1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بھٹکی ہوئی گائے

'اسلام اور عصر حاضر' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد اجمل خان, ‏نومبر 22، 2017۔

  1. ‏نومبر 22، 2017 #1
    محمد اجمل خان

    محمد اجمل خان رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 25، 2014
    پیغامات:
    167
    موصول شکریہ جات:
    19
    تمغے کے پوائنٹ:
    56

    بھٹکی ہوئی گائے

    ایک گائے راستہ بھٹک کر جنگل کی طرف نکل گئی۔
    وہاں ایک شیر اس پر حملہ کرنے کیلئے دوڑا۔
    گائے بھاگنے لگی ۔
    شیر بھی اُس کے پیچھے دوڑتا رہا۔
    گائے بھاگتی بھاگتی بالآخر ایک دلدلی دریا میں چھلانگ لگا دی۔
    شیر بھی اس کے پیچھےچھلانگ لگایا لیکن گائے سے کچھ فاصلے پر ہی دلدل میں پھنس گیا۔
    اب وہ دونوں جتنا نکلنے کی کوشش کرتے دلدل میں اُتنا ہی پھنستے جاتے بالآخر گائے اور شیر دونوں ہی گلے تک دلدل میں پھنس گئے۔

    ایسے میں شیر غصے سے بھُنَّاتا ہوا ڈھاڑا: ’’ بدتمیز گائے! تجھےچھلانگ لگانے کیلئے اور کوئی جگہ نہیں ملا تھا۔ کوئی اور جگہ ہوتا تو تجھے چیر پھاڑ کر کھاتا اور صرف تیری جان جاتی ‘ میں تو بچ جاتا لیکن اب تو ہم دونوں ہی مریں گے‘‘
    گائے ہنس کر گویا ہوئی:’’ جناب شیر !آپ کا کیا کوئی مالک ہے‘‘
    شیر مزید غصے سے تلملاتا ہوا ڈھاڑا: ’’ تیری عقل پر پتھر ! میرا کہاں سے مالک آیا؟ میں تو خود ہی اس جنگل کا بادشاہ ہوں‘ اس جنگل کا مالک ہوں۔‘‘
    گائے کو پھر ہنسی آگئی‘ کہنے لگی: بادشاہ سلامت ! یہیں پر آپ کمزور ہیں ‘ نہایت ہی کمزور۔میرا ایک مالک ہے ‘ جو کچھ ہی دیر میں مجھے ڈھونڈھتا ہوا یہاں آجائے گا اور مجھے نکال کر لے جائے گا اور آپ کو مار ڈالے گا۔

    پھر گائے زور زور سے آوازیں نکال کر اپنے مالک کو اپنی طرف اپنی نجات کیلئے پکارنے لگی۔
    ٹھیک شام کےقریب چرواہا اپنے گائے کو ڈھونڈھتا ہوا آیا ، شیر کو مار ڈلا اور گائے کو نکال کر لے گیا۔

    آج ہم مسلمان بھی اُس گائے کی طرح بھٹک گئے ہیں اور شیر نما دشمن ہمارا پیچھے لگا ہوا ہے۔
    جبکہ ہمارا بھی خالق ہے ‘ ہمارا بھی مالک ہے جو زبردشت اور حکمت والا ہے اور وہ ہمیں دشمنوں کی ظلم و بربریت سے نجات دینے کی پوری قدرت رکھتا ہے۔
    لیکن ہم اپنے زبردشت اور قدرت والے مالک کو پکارنے کی بجائے دشمن کی طرف ہی دیکھ رہے ہیں‘ دشمن کو ہی اپنا نجات دہندہ سمجھ رہے ہیں اور دلدل کی مزید گہرائی میں پھنستے جا رہے ہیں
    جبکہ ہمارا خیر خواہ اور مددگار صرف اور صرف ہمارا اللہ ہے:

    بَلِ اللَّـهُ مَوْلَاكُمْ ۖ وَهُوَ خَيْرُ النَّاصِرِينَ ﴿١٥٠﴾آل عمران
    ’’ بلکہ اللہ ہی تمہارا خیرخواہ ہے اور وہی سب سے بہتر مدرگارہے۔‘‘

    دشمن سے نجات حاصل کرنے کیلئے ہمیں اپنے خالق و مالک اور رب پر بھروسہ کرتے ہوئے اُسی کو پکارنا ہوگا‘ اس پر ایمان کی پختگی کے ساتھ اسے پکارنا ہوگا‘ اس سے ڈرتے ہوئے‘ تقویٰ اور پرہیزگاری اختیار کرتے ہوئےاسے پکارنا ہوگا ‘ اس کی اور اس کے رسول ﷺ کی مکمل اطاعت کے ساتھ اسے پکارنا ہوگا‘ فرقہ پرستی ختم کرکے ایک اُمت بن کر اسے پکارنا ہوگا۔
    پھرشام تو ہو سکتی ہے‘لیکن اس اللہ کی مدد و نصرت ضرور آئے گی۔
    اور جب اس اللہ کی مدد آئے گی تب دنیا کی کوئی طاقت ہم مسلمانوں پر ظلم نہیں کر پائے گی ‘ کوئی دشمن ہم پر غالب نہیں ہو پائے گا:

    إِن يَنصُرْكُمُ اللَّـهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ ۖ وَإِن يَخْذُلْكُمْ فَمَن ذَا الَّذِي يَنصُرُكُم مِّن بَعْدِهِ ۗ وَعَلَى اللَّـهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ ﴿١٦٠﴾ آل عمران
    ’’ اگر اللہ تعالی تمہاری مدد کرے تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا ،اگر وہ تمہیں چھوڑدے تو اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کرے ،ایمان والوں کو اللہ تعالی ہی پر بھروسہ رکھنا چاہئے۔‘‘

    بے شک ہم اللہ پر بھروسہ رکھتے ہیں اور اللہ سے مدد کے طلب گار ہیں۔

    اور ہم دعا کرتے ہیں:
    اے اللہ تو ہی ہمارا خیرخواہ اور مدد گار ہے۔
    اے اللہ ہم مانتے ہیں کہ ہم راستہ بھول گئے ہیں ‘ بھٹک گئے ہیں۔
    اے اللہ پھر بھی ہم تجھے ماننے والے ہیں‘ تجھے اپنا خالق ‘ مالک اور رب مانتے ہیں۔
    اے اللہ تو خیرالناصرین ہے یعنی سب سے بہترین مدد کرنے والا ہے‘ اپنی رحمت سے مدد فرما‘ نصرت فرما‘اس بھٹکی ہوئی امت کو راہ راست دِکھا دے ۔کوئی ایسا نیک و صالح لیڈر پیدا فرما دے جو اس بھٹکی ہوئی امت کو راہ راست پر لانے کا کام کرے‘جو فرقہ واریت ختم کرکے اس امت کومتحد کرے اور ظالم دشمنوں کی ظلم و بربریت سے نجات دلا کر تیرے پیارے رسول ﷺ کی امت کو غالب کرے‘جسے ہر قدم پر تیری نصرت وتائید حاصل ہو کیونکہ تیری مدد و نصرت کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں۔ اے اللہ ہماری ان دعاؤں کو قبول کر لے ۔ آمین۔

    تحریر : محمد اجمل خان
    ۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں