1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

بے نمازی کی تکفیر؟

'نماز' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد ارسلان, ‏نومبر 03، 2013۔

  1. ‏نومبر 04، 2013 #31
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    کیا بے نمازی کو سزائے موت دینے کا حکم قرآن و سنت میں موجود ہے؟ تو آپ سے دلیل کا انتظار ہے۔
     
  2. ‏نومبر 04، 2013 #32
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463



    دین آسان ہے
    رسول ﷺ نے فرمایا ،یقینا دین آسان ہے!جو دین میں بے جا سختی کرتا ہے تو دین اس پر غالب آجاتا ہے (یعنی ایسا انسان مغلوب ہو جاتا ہے اور دین پر عمل ترک کر دیتا ہے)پس تم سیدھے راستے پر رہو اور میانہ روی اختیار کرو اور اپنے رب کی طرف سے ملنے والے اجر پر خوش ہو جاؤ اور صبح و شام اور رات کے کچھ حصے (کی عبادت)سے مدد حاصل کرو۔
    (راوی حضرت ابو ھریرہ،صحیح بخاری،کتاب مرضیٰ و کتاب الرقاق)

    نبی کریم ﷺ نے فرمایا : " اپنی طرف سے دین میں سختی کرنے والے ہلاک ہو گئے۔آپﷺ نے تین مرتبہ یہ ارشاد فرمایا۔
    (یعنی جہاں شریعت میں سختی نہیں ،وہاں سختی کرنے والے اور کھود کرید کرنے والے ہلاک ہو جائیں گے۔
    تشریح بحوالہ :ریاض الصالحین ،امام نووی)
    (راوی حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ،صحیح مسلم ،کتاب العلم)
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • غیرمتعلق غیرمتعلق x 1
    • لسٹ
  3. ‏نومبر 05، 2013 #33
    طاہر اسلام

    طاہر اسلام سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 07، 2011
    پیغامات:
    843
    موصول شکریہ جات:
    725
    تمغے کے پوائنٹ:
    256

    جب ترک نماز کفر ہے تو اس کی سزا موت ہی ہو سکتی ہے؛ارتداد کی سزا موت ہی ہے۔ائمہ اربعہ میں سے امام ابوحنیفہ کے سوا تینوں بے نماز کو قتل کرنے کے قائل ہیں،اگرچہ تکفیر صرف امام احمد ہی کرتے ہیں۔
    رہا یہ سوال کہ صحابہ کرام نے سزا کیوں نہیں دی،تو ثابت کیا جائے کہ ان کے پاس بے نماز لایا گیا اور انھوں نے سزا نہیں دی۔
    بعض بھائیوں نے حدیث پیش کی ہے کہ قرب قیامت ایسے لوگ بھی ہوں گے کہ محض کلمہ پڑھتے ہوں گے لیکن ان کی بخشش ہو جائے گی تو اس کی توجیہ علما نے یہ کی ہے کہ انھیں جہالت کی بنا پر معذور جانا جائے گا۔
    یہ کہنا بھی عجیب ہے کہ امام احمد کے نزدیک انسان صرف شرک ہی سے دائرہ اسلام سے نکلتا ہے تو سوال یہ ہے کہ اگر کوئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہانت کرے تو کیا وہ امام صاحب کی نظر میں کافر ہو گا یا نہیں؟؟گزارش ہے کہ دلیل پیش کرنے سے پہلے غور کر لینا چاہیے؛اگر امام صاحب کی راے کا یہی مفہوم ہے تو وہ ترک نماز کو کفر کیوں کہتے ہیں؟؟کیا انھوں نے رجوع کر لیا تھا؟؟
    باقی وہ احادیث عام ہیں جن میں محض کلمہ توحید کہنے سے نجات کا تذکرہ ہے اور ترک نماز کے کفر ہونے کی احادیث خاص ہیں،ان میں کوئی تعارض نہیں۔
    شیعہ اور دیگر گم راہ فرقوں کی بابت عرض ہے کہ کسی قول،فعل،یا اعتقاد کا کفریہ ہونا اور بات ہے اور اس کے مرتکب کی متعین تکفیر علاحدہ معاملہ ہے؛اس نکتے کو ملحوظ رکھیں تو کوئی اشکال باقی نہیں رہتا۔واللہ اعلم بالصواب
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  4. ‏نومبر 05، 2013 #34
    طاہر اسلام

    طاہر اسلام سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 07، 2011
    پیغامات:
    843
    موصول شکریہ جات:
    725
    تمغے کے پوائنٹ:
    256

    میرے خیال میں اس موضوع پر امام ابن قیم کتاب الصلاۃ و حکم تارکھا اور شیخ ابن عثیمین کے رسالہ حکم تارک الصلاۃ کا مطالعہ از مفید رہے گا۔
     
    • شکریہ شکریہ x 4
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  5. ‏نومبر 05، 2013 #35
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,799
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    وعليكم السلام
    آپ اس آیت کو سیاق و سباق سے دیکھیں:
    فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا ۚ فِطْرَ‌تَ ٱللَّهِ ٱلَّتِى فَطَرَ‌ ٱلنَّاسَ عَلَيْهَا ۚ لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ ٱللَّهِ ۚ ذَ‌ٰلِكَ ٱلدِّينُ ٱلْقَيِّمُ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ‌ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ﴿٣٠﴾ مُنِيبِينَ إِلَيْهِ وَٱتَّقُوهُ وَأَقِيمُوا۟ ٱلصَّلَو‌ٰةَ وَلَا تَكُونُوا۟ مِنَ ٱلْمُشْرِ‌كِينَ ﴿٣١﴾ مِنَ ٱلَّذِينَ فَرَّ‌قُوا۟ دِينَهُمْ وَكَانُوا۟ شِيَعًا ۖ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِ‌حُونَ ﴿٣٢﴾۔۔سورۃ الروم
    اب ان آیات کی تفسیر امام ابن کثیر کی "تفسیر ابن کثیر" میں ملاحظہ فرمائیں:
    [​IMG]
    [​IMG]
    [​IMG]
    حافظ ابن کثیر اس آیت (مُنِيبِينَ إِلَيْهِ وَٱتَّقُوهُ وَأَقِيمُوا۟ ٱلصَّلَو‌ٰةَ وَلَا تَكُونُوا۟ مِنَ ٱلْمُشْرِ‌كِينَ)کو تین حصوں میں بیان کرتے ہیں:
    (1) مُنِيبِينَ إِلَيْهِ "(مومنو) اُسی (اللہ) کی طرف رجوع کرتے ہوئے" ابن زید اور ابن جریج نے اس کے یہی معنی بیان کیے ہیں کہ اس کی طرف رجوع کیے رکھو۔
    (2) وَٱتَّقُوهُ وَأَقِيمُوا۟ ٱلصَّلَو‌ٰةَ "اور اس سے ڈرتے رہو اور نماز پڑھتے رہو۔" کہ نماز پڑھنا بہت بڑی اطاعت ہے۔
    (3) وَلَا تَكُونُوا۟ مِنَ ٱلْمُشْرِ‌كِينَ"اور مشرکوں میں سے نہ ہونا۔" بلکہ موحدین اور ان مخلصین میں سے ہو جاناجو اسی ذات اقدس کی عبادت کرتے اور اس کے سوا کسی اور کی خوشنودی کے طلب گار نہیں ہوتے۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  6. ‏نومبر 05، 2013 #36
    اخت ولید

    اخت ولید سینئر رکن
    جگہ:
    ارض اللہ الواسعہ
    شمولیت:
    ‏اگست 26، 2013
    پیغامات:
    1,792
    موصول شکریہ جات:
    1,264
    تمغے کے پوائنٹ:
    326



    اس وقت بے نمازی؟؟؟؟ حوالہ!!



    اس میں با جماعت نماز کا معاملہ ہے،بے نمازی کا نہیں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  7. ‏نومبر 05، 2013 #37
    اخت ولید

    اخت ولید سینئر رکن
    جگہ:
    ارض اللہ الواسعہ
    شمولیت:
    ‏اگست 26، 2013
    پیغامات:
    1,792
    موصول شکریہ جات:
    1,264
    تمغے کے پوائنٹ:
    326

    یہ حیث ملتی ہے:
    واضح رہے کہ اس میں بھی حکم باجماعت نماز کا ہے۔ ۔ ۔تو بے نمازی کا کیا حکم ہو گا؟؟؟؟
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  8. ‏نومبر 05، 2013 #38
    محمد ارسلان

    محمد ارسلان خاص رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 09، 2011
    پیغامات:
    17,865
    موصول شکریہ جات:
    40,799
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,155

    واضح رہے کہ میری گفتگو بے نمازی کے آخرت میں بخشش کے حساب سے کافر ہونے یا نہ ہونے کی ہے، شیخ ابن عثیمین کے فتویٰ جات میں نے پڑھے جس میں وہ بے نمازی کے مکمل طور پر کافر ہونے اور اُن پر مرتد کے احکام لاگو کرنے کے قائل ہیں، جبکہ میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ بے نمازی کوئی اچھا انسان نہیں ہوتا، لیکن نماز چونکہ عمل صالح ہے جس کا ترک کرنا کفر ہے، لیکن یہ کفر کفر اصغر بھی ہو سکتا ہے جیسا کہ کچھ لوگوں کا موقف ہے اور حافظ عمران بھائی نے علامہ البانی رحمہ اللہ کا بھی یہی موقف بیان کیا ہے کہ بے نمازی کا کفر کفر اصغر ہے، جو کہ قیامت کے دن جہنم میں جانے کا سبب بن سکتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ چاہے تو بخش دے، البتہ کافرو مشرک کی بخشش ممکن نہیں۔ واللہ اعلم

    ایک بار وہ تمام دلائل میں دوبارہ یہاں ذکر کر رہا ہوں، ان دلائل کو مدنظر رکھتے ہوئے، اخت ولیدصاحبہ، محمد علی جوادصاحب اور طاہر عسکری صاحب اپنا موقف بیان کریں۔


    علاوہ ازیں حافظ عمران بھائی نے جو دلائل پیش کیے ہیں اُن کے جواب کے تاحال ہم منتظر ہیں۔
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  9. ‏نومبر 05، 2013 #39
    حافظ عمران الہی

    حافظ عمران الہی سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2013
    پیغامات:
    2,101
    موصول شکریہ جات:
    1,406
    تمغے کے پوائنٹ:
    344

    یہ بھی تو صحابی کا موقف ہے اس کے بارے عسکری صاحب کیا کہیں گے؟
    قال صلة بن زفر لحذيفة: ما تغني عنهم (لا إله إلا الله) وهم لا يدرون ما صلاة ولا صيام ولا نسك ولا صدقة؟
    فأعرض عنه حذيفة ثم ردها عليه ثلاثا كل ذلك يعرض عنه حذيفة
    ثم أقبل عليه في الثالثة فقال: يا صلة تنجيهم من النار. (ثلاثا) (السللسۃ الصحیحۃ:ح۸۷)
    یعنی جب لوگوں کو نماز ،روزہ ، صدقہ اور قربانی کا کچھ علم نا ہوگا تواس وقت صرف لا الہ الا اللہ ہی انکی بخشش کے لیے کا فی ہوگا،یہ قرب قیامت کی بات ہے اور یہ الفاظ صحابی رسول کے ہیں ،اگر ترک صلاۃ کفر اکبر ہوتا تو حضرت حذیفہ یہ بات کبھی نا کہتے کہ نجات کے لیے صرف کلمہ ہی کافی ہے ،بہرحال بے نماز فاسق و فاجر ہے اس کو تادیبا سزا بھی دی جا سکتی ہے
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
  10. ‏نومبر 05، 2013 #40
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,161
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    ایک حکم کافر کے ساتھ دنیا میں ہمارےتعامل کا ہے اور ایک آخرت میں ان کے انجام کا ہے میرے خیال میں ہم دینا میں تعامل کے مکلف ہیں آخرت میں مشرک کے علاوہ کس کی بخشش ہو گی یا نہیں ہم اس کے مکلف نہیں
    میں نے کافی حد تک اس بحث کا مطالعہ کیا ہے اور سمجھتا ہوں کہ اس بحث کو پھیلا زیادہ دیا گیا ہے جس کی وجہ سے نتیجہ نہیں نکل رہا
    میری تجویز ہے کہ پیلے ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ محل نزاع کیا ہے تو میری عقل کے مطابق مندرجہ ذیل دلائل سے موضوع کو فائدہ نہیں ہو گا
    1۔شرک معاف نہیں باقی سب معاف ہے اسی طرح جس نے کلمہ پڑھا وہ جنت میں جائے گا اسی طرح امام احمد بن حنبل کا قول کہ شرک ہی انسان کو اسلام سے خارج کر سکتا ہے اسی طرح ایک پرچی والی حدیث اور اس جیسی تمام احادیث و اقوال- اس کی وجہ یہ ہے کہ ان تمام دلائل کو دینے والے بھی اس میں سے مستثنی نکالتے ہیں مثلا ان تمام دلائل کو جب منکرین زکوۃ اور جھوٹے نبیوں کے پیروکاروں پر لاگو کریں یا کلمہ گو گستاخان نبی صل اللہ علیہ وسلم پر لاگو کریں تو سب استثنی کے قائل ہوں گے پس جب ایک جگہ استثنی جائز ہے تو قران واحادیث کے بعد کیا نماز کے معاملہ میں ان میں تخصیص جائز نہیں جبکہ گستاخی بھی ایک عمل ہے زکوۃ نہ دینا بھی عمل اور نماز بھی عمل- یہی بات اوپر محترم طاہر بھائی نے لکھی تھی مگر شاہد نظر نہیں آ سکی
    2۔سستی کاہلی کی دلیل کے بارے بھی یہی کہنا ہے کہ سستی کاہلی نفس کی خواہش کے تابع ہونے سے ہوتی ہے اسی نفس کے تابع ہو کر پیسوں کے لئے سلمان رشدی نے گند گھولا تھا پس شریعت میں عام قائدہ یہی ہے کہ سستی کی وجہ عمل میں کوتاہی گناہ کبیرہ ہے مگر اس میں کچھ اعمال سستی سے کرنے سے بھی اسلام سے خارج کر دیتے ہیں مگر ان پر ٹھوس قران و حدیث کی دلیل لازمی ہونی چاہیے
    3۔بخاری کتاب التوحید کی حدیث کی دلیل لکھی ہے کہ یا معاذ انک تاتی قوما من اھل الکتاب والی حدیث جس میں یہ کہا گیا ہے کہ پہلے توحید کی دعوت دیں فانھم اطاعوک لذلک فاعلمھم کہ اگر وہ توحید میں اطاعت کر لیں تو نماز کا بتائیں- میری سمجھ کے مطابق اس میں کہیں نہیں کہ توحید ہی کم از کم مطلوب ہے کیونکہ اس بعدصدقہ کاحکم ہے فاعلمھم ان اللہ افترض علیھم صدقۃ توخذ من اغنیاھم و ترد الی فقراھم- جس کے انکار پر ابوبکر نے جھاد کیا تھا

    یہ تو تھی میری تجویز جس پر اہل علم رائے دے سکتے ہیں اور اسی طرح محترم طاہر بھائی نے بھی اوپر بتایا ہے آپ دیکھ سکتے ہیں البتہ ابھی میں ایک چیز کو سمجھنے کی کوشش کر ریا ہوں جو غالبامحترم ارسلان بھائی نے پوچھی ہے اور مجھے بھی ابھی تشنگی ہے کہ سستی کی حد کیا ہے کہ کبھی سونے کی وجہ سے ایک آدھ نماز چھوٹ جائے تو پھر بھی کافر-
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 2
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں