1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تاریخ قراء اتِ متواترہ اور حل اِشکالات

'علم القراءات' میں موضوعات آغاز کردہ از ساجد, ‏مارچ 07، 2012۔

  1. ‏مارچ 07، 2012 #1
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    تاریخ قراء اتِ متواترہ اور حل اِشکالات

    مفتی ڈاکٹر عبد الواحد​

     
  2. ‏مارچ 07، 2012 #2
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    باب اوّل: جمع القرآن بین الدفتین
    قرآن کا مدار ہمیشہ سے ضبط و حفظ پر ہے۔مگر صحابہ کرام﷢ کی ایک جماعت حضور نبی کریمﷺ کے عہد میں حضورﷺ کے حکم اور ہدایت کے مطابق اس کو لکھتی رہتی تھی۔ چونکہ قرآن ۲۳؍ سال کے عرصہ میں تدریجاً نازل ہوا تھا اس لیے نزول اُن میں سے جو لوگ حاضر ہوتے تھے وہ لکھ لیتے تھے،کیونکہ قرآن۲۳؍ سال کے عرصہ میں تدریجاً نازل ہواتھا۔ اس طرح قرآن کریم حضورﷺ کی حیاتِ مبارک میں لکھا جاچکا تھا مگرایک جگہ جمع نہ تھا۔ صحابہ کرام﷢ کا اصل اِعتماد حضورﷺ کی تعلیم اور ضبط پرتھا۔ اُن میں سے بعض کوتمام، بعض کو نصف،بعض کو ربع اور بعض کو اس سے کم یا زیادہ یا دتھا اور ایسا کوئی نہ تھا جس کو چند سورتیں یاد نہ ہوں۔
    حضرت ابوبکر صدیق﷜ (۱۱ھ) میں یمامہ کی لڑائی ہوئی اس میں پانچ سو سے زیادہ قراء قرآن شہید ہوگئے۔ اس سے حضرت عمر﷜ کو اَندیشہ ہوا کہ کہیں صحابہ کرام﷢ کی وفات سے قرآن معدوم نہ ہوجائے۔ انہوں نے حضرت ابوبکر﷜ سے درخواست کی کہ قرآن کو ایک جگہ جمع کرائیں۔ حضرت ابوبکر﷜ نے پہلے اِنکار کیا اور کہا کہ جو کام حضورﷺنے نہیں کیا میں اُس کو کیسے کروں؟مگر پھر پے در پے توجہ دلانے سے آمادہ ہوگئے اور حضرت زید بن ثابت انصاری﷜ کو اس خدمت پر مامور کیا۔ حضرت زید﷜ کہتے ہیں: ’’اگر مجھے پہاڑ کے اٹھانے کا حکم دیا جاتا تو اس سے آسان ہوتا‘‘ حضرت زید﷜نے باوجود حافظ ہونے کے ایک ایک آیت صحابہ کرام﷢ کی گواہی سے لکھی اور تمام قرآن کو جمع کردیا، مگر وہ متفرق صحیفے تھے جو تاحیات حضرت ابوبکر﷜ کے اور پھر حضرت عمر﷜ کے پاس رہے اور آپ کی شہادت کے بعد اُم المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے قبضہ میں آئے۔
     
  3. ‏مارچ 07، 2012 #3
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    ۳۰ہجری میں حضرت حذیفہ بن الیمان﷜آرمینیہ و آذربائیجان کی لڑائیوں میں شریک ہوئے تو انہوں نے دیکھا کہ مسلمان قرآن کی ترتیب وغیرہ کے بارہ میں اِختلاف کرتے ہیں اور ہر شخص اپنی قراء ت کو دوسرے کی قراء ت سے بہتر کہتا ہے۔ اس سے جناب موصوف کو بے حد رنج ہوا اور آپ نے مدینہ میں حاضر ہوکر حضرت عثمان﷜ سے عرض کیا کہ ’’اے امیرالمؤمنین قرآن کے متعلق اُمت محمدیﷺکا تفرقہ مٹائیے اور اس سے قبل کہ اُن میں یہود و نصاریٰ کے مانند اختلاف ہو اُن کی دست گیری کیجئے‘‘ حضرت عثمان﷜ نے وہ صحیفے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے منگوا کر حضرت زید بن ثابت انصاری﷜، حضرت عبداللہ بن زبیر﷜، حضرت عبدالرحمن بن الحارث بن ہشام﷜ اور حضرت سعیدبن العاص﷜ (بعض رِوایات میں حضرت سعید﷜ کے بجائے حضرت عبداللہ بن عمر و بن العاص﷜ اور حضرت عبداللہ بن عباس﷜ کے نام ہیں۔ دونوں حضرات حضرت زید﷜ کے شاگرد اور اُس وقت جوان تھے، ممکن ہے کہ اُن کوبھی بعد میں شریک و مددگار بنایاگیاہو۔)قریشین کو اُن کی نقلیں کرنے پر مقرر کیا اور حکم دیا کہ اگر کسی بات میں حضرت زید﷜ اور باقی حضرات کے درمیان اختلاف ہو تو اُس کو لغت قریش میں لکھیں کیونکہ قرآن لسان قریش پرنازل ہواہے۔ جب باجماع صحابہ کرام﷢ آٹھ(اکثر اہل نقل چار نسخے بتاتے ہیں اورعلامہ دانی﷫ نے بھی اسی کی تائید کی ہے اور بعض نے سات بتائے ہیں) نقلیں تیار ہوگئیں تو حضرت عثمان﷜ نے ایک ایک نسخہ مکہ معظمہ، بصرہ، دمشق، کوفہ، یمن اور بحرین میں بھیج دیا اور ایک مدینہ منورہ میں اور ایک خاص اپنے لیے رکھ لیا اُسی کا نام امام ہے اور اسی پر بروقت شہادت آپ کا خون گرا تھا۔ محقق ابن جزری﷫ نے اپنے زمانہ میں اُس کوقاہرہ(سنا ہے کہ اب یہ مصحف قسطنطنیہ میں ہے) میں دیکھا تھا اُس وقت تک اُس پر خون کے نشانات تھے، انہی نقول کومصاحف عثمانیہ﷜ کہتے ہیں اور انہی پر اِجماع منعقد ہوگیا تھاکہ جو کچھ ان مصاحف میں نہیں ہے وہ قرآن نہیں ہے۔
     
  4. ‏مارچ 07، 2012 #4
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    محقق ابن جزری﷫ النشر میں فرماتے ہیں:
    ’’ذلک لأن المصاحف کتبت علی اللفظ الذي أنزل وہو الذي استقر علیہ في العرضۃ الأخیرۃ علی رسول اﷲ ! کما صرح بہ غیر واحد من أئمۃ السلف کمحمد بن سیرین وعبیدۃ السلماني و عامر الشعبي۔ قال عليؓ بن أبي طالب: ’’لو ولیت في المصاحف ما ولی عثمان لفعلت کما فعل۔‘‘ (النشر:۱؍۸)
    ’’مصاحف اس لفظ پر لکھے گئے جس پر عرضۂ اَخیرہ میں رسول اللہﷺ کو برقرار رکھاگیا تھا۔ (یعنی جوعرضۂ اَخیرہ میں منسوخ نہیں ہوئے تھے) بہت سے ائمہ سلف مثلاً محمد بن سیرین، عبیدہ سلمانی اور عامر شعبی﷭ نے اس کی تصریح کی ہے۔ حضرت علی﷜ کہتے ہیں۔ ’’مصاحف کے بارے میں جو کچھ عثمان﷜ نے کیا اگر مجھے موقع ملتا تو وہی میں کرتا۔‘‘
    محقق ابن جزری﷜ ’النشر‘میں لکھتے ہیں:
    ’’ولاشک أن القرآن نسخ منہ وغیر فیہ في العرضۃ الأخیرۃ فقد صح النص بذلک عن غیر واحد من الصحابۃ وروینا بإسناد صحیح عن زر بن جبیش قال: قال لی ابن عباس: ’’أي القرائۃ تقرأ؟‘‘ قلت: الأخیرۃ۔ قال: فإن النبي ! کان یعرض القرآن علی جبریل في العام مرۃ۔ قال: فعرض علیہ القرآن في العام الذي قبض فیہ النبي ! مرتین۔ فشھد عبد اﷲ یعني ابن مسعود ما نسخ منہ و ما بدل فقرائۃ عبد اﷲ الأخیرۃ۔
    إذ قد ثبت ذلک فلا إشکال أن الصحابۃ کتبوا في ھذہ المصاحف ما تحققوا إنہ قرآن، وما علموہ استقر في العرضۃ الأخیرۃ وما تحققوا صحتہ عن النبي ! ما لم ینسخ وإن لم تکن داخلۃ في العرضۃ الأخیرۃ، ولذلک اختلف المصاحف بعض اختلاف إذ لو کان العرضۃ الأخیرۃ فقط، لم تخلف المصاحف بزیادۃ نقص وغیرہ۔ ذلک وترکوا ما سوی ذلک ولذلک لم یختلف علیھم اثنان حتی أن علي بن أبي طالب لما ولی الخلافۃ بعد ذلک لم ینکر حرفا ولا غیرہ مع أنہ ھو الراوي أن رسول اﷲ ! یأمرکم أن تقرؤا القرآن کما علمتم وھو القائل: ’’لو ولیت من المصاحف ما ولی عثمان لفعلت کما فعل۔‘‘

    ثم إن الصحابۃؓ لما کتبوا تلک المصاحف جردوھا من النقط والشکل لیحتمل ما لم یکن في العرضۃ الأخیرۃ ما صح عن النبي ! وإنما اخلوا المصاحف من النقط والشکل لتکون دلالۃ الخط الواجد علی کلا اللفظین المنقولین المسموعین المتلووین شبیہۃ بدلالۃ اللفظ الواحد علی کلا المعنیین المعقولین المفھومین، فإن الصحابۃ رضوان اﷲ علیہم تلقوا عن رسول اﷲ ! ما أمرہ اﷲ تعالیٰ بتبلیغہ إلیہم من القرآن لفظہ ومعناہ جمیعا ولم یکونوا لیسقطوا شیئا من القرآن الثابت عنہ ! ولا یمنعوا من القرائۃ بہ‘‘ (النشر :۱؍۱۳۲)
    ’’ اس میں کوئی شک نہیں کہ عرضۂ اَخیرہ میں قرآن میں نسخ اور تغیر ہوا۔اس کی تصریح صحیح سند سے بہت سے صحابہ سے منقول ہے۔ زر بن جیش﷜ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس﷜ نے مجھ سے پوچھا تم کون سی قراء ت پڑھتے ہو تو میں نے جواب دیا کہ آخری والی، پھر یہ وضاحت کی کہ نبیﷺ جبریل ﷤ سے ہر سال میں ایک مرتبہ قرآن پاک پڑھتے تھے اور جس سال آپﷺ کا اِنتقال ہوا اُس سال آپﷺ نے حضرت جبریل﷤ کو دوبار قرآن سنایا تو اس وقت جو کچھ نسخ اور تبدیلی ہوئی۔ حضرت عبداللہ بن مسعود﷜ اس کے شاہد اور گواہ ہیں اور ان کی قراء ت آخری قراء ت ہے۔
     
  5. ‏مارچ 07، 2012 #5
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    جب یہ ثابت ہو گیا تو اس میں کچھ اشکال نہیں رہا کہ ان مصاحف میں صحابہ﷢ نے صرف وہی کچھ لکھا جس کی اُن کوتحقیق تھی کہ وہ قرآن ہے اور جو عرضۂ اَخیرہ میں قائم رہا تھا اور نبیﷺ سے جس کی صحت ثابت تھی اور منسوخ نہیں ہوا تھا۔ اگرچہ نبی کریمﷺ نے عرضۂ اَخیرہ میں اس کو پڑھا نہیں تھا۔ اسی وجہ سے مصاحف میں بعض اختلاف نظر آتا ہے، کیونکہ اگر قرآن فقط وہی ہوتا جو نبیﷺ نے عرضۂ اَخیرہ میں پڑھا تھا تو مصاحف میں زیادت اور کمی کا اختلاف اور دیگر اختلاف نہ ہوتے اور صحابہ﷢ نے اس کے علاوہ کو ترک کردیا ہوتا۔اسی لیے صحابہ﷢ کے اس عمل پر کسی دو کا بھی اختلاف نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ حضرت علی﷜، جو خود اس بات کے راوی ہیں کہ رسول اللہﷺ تم کو حکم دیتے ہیں کہ تم (میں سے ہرایک) اس طرح قرآن پڑھو جیسے تم سکھلائے گئے ہو،جب انہوں نے خلافت کی ذمہ داری سنبھالی تو نہ کسی حرف کو غلط کہا اور نہ ہی اس میں کچھ تبدیلی کی اور فرماتے ہیں کہ ’’مصاحف کے بارے میں جو کچھ عثمان ﷜نے کیا اگر مجھے موقع ملتا تو وہی میں کرتا۔
    پھر صحابہ﷢ نے جب یہ مصاحف لکھے نقاط و اعراب سے ان کو خالی رکھا تاکہ اُن میں وہ قراء تیں بھی شامل ہوجائیں جو اگرچہ عرضۂ اَخیرہ میں پڑھی نہیں گئیں لیکن نبی1 سے صحت کے ساتھ ثابت ہیں۔ انہوں نے مصاحف کو نقاط و اِعراب سے خالی رکھا تو اس وجہ سے کہ ایک ہی خط کی دلالت دو منقول و مسموع اور متلو لفظوں میں ہوجائے جیسا کہ ایک لفظ کی دو معقول و مفہوم معانی پر دلالت ہوتی ہے۔ کیونکہ صحابہ﷢ نے نبیﷺسے وہی کچھ سیکھا جس کو لفظ و معنی سمیت ان تک پہنچانے کا اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺ کو حکم دیا تھا اور صحابہ﷢، نبیﷺ سے ثابت قرآن میں سے کچھ ساقط کرنے والے نہیں تھے اور نہ ہی اس کی قراء ت سے منع کرنے والے تھے۔‘‘
     
  6. ‏مارچ 07، 2012 #6
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    اِشکال
    محقق ابن جزری﷫ نے عرضۂ اَخیرہ میں قرآن میں نسخ و تغیر ہونے کی تصریح کی ہے اور مولانا تقی عثمانی مقدمہ معارف القرآن میں لکھتے ہیں کہ ’’اس موقع پر بہت سی قراء تیں منسوخ کردی گئیں اور صرف وہ قراء تیں باقی رکھی گئیں جو آج تک تواتر کے ساتھ محفوظ چلی آتی ہیں۔‘‘
    نیز علوم القرآن میں فرماتے ہیں ۔’’اس سے صاف ظاہر ہے کہ عرضۂ اَخیرہ کے وقت بہت سی قراء تیں خود اللہ تعالیٰ کی جانب سے منسوخ قرار دے دی گئی تھیں۔‘‘ (ص۱۴۹)
    جواب
    ہم کہتے ہیں کہ محقق نے اپنے اس قول میں نہ تو یہ تصریح کی ہے کہ عرضۂ اَخیرہ میں مرادفات کا نسخ ہوا اور نہ ہی اس کو صراحت سے ذکر کیا ہے کہ اور قسم کی قراء ات منسوخ ہوئی تھیں۔ انہوں نے صرف نسخ اور تغیر کاذکر کیا ہے اور اس کا مصداق مرادفات کا ہونا تو ظاہر ہے ، لیکن اور قراء ات کو منسوخ ماننا محتاج دلیل ہے۔ زِر بن جیشt کا یہ قول کہ حضرت عبداللہ بن عباسt نے مجھ سے پوچھا کہ تم کون سی قراء ت پڑھتے ہو تو میں نے کہا آخری۔ اس کو مرادفات کے علاوہ بعض دیگر قراء ات کے نسخ پر دلیل بنانا واضح نہیں ہے کیونکہ یہ تو مرادفات پربھی صادق آسکتا ہے۔
     
  7. ‏مارچ 07، 2012 #7
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    باب دوم: نقل قراء ات حصّہ اَوّل: صحابہ کرام﷢ اور تابعین ﷭میں سے شیوخ قراء ات
    جملہ صحابہ﷢ کرام قاری (آج کل قاری اُسے کہتے ہیں جو سبعہ عشرہ قراء ات جانتا ہو اور حافظ سے اُس کا مرتبہ اَرفع و اعلیٰ تصور ہوتا ہے۔ صدر اوّل میں ہر قرآن پڑھنے والے کو قاری کہتے تھے اور حافظ کا درجہ اس سے بہت بلند تھا) بعض حافظ اور بعض خصوصیت کے ساتھ معلم قراء ات تھے۔ امام ابوعبیدہ قاسم بن سلام﷜ پچھلے مقدس گروہ کے متعلق کتاب القراء ات میں کہتے ہیں ’’مہاجرین میں سے حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت طلحہ، حضرت سعد، حضرت ابن مسعود، حضرت حذیفہ، حضرت ابوموسیٰ، حضرت سالم، حضرت ابوہریرہ، حضرت ابن عمر، حضرت ابن عباس، حضرت ابن زبیر، حضرت عمرو بن العاص، حضرت عبداللہ بن عمرو، حضرت معاویہ، حضرت عبداللہ بن السائب، امہات المؤمنین حضرت عائشہ، حضرت حفصہ، حضرت اُم سلمہ اور اَنصار میں سے حضرت اُبی، حضرت معاذ، حضرت ابوالدردائ، حضرت زید، حضرت ابوزید، حضرت مجمع بن جاریہ، حضرت انس بن مالک﷢ سے وجوہ قراء ات منقول ہیں۔‘‘ اسی متبرک گروہ میں سے حضرت عیاش اور آپ کے فرزند ابوالحارث عبداللہ بن عیاش قریشی، حضرت فضالہ بن عبید انصاری اور حضرت واثلہ بن اسقع لیثی﷢ ہیں۔
     
  8. ‏مارچ 07، 2012 #8
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    ان میں سے اکثر حضرات نے حضورﷺ سے براہِ راست اوربعض نے بالواسطہ قرآن پڑھا تھا اور تمام جماعت روزانہ حضورﷺ کی زبان مبارک سے سنتی رہتی تھی۔ اس برگزیدہ جماعت نے ہر حرکت و اسکان اور حذف و اثبات کو حضورﷺ سے ضبط کیا تھا اور جس طرح پڑھا تھا اُسی طرح تابعین کوپڑھا دیا۔
    صحابہ کرام﷢ کے بعد قرآن پڑھانے والے تابعین عظام ہیں جو اسلامی دنیاکے ہر گوشہ میں موجود تھے۔ ان میں سے پانچوں اسلامی مراکز میں حسب ذیل حضرات خصوصیت کے ساتھ قراء ات کے معلّم تھے۔
     
  9. ‏مارچ 07، 2012 #9
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    مدینہ طیبہ
    مدینہ طیبہ میں حضرت اِمام زین العابدین، سید التابعین حضرت سعید بن المسیب، حضرت عروۃ بن زبیر، حضرت سالم بن عبداللہ، حضرت عمر بن عبدالعزیز، حضرت سلیمان و حضرت عطا ابنائے یسار، حضرت معاذ بن الحارث معروف بمعاذ قاری، حضرت امام باقر، حضرت عبدالرحمن بن ہرمز الاعرج، حضرت محمد بن شہاب الزہری، حضرت مسلم بن جندب ہذلی قاضی، حضرت زید بن اسلم، حضرت یزید بن رومان، حضرت صالح بن خواّت، حضرت عکرمہ بربری مولی حضرت ابن عباس حضرت امام جعفر صادق﷭ وغیرہ۔
     
  10. ‏مارچ 07، 2012 #10
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    مکہ معظمہ
    مکہ معظمہ میں حضرت عبید بن عمیر، حضرت عطاء ابن اَبی رباح، حضرت طاؤس، حضرت مجاہد بن جبیر، حضرت عکرمہ بن خالد، حضرت ابن ابی ملیکۃ، حضرت درباس مولی حضرت ابن عباس﷭ وغیرہ۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں