1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بکریوں کا آن لائن کاروبار؟

'جدید فقہی مسائل' میں موضوعات آغاز کردہ از نسیم احمد, ‏جنوری 24، 2019۔

  1. ‏جنوری 24، 2019 #1
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    740
    موصول شکریہ جات:
    115
    تمغے کے پوائنٹ:
    90

    https://goat2goats.com
    محترم @اسحاق سلفی صاحب
    السلام علیکم
    آپ سے گذارش ہے کہ اس ویب سائٹ کو دیکھ لیں اس ویب سائٹ اور ان کے نمائندے سے ہونے والی گفتگو کے مطابق یہ لوگ 35000 روپے میں ایک یونٹ فروخت کرتے ہیں جس میں ایک بکری اور دو بچے شامل ہوتے ہیں ۔
    اس بکری کے بچوں کی پرورش تقریبا 18 ماہ کرتے ہیں جب تک یہ بچے خود بچہ جننے کے قابل ہوجائیں ۔ ان بچوں میں سے یہ خود آدھے بچوں کے مالک ہوتے ہیں اور آدھے یونٹ والے کو ملتے ہیں ۔
    18 ماہ کے دوران بکری کے دودھ سے حاصل ہونے والی مختلف پروڈکٹ جیسے دہی ، پنیر وغیرہ بھی تیا ر کرتے ہیں اور اس کا منافع بھی یونٹ ہولڈرسے شیئر کرتے ہیں۔
    برائے مہربانی اس کاروبار میں شرکت کے حوالے سے شرعی حکم ارشاد فرمائیں۔
    پوری تفصیلات ویب سائٹ میں موجود ہیں۔
     
  2. ‏جنوری 24، 2019 #2
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی سینئر رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,251
    موصول شکریہ جات:
    354
    تمغے کے پوائنٹ:
    209

     
  3. ‏جنوری 25، 2019 #3
    نسیم احمد

    نسیم احمد رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 27، 2016
    پیغامات:
    740
    موصول شکریہ جات:
    115
    تمغے کے پوائنٹ:
    90

    محترم
    میں نے سوال میں جو صورت مذکور کی ہے اس میں بکریاں میرے قبضے میں نہیں آرہی ہیں بلکہ وہ ادارہ اس کو خود خرید کر خود ہی افزائش کرے گا اور اس کی قیمت ایک بکری کا بچہ اور مستقبل میں اس سے ہونے والے بچے لے گا۔کیا یہ صورت جائز ہوگی۔
     
  4. ‏فروری 05، 2019 #4
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,772
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    ایک ہی وقت میں دو چیزیں نظر آرہی ہیں،
    یعنی خرید وفروخت بھی اور ساتھ کاروبار میں اشتراک بھی۔
    خرید و فروخت میں چیز کا قبضہ میں آنا ضروری ہے۔ یہاں بکریاں آپ کے قبضے میں توسرے آئی ہی نہیں۔ بلکہ انہیں لوگوں کے پاس رہیں گی۔
    اگر یہ اشتراک کی بنا پر کاروبار ہے، تو آپ کی طرف سے متعین حصہ، اور اس سے حاصل ہونے والے نفع نقصان میں ذمہ داری کی صورت میں جائز، ورنہ نہیں۔
    واللہ اعلم۔
     
  5. ‏فروری 06، 2019 #5
    مقبول احمد سلفی

    مقبول احمد سلفی سینئر رکن
    جگہ:
    اسلامی سنٹر،طائف، سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏نومبر 30، 2013
    پیغامات:
    1,251
    موصول شکریہ جات:
    354
    تمغے کے پوائنٹ:
    209

    اسی واسطے میں نے آن لائن خرید و فروخت کا حکم جاننے کے لئے کہا تھا۔ یہاں پر بکریوں کی خرید ہے مگر قبضہ نہیں ہے اس وجہ سے یہ خرید و فروخت جائز نہیں ہے ۔
    جہاں تک اشتراک والے کاروبار کی صورت ہے تو وہ صورت یہاں نظر نہیں آتی ۔ یہاں تو بکری خریدی جاتی ہے اور یہ بکری خریدار کی ہوجاتی ہے، بیچنے والا بکری کی محض پرورش کرتا ہے اور اس کے تجارتی اصول کی روشنی میں بکری کا مالک اس وقت خریدار ہوتا ہے ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں