1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بلی کے جھوٹے کا مسئلہ

'پانی اور اقسام' میں موضوعات آغاز کردہ از صہیب منصور, ‏دسمبر 18، 2017۔

  1. ‏دسمبر 18، 2017 #1
    صہیب منصور

    صہیب منصور مبتدی
    شمولیت:
    ‏جون 20، 2017
    پیغامات:
    17
    موصول شکریہ جات:
    4
    تمغے کے پوائنٹ:
    29

    آج دو تین دن سے ایک اڈیو نے بڑا پروپیگنڈہ کر رکھا ہے، یہ در اصل ایک سوال تھا کسی حنفی کا ایک اہل حدیث عالم دین سے کہ اگر بلی نے چوہا کھایا ہو یا کوئی اور نجاست اس کے منہ سے لگی ہو اور وہ پانی میں منہ ڈالے تو کیا پانی ناپاک ہو جائے گا؟تو اس کے جواب میں شیخ محترم نے بالکل وہی جواب دیا جو مقبول سلفی صاحب نے ایک سوال کے جواب میں ایسا ہی فتوٰی دیا تھا کہ اگر اگر گندگی لگے وقت زیادہ گزر گیا ہو تو پانی پاک ہی رہے گا، شیخ صاحب نے حوالہ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا دیا جیسے مقبول سلفی صاحب نے ، لیکن امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے یہ فتوی کس کتاب میں دیا ہے اس کا حوالہ نہیں دے سکے، حنفی نے کہا کہ یہ تو ھدایہ کا فتوٰی ہے، جسے تم ابن تیمیہ کے نام سے دے رہے ہیں، مجھے امام اب تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب کا حوالہ درکار ہے، جس میں یہ فتوی موجود ہے! جزاک اللہ خیرا


    Sent from my Redmi Note 4 using Tapatalk
     
  2. ‏دسمبر 19، 2017 #2
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    فتویٰ نمبر: 2753

    (414) بلی کے جھوٹے کا کیا حکم ہے؟


    شروع از بتاریخ : 09 March 2013 08:22 PM

    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    ایک ضروری مسئلہ درپیش ہے، جواب سے جلد مرحمت فرمائیں:

    ’’بلّی کا جُھوٹھا قرآن و حدیث کے دلائل سے پاک ہے یا پلید؟
    اور اگر بلی کسی ہانڈی میں منہ ڈال دے تو وہ کھانا پاک ہے یا پلید؟
    قرآن و حدیث کی رو سے یہ مسئلہ مدلّل بیان فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے گا۔ نیز کتاب کا حوالہ اور متن ضرور ارقام فرمائیں۔




    الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
    وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته! الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

    بلّی کا جھوٹھا پاک ہے، پانی کے برتن میں بلّی منہ ڈال دے تو اُس پانی سے وضو کرنا بھی جائز ہے، ان مسائل کے لیے احادیث درج ذیل ہیں۔

    عن ابی قتادہ رضی اللہ عنہ أن رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم قال فی الھرة انھا لیست بنجس انما ھی من الطوافین علیکم
    ’’حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بلّی کے متعلق فرمایا کہ یہ پلید نہیں ہے۔ یہ تم پر (ہر وقت) پھرنے والوں میں سے ہے۔‘‘
    (ابو داؤد، نسائی، ترمذی، ابن ماجہ)

    حدیث دوم:


    عن داؤد بن صالح بن دینار عن امہ ان مولانھا ارسلتھا بھریسة الی عائشة قالت فوجدتھا تصلی فاشارت الی ان ضحیھا فجاء ت ھرة فاکلت منھأ فلما انصرفت عائشة عن صلوٰتھا کلت من حیث اکلت الھرة فقالت ان رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم یتوضؤ من فضلھا
    ’’حضرت داؤد بن صالح بن دینار اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی لونڈی کے ہاتھ حضرت عائشہؓ کی خدمت میں حلیم کی قسم کا کھانا بھیجا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نماز پڑھ رہی تھیں، لونڈی کو اشارہ سے کھانا رکھنے کے لیے فرمایا، بلی آئی اور اس نے اس میں سے کچھ کھا لیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نماز سے فارغ ہو کر وہیں سے کھا لیا، جہاں سے بلّی نے کھا لیا تھا اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بلّی کے جُوٹھے پانی سے وضو فرما لیا کرتے تھے، ‘‘
    (رواہ ابو داؤد، مشکوٰۃ باب الاحکام المیاہ فصل ۲)


    ان احادیث میں جواب تفصیلاً آ گیا، مزید لکھنے کی ضرورت نہیں۔


    (حافظ عبد القادر روپڑی، جامعہ اہل حدیث لاہور ، تنظیم اہل حدیث جلد ۱۹، شمارہ نمبر ۱۸) (الجواب صحیح : علی محمد سعیدی جامعہ سعیدیہ خانیوال مغربی پاکستان)


    فتاویٰ علمائے حدیث
    کتاب الصلاۃ جلد 1
    محدث فتویٰ


    ح
     
    • پسند پسند x 3
    • علمی علمی x 2
    • لسٹ
  3. ‏دسمبر 19، 2017 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,168
    موصول شکریہ جات:
    2,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    777

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    محترم بھائی !
    امام تقی الدین احمد بن عبدالحلیم ابن تیمیہ ؒ کا فتوی ان کی دو کتابوں میں موجود ہے (1) الفتاوى الكبرى لابن تيمية جلد 5،ص314 (2) اختیارات فقہیہ )
    وإذا أكلت الهرة فأرة ونحوها فإذا طال الفصل طهر فمها بريقها لأجل الحاجة وهذا أقوى الأقوال واختاره طائفة من أصحاب أحمد وأبي حنيفة ۔والله أعلم (الاختيارات الفقهية ص399 )
    ترجمہ :
    شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں کہ اگر بلی چوہا یا اس جیسی چیز کھالے اور زیادہ وقت گزرجائے تو تھوک سے اس کا منہ پاک ہوجاتا ہے ضرورت کی وجہ سے ، یہ سب سے قوی قول ہے جسے اختیار کیا ہے امام احمدؒ کے کچھ اصحاب اور امام ابوحنیفہ کے اصحاب کی ایک جماعت نے (کتاب الاختیارات العلمیۃ )
     
    Last edited: ‏دسمبر 19، 2017
    • پسند پسند x 5
    • علمی علمی x 4
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  4. ‏دسمبر 19، 2017 #4
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,168
    موصول شکریہ جات:
    2,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    777

    عن كبشة بنت كعب بن مالك - وكانت تحت ابن أبي قتادة - أن أبا قتادة، دخل فسكبت له وضوءا، فجاءت هرة فشربت منه، فأصغى لها الإناء حتى شربت، قالت كبشة: فرآني أنظر إليه، فقال: أتعجبين يا ابنة أخي؟ فقلت: نعم، فقال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «إنها ليست بنجس، إنها من الطوافين عليكم والطوافات»

    کبشۃ بنت کعب بن مالک رضی اللہ عنہما سے روایت ہے -وہ ابن ابی قتادہ کے عقد میں تھیں- وہ کہتی ہیں: ابوقتادہ رضی اللہ عنہ اندر داخل ہوئے، میں نے ان کے لیے وضو کا پانی رکھا، اتنے میں بلی آ کر اس میں سے پینے لگی، تو انہوں نے اس کے لیے پانی کا برتن ٹیڑھا کر دیا یہاں تک کہ اس نے پی لیا، کبشۃ کہتی ہیں: پھر ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے مجھ کو دیکھا کہ میں ان کی طرف (حیرت سے) دیکھ رہی ہوں تو آپ نے کہا: کیا تم تعجب کرتی ہو؟ میں نے کہا: ہاں، ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”یہ نجس نہیں ہے، کیونکہ یہ تمہارے اردگرد گھومنے والوں اور گھومنے والیوں میں سے ہے“ ۱؎۔

    تخریج دارالدعوہ:سنن ابوداود 75، سنن الترمذی/الطھارة ۶۹ (۹۲)، سنن النسائی/الطھارة ۵۴ (۶۸)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ۳۲ (۳۶۷)، (تحفة الأشراف: ۱۲۱۴۱)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة ۳(۱۳)، مسند احمد (۵/۲۹۶، ۳۰۳، ۳۰۹)، سنن الدارمی/الطھارة ۵۸ (۷۶۳) (حسن صحیح)
     
    • علمی علمی x 4
    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں