1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بے نمازی کا جنازہ

'نماز' میں موضوعات آغاز کردہ از مظفر اختر, ‏نومبر 22، 2018۔

  1. ‏نومبر 22، 2018 #1
    مظفر اختر

    مظفر اختر مبتدی
    جگہ:
    ملتان
    شمولیت:
    ‏جون 13، 2018
    پیغامات:
    90
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    27

    السلام علیکم
    میرا سوال ہے کہ کیا بے نمازی شخص کا جنازہ پڑھنا چاہیئے؟؟؟؟
    برائے مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں علماء رہنمائی فرمائیں
     
  2. ‏نومبر 23، 2018 #2
    مظفر اختر

    مظفر اختر مبتدی
    جگہ:
    ملتان
    شمولیت:
    ‏جون 13، 2018
    پیغامات:
    90
    موصول شکریہ جات:
    10
    تمغے کے پوائنٹ:
    27

  3. ‏نومبر 24، 2018 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ
    الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين،
    أما بعد:

    ہر مسلمان چھوٹا ہو یا بڑا ،نیک ہو یا گنہگار اسکی نماز جنازہ پڑھنی چاہیئے ،یہ فرض کفایہ ہے؛
    لیکن اصلی منافق اورکافر کی نماز جنازہ پڑھنا جائز نہیں ،
    اللہ تعالی کا ارشاد ہے :
    وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ إِنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَاتُوا وَهُمْ فَاسِقُونَ ٭ سورۃ التوبۃ 84
    ان (منافقین ) میں سے کوئی مر جائے تو آپ اس کے جنازے کی ہرگز نماز نہ پڑھیں اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہوں، یہ اللہ اور اس کے رسول کے منکر ہیں اور مرتے دم تک بدکار اور بے اطاعت رہے ہیں ۔

    یہ آیت اگرچہ رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی کے بارے میں نازل ہوئی۔ لیکن اس کا حکم عام ہے ہر شخص جس کی موت کفر و نفاق پر ہو وہ اس میں شامل ہے۔
    اور تارک نماز یعنی (سرے سے نماز نہ پڑھنے والا ) اہل علم کے صحیح قول کے مطابق مسلمان نہیں ،اس لئے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی جاسکتی ،تفصیل ذیل کے فتوی میں ملاحظہ فرمائیں :
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    ترك الصلاة كسلاً
    سستی کرتے ہوئے نماز چھوڑ دی

    السؤال
    إذا لم أصل بسبب الكسل فقط فهل أعتبر كافراً أم مسلماً عاصياً ؟

    سوال: اگر میں سستی کی بنا پر نماز نہ پڑھوں تو مجھے کافر سمجھا جائے گا یا نافرمان مسلمان؟
    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    نص الجواب

    الحمد لله
    قال الإمام أحمد بتكفير تارك الصلاة كسلاً وهو القول الراجح والأدلة تدل عليه من كتاب الله وسنة رسوله وأقوال السلف والنظر الصحيح ( الشرح الممتع على زاد المستنقع 2/26)

    https://archive.org/stream/waq53629/02_53630#page/n26/mode/2up
    جواب کا متن
    الحمد اللہ:

    امام احمد سستی کرتے ہوئے نماز چھوڑنے والے کو کافر کہتے ہیں، یہی موقف راجح ہے، کتاب و سنت کے دلائل اور سلف صالحین کا فہم اور صحیح نظر و فکر بھی اسی موقف کی تائید کرتے ہیں۔
    تفصیلات کیلیے دیکھیں: "الشرح الممتع على زاد المستنقع"( 2/26)

    والمتأمل لنصوص الكتاب والسنة يجد أنها دلت على كفر تارك الصلاة الكفر الأكبر المخرج من الملة ، فمن أدلة القرآن :
    قول الله تعالى : " فإن تابوا وأقاموا الصلاة وآتوا الزكاة فإخوانكم في الدين " التوبة / 11

    ووجه الدلالة في هذه الآية أن الله تعالى اشترط لثبوت بيننا وبين المشركين ثلاثة شروط : أن يتوبوا من الشرك وان يقيموا الصلاة وأن يؤتوا الزكاة فإن تابوا من الشرك ولم يقيموا الصلاة ولم يؤتوا الزكاة فليسوا باخوة لنا ، وإن أقاموا الصلاة ولم يؤتوا الزكاة فليسوا باخوة لنا ، والأخوة في الدين لا تنتفي إلا حين يخرج المرء من الدين بالكلية فلا تنتفي بالفسوق والكفر دون الكفر .

    کتاب و سنت کی نصوص پر غور و فکر کرنے والا اس نتیجے تک پہنچے گا کہ قرآن و سنت دونوں ہی نماز چھوڑنے والے شخص کے کفر اکبر پر دلالت کرتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ شخص ملتِ اسلامیہ سے خارج ہو جاتا ہے، چنانچہ قرآنی دلائل میں سے چند یہ ہیں:
    فَإِنْ تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ
    ترجمہ: اگر وہ توبہ کر لیں، نماز قائم کریں اور زکاۃ ادا کرنے لگیں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں [التوبہ: 11]

    یہ آیت دلیل اس طرح بنتی ہے کہ اس میں اللہ تعالی نے ہمارے اور مشرکین کے درمیان دینی بھائی چارہ کے قیام کو تین شروط کے ساتھ جائز قرار دیا ہےکہ وہ : شرکیہ امور سے توبہ کر لیں، نماز قائم کریں، اور زکاۃ ادا کریں، چنانچہ اگر مشرکین شرک سے توبہ تو کر لیں لیکن نماز اور زکاۃ کا اہتمام نہ کریں تو وہ ہمارے دینی بھائی نہیں ہیں۔ اسی طرح اگر وہ نماز تو قائم کریں لیکن زکاۃ ادا نہ کریں تو وہ ہمارے دینی بھائی نہیں ہیں، اور یہ بات واضح ہے کہ دینی اخوت اسی وقت ختم ہوتی ہے جب انسان دین سے کلی طور پر باہر نکل جائے، محض فسق اور کبیرہ گناہوں سے دینی اخوت ختم نہیں ہوتی۔

    وقال تعالى أيضا : "فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلَاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا (59) إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَأُولَئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلَا يُظْلَمُونَ شَيْئًا " ووجه الدلالة : أن الله قال في المضيعين للصلاة المتبعين للشهوات : ( إلا من تاب وآمن ) فدل على أنهم حين إضاعتهم للصلاة واتباع الشهوات غير مؤمنين .
    اسی طرح اللہ تعالی کا یہ بھی فرمان ہے:
    ترجمہ: پھر ان کے بعد ان کی نا لائق اولاد ان کی جانشین بنی جنہوں نے نماز کو ضائع کیا اور اپنی خواہشات کے پیچھے لگ گئے۔ وہ عنقریب گمراہی کے انجام سے دوچار ہوں گے۔ [60] البتہ ان میں سے جس نے توبہ کر لی، ایمان لایا اور اچھے عمل کئے تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرہ بھر بھی حق تلفی نہ ہوگی۔ [مريم: 59، 60]

    یہ آیت دلیل اس طرح بنتی ہے کہ اللہ تعالی نے نمازیں ضائع کرنے والوں اور شہوت پرستی میں ڈوبے ہوئے لوگوں کو کہا: " إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ"[ البتہ ان میں سے جس نے توبہ کر لی،اور ایمان لایا] اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب وہ نمازیں ضائع کر رہے تھے اور شہوت پرستی میں مگن تھے، وہ اس وقت مومن نہیں تھے۔
    وأما دلالة السنة على كفر تارك الصلاة فقوله صلى الله عليه وسلم : " إن بين الرجل وبين الشرك والكفر ترك الصلاة " رواه مسلم في كتاب الإيمان عن جابر بن عبد الله عن النبي صلى الله عليه وسلم .
    اسی طرح تارکِ نماز کے کافر ہونے پر احادیث مبارکہ میں بھی دلائل موجود ہیں ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (آدمی اور شرک و کفر کے درمیان فرق نماز چھوڑنا ہے) امام مسلم رحمہ اللہ نے اسے کتاب الایمان میں سیدنا جابر بن عبد اللہ کی سند سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا ہے۔

    وعن بريدة بن الحصيب رضي الله عنه رضي الله عنه قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : " العهد الذي بيننا وبينهم الصلاة فمن تركها فقد كفر " رواه احمد وابو داود والترمذي والنسائي وابن ماجه .
    اسی طرح سیدنابریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ : (ہمارے اور ان کے درمیان معاہدہ نماز ہے، جس نے نماز چھوڑی اس نے کفر کیا) اسے احمد، ابو داود، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

    والمراد بالكفر هنا الكفر المخرج عن الملة لأن النبي صلى الله عليه وسلم جعل الصلاة فصلا بين المؤمنين والكافرين ومن المعلوم أن ملة الكفر غير ملة الإسلام فمن لم يأت بهذا العهد فهو من الكافرين
    اس حدیث میں کفر سے مراد دائرہ اسلام سے خارج کر دینے والا کفر ہے؛ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کو مومنوں اور کافروں کے درمیان حد فاصل مقرر فرمایا ہے، اور یہ بات بالکل واضح ہے کہ ملت کفر اور ملت اسلامیہ دونوں الگ الگ ہیں، لہذا اگر کوئی شخص معاہدے یعنی نماز کی پابندی نہیں کرتا تو وہ کافروں میں سے ہے۔

    وفيه من حديث عوف بن مالك رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال : " خيار أئمتكم الذين تحبونهم ويحبونكم ويصلون عليكم وتصلون عليهم ، وشرار أئمتكم الذين تبغضونهم ويبغضونكم وتلعنونهم ويلعنونكم " . قيل يا رسول الله أفلا ننابذهم بالسيف قال : " لا ما أقاموا فيكم الصلاة "

    ففي هذا الحديث دليل على منابذة الولاة وقتالهم بالسيف إذا لم يقيموا الصلاة ولا تجوز منازعة الولاة وقتالهم إلا إذا أتوا كفرا صريحا عندنا فيه برهان من الله تعالى ، لقول عبادة بن الصامت رضي الله عنه : " دعانا رسول الله صلى الله عليه وسلم فبايعناه فكان فيما أخذ علينا أن بايعنا على السمع والطاعة في منشطنا ومكرهنا وعسرنا ويسرنا وأثرة علينا وأن لا ننازع الأمر أهله قال : إلا أن تروا كفرا بواحا عندكم من الله فيه برهان " متفق عليه ، وعلى هذا فيكون تركهم للصلاة الذي علق عليه النبي صلى الله عليه وسلم منابذتهم وقتالهم بالسيف كفرا بواحا عندنا فيه من الله برهان .
    اسی طرح جناب عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث بھی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    (تمہارے بہترین حکمران وہ ہیں جن سے تم محبت کرتے ہو اور وہ تم سے محبت کرتے ہیں، وہ تمہارے لیے دعائیں کرتے ہیں اور تم ان کیلیے دعائیں کرتے ہو، اور تمہارے بد ترین حکمران وہ ہیں جن سے تم بغض کرو اور وہ تم سے بغض کریں، تم ان پر لعنت کرو اور وہ تم پر لعنت کریں) کہا گیا: اللہ کے رسول! کیا ہم تلوار سے اسے نیچے نہ اتار دیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (نہیں، جب تک وہ تمہارے اندر نماز پڑھتے رہیں)

    تو اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ حکمرانوں کے خلاف بغاوت اور ان پر مسلح کاروائی اسی وقت ہوگی جب وہ نماز نہ پڑھیں، لہذا حکمرانوں کے خلاف بغاوت اور ان کے خلاف اعلان جنگ اسی وقت ہو گا جب وہ صریح طور پر کفریہ کام کریں اور ہمارے پاس ان کے کفر کو ثابت کرنے کیلیے اللہ تعالی کی طرف سے دلیل بھی ہو؛
    کیونکہ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دعوت دی تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کر لی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت لیتے ہوئے جو امور ذکر کئے تھے وہ یہ تھے: ہم ہر وقت اطاعت کریں گے اور بات سنیں گے چاہے وہ ہماری مرضی کے مطابق ہو یا نہ ہو، چاہے ہم تنگی میں ہوں یا خوشحالی میں اور چاہے ہمیں نظر انداز کر کے ہم پر دوسروں کی ترجیح دی جا رہی ہو، نیز ہم حکمرانوں سے حکومت نہیں چھینیں گے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الا کہ تم واضح ترین کفر دیکھو کہ تمہارے پاس اس کے بارے میں اللہ کی طرف سے واضح دلیل بھی ہو" متفق علیہ
    اس حدیث کی روشنی میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکمرانوں کے خلاف بغاوت اور مسلح کاروائی کو نمازیں نہ پڑھنے کے ساتھ نتھی اور منسلک فرمایا، اور حکمرانوں کی جانب سے نماز نہ پڑھنے کا عمل ان کے واضح کفر کی علامت ہے جس کے متعلق ہمارے پاس اللہ تعالی کی طرف سے واضح دلیل بھی ہو۔

    فإن قال قائل : ألا يجوز أن تحمل النصوص الدالة على كفر تارك الصلاة على من تركها جاحدا لوجوبها ؟
    قلنا : لا يجوز ذلك لأن فيه محذورين :


    الأول : إلغاء الوصف الذي اعتبره الشارع وعلق الحكم به فإن الشارع علق الحكم بالكفر على الترك دون الجحود ورتب الأخوة في الدين على إقام الصلاة دون الإقرار بوجوبها لم يقل الله تعالى : فإن تابوا وأقروا بوجوب الصلاة ، ولم يقل النبي صلى الله عليه وسلم بين الرجل وبين الشرك والكفر جحد وجوب الصلاة . أو العهد الذي بيننا وبينهم الإقرار بوجوب الصلاة فمن جحد وجوبها فقد كفر . ولو كان هذا مراد الله تعالى ورسوله لكان العدول عنه خلاف البيان الذي جاء به القرآن ، قال الله تعالى : " ونزلنا عليك الكتاب تبيانا لكل شيء " النحل / 89 ، وقال تعالى مخاطبا نبيه : وأنزلنا إليك الذكر لتبين للناس ما نزل إليهم " النحل / 44 .
    اگر کوئی شخص کہے کہ: کیا ایسا کرنا ممکن نہیں ہے کہ جن نصوص میں نماز چھوڑنے پر کفر کا حکم ہے انہیں صرف ایسے شخص پر لاگو کیا جائے جو نماز کی فرضیت کا ہی منکر ہے اور اسی لیے وہ نماز نہیں پڑھتا؟

    تو ہم کہیں گے: ایسا کرنا جائز نہیں ہے؛ کیونکہ اس میں دو قباحتیں ہیں:
    1- اس طرح سے جس وصف کو صاحبِ شریعت نے معتبر سمجھا اور اسی کے ساتھ حکم بھی لاگو فرمایا ہم اس وصف کو کالعدم قرار دے دیں گے؛ کیونکہ صاحبِ شریعت نے کفر کا حکم نماز چھوڑنے پر لگایا ہے نماز کا انکار کرنے پر نہیں، اسی طرح صاحبِ شریعت نے نماز قائم کرنے پر دینی اخوت کھڑی کی ہے محض نماز کے فرض ہونے کا اقرار کرنے پر نہیں؛ کیونکہ اللہ تعالی نے یہ نہیں فرمایا کہ : [فَإِنْ تَابُوا وَأَقرُّوْا بِوُجُوْبِ الصَّلَاةَ](یعنی: اگر وہ توبہ کر لیں اور نماز فرض ہونے کا اقرار کر لیں) اور نہ ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ : (آدمی اور شرک و کفر کے درمیان فرق نماز کی فرضیت کے انکار کا ہے) یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ: (ہمارے اور ان کے درمیان معاہدہ نماز کے واجب ہونے کا اقرار ہے، جس نے نماز کے واجب ہونے کا انکار کیا اس نے کفر کیا) اگر یہ اللہ تعالی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد ہوتی تو اس سے عدولی قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت کے منافی ہے، حالانکہ اللہ تعالی نے قرآن کریم کے بارے میں فرمایا ہے:
    وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِكُلِّ شَيْءٍ
    ترجمہ: اور ہم نے آپ پر کتاب نازل کی ہے جو ہر چیز کی وضاحت کرتی ہے۔[النحل: 89]

    اور اسی طرح اللہ تعالی نے اپنے نبی کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
    وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ
    ترجمہ: اور ہم نے آپ کی جانب ذکر نازل کیا ہے تا کہ آپ لوگوں کو واضح کر کے بتلائیں جو کچھ ان کی جانب نازل کیا گیا ہے۔[النحل: 44]

    المحذور الثاني : اعتبار وصف لم يجعله الشارع مناطا للحكم فإن جحود وجوب الصلوات الخمس موجب لكفر من لا يعذر بجهله فيه سواء صلى أم ترك ، فلو صلى شخص الصلوات الخمس وأتى بكل ما يعتبر لها من شروط وأركان وواجبات ومستحبات لكنه جاحد لوجوبها بدون عذر له فيه لكان كافرا مع أنه لم يتركها . فتبين بذلك أن حمل النصوص على من ترك الصلاة جاحدا لوجوبها غير صحيح ، والصحيح أن تارك الصلاة كافر كفرا مخرجا من الملة كما جاء ذلك صريحا فيما رواه ابن أبي حاتم في سننه عن عبادة بن الصامت رضي الله عنه قال : أوصانا رسول الله صلى الله عليه وسلم : " لا تشركوا بالله شيئا ولا تتركوا الصلاة عمدا فمن تركها عمدا متعمدا فقد خرج من الملة " . وأيضا فإننا لو حملناه على ترك الجحود لم يكن لتخصيص الصلاة في النصوص فائدة فإن هذا الحكم عام في الزكاة والصيام والحج فمن ترك منها واحدا جحدا لوجوبه كفر إن كان غير معذور بجهل
    2- دوسری قباحت یہ ہے کہ ایسے وصف کو شرعی حکم کا محور سمجھنا پڑے گا جسے صاحبِ شریعت نے محور نہیں بنایا؛ کیونکہ پانچوں نمازوں کی فرضیت کا انکار کرنے سے وہ شخص کافر ہو جاتا ہے جس کا عذر بالجہل قابل قبول نہیں چاہے وہ نمازیں پڑھتا ہو یا نہ پڑھے اس سے فرق نہیں پڑتا، فرض کریں کہ اگر کوئی شخص پانچوں نمازیں پڑھتا ہے اور تمام معتبر شرائط، ارکان، واجبات اور مستحبات کی ادائیگی یقینی بناتا ہے ، لیکن وہ نماز کی فرضیت کا بغیر کسی عذر کے منکر ہے تو وہ بھی کافر ہے! حالانکہ اس نے نماز ادا کی ہے چھوڑی نہیں ہے۔

    تو اس سے واضح ہوا کہ ان نصوص کو نماز کی فرضیت کا انکار کرنے والے پر محمول کرنا صحیح نہیں ہے، لہذا صحیح موقف یہ ہے کہ نماز چھوڑنے والا شخص کافر ہے ، دائرہ اسلام سے خارج ہے جیسے کہ یہی بات امام ابن ابی حاتم رحمہ اللہ کی کتاب "سنن" میں عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت فرمائی: (اللہ تعالی کے ساتھ کسی کو شریک مت بناؤ، جان بوجھ کر نماز مت چھوڑو، کیونکہ جس نے جان بوجھ کر نماز ترک کی تو وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو گیا)
    اسی طرح اگر ہم نے ان نصوص کو نماز کی فرضیت کا انکار کرنے والے پر محمول کر دیا تو نماز کو خاص کرنے کا فائدہ ہی باقی نہیں رہے گا؛ کیونکہ پھر یہ حکم نماز کے ساتھ خاص نہیں ہے یہ تو زکاۃ، روزے اور حج سب کے ساتھ ہے چنانچہ اگر کوئی بھی شخص ان میں سے کسی ایک عمل کو اس کی فرضیت کا انکار کرتے ہوئے چھوڑ دے تو وہ کافر ہو جائے گا، الا کہ لاعلمی کی صورت میں اس کا کوئی عذر ہو۔
    وكما أن كفر تارك الصلاة مقتضى الدليل السمعي الأثري فهو مقتضى الدليل العقلي النظري فكيف يكون عند الشخص إيمان مع تركه للصلاة التي هي عمود الدين وجاء في الترغيب في فعلها ما يقتضي لكل عاقل مؤمن أن يقوم بها ويبادر إلى فعلها وجاء من الوعيد على تركها ما يقتضي لكل عاقل مؤمن أن يحذر من تركها وإضاعتها ؟ فتركها مع قيام هذا المقتضى لا يبقى إيمانا مع الترك
    تو جس طرح تارکِ نماز کو کافر قرار دینا کتاب و سنت کے دلائل کا تقاضا ہے، اسی طرح عقلی دلیل بھی اس بات کی متقاضی ہے کہ اسے کافر مانا جائے، لہذا [عقلی طور پر ] یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک شخص نماز بھی نہ پڑھے اور مومن بھی ہو! حالانکہ نماز دین کا ستون ہے! اسی نماز کیلیے ہی اتنی ترغیب ہے کہ جس مومن کے ہوش و حواس قائم ہوں اسے نماز کا وقت داخل ہونے پر فوری طور پر پڑھنی ہو گی! اور نماز ترک کرنے پر اتنی زیادہ وعید ہے کہ جس مومن کے ہوش و حواس قائم ہوں اسے نماز چھوڑنے اور ضائع کرنے سے بچنا ضروری ہے! تو ایسی صورت میں نماز چھوڑنے پر ایمان باقی نہیں رہ سکتا۔

    فإن قال قائل : ألا يحتمل أن يراد بالكفر في تارك الصلاة كفر النعمة لا كفر الملة أو أن المراد به كفر دون الكفر الأكبر فيكون كقوله صلى الله عليه وسلم : " اثنتان بالناس هما بهما كفر ، الطعن في النسب والنياحة على الميت " ، وقوله : " سباب المسلم فسوق وقتاله كفر " . ونحو ذلك ؟

    قلنا هذا الاحتمال والتنظير له لا يصح لوجوه :

    الأول أن النبي صلى الله عليه وسلم جعل الصلاة حدا فاصلا بين الكفر والإيمان وبين المؤمنين والكفار يميز المحدود ويخرجه من غيره . فالمحدودان متغايران لا يدخل أحدهما في الآخر .

    الثاني : أن الصلاة ركن من أركان الإسلام فوصف تاركها بالكفر يقتضي أنه الكفر المخرج من الإسلام لأنه هدم ركنا من أركان الإسلام بخلاف إطلاق الكفر على من فعل فعلا من أفعال الكفر .

    الثالث : أن هناك نصوصا أخرى دلت على كفر تارك الصلاة كفرا مخرجا من الملة فيجب حمل الكفر على ما دلت عليه لتتلاءم النصوص وتتفق .

    الرابع : أن التعبير بالكفر مختلف ففي ترك الصلاة قال : " بين الرجل وبين الشرك والكفر " فعبر بأل الدالة على أن المراد بالكفر حقيقة الكفر بخلاف كلمة : كفر - منكّرا - أو كلمة : كَفَرَ بلفظ الفعل فإنه دال على أن هذا من الكفر أو أنه كفر في هذه الفعلة وليس هو الكفر المطلق المخرج عن الإسلام .


    قال شيخ الإسلام ابن تيمية في كتاب ( اقتضاء الصراط المستقيم ) ص70 طبعة السنة المحمدية على قول الرسول صلى الله عليه وسلم : اثنتان في الناس هما بهما كفر " . قال : فقوله هما بهما كفر أي هاتان الخصلتان هما كفر قائم بالناس فنفس الخصلتين كفر حيث كانتا من أعمال الكفر وهما قائمتان بالناس لكن ليس كل من قام به شعبة من شعب الكفر يصير بها كافرا الكفر المطلق حتى تقوم به حقيقة الكفر ، كما أنه ليس كل من قام به شعبة من شعب الإيمان يصير بها مؤمنا حتى يقوم به أصل الإيمان وحقيقته . وفرق بين الكفر المعرف باللام كما في قوله صلى الله عليه وسلم : " ليس بين العبد وبين الكفر أو الشرك إلا ترك الصلاة " وبين كفر منكر في الإثبات . انتهى كلامه رحمه الله .
    اگر کوئی شخص یہ کہے کہ: کیا ایسا ممکن نہیں ہے کہ : یہاں پر تارک نماز پر لاگو ہونے والا کفر ، کفران والا ہو یعنی جس کو نا شکری کہتے ہیں،اور اس کفر سے مراد دائرہ اسلام سے خارج کرنے والا کفر مراد نہ ہو جسے کفر اکبر کہتے ہیں؟ بلکہ کفر کی ذیلی اقسام مراد ہوں، تو پھر ان نصوص کا معنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ان احادیث جیسا ہو گا (لوگوں میں دو چیزیں کفر کا باعث ہیں: نسب نامے میں قدغن لگانا، اور میت پر نوحہ کرنا) اور اسی طرح ایک اور روایت میں ہے کہ: (مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اس سے لڑنا کفر ہے) دیگر احادیث میں بھی اسی طرح گناہوں پر کفر کا لفظ بولا گیا ہے۔

    تو اس کے جوا ب میں ہم کہیں گے کہ: یہ احتمال اور مثالیں کئی اعتبار سے صحیح نہیں ہیں:

    1- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کو کفر اور ایمان کے درمیان، مومن اور کفار کے درمیان امتیازی حد قرار دیا ہے جس کی وجہ سے دونوں میں فرق عیاں ہوتا ہے ، اب کفر اور ایمان دو الگ الگ چیزیں ہیں ان میں سے کوئی ایک دوسرے میں داخل نہیں ہو سکتا۔

    2- نماز ارکان اسلام میں سے ایک رکن ہے، اور رکن کو ترک کرنے والے کو کفر سے موصوف کرنے کا تقاضا یہ بنتا ہے کہ یہ دائرہ اسلام سے خارج کرنے والا کفر ہو ؛ کیونکہ نماز ترک کرنے سے اسلام کا ایک رکن منہدم ہو جاتا ہے، لہذا نماز ترک کرنے کا معاملہ کسی ایسے عمل جیسا نہیں ہے جس میں کسی کفریہ کام کرنے والے پر کفر کا صرف جزوی وصف لاگو کیا جائے۔

    3- ایسی دیگر نصوص بھی ہیں جن میں نماز چھوڑنے والے پر یہ حکم لگایا گیا ہے کہ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے، اس لیے ان نصوص میں موجود کفر کو اسی معنی میں لیا جائے گا جس کے مطابق دیگر روایات کے الفاظ ہیں، تا کہ تمام احادیث کا معنی اور مفہوم یکساں ہو جائے۔

    4- احادیث مبارکہ میں نماز چھوڑنے پر کفر کا حکم لگاتے ہوئے ایک مختلف تعبیر استعمال کی گئی ہے، چنانچہ نماز چھوڑنے پر کفر کا حکم لگاتے ہوئے فرمایا: " بين الرجل وبين الشرك والكفر " تو یہاں پر لفظ "کفر" کو "ال "کے ساتھ ذکر کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کفر سے مراد حقیقی کفر ہے، جبکہ نماز کے علاوہ دیگر امور میں کفر کا حکم لاگو کرنے کیلیے لفظ "کفر" کو "ال "کے بغیر ذکر کیا ہے، یا پھر "کَفَرَ" فعل ماضی کا صیغہ استعمال کیا ہے جس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ : وہ کفریہ عمل کر رہا ہے، یا یہ کام کفریہ عمل ہے، اس سے کفر مطلق مراد نہیں ہوتا جس کی وجہ سے انسان دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے۔

    شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اپنی کتاب "اقتضاء الصراط المستقیم" کے صفحہ 70 -طبعہ السنہ المحمدیہ -میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث " اثنتان في الناس هما بهما كفر" کی تشریح میں کہتے ہیں:
    "نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اثنتان في الناس هما بهما كفر"[دو چیزیں جن کے ذریعے لوگ کفر یہ عمل کا شکار ہوتے ہیں] کا مطلب یہ ہے کہ: یہ دو خصلتیں کفریہ کام ہیں اور لوگ انہیں کرتے ہیں، یہ دونوں خصلتیں کفریہ کاموں میں شامل ہیں اور لوگوں میں مروج ہیں، اور یہ بات واضح رہے کہ کوئی بھی شخص جو کفریہ کام کرے تو وہ مطلق طور پر کافر نہیں ہو جاتا کہ اسے حقیقی کافر سمجھا جائے، بالکل اسی طرح کوئی بھی شخص اگر ایمانی کاموں میں سے کوئی کام کرے تو وہ مومن نہیں بن جاتا جب تک وہ حقیقی طور پر ایمان نہ لے آئے۔
    نیز فرامین نبویہ میں موجود لفظ "کفر" جب الف لام کے ساتھ معرفہ بن کر آئے اور بغیر الف لام کے نکرہ ہو تو دونوں میں کسی پر کفر کا حکم لاگو کرنے میں فرق ہوتا ہے، جیسے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: " ليس بين العبد وبين الكفر أو الشرك إلا ترك الصلاة" (ترجمہ: بندے اور کفر یا شرک کے درمیان صرف نماز چھوڑنے کا فرق ہے)[اس حدیث میں کفر کو الف لام کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے]" انتہی

    فإذا تبين أن تارك الصلاة بلا عذر كافر كفرا مخرجا من الملة بمقتضى هذه الأدلة كان الصواب فيما ذهب إليه الإمام أحمد وهو أحد قولي الشافعي كما ذكره ابن كثير في تفسير قوله تعالى : " فخلف من بعدهم خلف أضاعوا الصلوات واتبعوا الشهوات " مريم الآية 59 وذكر ابن القيم في كتاب الصلاة أنه أحد الوجهين في مذهب الشافعي وأن الطحاوي نقله عن الشافعي نفسه .

    وعلى هذا قول جمهور الصحابة بل حكى غير واحد إجماعهم عليه ، قال عبد الله بن شقيق كان أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم لا يرون شيئا من الأعمال تركه كفر غير الصلاة . رواه الترمذي والحاكم وصححه على شرطهما . وقال اسحاق بن راهويه الإمام المعروف صح عن النبي صلى الله عليه وسلم أن تارك الصلاة كافر وكذلك كان رأي أهل العلم من لدن النبي صلى الله عليه وسلم إلى يومنا هذا أن تارك الصلاة عمدا من غير عذر حتى يخرج وقتها كافر ، وذكر ابن حزم أنه جاء عن عمر وعبد الرحمن بن عوف ومعاذ بن جبل وأبي هريرة وغيرهم من الصحابة وقال لا نعلم لهؤلاء مخالفا من الصحابة . نقله عنه المنذري في الترغيب والترهيب وزاد من الصحابة : عبد الله بن مسعود وعبد الله بن عباس وجابر بن عبد الله وأبي الدرداء رضي الله عنهم . قال : ومن غير الصحابة أحمد بن حنبل وإسحاق بن راهويه وعبد الله بن المبارك والنخعي والحكم بن عتيبة وأيوب السختياني وأبو داود الطيالسي وأبو بكر بن أبي شيبة وزهير بن حرب وغيرهم أهـ . والله اعلم .

    جب ان دلائل کی روشنی میں یہ بات واضح ہو گئی کہ بغیر عذر کے نماز ترک کرنے والا شخص کافر ہے اور دائرہ اسلام سے خارج ہے تو پھر صحیح رائے وہی ہے جو کہ امام احمدؒ کا موقف ہے اور اسی موقف کے مطابق امام شافعیؒ کی بھی ایک رائے ہے، جیسے کہ امام ابن کثیرؒ نے اللہ تعالی کے فرمان: فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلَاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ
    ترجمہ: پھر ان کے بعد ان کی نا لائق اولاد ان کی جانشین بنی جنہوں نے نماز کو ضائع کیا اور اپنی خواہشات کے پیچھے لگ گئے [مريم: 59] کی تفسیر کے تحت ذکر کیا ہے۔

    اسی طرح ابن قیم رحمہ اللہ نے اپنی کتاب : الصلاۃ میں ذکر کیا ہے کہ :
    " شافعی مذہب کے دو موقفوں میں سے ایک موقف یہی ہے، اور امام طحاوی نے امام شافعی سے خود ان کا یہی موقف بیان کیا ہے"

    یہی موقف جمہور صحابہ کرام کا ہے بلکہ متعدد اہل علم نے اس پر اجماع نقل کیا ہے۔

    سیدنا عبد اللہ بن شقیق کہتے ہیں :
    "نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام نماز کے علاوہ کسی بھی عمل کو کفر نہیں سمجھتے تھے" اسے ترمذی اور حاکم نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے بخاری و مسلم کی شرط پر قرار دیا ہے۔

    اسی طرح مشہور امام اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ:
    "نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح ثابت ہے کہ نماز نہ پڑھنے والا کافر ہے، یہی رائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لیکر آج تک اہل علم کی رہی ہے کہ اگر نماز جان بوجھ کر بغیر کسی عذر کے کوئی چھوڑ دیتا ہے یہاں تک کہ اس کا وقت ختم ہو جاتا ہے تو وہ کافر ہے"

    امام ابن حزمؒ رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے کہ:
    "سیدنا عمر، عبد الرحمن بن عوف، معاذ بن جبل، ابو ہریرہ اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے یہی موقف مروی ہے، ابن حزم نے مزید کہا کہ ہمیں اس مسئلے میں صحابہ کرام کے مابین کوئی مخالف نظر نہیں آیا"
    ان کی یہ بات امام منذری نے الترغیب و الترہیب میں نقل کی ہے، اور امام منذری مزید صحابہ کرام کے نام آگے لکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ:
    "عبد اللہ بن مسعود، عبد اللہ بن عباس، جابر بن عبد اللہ اور ابو درداء رضی اللہ عنہم سے بھی یہی منقول ہے"

    پھر انہوں نے کہا ہے کہ:
    "صحابہ کرام کے علاوہ امام احمد بن حنبل، اسحاق بن راہویہ، عبد اللہ بن مبارک، نخعی، حکم بن عتیبہ، ایوب سختیانی ، ابو داود طیالسی، ابو بکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب و دیگر ائمہ کا بھی یہی موقف ہے" انتہی

    واللہ اعلم .
    https://islamqa.info/ar/answers/5208/
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ​
     
    • علمی علمی x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  4. ‏نومبر 24، 2018 #4
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    امام زکی الدین عبدالعظیم المنذریؒ (المتوفی 656ھ) اپنی کتاب " الترغيب والترهيب " میں
    تارک الصلاۃ کے متعلق سلف کا مذہب نقل کرتے ہیں کہ :
    قَالَ أَبُو مُحَمَّد بن حزم وَقد جَاءَ عَن عمر وَعبد الرَّحْمَن بن عَوْف ومعاذ بن جبل وَأبي هُرَيْرَة وَغَيرهم من الصَّحَابَة رَضِي الله عَنْهُم أَن من ترك صَلَاة فرض وَاحِدَة مُتَعَمدا حَتَّى يخرج وَقتهَا فَهُوَ كَافِر مُرْتَد وَلَا نعلم لهَؤُلَاء من الصَّحَابَة مُخَالفا
    قَالَ الْحَافِظ عبد الْعَظِيم قد ذهب جمَاعَة من الصَّحَابَة وَمن بعدهمْ إِلَى تَكْفِير من ترك الصَّلَاة مُتَعَمدا لتركها حَتَّى يخرج جَمِيع وَقتهَا مِنْهُم عمر بن الْخطاب وَعبد الله بن مَسْعُود وَعبد الله بن عَبَّاس ومعاذ بن جبل وَجَابِر بن عبد الله وَأَبُو الدَّرْدَاء رَضِي الله عَنْهُم وَمن غير الصَّحَابَة أَحْمد بن حَنْبَل وَإِسْحَاق بن رَاهَوَيْه وَعبد الله بن الْمُبَارك وَالنَّخَعِيّ وَالْحكم بن عتيبة وَأَيوب السّخْتِيَانِيّ وَأَبُو دَاوُد الطَّيَالِسِيّ وَأَبُو بكر بن أبي شيبَة وَزُهَيْر بن حَرْب وَغَيرهم رَحِمهم الله تَعَالَى

    https://archive.org/stream/FP153161/01_153161#page/n219/mode/2up
    ترجمہ :
    امام ابن حزمؒ رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے کہ:
    "سیدنا عمر، عبد الرحمن بن عوف، معاذ بن جبل، ابو ہریرہ اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے یہی موقف مروی ہےکہ جو آدمی ایک فرض نماز بھی
    جان بوجھ کر بغیر کسی عذر کے چھوڑ دیتا ہے یہاں تک کہ اس کا وقت ختم ہو جاتا ہے تو وہ کافر اور مرتدہے"
    امام ابن حزمؒ فرماتے ہیں : کہ ہمیں اس مسئلے میں صحابہ کرام کے مابین کوئی مخالف نظر نہیں آیا"

    امام عبدالعظیم ؒمنذری فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام کی ایک جماعت اور ان کے بعد کے حضرات جو عمداً فرض نماز چھوڑنے والے کی تکفیر کے قائل ہیں ان کے اسمائے گرامی یہ ہیں :
    " سیدنا عمر بن خطاب ،سیدناعبد اللہ بن مسعود،سیدنا عبد اللہ بن عباس، جناب جابر بن عبد اللہ سیدنا معاذ بن جبل اورحضرت ابو درداء رضی اللہ عنہم "
    اورصحابہ کرام کے علاوہ:
    امام احمد بن حنبل، امام اسحاق بن راہویہ،امام عبد اللہ بن مبارک، امام ابراہیم نخعی، حکم بن عتیبہ، سیدناایوب سختیانی ، امام ابو داود طیالسی، امام ابو بکر بن ابی شیبہ، جناب زہیر بن حرب رحمہم اللہ اور دیگر ائمہ کا بھی یہی موقف ہے" انتہی
     
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں