1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

بنک سے گاڑی قسطوں پر لینا

'مالی معاملات' میں موضوعات آغاز کردہ از یوسف ثانی, ‏جولائی 05، 2014۔

  1. ‏جولائی 05، 2014 #1
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,577
    موصول شکریہ جات:
    5,207
    تمغے کے پوائنٹ:
    530

    ابو عبداللہ
    اس سوال کا جواب ہاں میں بھی ہے اور نہیں میں بھی ۔
    1. اگر آپ بنک سے گاڑی خریدنے کے لئے قرضہ لیتے ہیں۔ اور قرضہ کی اصل رقم سے زائد رقم (ماہانہ قسطوں میں) بنک کو واپس کرتے ہیں تو بلا شبہ یہ سود ہے۔ خواہ قسطیں مکمل ہونے تک بنک گاڑی اپنے نام رکھے یا آپ کے نام کرکے اس کے کاغذات اپنے پاس رکھے۔ روایتی بنکوں میں عموماً ایسا ہی ہوتا ہے۔
    2. ”اسلامی بنک“ دوسرا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ اور ان بنکوں سے وابستہ علمائے کرام کہتے ہیں کہ ان طریقوں میں سود شامل نہیں ہوتا۔
    (الف) بنک کہتا ہے کہ آپ ہم سے قرضہ نہ لیں بلکہ ہم سے براہ راست گاڑی خریدیں۔ اگر آپ کوئی مخصوص گاڑی ہم سے نقد خریدیں گے تو ہم آپ کو مارکیٹ کی قیمت میں فروخت کریں گے۔ اگر ادھار یا قسطوں پر خریدیں گے تو یہ مارکیٹ قیمت سے اتنے فیصد زائد قیمت کی ہوگی۔ اور شریعت میں ایک ہی چیز الگ الگ قیمتوں میں فروخت کی جاسکتی ہے۔ نقد کی قیمت الگ، ادھار کی قیمت الگ، قسطوں کی قیمت الگ، دکان سے خریدنے کی صورت میں الگ اور ہوم ڈیلیوری کی صورت میں قیمت الگ۔ وغیرہ وغیرہ

    (ب) بنک کہتا ہے کہ گاڑی اے کی قیمت دس لاکھ ہے۔ اگر آپ پوری گاڑی ایک ساتھ نہیں خرید سکتے تو اسے 100 قسطوں میں خرید لیجئے۔ ہم گاڑی کی مارکیٹ قیمت کے 100 حصص بنا دیتے ہیں۔ ایک حصہ 10،000 روپے کا ہوگا۔ آپ دس دس ہزار روپے کی قسطیں دیتے جائیے۔ جب آپ پوری 100 حصص خرید لیں گے تو گاڑی آپ کی مکمل ملکیت میں ہوگی۔ اس ترتیب سے
    1۔ پہلی قسط کی ادائیگی پر آپ کی ملکیت ایک حصص ۔۔۔ بنک حصص 99
    2۔ دسویں قسط کی ادائیگی پر آپ کی ملکیت 10 حصص ۔۔۔ بنک حصص 90
    3۔ 50 ویں قسط کی ادائیگی پر آپ کی ملکیت 50 حصص ۔ بنک حصص 50
    4۔ 99 ویں قسط کی ادائیگی پر آپ کی ملکیت 99 حصص ۔ بنک کی ملکیت 1 حصص

    اب اگر آپ چاہیں تو پہلی قسط دے کر گاڑی اپنے استعمال میں بھی رکھ سکتے ہیں۔ لیکن اس صورت میں آپ کو گاڑی کا کرایہ دینا ہوگا۔ پوری گاڑی (100 حصص) کا ماہانہ کرایہ (مثلاً) 100 روپے ہوگا۔ چونکہ آپ گاڑی کے 1 حصہ کے مالک ہیں اور بنک 99 حصہ کے اس لئے پہلے ماہ آپ کو 99 روپے کرایہ ادا کرنا ہوگا (گاڑی کی قسط کے علاوہ)۔ دسویں ماہ آپ کو بنک کے 90 حصص کا کرایہ 90 روپے، 50ویں ماہ 50 روپے، 99 ویں ماہ ایک روپے دینا ہوگا۔ اس صورت میں بھی سود کا کہیں عمل دخل نہیں ہوتا۔

    واللہ اعلم بالصواب
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  2. ‏جولائی 06، 2014 #2
    ابوالحسن علوی

    ابوالحسن علوی علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 08، 2011
    پیغامات:
    2,524
    موصول شکریہ جات:
    11,481
    تمغے کے پوائنٹ:
    641

  3. ‏جولائی 06، 2014 #3
    معاویہ زین العابدین

    معاویہ زین العابدین بین یوزر
    شمولیت:
    ‏مئی 09، 2014
    پیغامات:
    93
    موصول شکریہ جات:
    44
    تمغے کے پوائنٹ:
    18

    کوئی بھائی اس کا اردو ترجمہ کر دے تو ہم جیسوں کا بھلا ہو جائیگا۔
     
  4. ‏جولائی 07، 2014 #4
    ابن عبدالقیوم

    ابن عبدالقیوم رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 23، 2013
    پیغامات:
    213
    موصول شکریہ جات:
    379
    تمغے کے پوائنٹ:
    76

    یوسف ثانی بھائی جس طرح آپ نے وضاحت کی یہ طریقہ اسلامی بینک سے گھر کی خریداری کا ہے اور اسے diminishing Musharka کہتے ہیں - جبکہ گاڑی کیلئے "اجارہ " کی ٹرم استعمال کی جاتی ہے یعنی کرایہ پر حاصل کرنا-
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں