1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بیوٹی پارلرز کی کمائی کا شرعی حکم

'محدث فتویٰ' میں موضوعات آغاز کردہ از بنتِ تسنيم, ‏اپریل 10، 2019۔

  1. ‏اپریل 10، 2019 #1
    بنتِ تسنيم

    بنتِ تسنيم رکن
    جگہ:
    کوہ قاف
    شمولیت:
    ‏مئی 20، 2017
    پیغامات:
    269
    موصول شکریہ جات:
    33
    تمغے کے پوائنٹ:
    55

    السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ،

    1. سنگھار خانوں کا شرعی حکم، اور اس کام کو سیکھنا اور کمائی کا ذریعہ بنانا، جبکہ کچھ کام جائز اور کچھ بالکل حرام ہیں؟ اس کمائی کا حکم کس زمرہ میں آئے گا؟

    2. پچھلے کچھ عرصے سے دیکھنے میں آ رہا ہے کہ گلی محلوں میں تیزی سے بیوٹی پارلرز کھل رہے ہیں. جو کہ مسلم معاشرے میں بے حیائی کی ایک طوفانی لہر ہے. ہمیں معلوم ہے کہ ان تحریکوں کے پیچھے این جی اوز، غیر ملکی جاسوسی گروہ وغیرہ سرگرم ہیں. مجھے پچھلے ہفتے ملازمہ نے بتایا کہ انکے محلے میں ایک خاتون نے پارلر کھولا ہے جو سکھانے پر 2000 فیس لے گی لیکن جو نہیں دے سکتیں، انہیں مفت یہ کام سکھایا جائے گا. اتنا مہنگا کام مفت..!
    پھر بڑے بڑے پارلرز کا لڑکیاں سپلائی کرنا، یا ٹریپ کر کے خراب کرنا..... تباہی ہی تباہی ہے.
    حکومت یا ارباب اختیار سے توقع رکھنا ہی عبث ہے.

    میرا سوال ہے کہ ایک عام شہری کی اس صورتحال میں کیا ذمہ داری بنتی ہے؟ اور وہ کس حد تک اس فتنہ سے بچاؤ کا راستہ اختیار کر سکتا ہے؟
    خطبہ جمعہ میں اس فتنے کے سدباب کے لیے، لوگوں کو کیوں نہیں ابھارا جاتا؟ یا حرام کمائی، یا بیوٹی پارلرز کا شرعی حکم، ایسے فتوے عام کیے جائیں. گھروں میں تقسیم کیے جائیں؟
     
  2. ‏اپریل 15، 2019 #2
    بنتِ تسنيم

    بنتِ تسنيم رکن
    جگہ:
    کوہ قاف
    شمولیت:
    ‏مئی 20، 2017
    پیغامات:
    269
    موصول شکریہ جات:
    33
    تمغے کے پوائنٹ:
    55

    یا اللہ تعالیٰ جی!
    آپ کہتے ہیں
    ... فَسۡـَٔلُوٓاْ أَهۡلَ ٱلذِّكۡرِ إِن كُنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ
    ... پس اگر تم نہیں جانتے تو اہل علم سے دریافت کر لو.

    اہل علم کا چپ کا روزہ افطار ہی نہیں ہوتا...!
    :(
     
  3. ‏اپریل 15، 2019 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,361
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

    بیوٹی پارلر جانا اور وِگ لگوانا

    سوال :
    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    کیا مسلمان عورت کا میک اپ کی خاطر بیوٹی پارلر جانا جائزہے؟شرعاً کا استعمال کیساہے؟کچھ لوگ اس دعوے کی بنیاد پر وگ کا استعمال جائز قراردیتے ہیں کہ عورتوں کا بال ستر میں داخل ہے اوروگ کے ذریعے اس بال کو ڈھاکا جاسکتا ہے۔کیا یہ صحیح ہے؟

    الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
    وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
    الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

    اسلام وہ مذہب ہے جو زینت وزبیائش کو پسند کر تا ہے بلکہ اس کی ترغیب دیتا ہے لیکن اعتدال اور توازن کے ساتھ۔اسلام اس بات کا سخت مخالف ہے کہ انسان بلاوجہ اپنے اوپر تقشف،بے چارگی اورپھوہڑ پن کی صورت طاری کیے رہے۔اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو سخت ناپسند کرتا ہے جنھوں نےحلال اور جائز زینت وزیبائش کوحرام قراردیا ہے۔

    اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

    ﴿قُل مَن حَرَّمَ زينَةَ اللَّهِ الَّتى أَخرَجَ لِعِبادِهِ...﴿٣٢﴾... سورةالاعراف
    "کہو اللہ کی زینت کو کس نے حرام قراردیا جسے اس نے اپنے بندوں کے لیے تخلیق کیاہے"

    اور اللہ تعالیٰ نے نماز سے قبل زینت اختیار کرنے کی تاکید کی ہے۔اللہ فرماتا ہے:

    ﴿خُذوا زينَتَكُم عِندَ كُلِّ مَسجِدٍ...﴿٣١﴾... سورة الاعراف
    "ہرعبادت کے موقع پر اپنی زینت سے آراستہ رہو"

    عورتوں کی فطرت کا لحاظ رکھتے ہوئے اسلام نے زینت کی وہ چیزیں بھی عورتوں کے لیے جائزکردی ہیں جو مردوں کے لیے حرام ہیں۔مثلاً سونا،ریشم وغیرہ۔تاہم زینت وزیبائش کے وہ طور طریقے جن میں فطرت اور اعتدال سے روگردانی ہویا اللہ کی تخلیق میں تبدیلی ہو،مرداورعورت دونوں کے لیے یکساں طور پر حرام ہیں۔
    اللہ کی خلقت میں تبدیلی کرنا ایک شیطانی عمل ہے جس کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے:

    ﴿وَلَءامُرَنَّهُم فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلقَ اللَّهِ ...﴿١١٩﴾... سورة النساء
    "(شیطان نے کہا تھا) اور میں لوگوں کو حکم دوں گا پس وہ اللہ کی خلقت میں تبدیلی کریں گے"

    اوراس لیےحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں پر لعنت فرمائی ہے جو ہاتھوں یا جسم کے کسی دوسرے حصے پر گدواتی ہیں یادانتوں کو کاٹ کاٹ کر نوکیلا بناتی ہیں یا ابرو کے بال ترشواکردیدہ زیب بناتی ہیں۔یااصلی بالوں میں نقلی بال لگاتی ہیں۔زینت کے ان طریقوں پر لعنت بھیجنے کامطلب یہ ہے کہ یہ طریقے حرام ہیں۔اسی سے وگ کا استعمال کرنے کا حکم معلوم ہوتا ہےکہ یہ حرام ہے کیوں کہ وگ درحقیقت اصلی بالوں میں نقلی بال کااضافہ ہے۔یہ کہناکہ وگ عورتوں کے بال کو چھپانے کا کام دیتا ہے خلاف حقیقت ہے ۔کیوں کہ بال چھپانے کے طریقے اور چیزیں سب کو معلوم ہیں۔یہ سب کو معلوم ہے کہ وگ کا استعمال زیب وزینت کے طور پر کیا جاتا ہے۔بلکہ بعض حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وگ کو"زور" سے تعبیر کیا یعنی یہ وہ چیز ہے جو لوگوں کو دھوکے میں رکھتی ہے اور اس کے بارے میں فرمایا کہ:

    "إِنَّمَا هَلَكَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ اتَّخَذَهَا نِسَاؤُهُمْ" (بخاری)
    "بلاشبہ بنی اسرائیل ہلاک ہوئے جب ان کی عورتوں نے اسے اپنالیا۔"

    اس حدیث سے دو باتیں معلوم ہوتی ہیں۔

    1۔پہلی بات یہ کہ وگ ایسی لعنت کو ایجاد کرنے اور رواج دینے والے یہود ہیں۔

    2۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی شئی کو"زور" سے تعبیر کرکے اس کی حرمت کے سبب کی طرف بھی اشارہ کردیا۔یعنی یہ لوگ دھوکے اور فریب کی ایک قسم ہے۔اور اسلام دھوکے اورفریب کو ناجائز قراردیتا ہے۔

    اسی طرح عورتوں کا بیوٹی پارلر جا کر مردوں سے میک اپ کرانابالکل حرام ہے۔کیوں کہ شریعت کی رو سے عورتوں کااجنبی مرد کے ساتھ تنہا ہونااور اجنبی مرد کا اجنبی عورت کے بدن کا کوئی حصہ چھونا دونوں ہی بالکل حرام ہے۔

    درحقیقت بیوٹی پارلر کا رواج بھی اس وقت عمل میں آیا جب آرائش وزیبائش اور میک اپ میں اعتدال اور توازن مفقود ہوگیا اورعورتوں کے لیے دنیا کی سب سے اہم ترین شئی میک اپ کرنا قرارپایا۔عورتوں کے لیے میک اپ جائز سہی لیکن یہ ایسی چیز تو نہیں جو ان کا سب سے بڑا مسئلہ بن جائے اور اس کی خاطر وہ اپنی دوسری اہم ذمے داریاں فراموش کربیٹھیں حتیٰ کہ بچوں کی تربیت بھی متاثر ہوجائے۔میک اپ جائز ہے لیکن حدود کے اندر اور میک اپ کےلیے بیوٹی پارلر جانے کی کیا ضرورت ہے۔وہ گھر میں بھی تو میک اپ کرسکتی ہیں۔انہیں چاہیے کہ گھر ہی میں رہ کر میک اپ کریں اور اپنے شوہر کے لیے،نہ کہ راہ چلنے والوں کے لیے۔

    بہرحال اگر بیوٹی پارلر جانا ناگزیر ہوتویہ اسی صورت میں جائز ہوسکتا ہے جب کہ بیوٹی پارلرمیں کام کرنے والی ساری کی ساری عورتیں ہوں اور مردوں کا داخلہ ممنوع ہو۔

    ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب
    فتاوی یوسف القرضاوی
    عورت اور خاندانی مسائل،جلد:1،صفحہ:229
    محدث فتویٰ
     
  4. ‏اپریل 15، 2019 #4
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,361
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    بیوٹی پارلر کے متعلق شرعی حکم


    مجموعی طور پر بیوٹی پارلرز میںبہت سارے خلافِ شرع امور جمع ہوتے ہیں ۔
    خوبصورتی لانے کے لئے آئی برو بنوانا جس میں بھنوؤں کے بالوں کو اکھیڑا جاتا ہے اورعورتوں کے بھنووں کے بالوں کواکھیڑنے یا اکھڑوانے کو حدیث شریف میں باعثِ لعنت قرار دیا گیا ہے ،​
    عورت کے لیے محض زیب وزینت کے لیے بھنویں بنانا جائز نہیں اور یہ حکم سب عورتوں کے لے ہے ، جو عورت شرعی پردہ کرے، اس کے لیے بھی یہی حکم ہے ،اور جو نہ کرے اس کے لئے بھی یہی حکم ہے۔ خاوند اجازت دے یا نہ دے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، بہرحال عورت کے لیے بھنویں بنانا جائز نہیں۔ عورت پر خاوند کے لیے چہرے کا بناؤ سنگھار شرعی حدود میں رہتے ہوئے ضروری ہے ، زیب وزینت میں خلاف شرع کام کی اجازت نہیں۔
    حدیث شریف میں ہے کہ ایسی عورت پر الله تعالیٰ لعنت بھیجتے ہیں ۔
    ’’ يلعن المتنمصات والمتفلجات والموتشمات اللاتي يغيرن خلق الله عز وجل . ‘‘ (سنن نسائی5108)
    لعنت کی گئی ہے چہرے کے بالوں کو اکھاڑنے والیوں پر ، دانتوں کو رگڑنے والیوں پر اور گوندنے والیوں پر جو اللہ کی خلق کو بدل دیتی ہیں۔
    ہاں البتہ چہرے پر اگر زائد بال اُگ آئے ہوں ، تو ان بالوں کو صاف کرسکتی ہے ۔کیونکہ وہ ایک مجبوری ہے۔

    مردوں کی طرح عورتوں کے بال چھوٹے چھوٹے کاٹے جاتے ہیں جس سے عورت لڑکوں کے مشابہ معلو م ہوتی ہے اورعورتوں کا مردوں کی مشابہت والا یہ کام بھی باعثِ لعنت ہے،
    آپﷺ نے فرمایا:
    ’ ليس منا من تشبه بالرجال من النساء و لا من تشبه بالنساء من الرجال ‘‘ (صحیح الجامع الصغیر5434)
    جو عورتیں مردوں کی مشابہت کریں اور جو مرد عورتوں کی مشابہت اختیار کریں وہ ہم میں سے نہیں۔

    ایسے ہی کہا جاتا ہے کہ بیوٹی پارلر والی خواتین ،دلہن کی رانوں کے بال بھی صاف کیا کرتی ہیں یہ بھی ناجائز ہے کیونکہ بلاضرورتِ شرعیہ کسی کا ستر دیکھنا یا دکھانا شرعاً حرام ہے، یونہی مرد کا اجنبیہ عورت کا یا عورت کا اجنبی مرد کا میک اپ کرنا بھی ناجائز وحرام ہے۔
    لہذا ان مفاسد کی وجہ سے بیوٹی پارلر جس طرح کھولے جاتے ہیں اسکی اجازت نہیں ۔
    گو کہ ان میں بعض کام جائز بھی ہوتے ہیں مثلاً چہرے کے زائد بالوں کی صفائی ،مختلف کریمز،پاؤڈر،اور آئی شیڈز وغیرہ کے ذریعہ میک اپ کرکے چہرے کو خوبصورت بنانا،سیاہ مائل رنگت کو نکھارنا،ہاتھوں پاؤں میں مہندی لگانا،بالوں کو سنوارناوغیرھا اور میک اپ کے لئے پاک اشیاء کا استعمال کرنا اور جائز میک اپ کرنا جائز ہے۔
    جہاں تک اس کی آمدنی کا حکم ہے تواس میں جائز میک اپ کی اجرت جائز ہے، ناجائز کی ناجائز ۔​
     
  5. ‏اپریل 15، 2019 #5
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,361
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    ابرو کے بال ہلکے کرنے کا کیا حکم ہے؟


    سوال
    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    ابرو کے بال ہلکے کرنے کا کیا حکم ہے؟

    ا
    لجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
    وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
    الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

    اگر اکھاڑنے کے انداز میں ہو تو حرام ہے بلکہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے کیونکہ یہ وہی نمص (اکھاڑنا) ہے جس کے کرنے والے پر اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھٹکارڈالی ہے اور اگر تخفیف چھونا کرنے یا مونڈنے کے انداز میں ہوتو اسے کچھ علمائے کرام نے مکروہ گردانا ہے بعض نے منع کیا اور اسے نمص سے قراردیا ہے دوسرا یہ کہ نمص محض اکھاڑنے سے خاص نہیں بلکہ بالوں کی ہراس تبدیلی کے لیے عام ہے جو کہ چہرے میں ہو ۔اور اللہ نے اس کے بارے میں اجازت نہیں دی لیکن ہم سمجھتے ہیں۔کہ عورت کے لیے ایسا کرنا مناسب نہیں مگر یہ کہ ابروؤں پر بہت زیادہ بال ہوں جو آنکھ پر گر کر دیکھنے پر اثر انداز ہو سکتے ہوں تو ان تکلیف دہ (بالوں) کو دور کرنے میں کوئی حرج نہیں ہو گا۔(فضیلۃ الشیخ محمدبن صالح العثیمین رحمۃ اللہ علیہ )

    ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب
    عورتوں کےلیے صرف
    صفحہ نمبر 604
    محدث فتویٰ
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں