1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بھائی بیٹے کے لئے لڑکی ”دیکھنے “ جانا

'اصلاح خواتین' میں موضوعات آغاز کردہ از یوسف ثانی, ‏اگست 17، 2013۔

  1. ‏اگست 17، 2013 #1
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,267
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    جن لڑکیوں یا خواتین کے بھائی یا بیٹے جوان ہوجائیں، اُن کا ایک ’پسندیدہ مشغلہ“ اپنے بھائی بیٹے کے لئے ”لڑکی دیکھنے“ جانا ہے۔ ایسا کرتے ہوئے شادی شدہ خاتون یہ بھول جاتی ہیں کہ اس مرحلہ پر ان کے ساتھ کیا ”بیتا“ تھا۔ یا پھر وہ لاشعوری طور پر اپنے ساتھ ہونے والے ”مظالم“ کا ”بدلہ“ لینے گھر گھر لڑکیاں دیکھتی اور مسترد کرتی جاتی ہیں۔ ہمارے معاشرے کا ”المیہ“ یہ ہے کہ ایسے موقع پر غیر شادی شدہ لڑکیاں بھی اپنی امیوں کے ساتھ پیش پیش رہتی ہیں اور انہیں یہ ذرا بھی خیال نہیں ہوتا کہ اُن کے ساتھ بھی وہی کچھ ہوگا، جو وہ دوسری لڑکیوں کے ساتھ کر تی پھر رہی ہیں۔ یہ وہ واحد ”وقوعہ“ ہے جس میں ظالم بھی خواتین ہوتی ہیں اور مظلوم بھی خواتین۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ نہ تم خود دوسروں پر ظلم کرو اور نہ دوسروں کو اپنے اوپر ظلم کرنے دو۔ کیا ہماری خواتین اس حدیث پر عمل کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اگر ہیں تو مندرجہ ذیل نکات کو بغور پڑھئے۔ شاید کہ آپ کے دل میں اتر جائے اس احقر کی بات

    1. ہمارے ہاں یہ "روایت" سی بن گئی ہے کہ رشتہ صرف لڑکے والے ہی بھیجیں گے۔ لڑکی والے صرف "رشتوں کا انتظار" کریں گے۔ اسلام میں ایسی کوئی "پابندی" نہیں ہے۔ رشتہ یا پروپوزل لڑکے والے بھی بھیج سکتے ہیں اور لڑکی والے بھی۔ بلکہ اگر لڑکا اور لڑکی دونوں کا ایک دوسرے سے (جائز) معاشرتی رابطہ یا کمیونی کیشن ہے تو دونوں میں سے کوئی بھی براہ راست یا کسی کی معرفت دوسرے کو "اپنی پسند سے آگاہ" سے آگاہ کرسکتا ہے۔ اور مثبت جواب کی صورت میں اپنے والدین کو ایک دوسرے کے گھر بھیج سکتا ہے۔
    2. رشتہ کے لئے لڑکی "دیکھنے" جارہے ہیں۔ دراصل یہ فقرہ ہی غلط اور "فتنہ کی جڑ " ہے۔ جب ہم کسی کو "دیکھنے" جاتے ہیں تو پھر وہی سب کچھ "لازماً" ہوگا، جو اس وقت ہو رہا ہے ۔ صرف پہلی لڑکی کو دیکھ کر تو اسے سیلیکٹ نہیں کیا جاسکتا۔ لازماً کئی لڑکیوں کو مسترد کیا جائے گا تب کسی ایک کو سیلیکٹ کیا جائے گا۔ اور لڑکی کو "دیکھنے" کا عمل بھی "چیزوں کو دیکھنے" سے ملتا جلتا ہوگا۔
    3. میں عرصہ دراز سے لکھتا چلا آرہا ہوں کے ہم رشتہ کے لئے لڑکیوں کو "دیکھنے" کا سلسلہ ہی ختم کردیں۔ تاکہ لڑکیوں کی عزت نفس مجروح نہ ہو، اول دیکھے جانے کے وقت اور بعد ازاں "مسترد" کئے جانے پر۔
    4. اس کی بجائے ہم (رشتہ کی نیت سے) لڑکیوں سے اور اُن کے اہل خانہ سے "ملنے" جایا کریں، مہمان بن کر۔ جب ہم کسی کے گھر مہمان بن کر اُن سے ملنے جائیں گے تو ہمارا "رویہ" ازخود مہذبانہ ہوگا، جیسا کہ عام میل ملاقات کے دوران ہوتا ہے۔ جاننے والے گھروں میں تو ہم آتے جاتے ہی رہتے ہیں۔ اس معمول کے آنے جانے کے دوران ہی "رشتہ کی نیت سے" از سر نو لڑکی اور اس کے اہل خانہ سے "ملاقات کرلیا کریں، انہیں اپنی "نیت" بتلائے بغیر۔ اور جب رشتہ "پسند" آجائے تو براہ راست یا کسی کی معرفت لڑکی کے والدین تک اپنا ارادہ پہنچا دیں۔ "مثبت ردعمل" کی صورت میں رسمی طور پر بات چیت کی جاسکتی ہے۔
    5. نہ جاننے والے گھروں کا اتہ پتہ کوئی "تیسرا" بتلایا کرتا ہے، جو اس گھرانے سے عموماً واقف ہوتا ہے۔ لہٰذا اس "تیسرے فرد" کی معرفت کسی بھی دیگر مناسب "موقع" پر رشتہ کی نیت سے (مگر لڑکی والوں کو بتلائے بغیر) ان کے گھر جایا اور لڑکی اور اہل خانہ سے ملا جاسکتا ہے۔یا پھر کسی تیسری جگہ جیسے کسی شادی بیاہ یا دیگر تقریب میں، یا کسی سیر و تفریح کے موقع پر لڑکے اور لڑکی والوں کو "اچانک ملوایا" جاسکتا ہے۔جہاں "دونوں گھرانے" ایک دوسرے سے تفصیلاً مل لیں۔ پسندیدگی کی صورت میں رسمی ملاقاتیں جاری رہ سکتی ہیں۔
    6. کہنے کا مطلب یہ کہ جب تک رشتہ مکمل طور پر "سیلیکٹ" نہ کرلیا جائے، اُس وقت تک لڑکی اور لڑکی کے گھرانے کو یہ نہ بتلایا جائے کہ ہم اس نیت سے آپ سے "مل" رہے ہیں۔ "بغیر بتلائے ملنے" کی صورت میں لڑکے والوں کا "فائدہ" یہ ہوگا کہ وہ لڑکی اور لڑکی گھر والوں کو ان کی "اصل صورت" میں دیکھ سکیں گے۔ اور اس ملاقات میں وہ "مصنوعی پن" نہیں ملےگا، جیسا کہ عام طور پر رشتہ کے لئے لڑکی دیکھے جانے کے موقع پر لڑکی والے "اختیار" کرلیتے ہیں۔
     
  2. ‏اگست 17، 2013 #2
    محمد وقاص گل

    محمد وقاص گل سینئر رکن
    جگہ:
    راولپنڈی
    شمولیت:
    ‏اپریل 23، 2013
    پیغامات:
    1,037
    موصول شکریہ جات:
    1,678
    تمغے کے پوائنٹ:
    310

    بہت اعلیٰ۔۔
    ماشاءاللہ۔۔۔۔
     
    • شکریہ شکریہ x 5
    • پسند پسند x 4
    • لسٹ
  3. ‏اگست 17، 2013 #3
    محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل سینئر رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    3,881
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    بہت خوب یوسف بھائی۔ اللہ تعالی آپ کو اس کارِ خیر کا اجر عطا فرمائے آمین
     
    • شکریہ شکریہ x 7
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  4. ‏اگست 17، 2013 #4
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    جزاک اللہ خیرا یوسف بھائی۔ معاشرے کے ایک المیہ کی نشاندہی اور بہترین قابل عمل حل۔ ہمارے گھر کی حد تک اب رشتہ دیکھنے کا چکر نہیں ہے، ورنہ میں اپنے گھر سے ابتدا کرتا۔ لیکن آپ کی یہ تحریر آفس اور فیس بک کے ساتھیوں تک ان شاء اللہ ضرور پہنچاؤں گا۔ دیگر احباب سے بھی یہی درخواست ہے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 6
    • پسند پسند x 4
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  5. ‏اگست 17، 2013 #5
    محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل سینئر رکن
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏اپریل 29، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    3,881
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    شاکر بھائی دوسروں تک پہنچانے کی دعوت دے کر آپ نے اپنے اجر و ثواب کو بڑھا لیا ہے۔ اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے آمین
     
    • شکریہ شکریہ x 5
    • پسند پسند x 2
    • متفق متفق x 2
    • لسٹ
  6. ‏اگست 17، 2013 #6
    اسحاق

    اسحاق مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 25، 2013
    پیغامات:
    894
    موصول شکریہ جات:
    2,074
    تمغے کے پوائنٹ:
    196

    ماشااللہ ، بہت زبردست تحریر ھے۔
    جزاک اللہ خیرا
     
    • شکریہ شکریہ x 8
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  7. ‏اگست 17، 2013 #7
    ابوزینب

    ابوزینب رکن
    شمولیت:
    ‏جولائی 25، 2013
    پیغامات:
    445
    موصول شکریہ جات:
    282
    تمغے کے پوائنٹ:
    65

    بہت زبردست مضمون ہے یہ ہے ، اگر اس مضمون میں پیش کی جانے والی نصیحتوں پر عمل کیا جائے تو کافی حد تک ان مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ اور اس کی ابتداء میں اپنے گھر سے کرتا ہوں۔ان شاء اللہ
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 3
    • زبردست زبردست x 2
    • لسٹ
  8. ‏اگست 18، 2013 #8
    حسن شبیر

    حسن شبیر مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 18، 2013
    پیغامات:
    802
    موصول شکریہ جات:
    1,817
    تمغے کے پوائنٹ:
    196

    جزاک اللہ بھائی
     
    • شکریہ شکریہ x 5
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  9. ‏اگست 18، 2013 #9
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    بہت عمدہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جزاک اللہ خیرا کثیرا
    اس ضمن میں ایک اور بات بھی قابل غور ہے ، کہ "رشتہ" کرنے کے بعد لڑکوں کی مائیں بڑے مان سے کہتی ہیں
    " کئی لڑکیاں دیکھی تب کہیں جا کر ایسا رشتہ ملا" یعنی "ریجیکشن"کسی حد تک "سٹیٹس " کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے۔
     
    • متفق متفق x 5
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  10. ‏ستمبر 02، 2013 #10
    یوسف ثانی

    یوسف ثانی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    پاکستان
    شمولیت:
    ‏ستمبر 26، 2011
    پیغامات:
    2,760
    موصول شکریہ جات:
    5,267
    تمغے کے پوائنٹ:
    562

    اپنی اولاد (بیٹا یا بیٹی) کے رشتہ کے لئے دینی اور دنیوی اعتبار سے “خوب سے خوب تر کی تلاش” کرنا کوئی معیوب بات نہیں بلکہ یہ ایک مستحسن قدم ہے۔ عموماً ہم سب ایسا ہی کرتے ہیں اور ایسا ہی کرنا بھی چاہئے۔ ایک کےرشتہ کے لئے دس چھوڑ پچاس رشتہ دیکھئے لیکن “سرچنگ” کا یہ عمل ایسا نہ ہو کہ
    • کسی ایک کے گھر رشتہ دیکھنے کا اعلان کر کے گئے، کھایا پیا، رشتہ دیکھا اور مسترد کرکے چلے گئے
    • پھر یہی عمل بار بار دہراتے چلے گئے، اُس وقت تک جب تک “پسندیدہ رشتہ” مل نہیں گیا۔
    • اور جتنے رشتوں کو “مسترد” کر کےچلے گئے، اُن کی آہ کا اثر یہ ہوا کہ جس “چاند سی بنو” کو بیاہ کر لائے، اُس نے آتے ہی وہ غدر مچایا کہ الاماں و الحفیظ
    بس اس مروجہ طریقہ کو بدل دیجئے۔ ہم روزانہ درجنوں افراد سے مختلف حیثیوں میں ملتے ہی رہتے ہیں۔ اپنی انہی معمول کے میل ملاقات کے دوران (دوسروں کو، بالخصوص جسے “دیکھا” جارہا ہے، “اُسے” اور اس کے اہل خانہ کو بتلائے بغیر) اس “نیت” سے اور اس “نظر” سے ملئے کہ یہ صاحب، صاحبہ یا گھرانہ ہمارے بچی یا بچہ کے لئے بطور رشتہ مناسب ہے یا نہیں۔ جب کوئی گھرانہ یا رشتہ “مناسب” لگے تو مزید “تحقیقات” کرکے اسے اپنی طرف سے “فائنل” کر لیجئے۔ اور اس کے بعد متعلقہ گھر میں رشتہ لے کر جائیے۔ اگر قبول ہوگیا تو اللہ کا شکر ادا کیجئے۔ اور اگر قبول نہ ہوا تو بُرا محسوس کئے بغیر اپنی کوششیں جاری رکھئیے۔
    یقین کیجئے کہ اس طرح بھی آپ حقیقتاً بہت سے رشتے دیکھ کر ہی ایک رشتہ سیلیکٹ کر رہے ہوں گے۔ لیکن اس صورت میں عملاً آپ کسی ایک کو بھی “مسترد” نہیں کر رہے ہوتے۔ اور بہ مشکل دو تین گھرانوں ہی میں رسمی طور پر رشتہ کی خاطر جارہے ہوتے ہیں۔ اور “گوہر مقصود” پالیتے ہیں۔
    اپنے بھائی بیٹے کے لئے چاند سا رشتہ ڈھونڈنے والی خواتین کے لئے ایک اور “ہدایت”۔ اگر آپ یہ چاہتی ہیں کہ جس چاہ سے آپ چاند سی دلہن گھر لے کر آئی ہیں، وہ بعد از شادی بھی آپ کو ”عزیز“ رہے اور وہ بھی آپ کا “احترام” کرتی رہے تو شادی سے پہلے اس بات کا “اہتمام” کر لیجئے کہ شادی کے ہنگاموں کے فوراً بعد “نیا جوڑا” اپنی ایک الگ “دنیا” بسا سکے۔ اسلام میں “جوائنٹ فیملی سسٹم” کا کوئی تصور نہیں ہے۔ اور یہ ہر شادی شدہ عورت کا “حق” ہے کہ اُسے اپنے شوہر کی استطاعت کے مطابق “علیحدہ گھر” دیا جائے جہاں وہ اپنی مرضی سے زندگی گذار سکے۔ کیونکہ جوائنٹ فیملی سسٹم میں لڑکی کو یا تو 24 گھنٹہ اپنے “اسلامی حجاب” کو برقرار رکھنا ہوگا، جو یقیناً ایک مشکل کام ہے۔ اسی لئے اکثر “جوائنٹ فیملی سسٹم” میں یہ کہہ کر حجاب کی شرعی پابندیوں کو توڑ اور چھوڑ دیا جاتا ہے کہ ایسا تو عملاً ممکن ہی نہیں۔
    لہٰذا والدین کے لئے اگر یہ ممکن ہو کہ اپنے ہر بیٹے کو علیحدہ گھر لے کر دے سکیں، تو شادی سے قبل ہی انہیں چھوٹا موٹا سا سہی، علیحدہ گھر ضرور دے دیجئے۔ اگر فوری طور پر ایسا ممکن نہ ہو تو اپنے موجودہ گھر ہی میں “علیحدہ پورشن” بنا دیجئے، جس کا کچن بھی الگ ہو۔ اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو آس پاس کرائے ہی کا کوئی گھر لے دیجئے۔ اگر آپ نے ایسا نہیں کیا تو یقین جانئے کہ جھگڑا فساد کے بعد بالآخر آپ کا بیٹا بھائی آپ سے بہت دور چلا جائے گا۔ شادی سے ایک نئے “گھر” کا آغاز ہوتا ہے۔ لہٰذا ہر شادی شدہ جوڑے کو پہلے ہی ایک الگ مکان، الگ رہائش فراہم کردیجئے۔ بجائے اس کے کہ نیا جوڑا بعد از جھگڑا فساد یہی کام کرے یا دونوں ایک دوسرے کی زندگیوں سے ہی علیحدہ ہوجائیں۔ آپ اس بات کو یقین کر لیجئے کہ اگر شادی کے فوراً بعد نئے جوڑے کو اپنے آپ سے قریب تر ایک نیا اور علیحدہ گھر دینے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو سمجھ لیجئے کہ اس “نئے گھر” سے آپ کے تعلقات بھی خوشگوار رہیں گے اور میاں بیوی کی علیحدگی یعنی طلاق کا امکان بھی کم سے کم رہ جائے گا۔ ان شاء اللہ
     
    • پسند پسند x 4
    • شکریہ شکریہ x 3
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں