1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تاریخ اور حدیث میں فرق

'ناسخ ومنسوخ' میں موضوعات آغاز کردہ از حافظ وحید, ‏فروری 07، 2013۔

  1. ‏فروری 07، 2013 #1
    حافظ وحید

    حافظ وحید رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 24، 2012
    پیغامات:
    265
    موصول شکریہ جات:
    502
    تمغے کے پوائنٹ:
    73

    1
    2 مؤرخ کے لئے یہ ضروری نہیں کہ وہ وضاحت کرے کہ اس نے مواد کن ذرائع سے حاصل کیا تاکہ دیکھا جاسکے کہ آیا وہ قابل اعتما د ہیں یا نہیں ؟ محدث کے لئے یہ ضروری ہوتا ہے کہ وہ ان تمام ذرائع اسانید کا ذکر کرے پھر ان ذرائع کا بھی قابل اعتماد ہونا ضروری ہوتا ہے ۔
     
  2. ‏ستمبر 19، 2013 #2
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,039
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    اگر تاریخ اور حدیث میں یہی فرق ہے تو پھر چند سوال سامنے ااتے ہیں کہ
    ۱) تاریخ اسلام کا کیا مقام رہ جاتا ہے کیا وہ بھی اسی طرح رطب و یابس کا مجموعہ ہے ؟
    ۲) ہمارے بے شمار مسائل کا تعلق تاریخی روایات پر ہے ان کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے ؟
    ۳) آخر تاریخ میں ایسا رویہ کیوں اختیار کیا گیا جب کہ قرآن تو بغیر تحقیق کیے کوئی بھی خبر قبول کرنے سے منع کرتا ہے ؟
    ۴) انہی تاریخ روایات کی بنیاد پر ہم نے بے شمار رواۃ حدیث کو جرح و تعدیل بھی کی ہے تو ان کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے ؟ وغیرہ وغیرہ
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں