1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تبصرہ جات ماہنامہ رُشد قراء ات نمبر

'علم القراءات' میں موضوعات آغاز کردہ از ساجد, ‏اپریل 05، 2012۔

  1. ‏اپریل 05، 2012 #11
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    برصغیر کے نامور قراء کے حالات اور خدمات کے تفصیلی مطالعہ کے لیے کرنل قاری مرزا بسم اللہ بیگ﷫ (م۱۹۷۵ء) کی تالیف ’تذکرہ قاریان ہند‘ ملاحظہ کریں جو اس حوالے سے انتہائی بیش قیمت معلومات فراہم کرتی ہے۔
    اِس لحاظ سے ماہنامہ ’رُشد‘ کے مدیر اور منتظمین قابل مبارکباد ہیں، جنہوں نے اس اَہم پہلو پر جو براہ ِراست قرآنی اَلفاظ سے متعلق ہے، پر اب تک ہونیوالے کام کو مفاد عامہ کے لیے دلکش ترتیب کے ساتھ پیش کرنے کی سعی کی ہے۔
    میرے لیے یہ اَمر قابل اطمینان اور باعث شکر ہے کہ میں نے علم القراء ات کے ایک ایسے پہلو پر قلم اٹھایا جس کا تعلق اس فن کی تاریخ و استناد پراستشراقی آراء کے نقد و تجزیہ کے ساتھ ہے، اس بحر ذخار میں پھینکے ہوئے میرے ایک کنکر نے اپنی گرداب میں کئی نوجوان مسلم سکالرز کو لیا، میرے ان عزیز تلامذہ میں سے خاص طور پر محمد فیروز الدین شاہ کھگہ، فرحت عزیز اور حفصہ نسرین نے باقاعدہ طور پر پنجاب یونیورسٹی میں لکھے گئے ایم۔ فل کے مقالات میں اسی موضوع کو قابل بحث نکتہ بنایا اور میرے زیر نگرانی کام مکمل کیا۔ ان تحقیقات کو ماہرین فن اور علم حلقوں میں کافی پذیرائی حاصل ہوئی۔ میری نظر میں اس فنی موضوع پر ماہنامہ ’رُشد‘ کی اس قدر سنجیدہ علمی کاوش کے اَثرات فن قراء ات کی اَہم اَبحاث سے شناسائی کے لیے اِنتہائی تاریخ ساز ثابت ہوں گے۔
    جناب حافظ عبدالرحمن مدنی اور عزیزم ڈاکٹر قاری حمزہ مدنی اس عظیم کام کی انجام دہی پر خصوصی مبارکباد کے مستحق ہیں۔ اللہ اس مخلصانہ سعی کو قرآن کریم اور اسکی متنوع قراء ت کے ثمرات سے بہرہ مند ہونے کا سبب بنائے۔ آمین !
    پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم چوہدری
    وائس چانسلر، یونیورسٹی آف سرگودھا، سرگودھا​
     
  2. ‏اپریل 05، 2012 #12
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    [ ۲ ]


    محترم مدیر ماہنامہ رشد السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ!
    ماہنامہ رُشد قراء ات نمبر موصول ہوا، رسالہ کے مندرجات دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ قراء ات کے حوالے سے برصغیر پاک وہند کے ماحول میں ایک وسیع خلا موجود تھا جو الحمد للہ ماہنامہ رُشد قراء ات نمبر نے کافی حد تک پورا کر دیا ہے۔ مجلہ کا ہر مضمون اپنی جگہ علمی اور تحقیقی مقام رکھتا ہے، لیکن اہل تحقیق کیلئے مقالات اور مخطوطات کے اشاریہ جات والا مضمون بہت مفید ہے۔ مجلہ کی اہمیت وافادیت کے پیش نظر میری رائے یہ ہے کہ اس کا دیگر زبانوں خصوصاً عربی اور انگلش میں ضرور ترجمہ ہونا چاہئے۔ دُعاگو ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس کاوش کو قبول فرمائے ۔
    ڈاکٹر عبد الرء وف ظفر
    چیئرمین شعبہ علوم اسلامیہ، ڈائریکٹر سیرت چیئر، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور​
     
  3. ‏اپریل 05، 2012 #13
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    [ ۳ ]


    محترم جناب قاری حمزہ مدنی ﷾ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ!
    آپ کی جانب سے روانہ کردہ ماہنامہ ’رُشد‘ (قراء ات نمبر حصہ اوّل) بہت روز قبل موصول ہوا۔ جامعہ لاہور الاسلامیہ کی یہ کاوش نہایت ہی لائق تحسین ہے۔ اس سے قبل اُردو زبان میں ایسی جامع کوشش نہیں کی گئی۔ اس خصوصی شمارے میں قراء ت سے متعلق تحقیقی مواد کو یکجا کردیا گیا ہے۔ محققین کو اس خصوصی شمارے سے کافی راہنمائی حاصل ہوگی۔ اللہ تعالیٰ اِدارہ کی کاوشوں کو قبول فرمائے۔
    محمد شفیق کوکب کے مضمون ’اِشاریہ بر موضوع علم تجویدو قراء ات‘ قارئین کیلئے نہایت کار آمد معلومات فراہم کرتا ہے۔ اس خصوصی شمارے کے تمام مضامین نہایت ہی قابل قدر علماء و سکالر حضرات کی علمی کاوشوں کا نتیجہ ہیں۔ یہ شمارہ ایک ایسی علمی دستاویز ہے جس سے ہر شخص، خاص طور پر جن کو علوم القرآن سے لگاؤ ہے، اِستفادہ کر سکتا ہے۔ اس خصوصی شمارے کی اشاعت پر شعبہ اِسلامیات بلوچستان یونیوسٹی جامعہ لاہور کو ہدیۂ تبریک پیش کرتا ہے۔ والسلام!
    پروفیسرڈاکٹر غلام محمد جعفر
    صدر شعبہ اسلامیات،بلوچستان یونیورسٹی کوئٹہ​
     
  4. ‏اپریل 05، 2012 #14
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    [ ۴ ]


    محترمی جناب مدیر اعلیٰ ماہنامہ ’رشد‘ لاہور السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    آپ کی طرف سے ماہنامہ ’رشد‘ کا ’قراء ات نمبر‘ حصہ دوم موصول ہوا جس پر میں آپ کا تہہ دل سے ممنون ہوں، اس رسالہ کو میں نے جزوی طور پر پڑھا، اس حوالے سے چند معروضات پیش خدمت ہیں:
    قرآن مجید علوم کا بیش بہا خزانہ اور گرانقدر مخزن ہے، علوم القرآن میں علم القراء ات کو بنیادی اَہمیت حاصل ہے لیکن دیگر علوم کی طرح یہ علم بھی قحط الرجال کا شکار ہے۔ علم القراء ا ت کی اِس اَہمیت کے پیش نظر ادارہ ماہنامہ ’رشد‘ کی جانب سے اس خصوصی نمبر کی اِشاعت اس علم کی بہت بڑی خدمت ہے۔
    مجلہ کے عناوین اور مقالات جہاں ایک قاری کو بہت سی علمی معلومات فراہم کرتے ہیں وہاں ایک محقق کو مزید تحقیق کیلئے بہت سے پہلوؤں کی راہنمائی بھی کرتے ہیں۔ ان عنوانات کا انتخاب اِدارہ کا علم القراء ات سے گہری دلچسپی کا مظہر بھی ہے۔
    اس مجلہ کا ہر مقالہ علمی اعتبار سے ایک خصوصی اہمیت کا حامل ہے خصوصاً علم القراء ات سے متعلق کتب کی فہرست، بین الاقوامی سطح کی یونیورسٹیوں میں لکھے گئے تحقیقی مقالات کی فہرست اور مخطوطات کی فہرست محققین کے لیے بہت سُود مند ہوگی۔ ۹۳۶ صفحات پر مشتمل یہ ضخیم مجلہ ترپن ؍۵۳ مقالات پر مشتمل ہے۔ اس اِدارہ سے شائع ہونے والا ماہنامہ ’محدث‘ تحقیق کی دنیا میں اَہم مقام کا حامل ہے، تحقیق کی وہ روایت اس مجلہ کے مقالات میں بھی بدرجہ اتم موجود ہے۔ بایں وجہ اس مجلہ کو علم القراء ات کا انسائیکلو پیڈیا کہنا بے جا نہ ہوگا۔ ادارہ ’رشد‘ کی جانب سے اس سے قبل بھی متعدد خصوصی نمبرز شائع ہوچکے ہیں ان نمبرز میں قراء ت کا یہ خصوصی نمبر ایک بہترین علمی اضافہ ہے۔
    ڈاکٹر محفوظ احمد
    چیئرمین اسلامک سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ، جی سی یونیورسٹی، فیصل آباد​
     
  5. ‏اپریل 05، 2012 #15
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    [ ۵ ]


    الحمد ﷲ رب العلمین، والصلاۃ والسلام علی سیّد المرسلین،وعلی آلہ وصحبہ أجمعین۔
    دو جلدوں پرمشتمل، ۱۶۰۰سے زائد صفحات پر محیط ماہنامہ ’رُشد‘ کا قراء ات نمبر دیکھنے کا موقع ملا، جامعہ لاہور الاسلامیہ اور مجلس التحقیق الاسلامی کے علماء اور سکالرز بجا طور پر اس علمی کارنامے پر فخر کرسکتے ہیں۔
    برصغیر میں جہاں قرآن کی تفسیر، تشریح، اور ترجمہ پرکام ہوا، وہاں قراء ات پر وہ کام نہیں ہوسکا جو اس علاقے میں ہونا چاہئے تھا جبکہ علماء اور قراء ِکرام کی ایک بڑی تعداد موجود تھی، اس کے بارے میں رُشد کے فاضل اِداریہ نویس نے لکھا ہے۔ مثلاً ہمارے ان اِداروں (خصوصاً برصغیر پاک و ہند) میں متنوعِ قراء اتِ قرآنیہ کو بطورِ نصاب پڑھانے سے صرفِ نظر کیا گیا ہے، بظاہر اس دیدہ دانستہ اغماض کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔‘‘ (اداریہ قراء ات نمبر جلداوّل ص۲)
    قراء ات کی اَفادیت کے حوالے سے ص ۲ پر رقم طراز ہیں:
    ’’یہی قراء اتِ قرآنیہ تفسیر قرآن میں مجمل معنی کی وضاحت کررہی ہوتی ہیں، انہیں قراء ات کی بنیاد پر اِستنباط اَحکام میں ایک فقیہ کو راجح مسلک کا علم ہوتا ہے، یہی قراء ات عقیدہ سلف کی توضیح اور نکھار میں ممدو معاون ثابت ہورہی ہوتی ہیں، انہی کی بنیاد پر قرآن کو وہ امتیاز اور اعجاز ملتا ہے ، جس کا ذکر قرآن کریم میں کفار کو چیلنج کی صورت میں کیا گیا۔‘‘
    قراء ات نمبر نے یہی کمی پوری کرنے کی کوشش کی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ قراء ات کی اَہمیت کا اِحساس دلایا ہے تاکہ جو کمی رہ گئی ہے وہ پوری ہوسکے اور قرآنِ کریم کا حق اَدا ہوسکے۔
     
  6. ‏اپریل 05، 2012 #16
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    یہی ہدف پورا کرنے کے لیے ان شماروں میں تعارفِ قراء ات، حجیت ِقراء ات، کتبِ قراء ات، منکر ِقراء ات کے شبہات کا ردّ، تاریخِ قراء ات، مباحثِ قراء ات، قراء ات کے حوالے سے اِعجاز قرآنی، علوم قراء ات اور تاریخی کتب سے مختلف اَدوار میں قراء ِکرام کا ایک جامع تذکرہ شامل کیا گیا ہے۔
    اس کا وش میں جہاں اُردو مراجع سے اِستفادہ کیا گیا وہاں عربی میں موجود مضامین کو بھی اردو کے قالب میں ڈھالا گیا۔ مختلف اَہل علم سے ان اُمور پر مضامین لکھوائے گئے۔ اور ایک نمایاں وصف یہ ہے کہ ِانکارِ قراء ات کے حوالے سے کئی مضامین شامل اِشاعت کئے گئے ہیں جس میں منکرین کے اِعتراضات کا جائزہ لے کر ان کا مسکت جواب دیا گیا ہے۔
    اس بھرپور کارنامہ کے باوصف اس میں ایک تشنگی کا احساس ہوتا ہے کہ اس میں ان اَداروں کا تعارف بھی شامل ہونا چاہئے تھا جو کہ عالم اسلام میں بالعموم اور پاکستان میں بالخصوص اس فن کی ترویج اور اِشاعت کا کام کررہے ہیں۔
    اللہ تعالیٰ حافظ عبدالرحمن مدنی اور ان کے رُفقائے کرام کو جزائے خیر عطا فرمائے کہ اُنہوں نے نہایت عرق ریزی اور جدوجہد سے یہ شمارے تیار کئے اور ان کو اِشاعت عام کے لیے نشر کیا، والحمد ﷲ رب العالمین۔
    ڈاکٹر سہیل حسن
    اِدارہ تحقیقاتِ اسلامی، انٹر نیشنل اِسلامی یونیورسٹی،اِسلام آباد​
     
  7. ‏اپریل 05، 2012 #17
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    [ ۶ ]


    جناب سرپرست اعلیٰ مولانا عبدالرحمن مدنی صاحب ﷾ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    اللہ تعالیٰ آپ کو صحت و عافیت عطا کریں۔ آپ نے علمی کاوش کا سلسلہ جاری رکھ کر اُمت مسلمہ کی بڑی خدمت فرمائی ہے۔ آپ کے ساتھ جو اَحباب اس کام میں شریک ہیں وہ سارے مبارکباد کے مستحق ہیں۔ مجلہ ’رُشد‘ کی دو جلدیں میرے پیش نظر ہیں۔ ماشاء اللہ جلد اوّل پر ۱۹ مقامات اور جلددوم میں بارہ مقامات پر جو عالمانہ اور فاضلانہ انداز میں مقالات لکھے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مزید ہمت عطا کریں۔
    مجموعی اِعتبار سے ’رُشد‘ کا اَنداز بھی اچھا محققانہ بھی ہے۔ جلد اَوّل میں مولانا اِصلاحی صاحب کے بارے میں پروفیسر محمد رفیق چودھری صاحب کا مضمون پڑھا اس میں بعض جگہ تنقید میں ایسی زبان استعمال ہوئی ہے جو مناسب نہیں۔ تنقید کرتے ہوئے بھی آداب زبان کو ملحوظ رکھنا چاہئے۔ بہرحال مجموعی اعتبار سے یہ دونوں مجلدات وسیع علم ومعلومات پر مبنی ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ اور آ پ کی ٹیم کو مزید ہمت عطا کریں۔ آمین
    ڈاکٹر حمید عبداللہ القادر
    شعبہ اِسلامک اسٹڈیز ، جامعہ پنجاب لاہور​
     
  8. ‏اپریل 05، 2012 #18
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    [ ۷ ]


    محترم و مکرم جناب حافظ عبدالرحمن مدنی﷾ ، سرپرست ماہنامہ ’رُشد ‘لاہور السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
    مجلس التحقیق الاسلامی، لاہور کی طرف سے ماہنامہ ’محدث‘ لاہو رکا تو ایک عرصہ سے قاری ہوں۔ مجلہ مذکور کا ملک کے علمی حلقوں میں جو مقام ہے وہ اَظہر من الشمس ہے۔
    غالباً دوسال سے ماہنامہ ’رُشد‘ نے چند خاص نمبر نکال کر بہت جلد علمی حلقوں میں مقام بنالیا ہے۔ میرے پیش نظر اس وقت رُشد بابت ماہ جون اور ماہ ستمبر ۲۰۰۹ء کے قراء ات نمبر ہیں۔ ابھی تک سرسری طور پر نظر ڈالی ہے۔ فن تجوید وقراء ات پر جو مضامین آپ نے جمع کردیئے ہیں یقینا یہ ایک اَہم دستاویز ہے اگرچہ بعض مضامین پہلے سے مطبوع ہیں تاہم ان کا یکجا ہوجانابھی خاصے کی چیز ہے کیونکہ یہ خالصتاً ایک فنی موضوع ہے۔ اس پر مستزاد یہ ہے کہ آپ تیسرا اور آخری نمبر لانے کی نوید بھی سنا رہے ہیں یقینا اس میں بھی اسی پائے کے مضامین و مقالات لائیں گے۔ ناچیز کی طرف سے ان دو مجلّوں کی اِشاعت پر آپ کو اور آپ کی پوری ٹیم کو مبارک ہو۔ یہ چند سطور بطور ’وصولی کی رسید‘ سمجھ لیجئے۔ ان شاء اللہ تفصیلی طور پر بعد میں لکھوں گا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو مزید ہمت عطا فرمائے۔ والسلام مع الإکرام
    ڈاکٹر محمد عبد اللہ
    ایسوسی ایٹ پروفیسر شیخ زاید اسلامک سنٹر، لاہور​
     
  9. ‏اپریل 05، 2012 #19
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    [ ۸ ]


    گرامی قدر مدیر ماہنامہ رشد السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    ماہنامہ رشد کی علم القراء ات پر دو اشاعتیں موصول ہوئیں۔ ارسال پر شکر گذار ہوں۔ اللہ تعالی حجیت قراء ات اور علوم القراء ات کے تعارف کے حوالے سے آپ کی جہود مبارکہ کو قبول فرمائے۔ آمین
    یہ ایک فطری بات ہے کہ ہر زبان کے بولنے والے اَنداز بیان اور لہجات میں مختلف ہوتے ہیںایک ہی لغت بولنے والے متعددقبا ئل میں درج ذیل اُمور کا اختلا ف ناقابل اِنکار حقیقت ہے۔
    (١) ایک حرف کی جگہ دوسرا حرف پڑھنا
    (٢) حرکات کا اختلاف۔چنا نچہ ایک قبیلہ کسرہ پڑھتا ہے تو دوسرا فتحہ یا ضمہ۔
    (٣) ایک مسمّیٰ کے متعدد نام، ان وجوہِ اختلاف کا مشاہدہ بر صغیر کی زبانوں میں بھی کیا جا سکتا ہے۔
    قرآن حکیم جزیرۃ العرب کے متمدن مراکز کے اَندازِ بیان میں اُترا جبکہ گرد ونواح میں کئی قبا ئل آباد تھے جن کے بو لنے کے مذکورہ با لا اَنداز تھے۔جب رسول اللہﷺنے مدینہ منوّرہ ہجر ت فر مائی توقبائل عرب سے وفود کی آمد ہونے لگی جن کیلئے متمدن مراکز کی زبان غیر معتاد تھی اور ان کیلئے صحیح تلفظ ممکن نہ تھا ،مثلاًقبیلہ ہذیل کا حاء کو ’عین‘ پڑھتے ہوئے ’حتی حین‘ کو ’عتی عین‘ پڑھنا ،اور قبیلہ حمیر کا لام تعر یف کو میم سے بدلتے ہوئے ’الحمد‘ کو ’امحمد‘ پڑھنا ،’الصیام‘ کو ’امصیام‘ پڑھنا، تو ایسے لو گو ں کو اپنے اپنے اَنداز میں تلاوت کی اِجازت دے دی گئی البتہ وہ جب در ست تلفظ کے عادی ہوگئے تو یہ اِجازت منسوخ ہو گئی اور جو کلمات قرآنی فصاحت وبلاغت کے معیار پر پورا اترتے تھے اور انکے ساتھ تفسیری ولغوی فوائد وابستہ تھے ان کو باقی رکھاگیا۔ تقدیم وتاخیر، حروف کی کمی وبیشی، اَنداز بیان کا تنوع دیگر زبانوں کی طرح عربی میں بھی تھا ان کاسماع جب رسو ل اللہﷺسے مرفوعاًیا موقوفاً، قولاً یا سکوتاً وتحسیناً ہوا تو وہ قرآنی اِصطلاح میں قراء ات کہلانے لگیں۔اور یہ وجوہ تغیرنقل در نقل اُمت میں چلے آرہے ہیں اس طرح قراء ات کاسلسلہ سماعی ہے اَداء اور تلاوت میں قیاس کی گنجا ئش نہیں ہے کہ یہ منصوص ہیں۔اس پر درج ذیل دلائل بڑے واضح ہیں۔
     
  10. ‏اپریل 05، 2012 #20
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    (١) نبیﷺ کا بار بار جبریل اَمین﷤ سے اُمت کی تخفیف کی با بت سوال کرنا۔
    (٢) سیدنا ہشام اور عمررضی اللہ عنہما کے درمیان سورۃ الفرقان میں اختلاف قراء ت ہونا اور حضورﷺ کا دونوں کی تحسین کرنا۔
    (٣) سیدنا اُبی بن کعب﷜ کا اپنے دو اَحباب کے ساتھ سورۃ نحل کی وجوہ ِقراء ت میں اِختلاف ہونا اور رسول اللہﷺ کا دو نوں کی تصدیق کرنا۔
    (٤) رسم قرآنی کاعام عربی رسم الخط سے مختلف لکھنا جیسے دَحٰی مشتق ہے دَحْوٌسے اور جب کوئی کلمہ معتل الآخر واوی ہو تو اسکوا لف سے بدلا جاتا ہے نہ کہ یاء سے جیسے دعو سے دعا۔لیکن رسم قرآنی میں دحا کی بجائے دحیٰ، یاء کے ساتھ، لکھا گیاہے اور یہ کام صف اول کی جماعت صحابہ﷢ نے کیاہے۔ اس میں قراء ت کی بھی رعایت پیش نظر تھی۔پوری جماعت صحابہ﷢ کا اس رسم الخط پر اِجماع ہے اور اُمت میں اس کو تلقّی بالقبول بھی حاصل ہے جو اَز خود حجت ہیں۔
    (٥) حضرت عثمان﷜ کی یہ حکمت عملی تھی کہ جہاں رسم الخط میں قراء اتِ مسموعہ کی گنجا ئش ہو، ان کو سیدنا ابو بکر﷜ کے نہج پر ہی لکھا جائے لیکن تقریباً ۴۱مقامات میں رسم الخط کی یکسانیت میں متعدد قراء ا ت کی گنجا ئش نہ ہو نے کی وجہ سے مختلف مصاحف میں الگ رسم الخط میں لکھا۔ جیسا کہ مصحف مدنی اور شامی میں ’سَارِعُوْا‘ بغیر وائو کے اور دیگر مصاحف میں وائو کے ساتھ لکھا ہوا ہے، اور ان مصاحف ستہ پر پوری جماعت صحابہ﷢کا اجماع ہے۔
    (٦) اُمت میں قراء ا ت کی نسبت جن مشہور قراء ِعشرہ کی طرف ہے وہ تمام کے تمام بالواسطہ یا بلا واسطہ صحا بہ کرام﷢ سے فیض یافتہ ہیں۔جن صحابہ﷢ پر رسو ل اللہﷺنے ’ما أنا علیہ وأصحابي‘ (جامع الترمذي: ۲۶۴۱) فرما کر ہی اِظہارِ اعتماد نہیں کیابلکہ اُمت کو بھی ان کی اتباع کی تلقین کر دی۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں