1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بھائی

'اردو زبان وادب' میں موضوعات آغاز کردہ از امیر عدنان, ‏فروری 17، 2017۔

  1. ‏فروری 17، 2017 #1
    امیر عدنان

    امیر عدنان مبتدی
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏فروری 17، 2017
    پیغامات:
    1
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    18

    امی…امی.. ہماری تمام سہیلیوں کے بھائی ہیں…ہمارا کوئی بھائی کیوں نہیں ہے اللہ دے گا..۔ کب دے گا امی…. جب اللہ کو منظور ہوگا.. ان سب کی دعا قبول ہوئی.پاک اللہ کی رحمت کو جوش آیا.بہنوں کو بھائی مل گیا. بہنوں کے لئے بھائی سے زیادہ وہ ایک جیتا جاگتا گڈا،، تھا. جس کے ساتھ وہ دن بھر کھیلتیں. اس کے ناز اٹھاتیں.ماں سے زیادہ وہ اس کا خیال رکھتیں. وقت گزرتا رہا. اب بہن بھائی سکول جانے لگے تھے. اس دن موسم خراب تھا.بارش رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی. بچے سکول گئے ہوئے تھے. اور ماں فکر مند تھی.جب بچے گھر لوٹے.تو ماں حیران رہ گئی. بھائی کا لباس خشک تھا. بہنیں پانی میں شرابور نظر آ رہی تھیں. ماں کو کچھ پوچھنے کی ضرورت پیش نہیں آئی.امی…امی…ایک چھاتہ تھا… بہنوں نے مجھے سائے میں رکھا..بھائی شوخ آواز میں بولا. بہنوں کے اس ایثار کو یاد رکھنا بیٹا..امی سسک پڑی.بات گہری تھی. وہ سمجھ نہیں پایا. وقت گزر رہا تھا. بچے بڑے ہو چکے تھے. نئی صفیں بچھ چکیں تھیں.پُرانی صفیں لپیٹی جا چکیں تھیں. وہ تینوں اب خود گھر گرہستی والے تھے. ایک دن بھائی نے بہنوں سے کہا. ابو کی جائیداد کا میں اکیلا وارث ہوں. تم دونوں کو اپنے حصے سے دست بردار ہونا پڑے گا.. بہنوں کو چپ لگ گئی. مگر آنسو آنکھوں کی زبان ہوتے ہیں. انہوں نے اپنے آنسو بھائی سے چھپا لئے تھے. اب یہ قافلہ کچہری کی طرف چل پڑا. حلفی بیان قلم بند ہونے تھے.بھائی ،بہنوں سے ان کا حق چھیننے والا تھا. بہنوں کے لئے وہ اب بھی گڈےجیسا تھا. جس کے ناز وہ بچپن میں اٹھاتی رہیں تھیں. موسم بدل چکا تھا. سورج سر پر آگ برسا رہا تھا. تیز دھوپ برداشت سے باہر ھو رھی تھی. بھائی کی پیشانی پر پسینے کے قطرے چمکے.تو بہنوں نے اس کے سر پر اپنے آنچل کا سایہ کر دیا. اچانک جھماکا ھوا.بھائی کو برسات یاد آ گئی. بھائی چھاتے کے سائے میں تھا. اور بہنیں بارش میں بھیگ رہیں تھیں. بہنوں کے اس ایثار کو یاد رکھنا بیٹا..۔ماں کی کہی بات آج اس کی سمجھ میں آئی تھی. اس کے وجود میں کالی گھٹا اٹھی.بصارت دھندلا گئی. وہ بہنوں کے قدموں پر گر پڑا برسات تو اب شروع ہوئی تھی. یہ برسات ان تینوں کو بھگو رہی تھی
     
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں