1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

بھیک مانگنے کی مذمت

'حدیث وعلومہ' میں موضوعات آغاز کردہ از ابن قدامہ, ‏اگست 28، 2015۔

  1. ‏اگست 28، 2015 #1
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,770
    موصول شکریہ جات:
    418
    تمغے کے پوائنٹ:
    184

    بھیک مانگنے کی مذمت
    ١۔ ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا ” جو شخص سوال سے بچے اللہ بھی اسے بچائے گا اور جو کوئی (دنیا سے) بے پروائی کرے گا۔ اللہ اسے بے پروا کر دے گا اور جو کوئی کوشش سے صبر کرے گا اللہ اسے صبر دے گا اور صبر سے بہتر اور کشادہ تر کسی کو کوئی نعمت نہیں ملی۔” (بخاری کتاب الزکوٰۃ، باب الاستعفاف عن المسئلہ)
    ٢۔ حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی رسی اٹھائے اور لکڑی کا گٹھا اپنی پیٹھ پر لاد کر لائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ جا کر کسی سے سوال کرے اور وہ اسے دے یا نہ دے۔” (بخاری۔ حوالہ ایضاً)
    ٣۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : سوالی جو ہمیشہ لوگوں سے مانگتا رہتا ہے قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے منہ پر گوشت کی ایک بوٹی بھی نہ ہوگی۔ (بخاری، کتاب الزکوٰۃ باب من سال الناس تکثرا)
    ٤۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو منبر پر صدقہ اور سوال سے بچنے کے لیے خطبہ دے رہے تھے۔ آپ نے فرمایا ” اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ اوپر والے ہاتھ سے مراد خرچ کرنے والا ہے اور نیچے والا ہاتھ مانگنے والا ہاتھ ہے (ابو داؤد، کتاب الزکوٰۃ، باب ما تجوز فیہ المسئلہ)
    ٥۔ حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : ” جو شخص اپنا مال بڑھانے کے لیے لوگوں سے سوال کرتا ہے وہ آگ کے انگارے مانگ رہا ہے۔ اب چاہے تو وہ کم کرے یا زیادہ اکٹھے کر لے (مسلم، کتاب الزکوٰۃ، باب النھی عن المسئلہ)
    ٦۔ حضرت انس کہتے ہیں کہ ایک انصاری نے آپ کے پاس آ کر سوال کیا۔ آپ نے اسے پوچھا ” تمہارے گھر میں کوئی چیز ہے؟” وہ کہنے لگا۔ ”ہاں ایک ٹاٹ اور ایک پیالہ ہے۔” آپ نے فرمایا : یہ دونوں چیزیں میرے پاس لے آؤ۔” وہ لے آیا تو آپ نے ان کو ہاتھ میں لے کر فرمایا : کون ان دونوں چیزوں کو خریدتا ہے؟ ایک آدمی نے کہا : ” میں ایک درہم میں لیتا ہوں۔” آپ نے فرمایا : ایک درہم سے زیادہ کون دیتا ہے؟” اور آپ نے یہ بات دو تین بار دہرائی تو ایک آدمی کہنے لگا : ” میں انہیں دو درہم میں خریدتا ہوں۔” آپ نے دو درہم لے کر وہ چیزیں اس آدمی کو دے دیں۔
    اب آپ نے اس انصاری کو ایک درہم دے کر فرمایا : اس کا گھر والوں کے لیے کھانا خرید اور دوسرے درہم سے کلہاڑی خرید کر میرے پاس لاؤ۔ جب وہ کلہاڑی لے آیا تو آپ نے اپنے دست مبارک سے اس میں لکڑی کا دستہ ٹھونکا پھر اسے فرمایا : جاؤ جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر یہاں لا کر بیچا کرو اور پندرہ دن کے بعد میرے پاس آنا۔”
    پندرہ دن میں اس شخص نے دس درہم کمائے۔ چند درہموں کا کپڑا خریدا اور چند کا کھانا اور آسودہ حال ہوگیا پندرہ دن بعد آپ نے فرمایا : یہ تیرے لیے اس چیز سے بہتر ہے کہ قیامت کے دن سوال کرنے کی وجہ سے تیرے چہرے پر برا نشان ہو۔” (نسائی کتاب الزکوٰۃ) باب فضل من لایسئل الناس شیأا )
    اب دیکھئے کہ جس شخص کے گھر کا اثاثہ ایک ٹاٹ اور پیالہ ہو کیا اس کے محتاج ہونے میں کچھ شک رہ جاتا ہے؟ لیکن چونکہ وہ معذور نہیں بلکہ قوی اور کمانے کے قابل تھا۔ لہذا آپ نے اسے کچھ دینے کے بجائے دوسری راہ تجویز فرمائی، پھر اسے عزت نفس کا سبق دے کر کسب حلال اور محنت کی عظمت و اہمیت بتلائی۔ جس سے وہ چند دنوں میں آسودہ حال ہو گیا، یہ تھا آپ کا انداز تربیت و تزکیہ نفس۔
    ٧۔ حضرت ثوبان کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کون ہے جو مجھے یہ ضمانت دے کہ کبھی کسی سے سوال نہ کرے گا تو میں اس کو جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔” ثوبان کہتے ہیں کہ میں نے کہا : میں اس بات کی ضمانت دیتا ہوں” چنانچہ اس کے بعد انہوں نے کبھی کسی سے سوال نہ کیا۔ (نسائی، کتاب الزکوٰۃ، باب فضل من لا یسئل الناس شیأا)
    ٨۔ عرفہ کے دن ایک شخص لوگوں سے مانگ رہا تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے سنا تو اسے کہنے لگے ” آج کے دن اور اس جگہ تو اللہ کے سوا دوسروں سے مانگتا ہے؟” پھر اسے درے سے پیٹا۔ (احمد بحوالہ مشکوٰۃ باب من لایحل لہ المسئلہ فصل ثالث)
    ٩۔ حجتہ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں صدقہ کا مال تقسیم فرما رہے تھے دو آدمی آپ کے پاس آئے اور آپ سے صدقہ کا سوال کیا۔ وہ خود کہتے ہیں آپ نے نظر اٹھا کر ہمیں دیکھا، پھر نگاہ نیچی کی آپ نے ہمیں قوی اور طاقتور دیکھ کر فرمایا : اگر تم چاہو تو تمہیں دے دیتا ہوں لیکن صدقہ کے مال میں مالدار اور قوی کا کوئی حصہ نہیں جو کما سکتا ہو۔” (ابو داؤد، نسائی، کتاب الزکوٰۃ، باب مسئلہ القوی المکتسب)
    ١٠۔ ایک دفعہ آپ صدقہ تقسیم فرما رہے تھے۔ ایک شخص نے آپ کے پاس آ کر صدقہ کا سوال کیا تو آپ نے اسے فرمایا : ”صدقات کی تقسیم کے بارے میں اللہ تعالیٰ نبی یا کسی دوسرے کے حکم پر راضی نہیں ہوا بلکہ خود ہی اس کو آٹھ مدات پر تقسیم کر دیا ہے۔ اب اگر تو بھی ان میں شمار ہوتا ہے تو میں تمہیں دے دیتا ہوں۔ (حوالہ ایضاً)
    ١۱۔ عوف بن مالک اشجعی کہتے ہیں کہ ہم سات آٹھ آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے۔ آپ نے فرمایا کہ ” اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ پانچ نمازیں ادا کرو اور اللہ کی فرمانبرداری کرو اور ایک بات چپکے سے کہی کہ ” لوگوں سے کچھ نہ مانگنا۔” پھر میں نے ان میں بعض افراد کو دیکھا کہ اگر اونٹ سے ان کا کوڑا گر پڑتا تو کسی سے سوال نہ کرتے کہ وہ انہیں پکڑا دے (کتاب الزکوٰۃ باب النہی عن المسئلہ)
    ١۲۔ حکیم بن حزام کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگا تو آپ نے مجھے دے دیا۔ پھر ایک دفعہ مانگا تو آپ نے دیا۔ پھر فرمایا : ” اے حکیم! یہ دنیا کا مال دیکھنے میں خوشنما اور مزے میں میٹھا ہے لیکن جو اسے سیر چشمی سے لے اس کو تو برکت ہوگی اور جو جان لڑا کر حرص کے ساتھ لے اس میں برکت نہیں ہوتی۔ اس کی مثال ایسی ہے جو کھاتا ہے مگر سیر نہیں ہوتا اور اوپر والا (دینے والا) ہاتھ نچلے ہاتھ (لینے والے) سے بہتر ہوتا ہے۔” حکیم کہنے لگے : ” یا رسول اللہ! اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو سچا پیغمبر بنا کر بھیجا ہے۔ میں آج کے بعد مرتے دم تک کسی سے کچھ نہ مانگوں گا۔” (پھر آپ کا یہ حال رہا کہ) حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ آپ کو سالانہ وظیفہ دینے کے لیے بلاتے تو وہ لینے سے انکار کر دیتے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی اپنے دور خلافت میں انہیں وظیفہ دینے کے لیے بلایا تو انہوں نے انکار کر دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حاضرین سے کہنے لگے : ”لوگو! تم گواہ رہنا میں حکیم کو اس کا حق جو غنائم کے مال میں اللہ نے رکھا ہے دیتا ہوں اور نہیں لیتا۔” غرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کئے ہوئے عہد کا اتنا پاس تھا کہ انہوں نے تاحین حیات سوال تو درکنار کسی سے کوئی بھی چیز قبول نہیں کی۔ (بخاری، کتاب الوصایا، باب تاویل قول اللہ تعالیٰ من بعد وصیہ توصون بھااودین)
    سوال کرنا کس کے لئے جائز ہے؟
    حضرت قبیصہ بن مخارق کہتے ہیں کہ میں ایک شخص کا ضامن ہوا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس بارے میں سوال کیا۔ آپ نے فرمایا : ”یہاں ٹھہرو تاآنکہ ہمارے پاس صدقہ آئے۔ پھر ہم تیرے لیے کچھ کریں گے۔ پھر مجھے مخاطب کر کے فرمایا : قبیصہ! تین شخصوں کے علاوہ کسی کو سوال کرنا جائز نہیں۔ ایک وہ جو ضامن ہو اور ضمانت اس پر پڑ جائے جس کا وہ اہل نہ ہو۔ وہ اپنی ضمانت کی حد تک مانگ سکتا ہے۔ پھر رک جائے۔ دوسرے وہ جسے ایسی آفت پہنچے کہ اس کا سارا مال تباہ کردے وہ اس حد تک مانگ سکتا ہے کہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکے اور تیسرے وہ شخص جس کو فاقہ کی نوبت آ گئی ہو۔ یہاں تک کہ اس کی قوم کے تین معتبر شخص اس بات کی گواہی دیں کہ فلاں کو فاقہ پہنچا ہے اسے سوال کرنا جائز ہے تا آنکہ اس کی محتاجی دور ہو جائے۔ پھر فرمایا : اے قبیصہ ان تین قسم کے آدمیوں کے سوا کسی اور کو سوال کرنا حرام ہے اور ان کے سوا جو شخص سوال کر کے کھاتا ہے وہ حرام کھا رہا ہے۔” (مسلم، کتاب الزکوٰۃ باب من لایحل لہ المسئلہ )

    مولانا عبدالرحمٰن کیلانی کی تفسیر تیسیر القرآن سے ماخوذ
    محمد عقیل
     
  2. ‏فروری 10، 2017 #2
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    3,729
    موصول شکریہ جات:
    981
    تمغے کے پوائنٹ:
    323

    CTD512017184344.jpg
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏جولائی 17، 2017 #3
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    7,295
    موصول شکریہ جات:
    7,987
    تمغے کے پوائنٹ:
    921

    اس حدیث کے متعلق کسی نے بایں الفاظ سوال کیا ہے :
    ’ایک مرتبہ ایک صاحب خدمت نبویؐ میں حاضر ہوئے اور سوال کیا آپ ﷺ نے دریافت فرمایا تیرے گھر میں کچھ ہے؟ انھوں نے کہا کہ ایک کمبل ہے اور ایک پانی پینے کا پیالہ ہے۔ آپ ﷺ نے وہ لے کر دو درہم میں اس کو نیلام کیا اور دو درہم اس کو دے کر کہا ایک درہم کا غلہ خرید کر گھر میں ڈال دو اور دوسرے درہم سے کلہاڑی خرید کر میرے پاس لاو۔
    چنانچہ ان صاحب نے ایسا ہی کیا۔ آپ ﷺ نے اپنے دست مبارک سے اس میں لکڑی لگائی اور فرمایا جنگل سے لکڑی کاٹ کر بیچو اور پندرہ دن تک میں تم کو نہ دیکھوں، چنانچہ انھوں نے ایسا ہی کیا۔ جب دس درہم کما لئے تو خدمت نبویؐ میں حاضر ہوئے، چند درہم کا کپڑا خریدا چند کا کھانا، حضورﷺ نے فرمایا یہ تمہارے لئے اس سے بہتر ہے کہ بھیک کا داغ قیامت کے دن لے کر آو۔
    کیا ایسی کوئی حدیث موجود ہے؟ ‘
    یہ حدیث سنن اربعہ وغیرہ کئی ایک کتب حدیث میں وارد ہے ، لیکن ہر جگہ اس کی سند میں ابو بکر عبد اللہ الحنفی نامی راوی ہے ، جو کہ مجہول ہے ، اسی لیے سابق اور معاصر کئی ایک علماء نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔
    دیکھیے : بیان الوھم و الإیھام لابن القطان (ج5 ص 57 حدیث نمبر 2297) ، نصب الرایۃ للزیلعی (ج 4 ص 23) ، ضعیف سنن ابی داود للالبانی ( ج 2 ص 126 ، حدیث نمبر 291 ) ، سنن ابن ماجۃ بتحقیق الأرناؤط ، مسند احمد ( ط الرسالۃ ) وغیرہ ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں