1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بنت صدیق رضی اللہ عنہ اور بنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم

'منہج' میں موضوعات آغاز کردہ از ابوالوفا محمد حماد اثری, ‏مئی 29، 2018۔

  1. ‏مئی 29، 2018 #1
    ابوالوفا محمد حماد اثری

    ابوالوفا محمد حماد اثری مبتدی
    شمولیت:
    ‏جون 01، 2017
    پیغامات:
    61
    موصول شکریہ جات:
    8
    تمغے کے پوائنٹ:
    20


    #ھفتہ_مدح_اھلِ_بیت

    بنت صدیق اور بنت رسول
    فاطمہ رضی اللہ عنہا کی عادات و خصائل اٹھک بیٹھک اپنے والد گرامی ﷺ سے اس حدتک مشابہہ تھیں کہ اتنی مشابہت کسی دوسرے کی میں نے دیکھی ہی نہیں، فاطمہ جب گھر تشریف لاتیں تو اللہ کے محبوب ان کے استقبال کو کھڑے ہوجاتے، ان کو بوسہ دیتے اور پھر اپنے ساتھ بٹھا لیتے۔
    یہی معاملہ وسری جانب سے ہوا کرتا، رسول اللہ ﷺ فاطمہ کے گھر جاتے تو لاڈ کی ماری کھڑی ہوجاتی، بابا کا ماتھا چومتیں اور آپ کے ساتھ بیٹھ جاتیں۔
    جب اللہ کے رسول موت و حیات کی کشمکش میں تھے، فاطمہ تشریف لائیں، اور بابا کو بوسہ دیا۔۔۔
    سنن ابی داود: 5217، وسندہ حسن
    میں یہ پڑھ رہا ہوں اور آنکھوں کے سامنے اس زمانے کی تصویر کھنچ گئی ہے، یوں معلوم ہوتا ہےکہ گویا سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اپنے باپ کی پدرانہ شفقتوں پر بے شرکت احدے و بے مزاحمت غیرے قابض و متصرف تھیں۔ اور ایسا ہی تھا کہ دوسری اولاد پہلے ہی فوت ہوچکی تھی۔
    میں یہاں آپ کو ایک اور بات بتاتا ہوں، یہ روایت ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ طاہرہ مطہرہ رضی اللہ عنہا نے بیان کی ہے، کچھ سمجھے آپ!
    انسانی نفسیات کو سمجھنے والے اس حقیقت سے آشنا ہیں کہ اتنی محبت سے تعلق واسطوں کے بیان کے پیچھے انتہائی عقیدت اور احترام کے جذبات کا سیل رواں بہا کرتا ہے، یعنی زبان دل کی ترجمان ہوا کرتی ہے، محض لہجوں اور الفاظ کا چناؤ حب داروں اور بغض داروں کے درمیان لکیر کھینچ دیتا ہے، اور اماں جی عائشہ کے یہ الفاظ، یہ لہجہ، یہ انداز بیان اور یہ چناؤ واضح طور پر چغلی کھاتا ہے کہ ماں بیٹی کی محبت بے مثال تھی، ان کے دلوں میں ایک دوسرے کا احترام تھا۔
    ایک دفعہ ایسا ہوا کہ امہات المومنین نے سیدہ عائشہ کی شکایت دے کر سیدہ فاطمہ کورسول اللہ ﷺ کی طرف بھیجا، فاطمہ آپ کے پاس تشریف لائیں، رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: میری شہزادی فاطمہ،
    أَلَسْتِ تُحِبِّينَ مَا أُحِبُّ؟
    تو کیا آپ اس سے محبت نہیں کرو گی، جس سے آپ کا بابا محبت کرتا ہو؟
    فاطمہ نے عرض کیا: بلی، کیوں نہیں بابا! تو فرمایا:
    فَأَحِبِّي هَذِهِ
    تو فاطمہ عائشہ کے ساتھ محبت کرو
    فاطمہ کو تم لوگوں نے کیا سمجھا ہے، کیا وہ اپنے بابا کی محبت سے محبت نہ کریں گی؟
    جھوٹا ہے وہ شخص جو ان ماں بیٹی کے رشتے کو اپنی زبان درازیوں اور اتہام تراشیوں سے گدلانا چاہتا ہے، پیغمبر کا اہل بیت ویسا نہیں تھا جیسا تم بتاتے ہو، بلکہ ویسا تھا کہ زمانے کے سامنے فخر وانبساط کے ساتھ ان کے کردار کو نمونہ تقلید بنا کر پیش کیا جاسکے، یقینا پیغمبر کا اہل بیت پیغمبر کی بیویاں اور ہیغمبر کی بیٹیاں دنیا کی مثالی خواتین تھیں اور ان کے تعلقات مثالی تھے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں