا ہوں چلیں دو ماہر اُستاد مل چُکے ہیں مجھے ، کنعان بھائی اور نعیم بھائی تو ٹینشن کس بات کی پوچھ لیا کریں گے
     
  2. ‏دسمبر 01، 2015 #22
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,396
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ!
    یہ 18اکتوبر کو لکھی گئی کہانی ہے۔
    اس مرتبہ میری بلی نے چار بچے دیئے ۔۔ایک فوت ہو گیا۔۔باقیوں میں سے ایک گہرے سرمئی رنگ کا ہے اور دو سفید اور ہلکے سرمئی رنگ کے ہیں جو کہ خوبصورت لگتے ہیں..اور اول الذکر بدصورت!!
    یہ سارے بچے "بلیّاں" ہیں۔
    ان کے رنگ و روپ کی وجہ سے ایک کا نام رانی، دوسری کا نام شہزادی اور تیسری کا نام لیلی رکھا میں نے۔۔لیلی نام اس کے گہرے سرمئی رنگ و روپ کی بناء پر رکھا گیا۔۔
    شہزادی اور رانی آپس میں بہت کھیلتی ہیں اور ایک دوسرے سے مل کر رہتی ہیں۔۔اور لیلی الگ تھلگ بیٹھی انہیں دیکھتی رہتی ہے....افسوسناک!!!
    ان کی ماں کا نام کیٹی ہے۔۔
    کیٹی، لیلی کو بہت پیار کرتی ہے اسے فیڈ بھی زیادہ کرواتی ہے اور لیلی کا وزن بھی رانی اور شہزادی سے زیادہ ہے۔۔حیرتناک!!!!
    یہاں ایک سوال میرے ذہن میں اُمڈا کہ کیا جانوروں میں بھی خوبصورتی کی بنیاد پر دوستیاں ہوتی ہیں؟ اور کیا ان کی ماں کو بھی اس بات کا لحاظ و پاس کرنا پڑتا ہے کہ بدصورت بچہ احساس کمتری کا شکار ہونے سے کیسے بچایا جائے۔۔۔؟
    سبحان اللہ! اس ذات کے قربان جاؤ جس نے پوری کائنات کو تن تنہا اور بغیر کسی مشورے و رائے سے اکیلے ہی پیدا کیا۔
    یہ بلیّاں تقریبا دو ماہ کی ہو چکی ہیں اور کیٹی کے دودھ کے علاوہ گوشت وغیرہ کھانا شروع کر چکی ہیں۔۔۔
    خیر!!
    وعدے کے مطابق آج محدث فورم کے رکن محترم @ابن حسیم بھائی اپنے دوست ادریس صاحب کے ہمراہ میرے گھر تشریف لائے تا کہ ادریس صاحب کسی بلی کو پسند کر کے اُسے گود لے لیں۔۔۔ابتسامہ!!!
    کیونکہ موصوف کو بھی بلیّاں رکھنے کا شوق ہے۔۔
    دوستوں کے سامنے میں نے رانی اور شہزادی کو ایک باسکٹ میں رکھ کر پیش کیا۔۔۔جبکہ لیلی کو میں دیکھانے کی ہمت نہ کر سکا۔۔کہ نجانے انہیں پسند آئے یا نہ آئے۔۔اس کے باوجود دل میں یہ اُمید رکھے ہوئے کہ شائد بعض لوگ کالی بلیوں کو بھی گود لینے کا کوئی جذبہ رکھتے ہوں۔۔میں نے لیلی اور اس کے رنگ و روپ کا بھی تذکرہ کیا کہ شائد اس کی بھی کوئی بات بن جائے۔۔لیکن افسوس کہ نہ بن پائی۔۔
    خیر!!.. دونوں محترم صاحبان کے ساتھ گپ شپ ہوتی رہی اور پھر ادریس صاحب نے رانی کو پسند کیا اور ہم نے اسے باسکٹ میں پیک کر کے ان کے حوالے کیا اور وہ اپنے گھر رخصت ہوئی۔۔۔
    آج اس واقعہ کو آپ کے ساتھ شیئر کیا ہے...ابتسامہ!!!
     
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  3. ‏دسمبر 02، 2015 #23
    جوش

    جوش مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 17، 2014
    پیغامات:
    621
    موصول شکریہ جات:
    307
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    قرآن و حدیث میں تو نہیں ،لیکن شاید فقہ حنفی میں اسکا جواب مل جاے
     
  4. ‏دسمبر 02، 2015 #24
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

  5. ‏دسمبر 02، 2015 #25
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم

    بلی کے بچے 3 ماہ تک اس کی ماں کے پاس رہنے چاہئیں اس کے بعد کسی کو بھی دے سکتے ہیں کیونکہ ان کی ماں نے انہیں بہت کچھ سکھانا ہوتا ھے، یہی اس کا طریقہ ھے اگر آپ نے پہلے دے دئے ہیں تو اس پر غور ضرور کریں، اگر نہیں تو جیسے آپ کی مرضی!

    والسلام
     
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  6. ‏دسمبر 08، 2015 #26
    ابن حسیم

    ابن حسیم رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2012
    پیغامات:
    214
    موصول شکریہ جات:
    145
    تمغے کے پوائنٹ:
    89

    چند دن پہلے نماز کے بعد ادریس بھائ سے ملاقات ہوئ تو رانی کا حال احوال معلوم کیا، تو وہ بہت غمگین ہوئے کہ اسے کسی نے گلی سے پکڑ لیا ہے، بچے (یعنی انکی بھانجی اور بھانجا) جب ٹیوشن کے لیے جاتے تو وہ بچوں کے پیچھے گھر سے نکل جایا کرتی تھی اور سیڑھیوں میں اور گلی میں کھیلتی رہتی تھی۔ لیکن دو دن سے وہ واپس نہیں آئ، شائید کسی نے پکڑ لیا ہو۔
    ادریس بھائ کو اللہ نے اولاد کی نعمت سے محروم رکھ کر انکی آزمائیش کی، اور الحمدللہ وہ صابر و شاکر نکلے۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ انہیں اور تما م بے اولاد جوڑوں کو الاد کی نعمت سے نواز دے۔ اور اللہ کرے انکی بلی بھی واپس آ گئ ہو تاکہ انکا اور بچوں کا دل لگا رہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  7. ‏دسمبر 08، 2015 #27
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,396
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    آمین یا رب العالمین!
     
  8. ‏دسمبر 08، 2015 #28
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم

    اگر اسے کسی نے پکڑ لیا ھے تو جب بھی وہ آزاد ہوئی یا اسے موقع ملا تو وہ ضرور واپس آئے گی، پھر بھی آپ اپنے محلہ میں ایک مرتبہ چکر لگا لیں شائد وہ قدموں کے نشانات سے دور نکل گئی ہو، بلی گھر کے ہر فرد کے پاؤں کی خوشبو ضرور سونگتی ھے، دوسرا جس برتن میں اسے کھانا دیتے تھے اسے برتن کو گھر کے دروزہ کے باہر رکھ دیں، باقی وقت ملنے پر۔

    والسلام
     
    • متفق متفق x 1
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
  9. ‏دسمبر 20، 2015 #29
    عبداللہ حیدر

    عبداللہ حیدر مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 11، 2011
    پیغامات:
    314
    موصول شکریہ جات:
    989
    تمغے کے پوائنٹ:
    120

    السلام علیکم،
    ایک رات میں اپنے گھر والوں کے ساتھ باہر نکلا تو سڑک کے کنارے جھاڑیوں میں سے بلی کا یک بچہ سامنے آ گیا اور اٹکھیلیاں کرنے لگا۔ پھر ہمارے آگے آگے چلتا اور شرارتیں کرتا ہمارے گھر تک آ گیا۔ ہم نے اسے دودھ ڈالا اور چند ہی دنوں میں وہ گھرانے کا حصہ بن گیا۔ ہم کسی کے گھر جاتے تو وہ آگے چلتا ، خوشی سے اچھلتا کودتا اور شرارت سے پاؤں میں گھس جاتا اور واپسی تک دروازے پر بیٹھا رہتا۔ اگر دیر ہو جاتی تو گھر واپسی کے لیے بے چینی ظاہر کرتا۔ ایسی ذہین اور ہنس مکھ بلی اس کے بعد دیکھنے کو نہیں ملی۔ ایک رات کھڑکی کھلی رہ گئی جس سے راستہ پا کر وہ باہر نکل گیا اور صبح اس کی لاش دروازے کے سامنے ملی۔ اب بھی کبھی یاد آتی ہے تو دل میں کسک اٹھتی ہے۔
     
    • پسند پسند x 3
    • معلوماتی معلوماتی x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں