1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

بنک سے ملنے والی سودی رقم کے مصارف؟

'مالی معاملات' میں موضوعات آغاز کردہ از مقبول احمد سلفی, ‏جنوری 12، 2016۔

  1. ‏جنوری 12، 2016 #1
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    884
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    158

    یہ سوال بہٹ اٹھایا جاتا ہے کہ بنک سے ملنے والے سود کو ہم کہاں صرف کریں ؟
    قبل اس کے کہ میں اصل سوال کا جواب دوں پہلے یہ بات جان لیں کہ سود کا لین دین محرمات میں سے ہے نبی ﷺ نے لعنت فرمائی سود کھانے والے پر ، سود دینے والے پر، سود لکھنے والے پر اور سودی لین دین کے گواہوں پر اور آپﷺ نے فرمایا: ’’وہ سب (گناہ میں) برابر ہیں‘‘۔(مسلم:1598)
    اس لئے ہر اس کام سے بچا جائے جس میں سود کا عنصر ملا ہوا ہے ۔
    برصغیر میں بنک کا نظام سودی کاروبار پہ چلتا اور ہم ان بنکون کا استعمال مجبوری میں کرتے ہیں ۔ تو ان سے حاصل شدہ سودی رقم کہاں صرف کی جائے ؟
    اس میں علماء کے متعدد اقوال ہیں ، ان اقوال کی روشنی میں جو مناسب آراء سامنے آتے ہیں میں صرف انہیں ہی ذکر کرنے پہ اکتفا کرتا ہوں ۔

    (1) ایسے بھوکے غریب و نادار پہ خرچ کیا جائے جو نان شبینہ کے محتاج ہوں ۔

    (2) ایسے غریب مریض کا علاج کرایا جائے جس کا کوئی پرسان حال نہ ہو۔

    (3)وہ مقروض جس کے لئے قرض کی ادائیگی بہت دشوار ہو اس کے قرض میں استعمال کیا جائے۔

    (4) غیرمسلم تعلیمی ادارے پہ خرچ کیا جائے جس میں مسلم بچے زیرتعلیم نہ ہوں اور وہ ادارہ اسلام کے خلاف تعلیم نہ دیتا ہو۔
    (5) ایسے غریب غیرمسلم کو دیا جائے جو مسلمانوں کا دشمن نہ ہو۔

    (6) حکومت کی طرف سے عائد شرعا ظالمانہ ٹیکس بھی ادا کرسکتے ہیں جیسے انکم ٹیکس,سیل ٹیکس ویٹ ٹیکس,کسٹم ڈیوٹی ٹیکس وغیرہ لیکن نجی مفاد والے ٹیکس ادا نہیں کرسکتے جیسے ہاؤس ٹیکس, واٹر ٹیکس,سیور ٹیکس وغیرہ

    (7) رفاہی کاموں میں صرف کیا جائے مثلا سڑک ، کنواں، مسافرخانہ ، نل ، نہر وغیرہ

    علماء نے ان سب کاموں میں سود کی رقم استعال کرنے کو جائز قرار دیا ہے ، جس کے پاس سود کی رقم ہو اور ان مصارف میں سے جو مصرف آپ کے سامنے ہو اس میں سودی رقم لگا سکتے ہیں ۔ میں ان تمام مصارف میں سب سے بہتر مصرف آخر الذکر کو سمجھتا ہوں ۔ کیونکہ میری نظر میں سود کو اپنے نجی مفاد سے بچانا ہے اوراسلام یا مسلمان کے کسی کام میں صرف کرنے سے بھی بچانا ہے اور ایسا کام کرنا ہے جس سے سب کا بھلا ہو اس میں ہندو مسلم کا کوئی امتیاز باقی نہ رہے ۔

    واللہ اعلم
     
    • مفید مفید x 3
    • علمی علمی x 2
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  2. ‏فروری 08، 2016 #2
    عبداللہ ہندی

    عبداللہ ہندی مبتدی
    جگہ:
    امرتسر پنجاب ہندوستان
    شمولیت:
    ‏فروری 04، 2016
    پیغامات:
    203
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    27

    مولوی صاحب سور کے گوشت کے مصارف بھی بیان فرما دیجیے۔
     
  3. ‏فروری 08، 2016 #3
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    884
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    158

    میں نے یہاں علماء کے اقوال کو جمع کیا ہے نہ کہ اپنے من سے لایاہے ۔ خیر آپ نے سورکے گوشت کامصرف پوچھا ہے سو وہ بھی بتادیتا ہوں ۔
    اضطراری حالت میں جیسے اوپر بنک کے سود کا مصرف بتایاگیا ہے ویسے ہی قرآن کریم نے اضطراری حالت میں جان بچانے کے لئے سور کا گوشت کھانے کا حکم دیا ہے ۔
    فَمَنِ اضْطُرَّ غَیرَ بَاغٍ وَّلاَ عَادٍ فَلٓا إِثْمَ عَلَیہِ ط
    ’’جو شخص مجبور (بھوک کی شدت سے موت کا خوف)ہوجائے تو اس پر (ان کے کھانے میں)کوئی گناہ نہیں بس وہ حد سے بڑھنے والا اور زیادتی کرنے والا نہ ہو ‘‘(سورۃ البقرۃ ۔آیت 173)
     
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  4. ‏فروری 08، 2016 #4
    عبداللہ ہندی

    عبداللہ ہندی مبتدی
    جگہ:
    امرتسر پنجاب ہندوستان
    شمولیت:
    ‏فروری 04، 2016
    پیغامات:
    203
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    27

    ویسے آپ نے سود والی پوسٹ میں کہیں بھی اضطراری حالت کا ذکر نہیں کیا۔ ایسا بھی تو ہو سکتا ہے کہ بنک سے سود لیا ہی نا جائے اگر وہ دینا چاہیں تو بنک والوں کو کہا جائے کہ ہم نے یہ نہیں لینا۔ اور ایک اور بات بتائیے کہ یہ کون سے علماء ہیں جنھوں نے کہا ہے کہ سود کے مصارف فلاں فلاں ہے۔ کیوں کہ جب دیو بندی علماء یہ کہیں کی سود کے پیسے مسجد میں دے دینے چاہیے وہ مسجد کی لیٹرینیں بنا لیں گے تو اُن کا خوب مزاق اُرایا جائے اور جب آپ کے علماء ایسا کہیں تو اُن کے نام ہی نہ ظاہر کیے جائے۔
     
  5. ‏فروری 08، 2016 #5
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,551
    موصول شکریہ جات:
    5,193
    تمغے کے پوائنٹ:
    530

    عبداللہ بھائی! علمی گفتگو میں نقد بھی علمی انداز میں ہونی چاہئے، بازاری زبان و انداز میں نہیں۔ بنک سود سے متعلق تقویٰ کا تقاضہ تو یہ ہے کہ آپ بنک اور بنک کے معاملات سے دور ہی رہیں۔ نہ بنک میں اکاؤنٹ کھولیں۔ نہ بنک میں یوٹیلیٹی بل جمع کروائیں۔ نہ بنک کی معرفت تنخواہ وصول کریں۔ غرضیکہ اپنے کسی بھی معاملات میں بنک کو ”ملوث“ نہ کریں۔ اگر آپ یہ سب کچھ کرسکتے ہیں، بلکہ ”آپ جیسے متقی و پرہیزگار“ لوگوں کو لازمی کرنا چاہئے۔
    لیکن اگر ایسا نہیں کرسکتے، اور بنک اکاؤنٹ کھولنا ناگزیر ہو تو کرنٹ اکاؤنٹ کھولئے۔ اس میں ”براہ راست سودی لین دین“ نہیں ہوتا۔ گو کہ ان ڈائریکٹلی آپ یہاں بھی ایک سودی سسٹم والے نظام کو ”استحکام بخشنے“ کا سبب بن رہے ہوتے ہیں۔
    اور اگر آپ کسی وجہ سے سیونگ اکاؤنٹ کھولے بیٹھے ہیں۔ اور اس اکاؤنٹ میں آپ کی جمع شدہ رقوم پر بنک آپ کو ”سودی منافع“ دے رہا ہو تو آپ یہ سودی منافع بنک کے حوالہ کرکے بنک کے سودی نظام کو براہ راست فائدہ نہ پہنچائیں، بلکہ یہ سودی رقم نکال کر اپنی ذات یا اپنے زیر کفالت افراد پر خرچ نہ کریں بلکہ
    بلا ثواب کی نیت کے اپنے گرد و پیش کے ضرورتمند لوگوں میں تقسیم کردیں۔ اگر اس تقسیم کے بارے میں ”مشورہ“ درکار ہو کہ کن لوگوں کی سودی رقم سے مدد کرنی چاہئے تو مراسلہ نمبر ایک سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ اگر مشورہ کی ضرورت نہ ہو تو ”اپنی ذمہ داری“ پر اپنی مرضی سے بھی خرچ کرسکتے ہیں۔
    واللہ اعلم بالصواب
     
    • متفق متفق x 2
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  6. ‏فروری 09، 2016 #6
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    884
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    158

    جزاک اللہ خیرا
    اچھے انداز میں آپ نے عبداللہ صاحب کو وضاحت کے ساتھ جواب دیا۔ ویسے عبداللہ صاحب کا انداز جس قدر بھیانک ہے دیکھا جاسکتا ہے ،مگرالحمدللہ سلف کے منہج پہ چلنے والے ہمیشہ نرم روی اختیار کرتے ہیں ۔
     
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • غیرمتفق غیرمتفق x 1
    • لسٹ
  7. ‏فروری 09، 2016 #7
    عبداللہ ہندی

    عبداللہ ہندی مبتدی
    جگہ:
    امرتسر پنجاب ہندوستان
    شمولیت:
    ‏فروری 04، 2016
    پیغامات:
    203
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    27

    کچھ عرصہ پہلے سنا تھا کہ آپ کے صدر نے بھی مولوئیوں کو کہا تھا کہ سود کے استعمال کا کوئی راستہ نکالا جائے۔ معلوم نہیں سچ سنا تھا کہ جھوٹ۔
     
  8. ‏فروری 09، 2016 #8
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    884
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    158

    مجبور ہوکے کہنا پڑتا ہے کہ تقلید آدمی کو اس قدر اندھا بنادیتا کہ قرآن کی آیت ہو ، قرآن کا حکم ہو بلاجھجھک انکار کردیتا ہے ۔ اب دیکھیئے قرآن کے مذکورہ بالا حکم پہ عبداللہ کا غیرمتفق ریٹ۔
    لاحول ولاقوۃ الاباللہ
     
  9. ‏فروری 09، 2016 #9
    عبداللہ ہندی

    عبداللہ ہندی مبتدی
    جگہ:
    امرتسر پنجاب ہندوستان
    شمولیت:
    ‏فروری 04، 2016
    پیغامات:
    203
    موصول شکریہ جات:
    13
    تمغے کے پوائنٹ:
    27

    وہ پوسٹ غلطی سے ہوئی ہے۔ اور میں مقلد بھی نہیں ہو۔
     
  10. ‏فروری 09، 2016 #10
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    884
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    158


    سود کی رقم کا مصرف
    س
    میرے پاس بینکوں کے ذریعہ آکر بہت زیادہ سود جمع ہوگیا ہے۔ اب اس کا درست مصرف کیا ہوسکتا ہے۔ ؟ کتاب وسنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔ نوازش ہوگی۔

    ج
    سود کی یہ رقم ثواب کی نیت کیے بغیر کسی مستحق زکوۃ فقیر کو دے دیں۔ واللہ أعلم


    پاکستان کے دارالعلوم دیوبند''جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کراچی'' کا فتوی
    http://www.banuri.edu.pk/readquestion/sood-ki-raqam-ka-masraf/2014-08-18

     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں