1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بیوی کے حقوق !!!

'نکاح' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏جنوری 03، 2014۔

  1. ‏جنوری 03، 2014 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    بیوی کے حقوق !!!
    1545595_610011645700796_676551273_n.jpg
     
  2. ‏جنوری 03، 2014 #2
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو !!!!
    1510832_610010969034197_592319498_n.jpg
     
  3. ‏جنوری 03، 2014 #3
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    برکت والی عورت !!!
    1555592_610011035700857_1987426901_n.jpg
     
  4. ‏جنوری 13، 2014 #4
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    1013429_614325318602762_347623246_n.jpg
     
  5. ‏جنوری 13، 2014 #5
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

  6. ‏جنوری 13، 2014 #6
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344


    حَدَّثَنَا يَزِيدُ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ سَخْبَرَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَعْظَمُ النِّسَاءِ بَرَكَةً أَيْسَرُهُنَّ مَئُونَةً " (مسند احمد: رقم الحدیث:۲۵۱۱۹
    إسناده ضعيف، وهو مكرر (24529) غير أن شيخ أحمد هنا: هو يزيد بن هارون.
    وأخرجه ابن أبي شيبة 4/189، والنسائي في "الكبرى" (9274) ، والخطيب في "الموضح" 1/297، وأبو نعيم في "الحلية" 2/186، والبيهقي في "السنن" 7/235 من طريق يزيد بن هارون، بهذا الإسناد
     
  7. ‏جنوری 13، 2014 #7
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    مہر كم ركھنا سنت ہے


    ديكھا گيا ہے كہ لوگ اس وقت نكاح ميں مہر بہت زيادہ ركھ رہے ہيں، كيا يہ ايسا كرنا سنت ہے، اور كيا شريعت نے مہر كى كوئى مقدار متعين كى ہے جس سے تجاوز نہيں كيا جا سكتا ؟

    الحمد للہ:

    شادى اللہ تعالى كى نعمتوں ميں ايك نعمت اور اس كى نشانيوں ميں ايك نشانى شمار ہوتى ہے.

    اور يہ اس ليے كہ نكاح پر بہت عظيم مصلحت مرتب ہوتى ہے، مثلا امت ميں كثرت، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا باقى نبيوں كے ساتھ اپنى امت كى وجہ سے فخر كرنا، اور مرد و عورت كو ايك طرح كے حرام كام ميں پڑنے سے محفوظ كرنا ہے.. اس كے علاوہ اور بھى بہت عظيم مصلحتيں پائى جاتى ہيں.

    ليكن بعض اولياء اور ذمہ داران نے شادى ميں ركاوٹ كھڑى كر ركھى ہيں، اور وہ اكثر حالات ميں شادى كےحصول كے ليے ركاوٹ اور آڑ بن چكے ہيں، وہ اس طرح كہ بہت زيادہ مہر كا مطالبہ كرتے ہيں، اور اتنا مہر لينے كى كوشش كرتے ہيں جو شادى كى رغبت ركھنے والے نوجوان كى استطاعت سے بھى باہر ہوتا ہے، حتى كہ بہت سارے شادى كى رغبت ركھنے والوں ميں اب شادى ايك بہت ہى مشكل اور مشقت والے كاموں ميں شمار ہونے لگى ہے.

    اور پھر مہر ايك ايسا حق ہے جو شريعت اسلاميہ نے عورت كے ليے فرض كيا ہے، تا كہ وہ اس عورت ميں مرد كى رغبت كى تعبير ثابت ہو،
    اس كا يہ معنى نہيں كہ عورت كو ايك سامان تجارت شمار كر ليا جائے كہ وہ فروخت ہونے لگے، بلكہ يہ مہر تو عزت اعزاز كا نشان ہے، اور شادى كے عزم اور حقوق كى ادائيگى اور مشقت برداشت كرنے كى دليل ہے.

    شريعت مطہرہ نے كوئى ايسى مقدار متعين نہيں كى جس سے مہر تجاوز نہ كر سكتا ہو، ليكن اس كے باوجود شريعت مطہرہ نے مہر كم ركھنے اور اس ميں آسانى پيدا كرنے كى رغبت دلائى ہے.

    اور پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اپنى امت كے ليے اس ميں ايك اعلى مثال قائم كى حتى كہ معاشرے ميں امور كے حقائق كا رسوخ پيدا ہو جائے، اور لوگوں ميں معاملات ميں آسانى و سہولت عام ہو جائے.

    ديكھيں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى بيٹى اور اہل جنت كى عورتوں كى سردار كا مہرتو يہ تھا.

    جو اس بات كى دليل اور تاكيد كرتا ہے كہ دين اسلام ميں فى ذاتہ مہر مقصود نہيں.

    ( لاتغالوا ) يعنى: مہر زيادہ كرنے ميں مبالغہ مت كرو

    ( و ان الرجل ليثقل صدقۃ امراتہ حتى يكون لھا عداوۃ في نفسہ ) يعنى:

    يہ مہر ادا كرتے وقت وہ اپنے دل ميں اس سے عداوت ركھے گا كہ اس كا مہر بہت زيادہ تھا، يا جب وہ اس مہر كے متعلق سوچے اور اس كى مقدار كو ديكھے.

    ( و يقول قد كلفت اليك علق القربۃ ) وہ رسى جس سے مشكيزہ باندھا جاتا ہے يعنى ميں نے تيرى وجہ سے ہر چيز برداشت كى حتى كہ وہ رسى بھى جس سے مشكيزہ لٹكايا اور باندھا جاتا ہے " اھـ
    ديكھيں: حاشيۃ السندى ابن ماجہ

    بارہ اوقيہ چار سو اسى درہم كے برابر ہے يعنى تقريبا ايك سو پنتيس ريال ( 135 ) نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى بيويوں اور بيٹيوں كا مہر اتنا ہى تھا.

    شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتے ہيں:

    " چنانچہ جس شخص كو اس كا دل اپنى بيٹى كا مہر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى بيٹيوں سے زيادہ كرنے كى كہے تو وہ جاہل و احمق ہے، كيونكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى بيٹياں ہر لحاظ سے افضل ہيں، اور وہ سب عورتوں سے ہر صفت ميں افضل ہيں، اور اسى طرح امہات المومنين بھى ليكن اس كے باوجود ان كا مہر زيادہ نہ تھا، يہ تو قدرت و استطاعت ہونے كے باوجود اور آسان بھى تھا، رہا فقير و تنگ دست وغيرہ تو اس كو چاہيے كہ وہ مہر اتنا ہى دے جتنى استطاعت ركھتا ہے اور اس ميں اس كو مشقت نہ ہو " اھـ
    ديكھيں: مجموع الفتاوى ( 32 / 194 ).

    اور شيخ الاسلام كا يہ بھى كہنا ہے:

    " امام احمد كى روايت يہ تقاضا كرتى ہے كہ چار سو درہم مہر مستحب ہے، استطاعت اور آسانى كے ساتھ يہى مستحب ہے اس مقدار تك ہو سكتا ہے اس سے زائد نہيں " اھـ

    اور ابن قيم رحمہ اللہ نے زاد المعاد ميں مہر كم ہونے كے دلائل پر كچھ احاديث بيان كي ہيں اور اس كى كم از كم حد متعين نہيں اس كے بعد كہتے ہيں:

    يہ احاديث اس كو متضمن ہيں كہ كم از كم مہر كى تعيين نہيں كى جا سكتى... اور مہر ميں زيادتى اور مبالغہ كرنا مكروہ ہے اور يہ قلت بركت اور قلت عمر كا باعث ہے " اھـ
    ديكھيں: زاد المعاد ( 5 / 178 ).

    اس سے يہ واضح ہوا كہ اب لوگ جو كر رہے ہيں اور مہر زيادہ كرتے اور مبالغہ كرتے ہيں يہ شريعيت كے مخالف ہے.

    اور مہر كم ركھنے اور اس ميں مبالغہ نہ كرنے كى حكمت واضح ہے:

    وہ يہ كہ لوگوں كے ليے شادى كرنا آسان ہو تا كہ وہ شادى كرنا ترك نہ كر ديں، اور اخلاقى اور معاشرتى برائيوں ميں نہ پڑ جائيں.

    واللہ اعلم .
    الاسلام سوال و جواب
     
  8. ‏جنوری 13، 2014 #8
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,968
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069





     
  9. ‏جنوری 13، 2014 #9
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

  10. ‏جنوری 13، 2014 #10
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,798
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں