1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تاریخ کی کتب کے اردو تراجم۔۔؟

'تاریخ' میں موضوعات آغاز کردہ از ابن عثمان, ‏جون 02، 2016۔

  1. ‏جون 02، 2016 #1
    ابن عثمان

    ابن عثمان رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 27، 2014
    پیغامات:
    221
    موصول شکریہ جات:
    59
    تمغے کے پوائنٹ:
    49

    ہمارے اردو لٹریچر میں بہت بڑی ایک خامی جو مجھے نظر آتی ہے ۔۔۔اور کئی سالوں سے موجود ہے ۔۔۔کہ تاریخ کی اکثر مشہور کتب کے اردو تراجم ہوچکے ہیں ۔ ۔۔مثلاََ طبقات ابن سعد ، تاریخ طبری ، تاریخ ابن کثیر ،ابن خلدون ، مسعودی ، یعقوبی ، وغیرہ
    ان میں دو الگ الگ طبعات بھی موجود ہیں مثلاََ دار الاشاعت ، اور نفیس اکیڈمی۔۔۔
    لیکن ان تراجم کو پڑھ کر بہت افسوس ہوتا ہے ۔۔۔کاش یہ تراجم ہوتے ہی ناں۔۔۔
    کتب شائع کرنے میں ادارے میرے خیال میں مسلک سے بھی اب ماورا ہوچکے ۔۔۔۔اب تو کاروبار سب سے اوپر ہوچکا ۔۔۔
    چلنے اور بکنے والی کتب کا دور دورا ہے ۔۔۔
    اردو ترجمہ بلاشبہ بہت اچھی چیز ہے ۔۔۔۔عوام تاریخ سے واقف ہو سکتے ہیں۔۔۔۔لیکن کسی کو خیال نہیں کہ اس سے عوام کے عقائد میں کتنا نقصان ہوا ۔۔۔۔ان چھپی ہوئی تواریخ میں نہ کوئی تحقیق ہے اور نہ تعلیق و وضاحت۔۔۔
    کوئی پتہ نہیں کیا صحیح ہے ۔۔کیا ضعیف۔۔۔۔
    اگرچہ احادیث کی کتب کے جو تراجم ہیں ان میں سے کئی میں تحقیق و تعلیق ہوتی ہے ۔۔۔۔ لیکن عوام کا پڑھنے کا معیار اور ہوتا ہے ۔۔۔۔ ان کی رغبت تاریخ کی طرف زیادہ ہوتی ہے ۔۔۔۔کیونکہ اس میں ایک کہانی کا سا لطف ملتا ہے ۔۔۔
    (جاننے والے جانتے ہوں گے یہ ۔۔۔داستان امیر حمزہ بھی ان تواریخ میں سے ہی کئی واقعات کو سامنے رکھ کر ہی مصالہ لگا کر تیار کی گئی)۔۔
    ۔اور قرآن تفسیر حدیث کو عوام مذہبی لٹریچر کے طور پر لیتے ہیں ۔۔۔۔ان کو پڑھتے کوئی نہیں ۔۔۔۔یہ مقدس چیزیں ہیں۔۔

    اس وجہ سے تاریخ کی کتب زیادہ اس کی مستحق تھیں کہ ان کو تحقیق و تعلیق سے شائع کیا جائے ۔۔۔۔۔لیکن نہیں ہوا۔۔۔
    کسی بھی مسلک کی جانب سے میری معلومات کے مطابق کوئی تاریخ کی کتاب اردو میں ایسی مترجم موجود نہیں ۔۔۔۔
    اگر ہے تو ضرور بتائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اب مزید احادیث کے موسوعات۔۔۔۔مسند احمد ، مصنف ابن ابی شیبہ و عبد الرزاق وغیرہ بھی اردو میں منتقل ہو رہی ہیں ۔۔۔
    وہ بھی تحقیق و تعلیق کے ساتھ ۔۔۔عوام کو مد نظر رکھ کر مختصر شرح کی بھی محتاج ہیں ۔۔۔۔۔
    سب سے کم اگر نقصان ہو سکتا ہے تو تاریخ ابن کثیر ہے جس میں امام ابن کثیرؒ کچھ وضاحت کر دیتے ہیں ۔۔۔۔لیکن طبقات ، اور طبری وغیرہ تو بہت ہی غلط تراجم ہیں ۔۔۔۔جس سے فتنہ ہی پھیل سکتا ہے ۔۔۔۔اور بہت پھیلا بھی۔۔۔
    اور عجیب بات ہے ۔۔۔۔۔امام ذہبیؒ کی تاریخ و سیر جو اس معاملے میں سب سے بہتر تھی ۔۔۔کسی نے اس پر توجہ نہ دی۔۔۔۔۔۔
    ان تواریخ کی وجہ سے ہی مشاجرات صحابہؓ ہماری عوام کی زبان پر آگئے ۔۔۔۔
    اب جو آدمی پہلے قرآن و حدیث کچھ پڑھ چکا اور ایک عقیدہ پختہ کسی درجہ میں بھی ہوچکا تو ایسے شخص کے لئے ان تراجم کو دیکھنا اتنا مضر نہیں (اگرچہ مضر تب بھی ہے سوائے محقق عالم کے )
    لیکن جیسا کہ میں نے کہا عوام کی ترتیب ہی الٹی ہے ۔۔۔۔وہ پہلے اختلافی بات کو دیکھتے ہیں ۔۔۔ پہلے تاریخ کو دیکھتے ہیں۔۔۔
    رہی سہی کسر ان تاریخی روایات ( جو کہ اسلام کا قطعاََ ماخذ نہیں) سے متاثر طبقے وجود میں آگئے ۔۔۔ان کے لٹریچر نے پوری کر دی۔۔۔۔
    اس بارے میں کسی بھائی کے پاس کوئی مثبت خبر ہو تو ضرور بتائے ۔۔۔
    اہلحدیث ، دیوبندی ، بریلوی یا کسی اور اشاعتی ادارے نے اس بارے میں کوئی کام کیا ہو تو ضرور ظاہر کریں ۔۔۔
    اور یہ بھی رائے دیں کہ ان تواریخ میں نسبتاََ سب سے بہتر ترتیب کیا ہے ۔مستند ہونے کے اعتبار سے ۔
    اور کس کا ترجمہ تحقیق کے ساتھ ہو تو سب سے پہلے ہو۔۔
    میرے خیال میں ۔۔۔
    ۱۔ تواریخ اسلام ، ذہبیؒ کو موسوعہ کے طور پہ تحقیق سے شائع کریں تو سب سے بہتر ۔
    ۲۔ تاریخ ابن کثیرؒ
    ۳۔ ابن خلدونؒ۔۔۔
    پھر دوسری کتب۔۔۔۔
     
    Last edited: ‏جون 02، 2016
    • متفق متفق x 4
    • پسند پسند x 3
    • لسٹ
  2. ‏جون 02، 2016 #2
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,269
    موصول شکریہ جات:
    1,067
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    بات میں دم ضرور ہے
     
  3. ‏جون 02، 2016 #3
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,295
    موصول شکریہ جات:
    699
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    جناب ابن عثمان بهائی کی بات سے موافقت کے بعد ، تواریخ کی کتب سے زیادہ خرابی ان کتابوں میں ہے جو عوام کو عقائد کے طور پر میسر ہیں ۔ کم از کم ان کو پہلے هٹا تو دیا جائے ۔
    جن کے عقائد درست ہوں وہ افسانوں کو افسانہ ہی سمجهتے ہیں ، حقیقت نہیں ۔ مقصد اصلاح ہے تو عقائد کو گمراہ کرنے والی دینی کتب کو هٹا دیا جائے ۔ ایک نئی تاریخ لکہے جانے کی شروعات خود بخود ہوجائیگی ۔ ان شاء اللہ
     
    • متفق متفق x 3
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  4. ‏جون 02، 2016 #4
    ابن عثمان

    ابن عثمان رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 27، 2014
    پیغامات:
    221
    موصول شکریہ جات:
    59
    تمغے کے پوائنٹ:
    49

    موجود کتابیں جتنی بھی ہوں۔۔۔ان کا ماخذ تو وہی پرانی کتب ہیں ۔۔۔
    ہر کوئی کہتا ہے ۔۔۔۔دیکھ لو طبری۔۔دیکھ لو کامل۔۔۔طبقات میں یہ لکھا ہے ۔۔۔استیعاب میں اس طرح ہے ۔۔۔
    اصل پہ توجہ کسی نے نہیں دی ۔۔۔۔خصوصاََ اردو میں ۔۔۔۔عربی میں تو اکثر محقق نسخے ہیں۔۔۔
    اور یہ ایسا بوتل کا جن ہے ۔۔۔جو باہر آگیا ہے ۔۔۔اب اسی کو قابو کرنا ہے ۔۔۔یعنی کوئی نئی تاریخ بھی نہیں لکھ سکتے ۔۔۔
    ان اصل ماخذوں کا ہی کچھ کرنا چاہیے ۔۔۔
     
    • متفق متفق x 2
    • پسند پسند x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  5. ‏جون 02، 2016 #5
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,295
    موصول شکریہ جات:
    699
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    متفق آپ سے میں ۔
    مشاہدہ کی کہوں تو صحیح و ثابت احادیث کے اردو مفہوم میں غلطیاں ہیں جو اکثر کے ذہنوں میں بس گئی ہیں ، انکا نکالا جانا بهی دشوار ہے ۔ نئی تاریخ کی کتابوں جس پر آپ ہم سند لگادینگے صحیح و ثابت کی اسی کو لوگوں سے کہا جائیگا کہ ان کتب کا پڑهنا حرام ۔ طریقہ کیا اختیار کیا جائے اس پر بهی غور کریں ۔ آجکل تو فتوے ٹکے سیر ہوگئے ہیں دو چار آپ پر اور ہم پر بهی لگ جائینگے اور کتب پر کی گئی محنت رائیگاں چلی جائیگی ۔ اب یہ کتب صرف ان هاتهوں میں ہوگی جن کے عقائد اول سے صحیح ہیں اور جنکی اصلاح کے مقصد سے کتابیں لکہی جاتی ہیں انہیں پڑهنے کون دیتا ہے بهلا؟ یہ تو عام مشاہدہ میں ہیکہ برصغیر کے مسلمانوں کی اکثریت صحیح عقائد سے کوسوں دور ہے اور ایسی کون سی کوشش ہے جو کی نہیں گئی ! ہر اصلاحی کتاب کو پڑهنے سے روکنے کے صد هزار جتن کرنے والے کم ہیں بهلا ۔
    اللہ ہم سب کو بهلائی کی توفیق دے واللہ عقیدہ صحیح ہو تو کوئی غلط بات قبول ہی نا کرے مسلمان کا ذہن ۔ آپ کی ایسی ہر کوشش کا خیر قدم اور ان شاء اللہ ہر ممکن تعاون حاضر ہے ۔
    لائحہ عمل طے کر لیں
     
    • پسند پسند x 2
    • علمی علمی x 2
    • لسٹ
  6. ‏جون 07، 2016 #6
    ابن عثمان

    ابن عثمان رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 27، 2014
    پیغامات:
    221
    موصول شکریہ جات:
    59
    تمغے کے پوائنٹ:
    49

    محترم بھائی@خضر حیات
    محترم بھائی @اسحاق سلفی
    محترم بھائی @اشماریہ

    کچھ تبصرہ ، کچھ اضافہ فرمائیں۔۔
    کوئی مثبت پیش رفت ہو تو آگاہ فرمائیں۔۔
    جزاکم اللہ۔
     
  7. ‏نومبر 19، 2016 #7
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,212
    موصول شکریہ جات:
    8,204
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    باوجود ٹیگ کے ، یاد نہیں پڑتا کہ مجھے اس تھریڈ کی کہیں خبر ہوئی ہو ، وجہ اس کی یہ ہے کہ آپ نے تین لوگوں کو اکٹھا ٹیگ کیا ہے ۔ کوئی بھی رکن تین لوگوں کو اکٹھا ٹیگ کرے تو کسی کو بھی خبر نہیں جاتی ۔
    جہاں تک بات ہے ، کتب تواریخ کے تراجم وغیرہ کی ، آپ نے دو باتیں کہیں ہیں :
    1۔ ان تواریخ کے تراجم نہ ہی ہوتے تو اچھا تھا ۔
    2۔ ان کے تراجم ، تعلیق اور وضاحت کے ساتھ ہونے چاہییں ۔
    میں آپ کی آخری بات سے متفق ہوں ۔
    میں نے کئی جگہ پر یہ بات کہی ہے ، خود بھی اکثر مواقع پر سوچتا رہتا ہوں ، کہ ’ اندھیرے میں رکھنا ‘ یا ’ چھپا کر رکھنا ‘ علمی مسائل کا یہ حل بالکل وقتی ہے ، اصل حل یہ ہے کہ ہر معاملے کے ہر گوشے تک جاننے والوں کی رسائی ہو ، لیکن اس کے ساتھ ساتھ جہاں لوگ بات کو درست طریقے سے سمجھنے نہ پائیں ، وہاں ان کی رہنمائی کا انتظام ہونا چاہیے ۔
    علمی کتب کے تراجم ہونے چاہییں ، اور ان کی وجہ سے جو اشکالات جنم لیتے ہیں ، ان کا ازالہ بھی ہونا چاہیے ۔
    اور اگر ہم سمجھتے ہیں کہ لوگ اصل کتابوں کو دیکھتے ہیں ، لیکن ساتھ ہماری وضاحتوں کو نظر انداز کرتے ہیں تو پھر اس میں آپ کا کام تمام ہوا ، اگر کوئی اس طرح گمراہ ہوتا ہے ، تو وہ یا تو گمراہی ہے ہی نہیں ، یا پھر کم از کم ہم قصور وار نہیں ، کیونکہ ہماری جو ذمہ داری تھی ، ہم نے اسے ادا کردیا ، اللہ تعالی حکمت والا ہے ، جو کرتا ہے ، بہتر کرتا ہے ۔ يضل به كثيرا و يهدي به كثيرا
     
    • پسند پسند x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  8. ‏نومبر 19، 2016 #8
    ابن عثمان

    ابن عثمان رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 27، 2014
    پیغامات:
    221
    موصول شکریہ جات:
    59
    تمغے کے پوائنٹ:
    49

    جزاك الله ۔۔مجھے یہ معلوم نہیں تھا۔چلیں پھر ٹیگ کر دیتا ہوں۔
    @اسحاق سلفی
    @اشماریہ
    1۔ ان تواریخ کے تراجم نہ ہی ہوتے تو اچھا تھا ۔
    یہ جملہ کہنے کا مقصد یہ تھا کہ تراجم جیسے ہوئے ۔ اس سے بہتر تھا کہ نہ ہوتے ۔
    لیکن ظاہر ہے اب یہ کہنے کا بھی فائدہ نہیں۔
    اور یہ کہا بھی تو ان عوام کی وجہ سے جنہوں نے ۔اصل ۔۔کو مقدس و مذہبی سمجھ کر نہیں پڑھنا ۔۔اور تاریخ کو لطف اور دلچسپی سے پڑھنا ہے ۔۔لیکن لاشعور میں ان کےنظریہ قائم ہو جاتا ہے ۔ ہمارے لوگ تو نسیم حجازی کے ناولوں سے بھی نظریہ قائم کرلیتے ہیں۔
    جیسا کہ میں نے کہا کہ ۔۔قرآن و حدیث کو پڑھنے والے علماء و طلباء۔۔۔کے لئے تو اس میں آسانی اور سہولت ہی ہے ۔
    لیکن اس شخص کا کیا کریں ۔۔مثلاََ میرے ایک بھائی نے ادھر اُدھر گفتگو میں مشاجرات صحابہؓ کے بہت سے واقعات سنے پڑھے ۔۔اور مجھ سے سب کے بارے میں وقتاََ فوقتاََ ۔۔الجھے ہوئے انداز میں سوال بھی کرتے تھے ۔۔
    میں نے ان سے کہا کہ ان سب سے پہلے میں آپ کو قرآن مجید کی ایک آیت کا ایک ٹکڑا بتاتا ہوں۔۔
    اور میں نے بتایا۔۔۔رحماء بینھم۔۔
    میں نے کہا کہ اب اس کو جب بھی مشاجرات والے واقعات سامنے آئیں ۔۔تو اس کو ذہن میں لانا اور اصول مقرر کر کے سب سے اوپر رکھنا۔۔اللہ تعالیٰ تو فرماتے ہیں۔۔کہ صحابۃؓ آپس میں رحم دل تھے۔۔اور یہ تاریخ کہتی ہے کہ ان کے آپس میں بڑے تعلقات خراب تھے۔
    تو واقعتاََ انہوں نے میری بات کا بہت وزن محسوس کیا۔۔والحمد للہ علی ذالک۔
    بہرحال ابھی کوئی تاریخ کی کتب پہ اردو میں کام کر رہا تو ضرور بتائیں۔
     
  9. ‏نومبر 19، 2016 #9
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    5,695
    موصول شکریہ جات:
    2,248
    تمغے کے پوائنٹ:
    701

    محترم بھائی میں اس معاملہ پر آپ اور شیخ مکرم خضر حیات صاحب سے بالکل متفق ہوں ؛
    اور عرض گذار ہوں کہ ان تراجم کی وجہ خود مجھے کئی دفعہ دو طرح سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے ،
    ایک تو وہی معروف صورت کہ قرآن و حدیث سے نابلد کوئی شوخ جب ان مترجم کتابوں کو معرض استدلال میں لاتا ہے تو قرآن و حدیث
    کی پرواہ بھی نہیں کرتا ۔
    دوسری یہ کہ کبھی کبھی خود ان کتب سے کوئی چیز پڑھنی پڑتی ہے تو عالم حیرت کا سامنا ہوتا ہے ،
    جن شخصیات سے ہمیں ایمانی لگاؤ ہے ان کے متعلق ایسی چیزیں عامیانہ لہجے میں درج ہیں کہ ناقابل بیان تک تکلیف دہ ۔۔
    تحقیق اسانید تو بہت بڑا کام ہے ، یہاں تو خلفاء راشدین کے متعلق جملہ کا لہجہ بھی خلاف شان ہوتا ہے ،
    اور ضعفاء نے مثالب کی اتنی گرد اٹھائی کہ الامان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ان کتب کے تراجم یقیناً ہونے چاہیئے تھے ، لیکن تحقیقی انداز سے ۔۔ تحقیق کیلئے
    اور جن پاکیزہ ادوار اور پاکیزہ نفوس کے حالات دکھانے اور پہنچانے ہیں ان کی عظمت و شان کے مطابق یہ کام ہونا لازم تھا ؛
    اب بھی یہ کام ہوسکتا ہے :
    جو تراجم موجود ہیں ان کی تحقیق و تصحیح ، اور توضیح سلف کے عقائد کی روشنی میں ۔۔
    عربی اور اردو ادب کا لحاظ رکھتے ہوئے اگر کی جائے تو ہم شاید اسے ’’ سنہری ‘‘ کا خطاب دے سکیں ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    Last edited: ‏نومبر 19، 2016
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  10. ‏نومبر 19، 2016 #10
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,295
    موصول شکریہ جات:
    699
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    محترم ﺑﮭﺎئی@ﺍﺷﻤﺎﺭﯾﮧ
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں