• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بے نمازکے متعلق سعودی علماء کے استدلال (مکمل کتاب یونیکوڈ میں)

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,517
پوائنٹ
604
آخرت میں سب سے پہلے نماز کا حساب ہوگا
عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ؛ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ ﷺ : '' اَوَّلُ مَایُحَاسَبُ بِہِ الْعَبْدُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ الصَّلَاۃُ ، فَاِنْ صَلَحَتْ صَلَحَ لَہُ سَائِرُ عَمَلِہِ وَاِنْ فَسَدَتْ فَسَدَ سَائِرُ عَمَلِہِ ''۔
رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : '' قیامت کے دن بندے سے سب سے پہلے جس (عمل ) کا حساب لیا جائے گا وہ نماز ہے ۔ اگر نماز صحیح ہوئی (یعنی نماز کے حساب میں کامیاب رہا ) تو دیگر اعمال بھی صحیح ٹھہریں گے۔ اگر نمازفاسد ٹھہری (یعنی نماز کے حساب سے نجات نہ ملی) تو دیگر تمام اعمال فاسد ٹھہریں گے (یعنی دیگر اعمال کے حساب سے بھی نجات نہیں پائے گا )​
یہ حدیث طبرانی کبیر 10435میں ابن مسعود سے اور ابو عاصم کی اوائل 35میں صحیح سندسے مروی ہے ۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی سلسلہ صحیحہ میں تخریج کی ہے ۔​
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,517
پوائنٹ
604
اسلامی اخوت صرف نماز سے ممکن ہے
فَاِنْ تَبُوْا وَ اَقَامُوْا الصَّلاَۃَ وَ اٰتُوَالزَّکٰوۃَ فَاِخُوَانُکُمْ فِی الدِّیْنِ وَ نُفَصِّلُ الْاَیَاتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ (التوبۃ 9:11)
اگر (وہ کافر مشرک لوگ ) توبہ کر کے نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو پھر تمہارے دینی بھائی ہیں ۔ ہم آیات کو سمجھنے والے لوگوں کے لئے تفصیل سے بیان کرتے ہیں ۔​
اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں اسلامی بھائی چارے کو نماز کی ادائیگی کے ساتھ ممکن قرار دیا ہے ۔ کیونکہ تارک نماز کے ایمان اور اسلام سے نکل جانے کی وجہ سے اس کے ساتھ بھائی چارے کی بنیاد باقی نہیں رہتی ۔ لیکن نماز ادا کرنے والا مومن ہے اور ہر مومن کا بھائی ہے ۔ جس کی وضاحت اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اس آیت میں یوں کی ہے :​
اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ (الحجرات 49:10)
مومن (آپس میں دینی )بھائی ہیں ۔​
جیسا کہ مومن آپس میں دینی بھائی ہیں اسی طرح بھائی نہ ٹھہرنے والے دیگر لوگوں کو دوست بھی نہیں بنا سکتے ۔ کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ قرآن میں مومنین کے علاوہ دوسروں سے دوستی گانٹھنے سے بالکل منع کررہا ہے ۔​
یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا لاّ تَتَّخِذُوْا الْکٰفِرِیْنَ اَوْلِیَائَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ (النساء 4:144)
اے ایمان والو ! مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست نہ بناؤ ۔​
اور آپ کے ہاتھوں میں موجود رسالہ تارک نماز کو دلائل سے ''کافر'' کررہا ہے۔​
یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَتَّخِذُوْا الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَکُمْ ھُزُوًا وَّالَعِبًا مَنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوْالْکِتَابَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَالْکُفَّارَ اَوْلِیَائَ وَاَتَّقُوْااﷲَ اِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِیْنَ (المائدۃ 5:57)
اے ایمان والو ! جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی ان میں سے تمہارے دین کو کھیل تماشا سمجھنے والوں کو دوست نہ ٹھہراؤ اور نہ ہی دوسرے کافروں کو دوست بناؤ ۔ اگر حقیقی طور پر مومن ہو تو پھر اللہ سے ڈرو۔​
اگلی آیت میں مذکور ہ بالا کافروں کے آذان کے وقت کردہ استہزاء اورنماز پڑہنے والے مومنوں کے ساتھ اختیار کردہ تمسخرانہ رویے کو بیان کیا ہے ۔​
وَاِذَا نَادَیْتُمْ اِلَے الصَّلَاۃِ اتَّخَذُوْنَا ہُزُوًا وَّ لَعِبًا ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ قَوْمُ لاَّ یَعْقِلُوْنَ (المائدۃ 5:57)
(اذان کے ذریعے ) تمہیں جب نماز کے لئے بلایا جاتا ہے تو (وہ کافر نماز کو ) کھیل تماشا قرار دیتے ہیں ان کا یہ انداز اس وجہ سے ہے کہ وہ عقل مند لوگ نہیں ہیں ۔​
اے اللہ کے بندے ! اس آیت کریمہ کی دلالت کردہ (حقیقت کو ) اچھی طرح جان لو کہ آذان سننے کے باوجود نمازکو تسلیم نہ کرنے والے اور اللہ کے احکامات کو ہنسی مذاق میں اڑانے والے ہمارے دوستوں میں سے نہیں ہیں ۔ ہمارے دوست اللہ تعالیٰ ، اس کا رسو ل ﷺ اور نماز ادا کرنے والے مومن ہیں ۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ یو ں فرماتے ہیں :​
اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اﷲُ وَ رَسُوْلُہُ وَ الَّذیْنَ اٰمَنُوْا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلَاۃَ وَ یُوْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَھُمْ رَاکِعُوْنَ (المائدۃ 5:55)
تمہارے دوست صرف اللہ او راس کا رسول اللہ ﷺ ہیں اور اہل ایمان بھی (دوست ہیں ) جو کہ نماز ادا کرتے ہیں ۔نماز ہونے کے ساتھ ساتھ وہ زکٰوۃ بھی ادا کرتے ہیں​
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,517
پوائنٹ
604
تارک نماز اورنمازی کا باہمی وارث نہ ہو نا
عَنْ اُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ : اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ : '' لاَ یَرِثُ الْمُسْلِمُ الْکَافِرَ ، وَلاَ یَرِثُ الْکَافِرُ الْمُسْلِمَ ۔
رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ''مسلمان کافرکا اور کافر مسلمان کا وارث نہیں ہوتا ہے ۔​
یہ حدیث بخاری 6764، مسلم 4140، ابو داؤد 2909، ترمذی2107، ابن ماجہ 2729، دارمی3002، موطاامام مالک 2/159اور مسند احمد 2/200میں مروی ہے ۔​
اے اللہ کے بندے ! جیسا کہ اس سے پہلے ابواب میں آپ پڑھ چکے ہیں کہ ہم تارک نماز کے کافر ہونے کو ثابت کرچکے ہیں جس کا تکرار یہاں ضروری نہیں ہے۔ تارک نماز کی کافر ہونے کے قائل محدثین کے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ بھی تارک نماز کے مسلمان اور مسلمان کے تارک نمازکے وارث نہ ہونے کے قائل ہیں ۔ آپ سے ایک روایت یوں منقول ہے :​
اَخْبَرْنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ الْیَمَامِی بَطْرَسُوْسَ قَالَ : سَاَلْتُ اَبَا عَبْدِاﷲ عَنِ الْحَدِیْثِ الَّذِیْ یُرْوَی عَنِ النَّبِیَّ ﷺ قَالَ: '' لاَ یُکَفَّرُ اَحَدٌ مِنْ اَھْلِ التَّّوْحِیْدِ بِذَنْبٍ '' ۔ قَالَ مَوْضُوْعٌ ، لاَ اَصْلَ لَہُ ۔ کَیْفَ بِحَدِیْثِ النَّبِیَّ ) : ''مَنْ تَرَکَ الصَّلَاۃَ فَقَدْ کَفَرَ ''۔ قُلْتُ : اَیُوَرَّثُ ؟ قَالَ : لاَ یَرِثُ وَلاَ یُوَرَّثُ ۔
عباس بن محمد الیمامی بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابو عبداللہ (یعنی امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ ) سے نبی کریم ﷺ سے نقل کی جانے والی اس روایت کے بارے میں پوچھا کہ '' اہل توحید کی کسی بھی گناہ کے سبب تکفیر نہیں کی جاسکتی '' ۔ انہوں نے جواب دیا کہ یہ روایت موضوع ہے اس کی کوئی اصل نہیں (بنیاد ) نہیں ہے ۔ نیز یہ کیسے صحیح ہو سکتی ہے جبکہ نبی کریم ﷺ کی یہ حدیث بھی ہے کہ '' جس کسی نے نماز ترک کی اس نے کفر کیا (یعنی کافر ہوگیا ) ''۔ اس پر میں نے پوچھا آیا تارک نماز سے میراث آئے گی؟ جواب میں (امام مالک بن حنبل رحمہ اللہ نے ) یوں فرمایا ''نہیں وہ نہ تو میراث کا حق دار ہے اور نہ ہی اس سے میراث ملتی ہے '' ۔​
یہ حدیث امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی کتاب النساء 208میں مروی ہے ۔​
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,517
پوائنٹ
604
بے نماز مرد اور نمازی عورت کا نکاح صحیح نہیں
وَلَا تَنْکِحُوا الْمُشْرِکٰتِ حَتّٰی یُؤْمِنَّ وَلَاَ مَۃً خَیْرٌ مِیّنْ مُّشْرِکَۃٍ وَلَوْاَعْجَبَتْکُمْ وَلاَ تُنْکِحَوا الْمُشْرِکِیْنَ حَتّٰی یُؤْمِنُوا وَلَعَبْدٌ مُؤْمِنٌ خَیْرٌ مِّنْ مُّشَرِکٍ وَلَوْ اَعْجَبْکَمْ اُوْلٰئِکَ یَدْعُوْنَ اِلَی النَّارِ وَاﷲُ یَدُعُوْا اِلَی الْجَنَّۃِ وَ الْمَغْفِرَۃِ بِاِذْنِہٖ وَیُبَیِّنُ اٰیَاتِہٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ (البقرۃ 2:221)
اے مومنو ! اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے والی عورتوں سے ان کے ایمان لانے تک نکاح نہ کرو ایمان نہ رکھنے والی ایک مشرکہ اگر چہ تمہیں بھلی بھی لگے لیکن ایک ایمان لانے والی لونڈی (اس مشرکہ سے ) بہت بہتر (خیر والی) ہے ۔​
مشرک مردوں سے بھی ایمان لانے تک مومن عورتوں کا نکا ح نہ کرو اگر چہ ایک مشرک مردتمہیںبھلا لگے کیونکہ ایک ایمان والا غلام
اس (مشرک) سے بہت بہتر ہے ۔ یہ (مشرک ) لوگ تمہیں جہنم کی طرف بلاتے ہیں اللہ تعالیٰ رضا سے تمہیں جنت اور مغفرت کی دعوت دے رہا ہے ۔ اور اپنی آیات لوگوں کے لئے بیان کر رہا ہے ، تاکہ وہ غوروفکر کرتے ہوئے عبرت پکڑیں ۔​
اے اللہ کے بندے ! رسالے کی ابتداء میں ہم تارک نماز کے مشرک ہونے کو ثابت کر چکے ہیں یہاں پر تکرار کی ضرور ت نہیں ہے ۔ تاہم نماز ترک کرنے والا ہر مرد اور عورت اس مذکورہ بالا آیت کا مخاطب ہے ۔​
عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِییَّ ﷺ قَالَ : ''تَنْکَحُ الْمَرْاَۃُ لِاَرْبَعٍ : لِمَالِھَا ، وَلِحَسَبَہَا ، وَلِجَمَالِھَا ، وَلِدِیْنِہَا ۔ فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّیْنِ تَرِبَْ یَدَاکَ ''۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ''عورت سے چار چیزوں کے باعث نکاح کیا جاتا ہے ۔ اس کے مال کی وجہ سے اس کے خاندان کی وجہ سے اس کے جمال کی وجہ سے اور اس کے دین (دینداری) کی وجہ سے تم ان میں سے دیندار عورت کو پسند کرو ۔ ورنہ (آخرت میں ) مفلسی سے دوچار ہوگے ''۔​
یہ حدیث بخاری 5090اور مسلم 3625نے روایت کی ہے ۔​
اے اللہ کے بندے ! آپ دیکھ رہے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ صرف دین دار عورت سے نکاح کرنے ک حکم دے رہے ہیں ۔ پہلے ابواب میں بھی گذر چکا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے ۔​
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ فَقَالَ یَارَسُوْلَ اﷲِ ! اَیُّ شَیْئٍ عِنْدَاﷲِ فِیْ الاِ سْلَامِ ؟ قَالَ : '' الصَّلَاۃُ لَوَقْتِھَا ، وَمَنْ تَرَکَ الصَّلَاۃَ دِیْنَ لَہُ...''۔​
ایک آدمی آیا اور اس نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ! اللہ کے نزدیک اسلام میں سب سے فضیلت والی شے کون سی ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : '' وقت پر نماز ادا کرنا اور تارک نماز کا کوئی دین نہیں ہے ...''۔​
یہ حدیث بیہقی نے شعب الایمان میں حسن سند سے روایت کی ہے ۔ نیز دیکھئے الکنز 21618۔​
اسی بناء پر نماز ترک کرنے والی عورت کا کوئی دین نہیں ہے ۔ اور یوں اس شرعی نکاح کی گنجائش نہیں ہے ۔ اہل حدیث (یعنی محمدثین) کے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے ایک قول یوں مروی ہے ۔​
عَنْ مُحَمَّدٍ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ زِیضاد ، سِئُلَ اَبُوْ عَبْدِاﷲِ عَنِ اِمْرَاَۃٍ لَہَا زَوْدٌ یَسْکَرُوَ یَدَعُ الصَّلَاۃَ ۔ قَالَ : اَنْ کَانَ لَہَا وَلِیٌّ فَرَّقَ بَیْنَھُمَا ۔
ابو عبداللہ (امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ ) سے پوچھا گیا کہ ایک عورت کا خاوند شراب پیتا اور نماز ترک کرتا ہے ۔ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا
اگر اس عورت کا ولی موجود ہے تو دونوں کے درمیان تفریق کروا دے ۔
(احمد ، احکامالنساء ،206)​
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,517
پوائنٹ
604
خلیفہ وقت کے نمازی رہنے تک نافرمانی جائز نہیں
عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیَّ ﷺ ؛ عَنِ النَّبِیَّ ﷺ اَنَّہُ قَالَ : '' یُسْتَعْمَلُ عَلَیْکُمْ اُمَرَآئُ ، فَتَعْرِفُوْنُ وَتُنْکِرُوْنَ ۔ فَمَنْ کَرِہَ فَقَدْ بَرِیئَ وَمَنْ اَنْکَرَ فَقَدْ سَلِمَ وَلٰکِنْ مَنْ رَضِیَ وَتَابَعَ '' ۔ قَالُوْا : یَارَسُوْلَ اﷲِ اَلاَ نُقَاتِلُہُمْ ؟ قَالَ : '' لاَ مَا صَلُّوْا ''۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ''تمہارے اوپر ایسے حکام متعین ہوں گے کہ ان کے بعض کام تمہیں پسند ہوں گے اور بعض ناپسند یدہ ہوں گے ۔ برے کام کو برا جاننے والا اس کے گناہ سے بری ہے ۔ انکار اور رد کرنے والا بھی گناہ میں شریک ہونے سے بچار رہتا ہے ۔ صرف برائی پر رضامندی ظاہر کرنے والا اور ان کے افعال کے تابع ہونے والا گناہ سے بری نہیں ہوسکتا ، سزاسے بچ نہیں سکتا '' ۔
صحابہ کرام نے پوچھا اے اللہ کے رسول ﷺ ! کیا ایسے غلط کام کرنے والے امراء (حکمرانوں) سے ہم قتال نہ کریں ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ''نہیں ، جب تک وہ نماز ادا کرتے ہوں (اس وقت تک ان سے قتال جائز نہیں ) ''۔
یہ حدیث مسلم 4801نے روایت کی ہے ۔​
حدیث مبارکہ کا خلاصہ یوں ہے ۔​
1۔ نمازی رہنے تک خلیفہ کی نافرمانی نہ کرنا ۔خلیفہ سے مراد صاحب اقتدار ہے ۔ یہ اچھی طرح جاننا ضروری ہے کہ ہمارے زمانے کے ارباب اقتدار میں سے کوئی بھی (شرعی طور پر ) خلیفہ نہیں ہے ۔ اگر کوئی شرعی خلیفہ ہوتا تو پھر ان تمام کا قتل ہونا لازمی تھا۔ کیونکہ کوئی بھی نماز ادا نہیں کرتا ہے ۔ ان کے ساتھ قتال کے بجائے انہیں رئیس مملکت کہہ کر اطاعت کرنے اور ہاتھوں میں ہاتھ دینے والوںکی گوشمالی ضروری ہے ۔​
2۔ حکمران اگر چہ نما ز ادا کرتے ہوں پھر بھی ان کے کردہ غلط کاموں کی تردید کرتے ہوئے ناراضگی ظاہر کرنا ضروری ہے ۔
نماز ادا کر کے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنے والے حکمران کے کردہ غلط کاموں کا انکار کرتے ہوئے راضی نہ ہونا بھی ضروری ہے ۔ روز روشن کی طرح عیاں کافر اور اللہ کے احکام کے ساتھ استہزاء کرنے والے کے لئے قرآن میں کوئی مخفی کلمہ نہیں ہے ۔
اس کے باوجود ایسے ارباب اقتدار کی اطاعت کرتے ہوئے ان پر راضی رہنے والے اور دین کو برباد کرنے والے نام نہاد مسلمان کو کیا کہا جائے میں کچھ نہیں کہہ سکتا ...۔​
3۔ ایک بے نماز کو اپنا حکمران منتخب کرنے والا (یعنی ووٹ دینے والا ) در حقیقت ابتداء ہی سے ایسے حکمران کے ہر کام سے راضی ہے کیونکہ وہ اسے چن رہا ہے ۔​
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,517
پوائنٹ
604
جان بوجھ کر ترک کردہ نماز کی قضا نہیں ہے
وَاِذَا کُنْتَ فِیْھِمْ فَاَقَمْتَ لَھُمُ الصَّلٰوۃَ فَلْتَقُمْ طَائِفَۃٌ مِّنْھُمْ مَعَکَ وَلْیَاْخُذُوْا اَسْلِحَتَھُمْ فَاِذَا سَجَدُوْا فَلْیَکُوْنُوْا مِنْ وَّرَائِکُمْ وَلْتَاْتِ طَائِفَۃٌ اُخْرٰی لَمْ یُصَلُّوْا فَلْیُصَلُّوْا مَعَکَ وَلْیَاْخُذُوْا حِذْرَھُمْ وَاَسْلِحَتَھُمْ وَدَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْ تَغْفُلُوْنَ عَنْ اَسْلِحَتِکُمْ وَاَمْتِعَتِکُمْ فَیَمِیْلُوْنَ عَلَیْکُمْ مَیْلَۃً وَّاحِدَۃً وَلَا جُنْاحَ عَلَیْکُمْ اِنْ کَانَ بِکُمْ اَذًی مِّنْ مَّطَرٍ اَوْ کُنْتُمْ مَرْضٰی اَنْ تَضَعُوْا اَسْلِحَتَکُمْ وَخُذُوْا حِذْرَکُمْ اِنَّ اﷲَ اَعَدَّ للْکٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّہِیْنًا (النسا:102)
آپ (ﷺ) جب ان کے درمیان ہوں اور (محاذ پر) انہیں نماز پڑھاتے وقت (لشکر کو دو گروہوں میں تقسیم کیجئے) ایک گروہ آپ کے ساتھ نماز ادا کے گا۔ اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے برسر پیکار رہے گا۔ تمام (مجاہد) اپنا اپنا اسلحہ ساتھ لیں گے۔ آپ (ﷺ) کے ساتھ ایک رکعت نماز ادا کرنے والے اب دشمن کے سامنے چلے جائیں گے اور جو دشمن کے سامنے تھے اور انہوں نے نماز ادا نہیں کی، وہ آ کر آپ (ﷺ) کے ساتھ ایک رکعت نماز ادا کریں گے کیونکہ کافروں کی یہ آرزو ہے کہ تم لوگ اپنے اسلحے اور اشیاء سے غافل ہو جاؤ، اور وہ اچانک تم پر آن جھپٹیں۔اگر بارش کے سبب تمہیں مشکل ہو یا بیماری کی وجہ سے تکلیف ہو تو اسلحہ اتار رکھنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ لیکن اس کے باوجود (دشمن کے مقابل) چوکنے رہو۔ اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لئے ذلیل و رسوا کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
اے اللہ کے بندے! مذکورہ آیت کریمہ میں آپ نے دیکھا کہ جہاں آدمی ہر وقت موت کے مد مقابل ہوتا ہے اس میدان جہاد میں بھی اللہ تعالیٰ نے نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ ترک نماز کے لئے لڑائیوں سے بڑھ کر کیا عذر ہو سکتا ہے لیکن اس کے باوجودترک نماز کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ اس کے بر عکس حکم الٰہی کے مطابق جماعت سے ادا کرنا ثابت ہو رہا ہے۔ اس پر بھی نماز کی قضا کے قائلین ترک ہونے والی نماز کی قضا کے بارے میں کونسا شرعی عذر پیش کرتے ہیں۔​
نیز یہ لوگ کہتے ہیں کہ نماز کی قضا (کی اجازت) ہے اس طرح یہ لوگ آیت کو معمولی گردانتے ہیں اور اس عظیم عبادت کو مسلمانوں کی نگاہ میں گراتے ہیں اور ہزاروں انسانوں کے آخرت میں بطور مشرک اور کافر جانے کا سبب بنتے ہیں۔ ان کے کون سے بھاری بھر کم کندھے ہیں جن پر عظیم بلا لاد رہے ہیں۔ ذرا دیکھئے اللہ سبحانہ و تعالیٰ اس آیت کے سلسل میں کیا فرماتا ہے:​
فَاِذَا قَضَیْتُمُ الصَّلَاۃَ فَاذْکُرُوا اﷲ قِیَامًا وَّ قُعُوْدًا وَّعَلٰی جُنُوْبِکُمْ فَاِذَا اطْمَاْنَنْتُمْ فَاَقِیْمُوْا الصَّلَاۃَ اِنَّ الصَّلَاۃَ کَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ کِتَابًا مَّوْقُوْتًا (النسآء:103)
(اس خطرناک گھڑی میں) نماز ادا کرنے اور مکمل کرنے کے بعد کھڑے بیثھے اور پہلو پر لیٹے ہوئے اللہ کا ذکر کریں۔ امن و سکون کی حالت میں پوری نماز ادا کریں کیونکہ نماز مومنوں پر مقرر کردہ وقت میں (ادا کرنا) فرض ہے۔​
آیت مبارکہ کے اس حصے میں اللہ عز وجل نماز کو مقررہ اوقات میں لازمی طور پر ادا کی جانے والی ایک عبادت فرما رہا ہے۔​
اے اللہ کے بندے! آپ دیکھ رہے ہیں کہ نماز بھی حج اور روزوں کی طرح ایک خاص وقت میں ادا کی جانے والی عبادت ہے۔ جیسا کہ حج، ذوالحجہ کے مخصوص ایام میں اور روزے ماہِ رمضان میں ہی ادا ہو سکتے ہیں۔ وقت سے پہلے یا بعد ان عبادتوں سے تین چار گنا زیادہ کرنے سے بھی ان کی فرضیت ادا نہیں ہوتی۔ اسی طرح نماز وقت سے پہلے یا بعد ادا کرنے سے اس عظیم عبادت کی ادائیگی نہیںہو پاتی۔ امت کا اس پر اجماع ہے اگر یہ ممکن ہوتا کہ وقت سے پہلے نماز ادا کرنے کی رخصت ہوتی تو پھر اسی طرح وقت کے بعد کسی دوسرے وقت ادا کرنے کی رخصت ہوتی تو پھر اسی طرح وقت کے بعد کسی دوسرے وقت ادا کرنے کی بھی اجازت ہوتی۔ (لیکن جس طرح پہلے ادا کرنے کی کوئی اجازت نہیں دیتا اسی طرح بعد میں بھی صحیح نہیں ہے)​
دین میں جس قدر عبادات ہیں ان کی ہیئت اور وقت حکمتوں والے اور شریعت نازل کرنے والے اللہ کی طرف سے متعین ہیں۔ جو کوئی اللہ عز و جل کی طرف سے معلوم اور مقررہ وقت پر ادا کی جانے والی عبادت کو اپنی طرف سے کسی دوسرے وقوت میں ادا کرنے کھڑا ہو گا وہ درحقیقت اللہ عزو جل کے طے کردہ حکم کو معمولی گردانتے ہوئے اپنا حکم وضع کرنے والا ''الٰہ'' بن رہا ہے۔​
ہم یہ نہیں کہتے کہ بعض شرعی عذروں کے ساتھ نماز اپنے وقتوں کے علاوہ دیگر اوقات پر ادا نہیں ہوتی ہے۔ لیکن اس عبادت کے مقررہ وقت میں ادا کرنے کا حکم دینے والے اللہ تعالیٰ نے ہی نماز کو اس کے دیگر اوقات میں ادا کرنے کی اجازت دینے والے بعض شرعی عذر متعین کر دیئے ہیں۔ یہ بندہ اپنی خواہش کے مطابق کوئی شرعی عذر گھڑنے کی اجازت نہیں رکھتا ہے۔​
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,517
پوائنٹ
604
تمام عبادات کی طرح نماز کا بھی خاص وقت ہے
عَنْ قَتَادَۃَ اَنَّ ابْنَ مَسْعُوْدٍ قَالَ: اِنَّ لِلصَّلَاۃِ وَقَتًا کَوَقْتِ الْحَجِّ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بلاشبہ نماز کا حج کی طرح ایک وقت (مقرر) ہے۔​
اسے طبرانی کبیر 9375، مصنف عبدالرزاق 3747 اور ابن المنذر نے اوسط میں روایت کیا ہے​
نماز کو دوسرے وقت میں ادا کرنے کی رخصت دینے والے شرعی عذر​
یہ عذر دو قسم کے ہیں:​
1۔ وقت سے پہلے نماز ادا کرنے کی اجازت دینے والے عذر​
2۔ وقت کے بعد نماز ادا کرنے کی اجازت دینے والے عذر
قبل از وقت نماز ادا کرنے کی اجازت دینے والے عذر درج ذیل ہیں:​
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، اَنَّ النَّبِیَّ ﷺ کَانَ فِیْ غَزْوَۃِ تَبُوْکَ اِذَا ارْتَحَلَ بَعْدَ زَیْغِ الشَّمْسِ صَلّٰی الظُّھْرَ وَالْعَصْرَ جَمِیْعًا ثُمَّ سَارَ ... وَاِذَا ارْتَحْلَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ عَجَّلَ الْعِشَائَ فَصَلَّھَا مَعَ الْمَغْرِبِ
نبی اکرم ﷺ جب غزوہ تبوک میں تھے تو ... (دوران سفر) جب آگے چلنے کا ارادہ فرماتے تو سورج ڈھلنے پر ظہر اور عصر (ظہر کے وقت پر) اکٹھی ادا کرتے اور چل پڑتے۔ اسی طرح جب رات کو آگے چلنے کا ارادہ فرماتے تو سورج غروب ہونے کے بعد نمازِ عشاء کو جلدی (یعنی قبل از وقت) مغرب کے ساتھ اکٹھا ادا کرتے اور سفر پر چل پڑتے۔​
یہ حدیث ابوداؤد 120، ترمذی 553 اور مسند احمد 241/5میں صحیح سند کے ساتھ مروی ہے۔​
مذکورہ بالا حدیث میں دوران سفر نماز عصر کو ظہر کے وقت ظہر کے ساتھ اور نماز عشاء کو مغرب کے وقت نماز مغرب کے ساتھ ادا کرنے کی اجازت پائی جاتی ہے۔​
یہ بھی اچھی طرح جان لینا چاہیئے کہ نماز کی قضاء کی اجازت دینے والے علماء کرام صریح نص (واضح اور پختہ دلیل) کے باوجود سفر میں نمازیں جمع کرنے کی رخصت نہیں دیتے ہیں۔​
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,517
پوائنٹ
604
بعد از وقت ادائیگی نماز کی اجازت دینے والے (شرعی) عذر:
عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ: اِذَا عَجِلَ عَلَیْہِ السَّفَرُ، یُؤَخِّرُ الظُّھْرَ اِلٰی اَوَّلَ وَقْتِ الْعَصْرِ، فَیَجْمَعُ بَیْنَھُمَا۔ وَیُؤَخِرُّ الْمَغْرِبَ حَتّٰی یَجْمَعَ بَیْنَھَا وَبَیْنَ الْعِشَائِ حِیْنَ یَغِیْبُ الششَفَقُ
نبی علیہ الصلاۃ والسلام جب سفر پر جلدی روانہ ہونے والے ہوتے تو (روانہ ہو جاتے اور) نماز ظہر کو نماز عصر کے اول قت تک مؤخر کرتے۔ اور پھر (اس وقت) دونوں نمازوں کو جمع کر لیتے۔ اسی طرح نماز مغرب کو شفق کے غائب ہونے تک لیٹ کرتے اور پھر نماز عشاء کے ساتھ جمع کر لیتے (یعنی نماز عشاء کے وقت نماز مغرب اکٹھی ادا کرتے)۔​
یہ حدیث مسلم 1627 نے روایت کی ہے۔​
عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: قَالَ النَّبِیُّ اﷲِ ﷺ: مَنْ نَسِیَ صَلَاۃً اَوْ نَامَ عَنْھَا فَکَفَّارَتُھَا اَنْ یُّصَلِّیْھَا اِذَا ذَکَرَھَا
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو آدمی نماز ادا کرنا بھول گیا یا سویا رہا تو یاد آنے یا بیدار ہونے پر (فوراً نماز) ادا کرے یہی اس کا کفارہ ہے۔​
یہ حدیث بخاری 597، اور مسلم 1568نے روایت کی ہے۔​
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَمَعَ رَسُوْلُ اﷲِ ﷺ: بَیْنَ الظُّھْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَائِ، بِالْمَدِیْنَۃِ فِیْ غَیْرِ خَوْفٍ وَلَا مَطَرٍ، وَ فِیْ حَدِیْثِ وَکِیْعٍ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: لِمَا فَعَلَ ذٰلِکَ؟ قَالَ: کَیْ لَا یُحْرِجَ اُمَّتَہُ فِیْ حَدِیْثِ اَبِی مُعَاوِیَۃَ، قِیْلَ لاِبْنِ عَبَّاسٍ: مَا اَرَادَ اِلٰی ذٰلِکََ؟ قَالَ: اَرَادَ اَنْ لَایُحْرِجَ اُمَّتہ
رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں بلا خوف (دشمن) اور بغیر بارش کے ظہر اور عصر، مغرب اور عشاء اکٹھی ادا کی۔ (راوی حدیث مشہور صحابی سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ) آپ ﷺ نے یہ (نمازوں کو جمع) کیوں کیا؟ انہوں نے جواب دیا تاکہ امت مشقت میں نہ پڑے۔ ایک دوسری روایت کے مطابق سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ ﷺ نے امت کو تکلیف میں نہ ڈالنا چاہا۔
یہ حدیث مسلم 1633نے روایت کی ہے۔​
اس باب کی احادیث کا خلاصہ یوں ہے کہ:​
1۔ سفر میں نماز ظہر و عصر کو اورنمازِ مغرب و نماز عشاء کو جمع تقدیم یا تاخیر کی دلیل موجود ہے۔​
2۔ حضر میں بھی بعض شرعی عذروں کی بناء پر نمازوں کو ان کے وقت سے مقدم یا مؤخر کرنے کا بھی جواز ہے۔
تنبیہ: حضر میں نماز جمع کرنے کے بارے اچھی طرح جان لینا ضروری ہے کہ یہ امت کو مشقت اور تکلیف سے بچانے کی غرض سے ایک رخصت ہے۔ اب اس مشقت کا تعین ہر آدمی خود کرے گا۔ (آیا اس وقت نماز ادا کرنا اس کیلئے انتہائی مشکل ہے) ورنہ شیعہ حضرات کی طرح ہمیشہ جمع کرنے کی رخصت نہیں ہے۔​
3۔ سفر میں نماز ظہر کے ساتھ نمازِ عصر، ظہر کے وقت پر اور نماز مغرب کے ساتھ نمازِ عشاء، مغرب کے وقت ادا کی جا سکتی ہے۔​
4۔ سفر میں نماز ظہر کے ساتھ نماز عصر، عصر کے وقت پر اور نماز مغرب کے ساتھ نمازِ عشاء، عشاء کے وقت پر ادا کی جا سکتی ہے۔​
5۔ بھول جانے یا سویا رہ جانے کی بناء پر ادا نہ کی جانے والی نماز کو یاد آنے یا جاگنے پر ادا کرنے کی اجازت ہے۔​
6۔ حضر میں کسی مشقت (نامساعد حالات) کے سبب نماز ظہر کو عصر کے وقت پر اور نمازِ مغرب کو عشاء کے وقت تقدیم و تاخیر کے ساتھ جمع کر کے ادا کرنے کی اجازت ہے۔ مذکورہ بالا شرعی عذروں کے علاوہ کوئی دوسرا شرعی عذر نہیں ہے۔ جس کے سبب کوئی نماز اپنے وقت کی بجائے دوسرے وقت میں ادا کی جا سکتی ہو۔​
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,517
پوائنٹ
604
بعض شبہات کا ازالہ
تارک نماز کے بارے میں ذکر کردہ ان احکامات کو ناگورار جاننے والے شبہات کا شکار بعض لوگ بے نمازوں کے حمایتی بن کر ان کی طرف سے مدافعانہ سوالات ہمیں پیش کر کے توجہ دلاتے ہیں۔ اور بیشمار نصوص کے مقابل بعض آیات اور احادیث کو نہ سمجھتے ہوئے ایسے اعتراضات گھڑتے ہیں جن سے یوں ظاہر ہوتا ہے کہ جیسے اللہ کا دین ایک دوسرے کے مخالف احکامات پیش کرتا ہے۔ گویا مذکورہ بہت سی آیات اور احادیث سے تارک نماز کافر، مشرک، بے ایمان اور بے دین ثابت ہونے کے بعد اب تارک نماز مسلمان ثابت ہو رہا ہے۔ درحقیقت اس قسم کا دفاع اللہ کے دین میں تضاد پائے جانے کو ثابت کرنے کی غلط روش کا آئینہ دار ہے۔​
اے اللہ کے بندے! یہ اچھی طرح جاننا ضروری ہے کہ کتاب و سنت جو کہ وحی الٰہی ہیں ان میں باہمی متضاد احکامات قطعاً نہیں پائے جاتے ہیں۔ ایسا خیال کرنا ضلالت اور لاعلمی میں یوں کہنا جہالت ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:​
اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ وَلَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اﷲِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلَافًا کَثِیْرًا (النساء:82)
کیا انہوں نے ابھی تک قرآن پر غور نہیں کیا (کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور اس کے معنی بھی اللہ کی طرف سے ہیں) اگر یہ (قرآن) اللہ کے علاوہ کسی اور کی ذات کی طرف سے (نازل) ہوتا تو اس میں ضرور بہت سے (الفاظ اور احکام میں) اختلافات پاتے۔​
ایک اور آیت کریمہ میں یوں ارشاد ربانی ہے:​
وَلَوْ اَنْزَلَ اﷲُ عَلَیْکَ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ وَ عَلَّمَکَ مَا لَمْ تَکُنْ تَعْلَمْ (النساء:113)
اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ پر قرآن و سنت کو نازل فرمایا اور آپ کو وہ کچھ سکھلایا جو آپ ﷺ پہلے سے نہیں جانتے تھے۔​
اسی حوالے سے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں:​
عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ: عَنْ رَسُوْلِ اﷲِ ﷺ اَنَّہُ قَالَ: اِنِّی لَا اَقُوْلُ اِلاَّ حَقًّا، قَالَ بَعْضُ اَصْحَابِہٖ: فَاِنَّکَ تُدَاعِبُنَا یَارَسُوْلَ اﷲِ فَقَالَ: اِنِّی لَا اَقُوْلُ اِلاَّ حَقًّا
رسول اللہ ﷺ ن ے فرمایا: ''میں حق کے سوا اور کچھ نہیں کہتا ہوں'' صحابہ کرام میں سے بعض نے کہا اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ ہم سے کبھی کبھار مذاق بھی کرتے ہیں (یعنی کیا اس میں بھی حق ہی ہوتا ہے) تو آپ ﷺ نے فرمایا: ''ہاں، میں حق کے سوا کچھ بھی نہیں کہتا ہوں''۔​
یہ حدیث مسند احمد 340/2، اور ترمذی 1990نے صحیح سند کے ساتھ روایت کی ہے۔​
جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا ہر فرمان گرامی حق ہے۔ مبنی بر حق فرامین ایک دوسرے کے مخالف نہیں پائے جا سکتے ہاں ایک دوسرے کے مخالف اقوال ہونا باطل کا خاصہ ہے۔​
اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے:​
فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ اِلَّا الضَّلَالُ (یونس:32)
حق کے بعد ضلالت و گمراہی کے سوا اور کیا ہے؟​
اے اللہ کے بندے! یہ قاعدہ کلیہ جان لینے کے بعد آپ کا ہر وضاحت طلب بات کو بآسانی سمجھ لینا یقینی ہے۔ اب اپ کے ناقابل فہم مسائل پر گفتگو کی جاتی ہے۔​
سوال: کہا جاتاہے کہ ہر کلمہ گو کا جنت میں داخل ہونا صحیح حدیث سے ثابت ہے اس بناء پر تارک نماز کافر نہیں ہو سکتا۔ ہاں گنہگار مسلمان ہے آپ اس پر کیا کہتے ہیں؟ آپ ہمیں جواب دیں اللہ تعالیٰ آپ کو اجر دے۔​
جواب: جی ہاں رسول اللہ ﷺ سے ایک حدیث میں یوں منقول ہے کہ لا الٰہ اِلا اللہ کہنے والا ہر کوئی جنت میں جائے گا۔ لیکن اس سے کردہ استدلال غلط ہے۔ ہمارے اس رسالہ میں تارک نماز کے بارے میں اب تک ذکر کردہ تمام روایات کے مخالف یہ استدلال ہے۔​
تارک نماز مشرک ہے، بے دین اور بے ایمان ہے۔ اور لا الٰہ الا اﷲ کہنے والا ہر آدمی جنت میں جائے گا۔ یہ دونوں باتیں کہنے والی ایک ہی ذات یعنی رسول اللہ ﷺ ہیں جیسا کہ اوپر ہم نے واضح کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین میں ایک دوسرے کے مخالف احکامات تلاش کرنا حقانیت کی ضد ہے۔ ایسا تو سوچا بھی نہیں جا سکتا۔​
صرف یہ کہہ سکتے ہیں اور صحیح بات یہی ہے کہ دین میں ایک دوسرے کے مخالف احکام نہیں ہیں لیکن جیسے آپ کو سمجھایا گیا ہے اسی طرح آپ نے سمجھا اور پوچھا ہے۔ ہم بھی کہتے ہیں کہ یہاں آپ کے سمجھنے سمجھانے والا ایک اہم مسئلہ ہے:​
حدیث نبوی ﷺ یوں ہے:​
عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ؛ عَنِ النَّبِیِّ ﷺ قَالَ: مَنْ شَھِد اَنْ لَا اِلٰہ اِلاَّ اﷲُ، وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اﷲِ حَرَّمَ اﷲُ عَلَیْہِ النَّارَ۔ وَ فِیْ رِوَایَۃٍ: مَنْ قَالَ لَا اِلٰہَ اِلاَّ اﷲُ دَخَلَ الْجَنَّۃَ
نبی علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا: جو کوئی بھی لا اِلٰہ اِلا اللہ (یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں) اور اَنَّ محمد رسول اللہ (بلا شبہ محمد ﷺ، اللہ کے رسول ہیں) کی گواہی دے گا اس پر اللہ تعالیٰ نے جہنم کی آگ حرام کر دی ہے''۔​
اور ایک روایت میں یوں ہے:​
جو کوئی ''لا اِلٰہ اِلا اللہ'' پڑھے گا وہ جنت میں داخل ہو گا۔​
یہ حدیث مسلم 142نے روایت کی ہے۔​
اس روایت کی رو سے لا اِلٰہ اِلا اللہ کنے والا جنت میں جائے گا لیکن یہ اچھی طرح جاننا ضروری ہے کہ اس قول کا تقاضا بھی ہے۔​
ہر کوئی جانتا ہے کہ جس بات کے لئے جو کچھ لازمی ہے اگر وہ نہ کیا جائے تو اس بات (قول) کا تمام انسانوں کے نزدیک کچھ وزن (اعتبار) نہیں ہوتا جب لوگوں کے درمیان معاملہ یوں ہے تو اللہ تعالیٰ کے بارے میں کیسے گمان کر لیا جائے کہ اس کے ہاں معاملہ یوں نہیں ہو گا۔ اور لا اِلٰہ الا اﷲ کے تقاضے پورے کئے بغیر بھی یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں وزنی ہو گا۔​
اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں، اس بات کا اقرار کرنے والا آدمی توحید کے مخالف شرک اور کفر سے عداوت کا اعلان کرتا ہے اور جب تک عمل سے اس کی تصدیق نہ کرے اس کا یہ قول اور اعلان بے وقعت ہے۔ (اس سے وہ لوگ مستثنیٰ ہیں جنہیں کلمہ کے اقرار کے بعد عمل سے تصدیق کی مہلت ہی نہیں ملی)۔​
اس کی مزید وضاحت کے لئے شبہے کے شکار آدمی سے اگر ہم یہ پوچھیں کہ کوئی آدمی لا اِلٰہ اِلا اﷲ کا اقرار کرتا ہے لیکن قرآن کی آیات میں سے صرف ایک آیت کا منکر ہے تو اس کے بارے میں کیا (شرعی) حکم ہے؟ یقینا شبہے کے شکار محترم کہیں گے کہ وہ کافر ہے تو جناب آ پ لا اِلٰہ الا اﷲ کے اقراری کو کافر کہہ رہے ہیں یوں ذڑا پہلے اپنے ہی وضع کردہ اصول سے آپ خود انحراف نہیں کر رہے ہیں؟​
اس سوال کے جواب میں شبہے کے شکار حیران و پریشان جناب محترم اپنے آپ کو ذرا سنبھالیے اور بتائیے کہ وہ کون سی آیت یا حدیث ہے جس کی رو سے ایک آیت کے منکر کو آپ کافر قرار دے رہے ہیں حالانکہ وہ کافر ضرور ہے۔​
جی ہاں؛ ہم بھی پوچھتے ہیں کہ اے اللہ کے بندے! اس رسالہ کے شروع سے آخر تک ہماری ذکر کردہ نصوص سے کیا اب بھی آپ کے خیال میں تارک نماز کافر، مشرک، بے دین اور بے ایمان ثابت ہو رہا ہے یا نہیں؟​
ایک مزید شبہہ کہ کوئی آدمی تارک نماز تو ہے لیکن نماز کی فرضیت کا منکر نہیں ہے ؟ جناب کیا آپ ہمیں صرف ایک نص پیش کر سکتے ہیں جس سے ثابت ہو کہ نماز کی فرضیت منکر ہی کافر ہے ۔ اگر آپ کوئی ایسی شے پیش کرسکتے ہیں تو ہم بھی اپنے قول سے رجوع کر لیتے ہیں ۔ اگر آپ نے غور سے ہمارے پیش کردہ دلائل کا مطالعہ کیا ہو تو اس فرق کو بخوبی سمجھ لیں گے کہ ہمارے ذکر کردہ تمام دلائل تارک نماز کے مشرک ، کافر اور اس بے نماز کے بے دین اور بے ایمان ہونے پر دلالت کرتے ہیں ۔ کسی ایک دلیل میں بھی یہ بات نہیں کہی گئی کہ نماز کی فرضیت کا منکر کافر ہے ۔ نیز کیا آیت میں یوں نہیں فرمایا گیا کہ :​
وَاِذَا قُرِیئَ عَلَیْہِمْ الْقُرْاٰنُ لاَ یَسْجُدُوْنَ بَلِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یُکَذِّبُوْنَ o (الانشقاق 84:20)
'' قرآن ( یعنی نماز ادا کرنے کا حکم ) پڑھا جانے پر وہ لوگ سجدہ نہیں کرتے ۔ ( یعنی نماز ادا کر نہیں کرتے ) بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ
یہ کافر (اس حالت یعنی نماز ادا نہ کرتے ہوئے اور اللہ کے عذاب سے نہ ڈرتے ہوئے آخرت کی ) تکذیب کر رہے ہیں ''۔​
وَاِذَا قِیْلَ لَہُمْ رْکَعُوْا لاَ یَرْ کَعُوْنَ o وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِلْمُکَذِبِیْنَ (المرسلات 77:48,49)
'' انہیں جب کہا جاتا ہے کہ نماز ادا کرو تو وہ اطاعت گذار بن کر نماز ادا نہیں کرتے ۔ (نماز ادا نہ کرتے ہوئے اللہ کے احکام کو ) جھٹلانے والوں کے لئے اس (قیامت کے ) دن ہلاکت ہے ''۔​
اِنَّمَا یُؤْمِنُ بِاتٰتَاتِنَا الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِرُوْا بِہَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ سَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّہِمْ وَہُمْ لاَ یَسْتَکْبِرُوْنَ (السجدۃ32:15)
'' ہماری آیت پر ایمان رکھنے والے وہ لوگ ہیں جنہیں ہماری آیات کے ساتھ جب وعظ و نصیحت کیا جاتا ہے تو وہ سجدے میں پڑجاتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں تکبر نہیں کرتے ہیں ''۔​
فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِہِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوْا الصَّلاَۃَ وَ اتَّبَعُوْا الشَّہَوَاتِ فَسَوْفَ یَلْفُوْنَ غَیًّا o اِلاَّ مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ... ۔ (مریم 19:59,60)
'' ان پیغمبروں اور صالح لوگوں کے بعد ایسے نالائق لوگ آئے جنہوں نے نمازیں برباد کیں (چھوڑ دیں ) اور خواہشات کی پیروی میں لگ گئے ۔ یہ لوگ جہنم کے '' غی '' نامی طبقے میں ڈالے جائیں گے ۔ تاہم توبہ کرتے ہوئے ایمان لا کر صالح عمل کرنے والے مستثنٰی ہیں ''۔​
اے اللہ کے بندے ! آپ دیکھ رہے ہیں کہ مذکورہ بالا گروہ نماز ترک کر کے اپنے اس رویے کے ساتھ اللہ کی آیات کو جھٹلانے والے قرار پارہے ہیں ۔ کیا آپ اپنے قول کے مطابق نماز کی فرضیت کے منکر نہیں ہورہے ہیں ۔​
ان آیات کے سامنے خاموش رہ جانے والے شبہے کا شکار صاحب نے کچھ دیر سوچا اور پھر ایک مزید اعتراض سامنے لا ئے کہ
سوال : جناب ہم تسلیم کرتے ہیں کہ تارک نماز مشرک اور کافر ہے لیکن ہمیں تو یہ کہا جاتا ہے کہ شرک اور کفر کی دو ، دو قسمیں ہیں​
1۔ اسلام سے خارج کرنے والا شرک اور کفر​
2۔ اسلام سے خارج نہ کرنے والا شرک اور کفر​
اب آب بتائیں کہ تارک نماز ان دونوں میں سے کس قسم میں پایا جاتا ہے کیونکہ آپ ہی تارک نماز کو مشرک اور کافر کہتے ہیں ؟​
جواب : ہماری رائے میں تارک نماز اسلام سے نکالنے والے شرک اور کفر کا مرتکب ہوتا اے اللہ کے بندے ! اچھی طرح سن لے تمہیں جتنی مشکل نظر آرہی ہے مسئلہ اتنا مشکل نہیں صرف بلحاظ بہت خطرناک مسئلہ ہے ۔ جیسا کہ آپ نے کہا ہے کہ شرک اور کفر دو قسم پر ہے ایک اسلام سے نکالنے والی قسم اور دوسری اسلام سے نہ نکالنے والی قسم ہے ۔ پہلے آپ کو شرک سمجھاتے ہیں پھر کفر کے بارے میں سمجھائیں گے ۔​
 

ساجد تاج

فعال رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
7,174
ری ایکشن اسکور
4,517
پوائنٹ
604
شرک کی اقسام درج ذیل ہیں
1۔ شرک کے مرتکب کو ہمیشہ کا جہنمی بنانے والا شرک​
2۔ شرک اصغر کہلانے والا مخفی شرک یعنی ''ریا ''​
ہم پہلے دائمی جہنمی نہ بنانے والے شرک اصغر یعنی '' ریا'' کے بارے میں گفتگو کرتے ہیں پھر آپ خود ہی شرک اکبر کو جان لیں گے کہ یہ کیا ہے ؟​
مسند احمد میں ایک حدیث مروی ہے ۔​
عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ ؛ خَرَجَ عَلَیْنَا رَسُوْلُ اﷲِ ﷺ ، وَنَحْنُ نَتَذَاکَرُ الْمَسْیْحَ الدَّجَالَ ۔ فَقَالَ : '' اَلاَ اُخْبِرُ کُمْ بِمَا ھُوَا اَخُوْفُ عَلَیْکُمْ عِنْدِیْ مِنَ الْمَسِیْحِ الدَّجَالِ ؟ '' قَالَ : قُلْنَا بَلَی ۔ فَقَالَ : '' اَلشِّرُکُ الْخَفِیُّ ، اَنْ یَقُوْمَ الرَّجُلُ یُصَلِیْ فَیْزَیِّنُ صَلاَتَہُ لِمَا یَرَی مِنْ نَظَرِ رَجُلٍ ''۔
مسیح دجال کے بارے گفتگو کر رہے تھے کہ آپ ﷺ تشریف لائے ۔ (ہمیں مخاطب ہو کر ) فرمایا: '' کیا میں مسیح دجال سے بھی خطرناک شے کی تمہیں خبر نہ دوں ؟ ہم نے کہا جی ہاں اے اللہ کے رسول ﷺ ! ہمیں خبر نہ دیجئے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : '' وہ مخفی شرک ہے (جو یوں ظاہر ہوتا ہے ) کہ ایک آدمی نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے جب اسے نظر آتا ہے کہ کوئی مجھے دیکھ رہا ہے تو وہ (ریاکاری کرتے ہوئے ) کہ ایک آدمی نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے جب اسے نظر آتا ہے کہ کوئی مجھے دیکھ رہا ہے تو وہ (ریاکاری کرتے ہوئے ) نماز کو خوب سنوار کر پڑھتا ہے '' ۔​
یہ حدیث ابن ماجہ 4204اور بیہقی نے حسن سند سے روایت کی ہے​
مذکورہ بالا احادیث مبارکہ '' اسلام '' سے خارج نہ کرنے والے شرک کے بارے اس قدر واضح ہیں کہ اب کسی اعتراض کی گنجائش باقی نہیں ۔ یعنی شرک اصغر کے ریا کاری ہونے کے بارے جاننے کے بعد ترک نماز کے شرک اکبر ہونے کو آپ خود ہی سمجھ جائیں گے ۔
کفر کی اقسام بھی یوں ہیں ۔​
1۔ اللہ کے ساتھ کفر​
2۔ اللہ کی نعمتو ں کے ساتھ کفر​
یہاں پر بھی ہم آپ کو اسلام سے خارج نہ کرنے والے کفر کے بارے بیان کرتے ہیں ۔ اسلام سے نکالنے والے کفر کے بارے آپ خود ہی سمجھ جائیں گے ۔​
رسول اللہ سے ایک حدیث مروی ہے ۔​
ہَمْ جََابِرَ بْنِ عَبْدَاﷲِ قَالَ : شَہْدْتٌ مَعَ رَسُوْلِ ﷺ الصَّلاَۃَ یَوْمَ الْعِیْدِ... وَوَعَظَ النَّاسَ ، وَذَکَّرَ ھُمْ ثُمَّ مَضٰی حَتّٰی اَتٰی النِّسائَ فَوَعَطَھُنَّ وَ ذَکَّرَھُنَّ ۔ فَقَالَ : '' تَصَدَّقْنَ فَاِ نَّ اَکُثَرَکُنَّ خَطَبُ جَہَنَّمَ '' ۔ فَقَامَتِ امْرَاَۃٌ مِّنْ سِطَۃِ النِّسَائِ سَفْعَائُ الْخَدَّیْنِ فَقَالَتْ : لِمَ یَارَسُوْلَ اﷲَ ؟ قَالَ : '' لِاَنَّکُنَّ تُکْثِرْنَ الشَّکَاۃَ وَتَکْفُرْنَ الَعَشِیْرِ ''​
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ عید کے روز میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز میں حاضر ہوا ... آپ ﷺ نے لوگوں کو اللہ کے دلانے کی خاطر وعظ و نصیحت کی ۔ پھر آپ ﷺ چلے اور عورتوں کے نماز عید ادا کرنے کے مقام پر تشریف لائے ۔ اور انہیں وعظ و تذکیر کی اور فرمایا : '' تم صدقہ کیا کرو کیونکہ تم میں سے بکثرت عورتیں جہنم کا ایندھن ہیں '' ۔عورتوں میں سے بہت ہی نیک اور پچکے ہوئے گالوں والی ایک عورت کھڑی ہوئی اور کہنے لگی : '' اے اللہ کے رسول ﷺ ! کیوں ؟ '' رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ' ' کیونکہ تم اپنے حال احوال کی بکثرت شکایت کرتی رہتیں ہو اور اپنے خاوندوں کی ناشکری بہت کرتیں ہو '' ۔​
یہ حدیث مسلم 2048نے روایت کی ہے ۔​
اس حدیث سے آپ اسلام سے خارج نہ کرنے والے کفر (یعنی ناشکری ) کی اصلیت سے آگاہ ہوگئے ہیں ۔ درحقیقت شرک کی وضاحت کے بعد مزید توضیح کی کوئی ضرورت نہ تھی لیکن پھر بھی فائدہ ہو گا ۔ ان شاء اﷲ​
شبہات کے شکار لوگوں کا ایک مزید اعتراض یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے ۔​
عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ ﷺ : '' خَمْسُ صَلَوَاتٍ افْتَرَ ضَھُنَّ اﷲَ عَزَّوَجَلَّ ، مَنْ اَحْسَنَ وُضُؤَئَ ہَنَّ ، وَصلاَّہُنَّ لَوَقْتِہِنَّ ،وَاََتَّّمَ رُکُوْعَہُنَّ وَ خَشُوْعَہُنَّ ، کَانَ لَہُ عَلَی اﷲِ عَہْدٌ اَنْ یَّغْفِرَ لَہُ ۔ وَمَنْ لَمْ یَفْعَلْ فَلَیْسَ لَہُ عَلَی اﷲِ عَہْدٌ اِنْ شَائَ غَفَرَ لَہُ ، وَاِنْ شَائَ عَذَّبَہٗ '' ۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : '' اللہ تعالیٰ نے (مسلمانوں پر ) دن میں پانچ بار نماز فرض کی ہے ۔ جو اچھی طرح وضو کرے گا خوب خشوع و خضوع سے (نماز کے ) رکوع کو نماز کے وقت پر (یعنی نماز ) مکمل کرے گا ۔ اس کا گویا اللہ سے عہد ہوگیا کہ وہ (اللہ تعالیٰ) اس کی خطاؤں پر اسے معاف فرمادے گا ۔ اور جو کوئی یوں (خشوع و خضوع سے وقت پر نماز ادا ) نہیں کرے گا ۔ اللہ تعالیٰ کا اس کے ساتھ کوئی عہدنہیں ہے ۔ چاہے اسے معاف فرمادے اور چاہے اسے عذاب سے دوچار کرے '' ۔
یہ حدیث ابوداؤد 425، مسند احمد اور نسائی 462میں صحیح سند سے مروی ہے ۔​
اس مذکورہ روایت میں تارک نماز کی چاہے اللہ رہائی فرمائے اور چاہے عذاب۔ اس بارے ایک لفظ بھی نہیں ہے نماز کو اس کے وقت پر خاص طور رکوع کو خشوع وخضوع سے ادا کرنے پر محافظت نہ کرنا اور بات ہے ۔ اور نماز ترک کرنا اور بات ہے ۔ نماز کے اطمینان کے ضائع ہونے پر آدمی کے ملت اسلامیہ سے ملت غیر میں ہوجانے کا فتوٰی روایت میں مبالغہ آرائی ہے ۔ جب کہ راوی حدیث سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے ہی منقول ہے کہ تارک نمازملت اسلامیہ سے خارج ہو جاتا ہے ۔ گذشتہ ابواب میں ہم ذکر کر چکے ہیں یہاں پر تکرار کی ضرورت نہیں ۔​
امام ابن حزم اپنی مشہور کتاب '' محلی'' میں یوں فرماتے ہیں کہ اس موضوع پر یعنی ترک نماز کے بارے ہمیں سیدنا عمر بن خطاب ، معاذ بن جبل ، عبدالرحمٰن بن عوف، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم اجمعین اور بہت سے دیگر صحابہ کرام سے نماز کو فرض جانتے ہوئے ترک کرنے والے کے ''کافر'' اور ''مرتد'' ہونے کے بارے بہت سی روایات پہنچی ہیں ۔ صحابہ کرام کے اس اجماع کے خلا ف کوئی شے نہیں سنی گئی ہے ۔​
حنبلی مکتبہ فکر کے امام والمحدثین احمد بن امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ بھی تارک نماز کے لئے یوں کہتے ہیں : '' تارک نماز کافر ہے ، مرتد ہے اسے توبہ کرنی چاہئے اگر توبہ نہیں کرتا اور یوں ہی مرجاتا ہے تو نہ غسل دیا جائے اور نہ ہی نماز جنازہ ادا کی جائے اور نہ ہی مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے '' ۔​
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ بھی '' الو صیۃ الکبری '' میں یوں نقل کرتے ہیں ۔​
سن بلوغت کو پہنچ جانے والا کوئی آدمی فرض نمازوں میں سے کوئی نماز ترک کرتا ہے یا نماز کے فرض گردانے گئے ارکان میں سے کسی ایک رکن کو ترک کرتا ہے تو اس سے توبہ کروائی جائے گی اور توبہ نہ کرے تو گردن اڑائی جائے گی ۔ علماء میں سے بعض یوں کہتے ہیں تارک نماز کافر ہے ، مرتد ہے ، نہ اسکی نماز جنازہ ادا کی جائے گی اور نہ ہی (مسلمانوںکے طریقے پرانکے قبرستان میں ) دفن کیا جائیگا (الوصیۃ الکبری ،3 2 0 )​
رَبِّ اجْعَلْنِی مُقِیْمَ الصَّلٰوۃِ وَمِنْ ذُرِّیَتِیْ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَآئِ (ابراہیم 14:40)
اے میرے پرودرگار ! مجھے حقیقی نمازی بنادے ، میری اولاد میں سے بھی ایسے ہی پیدا فرما... اے ہمارے پروردگار میری یہ دعا قبول فرما'' ۔
(آمین ، ثم آمین)​
 
Top