1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تاریخ کی کتب کے اردو تراجم۔۔؟

'تاریخ' میں موضوعات آغاز کردہ از ابن عثمان, ‏جون 02، 2016۔

  1. ‏نومبر 20، 2016 #11
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,677
    موصول شکریہ جات:
    731
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    بات تو آپ حضرات کی بالکل ٹھیک ہے لیکن اس کا حل کیا ہو؟
    ہمارے بر صغیر باک و ہند میں چند چیزیں عرب سے مختلف ہیں:
    ہمارے عوام جب زیادہ پڑھ لیتے ہیں تو اپنے آپ کو خود ہی عالم سمجھ لیتے ہیں اور مستند ہو جاتا ہے ان کا فرمایا ہوا۔ بس پھر کسی سے پوچھنے سمجھنے کی کوئی حاجت نہیں رہتی۔
    ہمارے یہاں جہالت اور نا سمجھی زیادہ ہے۔ کوئی بھی پیر فقیر عوام کو بآسانی اپنے جال میں لے سکتا ہے۔ پھر وہی چیز محقق اور معتمد ہوتی ہے جو پیر صاحب نے معتمد فرمائی ہو۔
    چونکہ برسوں سے اہل تشیع کے ساتھ ملاپ رہا ہے تو شیعیت ہماری رگوں میں بسی ہوئی ہے۔ کوئی عامی کتنا ہی سنی کیوں نہ ہو، جب کوئی تاریخی قصہ سنتا ہے تو اس کا وہ انہماک ہوتا ہے جو قرآن و حدیث کے الفاظ سنتے ہوئے کبھی نہیں ہوتا۔ عوام قرآن و حدیث کے معانی کی وضاحت تاریخ سے ڈھونڈتے ہیں اور اسی کی بنیاد پر صحیح و غلط کا فیصلہ کرتے ہیں۔

    کرنا کیا چاہیے؟ اس کا جواب اتنا تو آسان ہے کہ تاریخ کی کتب پر کام کرنا چاہیے۔ لیکن کیا کام؟؟؟
    تاریخ کی کتب کو علم الاسناد کی روشنی میں نہیں دیکھ سکتے۔ ایک تو اس کی اسناد محفوظ نہیں ہیں۔ سند محفوظ کرنے کا کام حدیث پر ہوا ہے تاریخ پر نہیں، تاریخ کے روات مشکل سے ملتے ہیں۔ اس طرح ہم کئی تاریخی روایات کو یکسر رد کر دیں گے حالانکہ وہ صحیح ہوں گی۔
    دوسرا تاریخ میں غلط روایات صحیح سند سے بکثرت ملتی ہیں کیوں کہ تاریخ کے راویوں نے وہ احتیاط نہیں کی جو حدیث بیان کرتے وقت انہوں نے کی ہے۔ مثال کے طور پر ابن عباس رض سے متعہ کی روایت کو لے لیں۔
    تیسرا اکثر ایک شخص حدیث میں کمزور لیکن تاریخ کا ماہر ہوتا ہے۔ اور کتب جرح و تعدیل میں حکم حدیث کے تناظر میں ہوتا ہے (سوائے کذاب جیسی جروح کے)۔
    لہذا تاریخ کو ہم اسناد سے زیادہ درایۃ دیکھ سکتے ہیں اور یہ ایک مشکل کام ہے۔ ہر بات کے کئی پہلو دیکھنا اور ہر پہلو کی صحت و ضعف معلوم کرنا ہر کس و ناکس کا کام نہیں ہوتا۔

    ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ جب ہم یہ تحقیق و تعلیق سے مزین کتاب شائع کریں گے تو یقیناً اس کی قیمت و ضخامت بڑھ جائیں گی۔ کتابوں کے شوقین تو اسے لیں گے، کچھ لوگ لائیبریریوں سے بھی استفادہ کریں گے، لیکن جن تک ہم نے یہ کتابیں پہنچانی ہیں وہ نہیں لے سکیں گے۔ وہ وہی کتب لیں گے جو انہیں سستی ملیں گی چاہے تحقیق موجود نہ ہو۔

    لہذا اس مسئلہ کا جو حل سوچا جائے وہ ان تمام پہلؤوں کو دیکھ کر سوچا جانا چاہیے تاکہ ہم جو کام کریں اس کا حاصل بھی کچھ ہو۔
     
    • پسند پسند x 3
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  2. ‏نومبر 20، 2016 #12
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,159
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    خلاصہ شاید مندرجہ ذیل بنتا ہے
    مسئلہ:
    ان تراجم سے ہر درست غلط بات لوگوں میں آنے سے خرابیاں پیدا ہو رہی ہیں

    حل:
    یہ تراجم ہی ختم کر دیئے جائیں یا ایسے تراجم ہوں جن میں مکمل تحقیق ہو

    حل میں رکاوٹیں:
    لیکن اس میں قباحت محترم خضر بھائی نے بتائی ہے کہ علم کو چھپانا حل نہیں ہے بلکہ تراجم کو تحقیق و تعلیق سے مزین کیا جانا چاہئے
    اس پہ محترم اشماریہ بھائی نے لکھا کہ اس سے قیمت بڑھ جائے گی
    میرے خیال میں خالی قیمت کا ہی مسئلہ نہیں ہو گا بلکہ مسئلہ یہ بھی ہے کہ جو ابن عثمان بھائی نے لکھا ہے کہ لوگوں کا ٹرینڈ کہانیاں پڑھنے کا زیادہ ہے قرآن و حدیث کو تو وہ مقدس کتاب کی صورت دیکھتے ہیں
    اسی طرح یہ بھی مسئلہ ہو گا کہ پبلشرز کو تو فروخت سے غرض ہے پس جب وہ عام کا رجحان کہانیوں کی طرف دیکھتے ہیں تو وہ امیر حمزہ کی کہانیوں کی طرح ہی تراجم نشر کریں گے پس اگر ہم خضر بھائی کی بات مانتے ہوئے دوسرے نمبر کو لیں کہ تحقیق سے تراجم لکھیں تو ہم سب کو تو اس پہ زبردستی علم نہیں کرواسکتے پس ہم ایسا کر بھی رہے ہوں مگر عوام کا رجحان دوسرا ہو کہانیوں والا تو پھر ان تک تو دوسرے پبلشر دوسری چیزیں ہی پہنچا رہے ہوں گے تو ہمارا تحقیق کام محترم اشماریہ بھائی کے بقول مہنگا ہونے کے باوجود کارگر نہیں ہو رہا ہو گا

    مزید اقدامات:
    میرے خیال میں اوپر والے حل یعنی تراجم کی تحقیق و تعلیق کے ساتھ ساتھ جو بہت اہم کام کرنے والا ہے وہ لوگوں کا ذہن یا رجحان اس پہ بنانا ہے کہ ہمارا دین کو سمجھنے یا درست غلط جاننے کا معیار کیا ہو اس پہ اگر کتابیں لکھی جائیں اور دروس وغیرہ کے ساتھ ساتھ تحریک کے طور پہ اسکو چلایا جائے جیسا کہ مختلف تحریکیں (حرمت رسول وغیرہ) چل رہی ہیں تو کم خرچہ سے ان غلط تراجم کے مضمر اثرات سے عوام الناس کو بچایا جا سکتا ہے کیونکہ اوپر پوسٹوں میں بھائیوں نے اسی غلط رجحان کا ہی رونا رویا ہے تو اس کی طرف بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے واللہ اعلم
     
    Last edited by a moderator: ‏نومبر 20، 2016
    • متفق متفق x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  3. ‏نومبر 20، 2016 #13
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,159
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    اوپر پوسٹ کو کچھ مسئلہ ہو گیا ہے ٹھیک نہیں کرنا آ رہا محترم خضر بھائی شاید درست کر دیں جزاکم اللہ خیرا
     
  4. ‏نومبر 20، 2016 #14
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,013
    موصول شکریہ جات:
    8,159
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    محترم عبدہ صاحب کی بات سے لفظ بہ لفظ اتفاق ہے ۔
     
  5. ‏نومبر 23، 2016 #15
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    2,981
    موصول شکریہ جات:
    1,181
    تمغے کے پوائنٹ:
    371

    کتب تاریخ کے اردو تراجم اور تحقیق
    ایک اچھی بات ہے
    لیکن کیا یہ بتایا جا سکتا ہے کہ کتب تاریخ جس زبان میں ہیں اس زبان میں ان کتب پر کتنا کام ہوا ہے
    میری ناقص اور 15 سال پرانی معلومات کے مطابق
    تاریخ کی کسی کتاب کی تحقیق نہیں ہویی کجا کہ اردو میں یہ کام کیا جاتا
    سوایے تاریخ طبری جس کی تحقیق سعودی عرب میں کسی عالم نے 8 جلدوں میں کی جس میں 5 جلدیں ضعیف تاریخ طبری اور 3 جلدیں صحیح تاریخ طبری
    اس کے علاوہ باقاعدہ کسی کتاب کی تحقیق نہیں ہویی اگر پچھلے 15 سالوں کے دوران ہویی ہو تو کچھ کہہ نہیں سکتا
    گو کہ عربی میں تاریخ پر تحقیق مواد نسبتا اردو کے پھر بھی بہت بہتر ہے بالخصوص سعودی جامعات میں کچھ کام تو بہت معرکۃ الارا ہویے جس کا ذکر بشرط فرصت کر سکتا ہوں
    اور کم از کم اردو ترجمہ سے تحقیق کا دروازہ تو کھل گیا
    ویسے بھی کتب تاریخ کے ساتھ یا تاریخی مرویات کے ساتھ سوتیلوں جیسا سلوک ہو ا ہے دلیل کے طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ تقریبا تقریبا تمام اسلامی علوم کے اصول و ضوابط مدون کیے جا چکے ہیں کیا اصول تاریخ مدون کیے گیے ہیں ؟
    لہذا پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ
    ہمارے نسل نو میں تحقیق کا مزاج ہے آج نہیں تو کل یہ کام ہو گا ان شاء اللہ العزیز
     
    • پسند پسند x 2
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  6. ‏نومبر 23، 2016 #16
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,185
    موصول شکریہ جات:
    1,057
    تمغے کے پوائنٹ:
    387

    ان شاء اللہ العزیز. جزاکم اللہ خیرا محترم شیخ
    حقیقی تحقیق ہی ہو. انٹرنیٹ والی تحقیق نہ ہی ہو تو بہتر ہے.
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں