1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تبصرہ جات ماہنامہ رُشد قراء ات نمبر

'علم القراءات' میں موضوعات آغاز کردہ از ساجد, ‏اپریل 05، 2012۔

  1. ‏اپریل 05، 2012 #21
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    یہ وہ حقائق ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ قراء ات کا تعلق سماع سے ہے۔ محض لغت سے اَز خود کوئی وجہ نکال کر اس کو قراء ت قرار دینا قطعی غلط اور بے بنیاد ہے۔ رہا یہ مسئلہ کہ کئی ایک صحابہ﷢ کے پاس اُن کے ذاتی مصاحف تھے جن میں مو جود قراء ات کو نظر اَنداز کر دیا گیا تو یہ سوال لا علمی پر مبنی ہے، دراصل صحابہ کرام﷢ میں سے جو حضرات لکھنا جانتے تھے وہ حضورﷺکی مجلس میں قرآنی متن اور تفسیر دونو ںسنتے اور لکھتے تھے اس کے بعد دور دراز اَسفار میں چلے جاتے تھے۔ اِس طرح وہ مصاحف متن کے اِعتبار سے بھی مکمل نہ تھے۔ اور دوسرا یہ کہ ان میں اِضافات تفسیریہ بھی تھے جو کسی طور اصطلاحی قراء ات قرار نہیں دیئے جا سکتے۔ حضرت ابوبکر﷜نے جب متنِ قرآنی کو یکجا کرنے کا فیصلہ کیا تو ظا ہر ہے کہ اضافاتِ تفسیر یہ کیلئے اس میں گنجائش نہیں تھی۔ لہٰذا رسم الخط ایسا اختیار کیا کہ قراء اتِ مسموعہ کی وجوہات پر محیط ہو سکے اور تقریباً ۴۱؍مقامات میں ایک رسم الخط کی گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے حضرت عثمان﷜ نے ان کو مختلف مصاحف پر تقسیم کر دیا اور شخصی مصا حف کو جلا دیا کہ اُمت کے اندر اختلاف کا باعث تھے۔ علاوہ ازیں حضرت عثمان﷜ نے ہر مصحف کے ساتھ ایک ماہر قاری بھی بھیجا جو لوگو ں کو درست اَنداز میں پڑھا سکے اور محض لغت سے وجوہ ِقراء ات نکا لنے کا سد ِ باب ہو سکے۔ اس پر بھی صحا بہ کرام﷢کا اجماع ہے۔ اگلے دور میں انہی قراء ات مسموعہ کو مدوّن کیا گیا اور درس و تدریس نیز تالیف کے ذریعہ اخلاف تک منتقل کیا گیا۔ جن میں تفسیری فوائد کے علاوہ لغوی، نحوی اور اشتقاقات کے حوالے سے بھی اِستنباط کیا جا سکتا ہے۔ ایسے اِجماعی مسئلے سے انحراف کرنا، نہ صرف کہ کتاب اللہ کومشکوک بنانے والی بات ہے بلکہ دین اسلام کی اَساس کو منہدم کرنے کے مترادف ہے۔
    میں آخر میں ایک دفعہ پھر اس عظیم الشان کارنامے پر آپ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کی اس دینی خدمت و حمیت کو قبول فرمائے اور اس مبارک سلسلہ کو آگے بڑھانے میں آپ کی مدد فرمائے۔ آمین
    قاری تاج اَفسر
    شعبہ تفسیرو علوم قرآن، بین الاقوامی اِسلامی یو نیورسٹی ،اِسلام آباد​
     
  2. ‏اپریل 05، 2012 #22
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    [ ۹ ]


    قابل صداحترام ڈاکٹر حمزہ مدنی صاحب ﷾ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ‘
    اللہ کرے آپ سب خیریت سے ہوں او راللہ کی رضا والے کاموں میں اپنے اَوقات گزار رہے ہوں۔ دین کی سمجھ اور خدمت عطا ہونا بہت بڑی نعمت ہے۔ جامع اور علمی ماہنامہ ’رُشد‘ ملا۔ بالاستیعاب مطالعہ کرنے سے معذور ہوں۔ لیکن ایک نظر دوڑانے سے یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ بڑا وقیع علمی اوراسم بامسمّیٰ رسالہ ہے۔ دُعا ہے کہ اُردو دان طبقہ کیلئے مفید ثابت ہو۔ بڑا قابلِ قدر کام ہے۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔ آمین
    پروفیسر ڈاکٹر محمد عمر، پشاور یونیورسٹی ، پشاور​
     
  3. ‏اپریل 05، 2012 #23
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    [ ۱۰ ]


    مکرمی و محترمی جناب ڈاکٹر حافظ حمزہ مدنی ﷾ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ!
    خدا کرے کہ آپ مع اہل و عیال اور اَعزہ و احباب بخیر و عافیت ہوں۔ آپ کے ٹیلیفونک اِصرار کے زیر اثر رُشد کے ’قراء ات نمبر‘پر نہایت مختصر تبصرہ اَرسال خدمت کر رہا ہوں، قبول فرمائیے۔ تیسرے حصے کا شدت سے اِنتظار کر رہا ہوں۔ اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو۔
    ماہنامہ’ رُشد‘ کے ’قراء ات نمبر‘ کے دونوں حصے، مجھے فراہم فرما کر، آپ نے اَز حد شفقت فرمائی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ان دونوں حصوں کا میَں مطالعہ نہ کرپاتا، تو علم کے نہایت اَہم حصہ سے محروم ہو کر رہ جاتا۔ میرے نزدیک یہ خاص نمبر، علم قراء ات کے حوالہ سے انتہائی علمی، اَز حد قیمتی اور بہت ہی اَہم دستاویز ہے۔ میرے علم و مطالعہ کی حد تک، پاکستان میں اس قدر جامع اور دقیع کاوش، اس سے قبل، منظر عام پر نہیں آسکی۔ اس حوالے سے ہمارے سیکولر تعلیمیافتہ حضرات کے قلوب و اَذہان میں، جو شکوک و شبہات، مستشرقین اور اُن کے مسلم تلامذہ کے قلم سے پیدا کئے گئے ہیں، ان کے اِزالہ کیلئے یہ خصوصی شمارے، اکسیر کا حکم رکھتے ہیں۔
     
  4. ‏اپریل 05، 2012 #24
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    یوں تو ان دونوں حصوں میں، سارے ہی مقالات بہت علمی، قیمتی اور معلومات افزاء ہیں، لیکن بعض ایسے بھی ہیں جو میری نظر میں شاہکار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ حصہ اوّل میں ’اختلاف ِ قراء اتِ قرآنیہ اور مستشرقین‘، ’قراء ات قرآنیہ اور مسلم متجددین‘، ’قراء ات قرآنیہ کا مقام اور مستشرقین کے شبہات‘، ’قراء اتِ متواترہ اور ادارہ طلوعِ اسلام‘، ’منکر قرائات، علامہ تمنا عمادی کے نظریات کا جائزہ‘، ’قراء ات کے بارے میں اصلاحی اور غامدی مؤقف‘ بہت بلند پایہ اور مُزیل شبہات مقالات ہیں، تاہم جس مضمون نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا، وہ حافظ محمد زبیر صاحب کا مقالہ ’قرآن اور قراء اتِ قرآنیہ کے ثابت ہونے کا ذریعہ‘ ہے۔ دوسرے حصہ کے مضامین بھی گراں قدر اور انتہائی اَہم ہیں۔ مطالعۂ قرآن کے دوران، جن اُمور پر میری نگاہ، بالعموم مرکوز رہتی ہے، وہ صرف ونحو سے متعلقہ نوادرات ہیں یا پھر لغوی تحقیق سے وابستہ قرآنی مفردات ہیں۔ اس پہلو سے، حصہ دوم کے بعض مقالات نے میرے سامنے غوروفکر اور علمی و تحقیق کے نئے راستے کھولے ہیں۔ اسی لحاظ سے، میں جن مقالات سے متاثر اور مستفید ہوا ہوں، اُن میں ’نظریہ النحو القرآنی، ایک تحقیقی جائزہ‘، ’ استشراقی نظریۂ اِرتقاء اور قراء اتِ قرآنیہ‘، ’جمع قرآن، پرویزی افکار کا جائزہ‘، ’نحوی و لغوی قراء کرام‘ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ اس ضخیم اور قیمتی نمبر کی اِشاعت پر، میں آپ کو تہہ دل سے مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اللہ سے دُعا گو ہوں کہ وہ آپ کی اس عظیم کاوش کو قبول و منظور فرمائے اور عامۃ الناس کیلئے یہ نفع بخش بنا دے۔
    پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمد دین قاسمی
    جی سی کالج یونیورسٹی، فیصل آباد​
     
  5. ‏اپریل 05، 2012 #25
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    [ ۱۱ ]


    ماہنامہ’ رُشد‘’قراء ات نمبر‘ (حصہ دوم)
    ماہنامہ ’رُشد ‘کے ذمہ دار حضرات نے علم تجوید و قراء ت کے حوالہ سے اپنی مساعی کو وقف کر رکھا ہے۔ ماہنامہ ’رُشد‘ قراء ات نمبر کا یہ دوسرا حصہ ہے۔ حسب ِسابق یہ بھی خاصا ضخیم ہے اور ۹۳۶ صفحات پر مشتمل ہے۔ اس سے بہت ہی قلیل عرصہ قبل وہ ’رشد‘ کا حصہ اوّل شائع کرچکے ہیں۔ موجودہ نمبر میں بھی متعدد اہل علم کے مضامین شامل ہیں۔
    ماہنامہ’ رُشد‘ کا حصہ دوم ، نام سے بھی ظاہر ہے پہلے حصہ ہی کا تسلسل ہے۔ اس کی تیاری میں بھی انہوں نے خاصی محنت کی ہے اوربہت خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ حصہ دوم کے بیشتر مضامین کا عنوان علم قراء ات کے اِختلافات، اسباب و علل نیز قراء ات کی حجیت ہے۔ جس پر اس علم کے شناور حضرات نے علمی موتیوں کو یکجا کرنے کی کوشش کی ہے۔ یقینا یہ کوشش انتہائی اہم ہے۔
    ماضی قریب میں بعض کوتاہ فہم حضرات کے ذہنوں میں اس سوچ نے جنم لیا کہ مختلف قراء ات غلط ہیں، معاذ اﷲ! ان میں قرآن مجید کی تلاوت کرنا قرآن کے نظریۂ حفاظت کو متاثر کرتا ہے۔ حالانکہ ہمارے نزدیک بلکہ جمہور اہل علم کے ہاں مختلف قراء ات کا وجود نظریہ حفاظت ِ قرآن کیلئے بذات خود سب سے بڑی دلیل ہے کیونکہ حامل قرآن رحمت للعالمین محمدﷺکے نطق سے منقول تمام طرقِ تلاوت آج تک پوری طرح محفوظ ہیں۔ جب طرقِ تلاوت اور اَندازِ تلاوت تک محفوظ ہیں تو عبارت میں کمی بیشی اَز خود بعید اَز اِمکان قرار پاتی ہے۔ رُشد کی موجودہ اِشاعت کے بیشتر مضامین میں اسی منفی سوچ پر محاکمہ اور مجادلہ کیا گیا ہے اور علمی و تحقیقی بنیادوں پر یہ ثابت کیا گیا ہے کہ سبعہ اَحرف برحق ہیں، محفوظ ہیں۔ ان میں تلاوت نہ صرف جائز بلکہ فرض کفایہ ہے۔
     
  6. ‏اپریل 05، 2012 #26
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    ماہنامہ ’رُشد‘ کے کارپردازوں کے مطابق وہ ماہنامہ ’رشد‘ کی تیسری جلد بھی پیش کرنے کا عزم لیے ہوئے ہیں۔ امید ہے کہ رُشد کا نقش سوم علم تجوید و قراء ات کے حوالے سے مزید علمی مباحث کا حصر کرے گا۔ جس سے اس علم کے مزید خفیہ گوشے منور ہوں گے۔ ہماری دانست میں ماہنامہ ’رُشد‘ نے علم تجوید و قراء ات کے حوالے سے مذکورہ نمبر شائع کرکے بڑے اہم فریضہ کو ادا کیا ہے۔ ان خصوصی اِشاعتوں سے اہل علم اور تمام لوگوں کی توجہ اس علم کی تحصیل کی طرف راغب ہوگی۔ نیز رُشد میں شائع ہونے والے علمی جواہر پارے تحقیقی کام کرنے والوں کے لیے سنگ میل ثابت ہوں گے۔ ہم رشد کے نقش سوم کو نقش دوم اور نقش اول سے روشن تر اور بہتر دیکھنے کے متمنی ہیں۔ جس کے ذریعے رشد وہدایت کی روشنی عام ہو اور علم قراء ات کے حوالے سے ذہنوں پر چھائی تاریکیاں چھٹ سکیں۔
    جناب قاری محمد ابراہیم میرمحمدی کے شاگرد رشید ڈاکٹر حافظ حمزہ مدنی اور ان کے دیگر ساتھیوں کی جامعہ لاہور الاسلامیہ کو ایک عالمی اِدارہ کی صورت میں ڈھالنے کے لیے کاوشیں انتہائی مستحسن ہیں۔ بہرحال ماہنامہ’ رُشد‘ کے تمام رُفقاء کو ان قراء ات نمبروں کی اشاعت پر بہت بہت مبارک۔ اللّٰھم زد فزد
    پروفیسر ڈاکٹرمزمل اَحسن شیخ​
     
  7. ‏اپریل 05، 2012 #27
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    [ ۱۲ ]


    ڈاکٹر قاری حمزہ مدنی﷾، مدیر ماہنامہ رشد لاہور السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !
    ماہنامہـ ـــ’رُشد ‘ لاہور ستمبر ’ قراء ات نمبر (حصہ دوم) کی ضخیم جلد کی وصولی پر دلی مسرت ہوئی جب کہ اس سے پہلے آپ قراء ات نمبر (حصہ اول)کی اِشاعت کا اعزاز بھی پا چکے ہیں۔ میری معلومات کی حد تک کوئی بھی دوسرا مجلہ ایسا مفید اور ضخیم سلسلہ شائع کرنے میں آپ کا ہم پلہ نہیں ہے ۔ ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ
    ’رُشد ‘ کے حالیہ شمارہ میں بطور اِداریہ منفرد مقالے بعنوان ’قرآن مجید کا صوتی جمال اور اِسلامی کلچر‘ کے بعد ــ ـــ’حدیث و سنت ‘ کے تحت ایک ، ’حجیت قراء ات ‘ کے تحت چھ،’ فتاوی جات ‘ کے تحت تین، ’ تاریخ قراء ات ‘ کے تحت ایک ، ’ حدیث سبعہ اَحرف ‘ کے تحت پانچ ، ’مباحث قراء ات ‘کے تحت چار ، ’اعجاز قرآنی‘ کے تحت تین ، ’تحقیق و تنقید‘ کے تحت چھ ، ’انکار ِقراء ات ‘ کے تحت تین ، ’علوم القراء ات‘ کے تحت چار ، ’متفرقات ‘کے تحت آٹھ ، ’انٹرویوز‘ کے تحت معلومات سے بھر پور مقالات جیسے دو انٹرویوز ، ’کتابیات ‘کے تحت چار اور ’سیرو سوانح‘ کے تحت دو قیمتی مقالے شامل ہیں۔ مجموعی طور پر ترپن علمی و تحقیقی مقالوں کی اشاعت آج کے مادی دور میں اِنتہائی قابل ستائش کاوش ہے۔ اللھم تقبل فتقبل
     
  8. ‏اپریل 05، 2012 #28
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    عصرِ حاضر فکری یلغار اور میڈیا وار کا دور ہے ۔ غالب قوتیں دورِ حاضر میں مسلمانوں کی ایمانی بنیاد اور فکری اَساس قرآن کے بارے میں طرح طرح کے شکوک و شبہات پھیلانے سے آگے بڑھ کر ایمان متزلزل کرنے کے درپے ہیں۔ اگر اَساس پر ایمان کھوکھلا ہو تواس پر تعمیر شدہ شخصیت بھی کھوکھلی ہوتی ہے ۔ ایسی قوم اپنے دفاع کیلئے بھی اپنے پاؤں پر کھڑی نہیں ہو سکتی چہ جائیکہ دعوتِ قرآن لے کر اَقوام عالم کے سا منے کھڑی ہو ۔ ان حالات میں قرآن کے بارے مختلف پہلوؤں سے پھیلائے گئے شبہات کا ردّ اَہم ترین عصری ضرورت ہے ۔ ان شبہات کی تردید میں ’تلاوتِ قرآن‘ کے حوالے سے مسلمانوں میں رائج عشرہ قراء ات کو علمی و فنی طور پر تواتر سے ثابت کرنیوالے مقالہ جات اِشاعت ِہذا کا قیمتی اَثاثہ ہیں۔ اور استشراق کے پھیلائے ہوئے گمراہ کن اَفکار کی بیخ کنی والے مقالات تو اس شمارے کا سرمایۂ افتخار ہیں۔
    ’رشد ‘کا یہ شمارہ اِنتہائی معلوماتی مواد کے ساتھ ساتھ عمدہ معیار طباعت سے بھی آراستہ ہے ۔ کمپوزنگ کی اغلاط ڈھونڈھے سے ملیں گی ایسی عمدہ کاوش پر ماہانہ ’رُشد‘ کی ادارتی ٹیم لائق صد تعریف و تحسین ہے اور سرپرست اعلی لائق صد تکریم جناب حافظ عبدالرحمن مدنی﷾ کیلئے اللہ تعالی کے حضور دعا گو ہوں کہ ان کا سایہ مجلس التحقیق الاسلامی، لاہور اور کلیّۃ القران الکریم والعلوم الإسلامیہ پر تادیر قائم رہے آمین ثم آمین
    فاضل مدیر ! آپ کی توجہ طلب ایک اَمر کی نشان دہی بھی کی جا رہی ہے کہ مجھے وصول ہونے والی کاپی میں متعدد صفحات نہیں پائے جاتے ہیں اگر یہ ایک کاپی کا مسئلہ ہے تو اس کی تلافی کی کوئی صورت پیدا کریں اور اگر یہ طباعتی کوتاہی تمام تر اِشاعت میں پائی جاتی ہے تو اس کی کڑی نگرانی کی جائے تا کہ ایسے عظیم علمی و تحقیقی کام اکمل ترین شکل میں اہل علم کے ہاتھوں میں یاد گار رہیں کیونکہ آپ کی یہ مساعی ایک حوالہ جاتی اہمیت حاصل کرنے والی کاوش ہے۔
    ڈاکٹر خالد ظفر اللہ
    پرنسپل ، گورنمنٹ پوسٹ گریجوایٹ کالج ،سمندری، فیصل آباد​
     
  9. ‏اپریل 05، 2012 #29
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    [ ۱۳ ]


    رُشد قراء ات نمبر (حصہ اول) کے اہم مقالات کا تعارفی جائزہ
    ’ماہنامہ رشد‘ کا قراء ات نمبر اُردو زبان کے قالب میں علوم القرآن کے انتہائی اہم اور اساسی فن پر متنوع علمی مضامین کا پر مغز مجموعہ ہے، اہل عرب میں تو یہ فن اہل ِ علم کی توجہ کا مرکز ٹھہرا ہے تاہم اس کے بر عکس ہمارے ہاں عوام الناس تو ایک طرف، اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی قراء ات کی حقیقت سے صحیح طور پر واقف نہیں ہیں، یہی وجہ ہے کہ پاک وہند کے چند مخصو ص فکری رجحانات کے حامل نمائندہ اہل علم نے قراء ات کے اختلافات کو عجم کا فتنہ قرار دیتے ہوئے اس کی قرآنی حیثیت کا انکار کیا ہے۔
    خود مسلم اہل علم میں اس موضوع پر بحث و مباحثہ نے مستشرقین اہل یورپ کیلئے کئی نکات اور سوالات کی گنجائش پیدا کی ہے، اس طرح قراء ات کا موضوع قرآن کریم کے متن میں براہِ راست صحت و تواتر کے حوالے سے ایک نازُک حیثیت اختیار کر گیا ہے، جس کو علمی بنیادوں پر سہل انداز میں پیش کرنے کی ازبس ضرورت ہے، ظاہر ہے کہ یہ کام ماہرین فن کا ہے، عام آدمی کو اس سے چنداں مَس نہیں ہے، ماہنامہ رشد کے مدیر اور منتظمین اس حوالے سے واقعتا مبارک باد کے مستحق ہیں جنہوں نے اُردو زبان میں ایک ضخیم ’ قراء ات نمبر‘ شائع کر کے اس اہم ضرورت کو پورا کیا ہے، یہ خصوصی شمارہ بطور حصہ اول چھپا ہے اور دوسرے حصہ کی تیاریاں تکمیل کے مراحل سے گذر رہی ہیں، اس حصہ میں تقریبا تین درجن کے قریب مقالات شامل ہیں،جن میں سے دس مضامین عربی سے اردو میں جبکہ ایک مضمون انگریزی سے اردو میں منتقل کر کے شامل اشاعت کیا گیا ہے، اس شمارہ کے بعض مضامین فنی حیثیت سے انتہائی علمی اور قابل قدر ہیں ، اہمیت کے پیش نظر ذیل میں چند اہم مقالات کا تعارفی جائزہ پیش کیا جارہا ہے۔
     
  10. ‏اپریل 05، 2012 #30
    ساجد

    ساجد رکن ادارہ محدث
    جگہ:
    قصور(بھاگیوال)
    شمولیت:
    ‏مارچ 02، 2011
    پیغامات:
    6,602
    موصول شکریہ جات:
    9,357
    تمغے کے پوائنٹ:
    635

    اداریہ میں مدارس دینیہ میں تدریس قراء ا ت کی ضرورت اور ’ماہنامہ رشد‘ کے قراء ات نمبرکی اشاعت کا پس منظر بیان کرتے ہوئے قراء ات کے تفسیر و فقہ پر اثرات، استنباطِ احکام اور نصوص کے ظاہری تعارض میں اس علم کی افادیت پر بحث کی گئی ہے، یہ ایک حقیقت ہے کہ عصر حاضر میں مدارس دینیہ قراء ات کی درس و تدریس پر وہ التفات نہیں دے رہے جو ماضی میں ان کا طرہ رہا ہے، اس ضمن میں منتظمین ِ مدارس سے یہ توقع کی گئی ہے کہ وہ متنوع قرائات کی افادیت کے پیش نظر انکو بطورِ نصاب شامل کر یں گے، تا کہ قرآن کے معانی و مفاہیم، سلف کے منہج کے مطابق سمجھ آ سکیں، اسی طرح قراء ات کو فتنۂ عجم کہنے والوں کا علمی بنیادوں پر معارضہ ہوسکے، اداریہ میں واضح کیا گیا ہے کہ مغرب کے سیاسی اور فکری غلبے کے نتیجے میں جب مسلمانوں کے دین و ایمان سے متعلقہ علوم پر بھی مستشرقین نے یلغار کی، تو انہیں محمدﷺکی سنت وسیرت کا کمال اور قرآن کی حفاظت کا اعجاز بہت کھٹکا، چنانچہ انہوں نے سیرت رسولﷺ کے بارے میں شبہات پھیلائے تو دوسری طرف قرآنِ کی قراء ات کو فتنۂ عجم بتا کر اشکالات پیدا کرنیکی کوشش کی، حالانکہ قراء ات کا تنوع قرآن کے اعجاز ہی کا ایک پہلو ہے اور اسمیں اختلاف کاتضاد ممکن ہی نہیں (ص ۶)۔
    ’قرآن کریم کی روشنی میں ثبوتِ قراء ات‘ کے عنوان سے قاری صہیب احمد میر محمد ی کی عربی تصنیف جبیرۃ الجراحات في حجیۃ القراء ات کی ایک فصل کا اردو ترجمہ شامل اشاعت ہے، یہ ترجمہ قاری محمد صفدر نے کیا ہے ، اس میں قرآنی آیت وَمَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِي الدِّینِ مِنْ حََرَجٍ (الحج: ۷۸) کے تحت ڈاکٹر بصری کے ’اثر القرا ء ات فی الفقہ الاسلامی‘ ص۱۱۸ سے نقل کیا گیا ہے کہ ’’یہ آسانی اس بات کا تقاضہ کرتی ہے لہجاتِ عرب کی مناسبت سے قراء ات بھی مختلف ہوتیں، کیونکہ انسان بچپن سے بڑھاپے تک جو زبان بولتا ہے اس کو یکبارگی چھوڑنا یقینا ایک مشکل کا م ہے، مذکورہ آیت ہر قسم کے رفع ِحرج پر دلالت کرتی ہے۔‘‘ (ص۹) میری نظر میں یہ استنباط استیناس کے قبیل سے ہے۔ تاہم عمومی نظر میں اس سے استدلال کیا جاسکتا ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں