1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تجارتی انشورنس حرام ہونے کے دلائل :

'انشورنس' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏نومبر 28، 2015۔

  1. ‏نومبر 28، 2015 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,985
    موصول شکریہ جات:
    6,510
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    الحمد للہ:

    اکثر انشورنس کمپنیوں کی جانب سے پیش کی جانے والی مروّجہ تجارتی انشورنس حرام ہے، چاہے یہ انشورنس زندگی کی ہو یا املاک کی۔۔۔ یا کسی بھی اور چیز کی ہو، اس کی حرمت پر متعدد شرعی نصوص اور شرعی قواعد دلالت کرتے ہیں، ان میں سے کچھ یہ ہیں:

    1- انشورنس کا معاہدہ غرر [جہالت] پر مبنی ہے[یعنی: انشورنس کروانے والے کو حاصل ہونے والی سہولیات کی مقدار کا علم نہیں ہوتا]، اور ایسے تمام تجارتی معاہدے شرعی طور پر حرام ہیں۔[جن میں قیمت یا فروخت کردہ چیز نا معلوم ہو]

    اس کی دلیل صحیح مسلم : (1513)کی روایت ہے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ: "آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع الغرر سے منع فرمایا"

    "غرر" لغوی اعتبار سے ایسے خدشہ کو کہتے ہیں جس کے ہونے یا نہ ہونے کا قطعی علم نہ ہو، مثلاً: پانی میں موجود مچھلیوں، ہوا میں اڑتے ہوئے پرندوں کی خرید و فروخت، ان کے منع ہونے کی وجہ یہ ہے کہ خریدار کو یہ اشیا ءمل بھی سکتی ہیں اور نہیں بھی۔

    ازہری رحمہ اللہ کہتے ہیں:

    "بیع الغرر" میں مجہول چیزوں کی خرید و فروخت شامل ہے۔
    معجم مقاییس اللغۃ" (4/380 – 381) اور "لسان العرب" (6/317)

    خطابی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

    "غرر یہ ہے کہ ایک شے کی حقیقت و ماہیت آپکی نظروں سے اوجھل ہو ، اور آپ اس کی اصلیت سے ناواقف ہوں ۔۔۔ اور ہر ایسا تجارتی معاہدہ جس میں مطلوبہ چیز مجہول ہو معلوم نہ ہو، یا بائع و مشتری کیلئے اس پر قبضہ کرنا مشکل یا ناممکن ہو تو یہ غرر ہے۔۔۔ غرر کی اور بھی بہت سی صورتیں ہیں، تاہم انکا لب لباب یہ ہے کہ : جس تجارتی معاہدے میں مطلوبہ چیز معلوم و متعین نہ ہو وہ غرر میں شامل ہوگا" انتہی

    امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:

    "بیع الغرر سے ممانعت خرید و فروخت سے متعلق مسائل میں ایک بہت بڑا اور عظیم اصول ہے، اور اس ایک اصول کے تحت ان گنت مسائل آتے ہیں، مثلاً: معدوم یا مجہول چیز کی فروخت۔۔۔۔ اور اسی طرح بہت سے مسائل ہیں، اور اس اس اصول کی وجہ سے اس قسم کے تجارتی معاہدے باطل قرار پاتے ہیں ، کیونکہ ان میں بلا وجہ مطلوبہ چیز کو مجہول رکھا جاتا ہے۔

    تاہم بسا اوقات تھورے بہت غرر کو برداشت کرتے ہوئے ضرورت کی بنا پر جائز قرار دیا جاتا ہے، جیسے مکان کی خرید و فروخت کے وقت مکان کی بنیادوں میں استعمال شدہ مٹیریل کی حقیقت آپ کے علم میں نہیں ہوتی ، لیکن پھر بھی مکان کی خریداری جائز ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ مکان کی بنیادیں ظاہری عمارت کے تحت ہیں، اور مکان کی بنیادیں دیکھے بغیر انکی خرید و فروخت ایک ضرورت ہے، کیونکہ بنیادیں دیکھنا محال ہے۔۔۔

    اسی طرح علمائے کرام کا اس بات پر بھی اجماع ہے کہ جانور کے حمل اور ہوا میں موجود پرندوں کی خرید و فروخت بھی باطل ہے، اہل علم اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ غرر کی وجہ سے ہی ان کی خرید و فروخت باطل ہے۔۔۔ " انتہی

    اہل علم کا اس بارے میں بھی اتفاق ہے کہ اگر غرر کی مقدار بہت زیادہ ہو تو خرید و فروخت جائز نہیں ہے، جبکہ تھوڑی مقدار میں غرر قابل برداشت ہے، چنانچہ کچھ اشیاء کے جائز یا ناجائز ہونے کے بارے میں انکا اختلاف ہے، کیونکہ ان میں پایا جانے والا نقصان کبھی کم ہوتا ہے تو کبھی زیادہ۔

    "بداية المجتهد" (2/187) ، اور اسی سے ملتی جلتی گفتگو شرح مسلم از نووی میں ملتی ہے۔

    جبکہ انشورنش میں غرر بہت بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے، بلکہ قانونی ماہرین بھی اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ انشورنس کا معاہدہ احتمالی ہوتا ہے، اور غرر کا بھی یہی مطلب ہے، [یعنی : تعین نہیں ہوتا] کیونکہ بیمہ کرنے والا [انشورنس کمپنی]اور بیمہ کروانے والا[مستفید] دونوں کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ انکا معاہدہ کتنی دیر چلے گا، اور اسے کتنی رقم دینا ، یا کتنی رقم لینا ہو گی، لہذا کبھی ایسے بھی ہو جاتا ہے کہ بیمہ کروانے والے شخص نےابھی ایک ہی قسط ادا کی ہوتی ہے کہ حادثہ رونما ہو جاتا ہے، چنانچہ انشورنس کمپنی کو مکمل طے شدہ رقم ادا کرنی پڑتی ہے، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کوئی حادثہ رونما بھی نہ ہو، اور سب کے سب اقساط ادا ہو جائیں لیکن بیمہ کروانے والے شخص کو کچھ بھی نہ ملے۔

    2- انشورنس معاہدے قمار میں شامل ہیں، اور قمار جوّے کو کہتے ہیں، اللہ تعالی نے انہیں اپنے اس فرمان میں حرام قرار دیا ہے:

    : (إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ)


    ترجمہ: بلاشبہ شراب، جوُا، شرک کیلئے نصب کردہ چیزیں اور پانسےگندے شیطانی عمل ہیں، ان سے بچو، تا کہ تم فلاح پاؤ۔[المائدة:90]

    اور "قمار" [جوا]کا مطلب یہ ہے کہ انسان خدشات کی بنیاد پر اپنا سرمایہ لگائے، یا تو اسے لگائے گئے سرمائے سے زیادہ ملے گا، یا ڈوب جائے گا۔

    اس بارے میں مزید تفصیل کیلئے سوال نمبر: (89746) اور (106601) کا جواب ملاحظہ کریں۔

    جبکہ انشورنس کے معاہدے میں بھی یہی خدشات ہوتے ہیں کہ ہوسکتا ہے نقصان ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نقصان نہ ہو، اور بعینہ یہی مفہوم "قمار "[جوّا]کا ہے۔

    انشورنس کروانے والے شخص کو ہر بار انشورنس کی رقم [پریمیم] کرتے ہوئے خدشہ لاحق رہتا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ ادا شدہ رقم سے زیادہ لوں، یا اگر کوئی نقصان وغیرہ نہ ہو تو ان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھوں۔

    چنانچہ کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ انشورنس کروانے والا شخص بیس ہزار جمع کروانے کے بعد ایک ہزار وصول کرتا ہے، اور کبھی ہزار دیکر ہزار ہی لیتا ہے، اور بسا اوقات نقصانات نہ ہونے کی وجہ سے کچھ بھی وصول نہیں کر پاتا۔

    اب خود ہی سوچیں! کیا یہی جوا اور قمار بازی نہیں ہے؟!

    3- انشورنس میں اگر عوض کے طور پر رقم دی جائے تو ایسی صورت میں سود کی دونوں اقسام ربا النسیئہ ور ربا الفضل اقسام پائی جائیں گی، اور یہ دونوں منع ہیں،

    چنانچہ صحیح مسلم : (1587) میں عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

    (سونا سونے کے بدلے، چاندی کو چاندی کے بدلے، گندم کو گندم کے بدلے، جو کو جو کے بدلے، کھجور کو کھجور کے بدلے، اور نمک کو نمک کے بدلے فروخت کرو ، برابر برابر اور نقد و نقد فروخت کرو، اور اگر ان چیزوں کا تبادلہ کسی دوسری چیز کیساتھ کرو تو جیسے مرضی فروخت کرو، بشرطیکہ نقد و نقد ہو)

    اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ : جس وقت سونے کو سونے کے بدلے میں فروخت کیا جائے تو قیمت اور فروخت کردہ سونے کی مقدار برابر ہو، اور مجلس عقد میں فریقین اسے اپنے قبضے میں لے لیں۔

    چنانچہ ایک گرام سونے کو ایک گرام سونے سے ہی فروخت کیا جائے گا، اور مجلس عقد میں ہی فریقین اپنی اپنی چیز قبضے میں لے لیں گے، لہذا فریقین میں سے کوئی بھی اپنی حق اپنے قبضے میں لیے بغیر مجلس عقد سے نہیں جا سکتا۔

    یعنی اگر کسی نے سونے کو سونے کے بدلے میں کمی بیشی کے ساتھ فروخت کیا تو اس نے ربا الفضل کا ارتکاب کیا، اور اگر مجلس عقد میں ہر فریق اپنے حق پر قبضہ نہ کرے تو ربا النسیئہ [ادھا ر کے سود]کا ارتکاب کرینگے، اور اسے ربا النسیئہ اس لئے کہتے ہیں کہ اس نے اپنے حق پر قبضہ کرنے میں تاخیر کی۔

    اور اگر سونے کو چاندی کے بدلے میں فروخت کریں تو اسی فریقین کی جانب سے اپنا اپنا حق اپنی تحویل میں لینا ضروری ہے، لیکن اس صورت میں مقدار مختلف ہو سکتی ہے۔

    مثال کے طور پر ایک گرام سونے کو دس گرام چاندی کے بدلے میں فروخت کرنا جائز ہے، لیکن مجلس عقد میں فریقین کی جانب سے اپنے اپنے حق پر قبضہ کرنا لازمی ہے۔

    اور نقدی نوٹ کو سونے اور چاندی کا حکم حاصل ہے، اس لئے کسی بھی کرنسی نوٹ کو تبدیل کرواتے ہوئے اسی جگہ اپنے قبضے میں لینا لازمی ہوتا ہے، اور اگر کرنسی نوٹ کی جنس [یعنی دونوں نوٹ ایک ہی ملک کی کرنسی ہو] تو انکی مالیت بھی برابر ہونا ایسے ہی لازمی ہے، جیسے قبضے میں لینا لازمی ہے، بالکل اسی طرح جیسے سونے کو سونے کے بدلے میں فروخت کرتے وقت ہوتا ہے۔

    انشورنس میں دونوں طرح کا سود پایا جاتا ہے، ربا الفضل بھی اور ربا النسئیہ بھی، اس کی تفصیل درج ذیل ہے:

    انشورنس سروس فراہم کرنے والی کمپنی کی طرف سے انشورنس شدہ شخص کے ورثاء کو معاہدے کے مطابق طے شدہ ملنے والی رقوم کی تین متوقع صورتیں ہو سکتی ہیں، جتنی رقم جمع کروائی گئی اسی کے مساوی، یا اس سے کم یا اس سے زیادہ۔

    اور ان تینوں صورتوں میں انشورنس کمپنی کی جانب سے مستحق شخص کو ملنے والی رقم اس شخص کو انشورنس کی اقساط [پریمیم]ادا کرنے کے بعد ہی ملتی ہے، اور مستحق شخص کی طرف سے ادائیگی کا یہ دورانیہ حقیقت میں مجہول ہے کہ کب تک اس نے اقساط جمع کروانی ہیں!

    چنانچہ حقیقت میں یہ معاہدہ ایک وقت ِمقررہ تک پیسوں کی پیسوں کیساتھ فروخت پر مشتمل ہے۔

    اب اگر ملنے والی رقم مستحق کی طرف سے ادا شدہ رقم کے برابر بھی ہو تو اس میں ربا النسیئہ ضرور ہے، اور اگر انشورنس کمپنی کی طرف سے ملنے والی رقم ادا شدہ رقم سے زیادہ یا کم ہے تو ہر ربا الفضل اور ربا النسیئہ دونوں ہیں، حالانکہ ربا الفضل الگ حرام ہے، اور ربا النسیئہ الگ حرام ہے، اور جب یہ دونوں ایک جگہ جمع ہو جائیں تو حرمت کس قدر شدید ہو جائےگی۔

    4- انشورنس لوگوں کے مال باطل انداز سے ہڑپ کرنے کی ایک شکل ہے:

    اللہ تعالی کا فرمان ہے:

    {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ }

    ترجمہ: اے ایمان والو! اپنے اموال کو باطل طریقوں سے مت کھاؤ، الّا کہ تم باہمی رضامندی سے تجارت کرو۔[النساء : 29]

    اور یہاں باطل سے مراد ایسے تمام طریقے ہیں جنہیں شریعت جائز قرار نہیں دیتی، چنانچہ اس میں چوری، خیانت، ڈاکہ، جوّا، سودی لین دین، اور غلط طریقے سے کی جانے والی تجارتی سرگرمیاں شامل ہیں، ابو حیان رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں یہی کہا ہے۔

    انشورنس معاہدہ لوگوں کا مال باطل انداز سے کھانے میں شامل ہے، اسکی وضاحت یہ ہے:

    اگر بیمہ والے شخص کو ملنے والی رقم ادا شدہ رقم سے زیادہ ہو، مثلاً: پہلی قسط ادا کرنے کے بعد ہی اس کا نقصان ہو گیا تو وہ اس اضافی رقم کا مستحق کیسے ٹھہرا؟

    اور اگر بیمہ والے شخص کا کوئی نقصان نہیں ہوا تو انشورنس کمپنی کس چیز کے بدلے میں بیمہ والے شخص کا مال ہڑپ کرتی ہے، حالانکہ بیمہ کمپنی نے اسے کوئی حقیقی فائدہ نہیں دیا۔

    جرمنی کے ایک اعداد و شمار کے ماہر کے مطابق یہ بات تحقیق میں سامنے آچکی ہے کہ انشورنس کمپنیوں کی طرف سے لوگوں کو معاوضے کی مد میں ادا شدہ رقم جمع ہونی والی تمام قسطوں کے مقابلے میں صرف 2.9٪ ہے۔

    تو انشورنس کمپنیاں کس چیز کے بدلے میں اتنی خطیر رقم کی مستحق بنیں؟ اس نے لوگوں کیلئے کیا پیش کیا؟

    5- انشورنس کے معاہدوں میں ایسی چیزوں کو لازم کیا جاتا ہے جو شرعی طور پر لازم نہیں ہیں۔

    چنانچہ انشورنس معاہدے میں انشورنس سروس فراہم کرنے والی کمپنی کو ضمانت دینے پر مجبور کیا جاتا ہے کہ اگر انشورنس زدہ چیز کو کچھ بھی ہوا تو کمپنی اس کی ضامن ہے! کس حق کی بنا پر کمپنی کو اس بات پر مجبور کیا جاتا ہے؟ انشورنس کمپنی نے نقصان تو نہیں کیا، اور نہ ہی انشورنس کمپنی کا اس نقصان میں بالواسطہ یا بلا واسطہ کوئی تعلق ہے، تو کس طرح سے اس کمپنی کو ضامن بنا دیا جاتا ہے جو کہ شرعی طور پر ضامن ہے ہی نہیں؟

    6- انشورنس کے نقصانات افراد اور پورے معاشرے پر نمایاں ہوتے ہیں۔

    مندرجہ بالا اشیاء کے ساتھ ساتھ انشورنس کے اور نقصانات بھی ہیں ، جن میں اہم ترین یہ ہیں:

    - بیمہ کے حامل افراد اپنی املاک کی حفاظت میں کوتاہی برتتے ہیں، اور انہیں خطرات سے نہیں بچاتے، بلکہ اس مرحلے سے بھی دو ہاتھ آگے بڑھ کر خود ہی حادثہ کر دیتے ہیں، جس سے لوگوں کا بہت زیادہ نقصان ہوتا ہے، مثال کے طور پر: بہت سے ڈرائیور گاڑی چلاتے ہوئے اپنا ، اپنی گاڑی یا ٹریفک قوانین کا بالکل بھی پاس نہیں رکھتے، جن کی وجہ سے لوگوں کو اور پورے معاشرے کو ٹریفک حادثات اور دیگر نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    چنانچہ مذکورہ بالا اسباب میں سے کوئی ایک سبب ہی تجارتی انشورنس کے حرام ہونے کیلئے کافی ہے، اور یہ کہ انشورنس کا معاہدہ سرے سے باطل ہے، اور لوگوں کا مال ہڑپ کرنے کے مترادف ہے، اور اگر تمام اسباب مل جائیں تو اس کی حرمت کس قدر شدید ہو جائے گی؟ آپ خود اندازہ کر سکتے ہیں۔

    یہی وجہ ہے کہ عصرِ حاضر کے علمائے کرام عام طور پر تجارتی انشورنس کے حرام ہونے کا فتوی دیتے ہیں، اور سعودی عرب کی کونسل برائے سینئر اسکالرزاور اسلامی فقہ اکیڈمی جدہ نے تجارتی انشورنس کو حرام قرار دیا ہے، اسی طرح اسلامی فقہ اکیڈمی مکہ مکرمہ کی جانب سے تجارتی انشورنس کے بارے میں سب کی اتفاق رائے سے یہ قرار داد پاس کی گئی کہ یہ حرام ہے، اور تمام علمائے کرام میں سے صرف ایک نے اس قرار داد کی مخالفت کی۔

    ہم نے ان قرار دادوں، اور فتاوی سے متعلقہ بہت سی چیزیں اپنی اس ویب سائٹ پر نقل کی ہیں۔

    تجارتی انشورنس کیلئے مکمل تفصیلی تحقیقات پڑھنے کیلئے رجوع کریں: "أبحاث هيئة كبار العلماء" (4/33- 315)

    واللہ اعلم.

    اسلام سوال و جواب

    http://islamqa.info/ur/130761
     
  2. ‏نومبر 29، 2015 #2
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521


    سیاحت اور روزگار کے سلسلے میں سعودی عرب جانے کے خواہش مند افراد کے لیے خبر ہے کہ سعودی کوآپریٹو ہیلتھ انشورنس کونسل نے آئندہ ماہ سے ملک آنے والے تمام غیرملکیوں کے لیے ہیلتھ انشورنس سرٹیفکیٹ لازمی قرار دے دیا ہے۔
    اس مقصد کے لیے کونسل نے 7 انشورنس کمپنیوں کو لائسنس دیئے ہیں جو غیرملکیوں کو ہیلتھ انشورنس سرٹیفکیٹ دیا کریں گی۔
    غیر ملکیوں کے لیے ہیلتھ انشورنس سرٹیفکیٹ کو لازمی قرار دینے کا فیصلہ گزشتہ سال 3 مارچ کو سعودی عرب کی مجلس شوریٰ (وزراء کونسل) کے اجلاس میں کیا گیا تھا جس پر اب عملدرآمد ہونے جا رہا ہے۔
    واضح رہے کہ ایک اندازے کے مطابق سالانہ 16 لاکھ سے زائد غیرملکی سیاحت اور روزگارکے لیے سعودی عرب کا رخ کرتے ہیں۔

    ح
     
    • معلوماتی معلوماتی x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  3. ‏نومبر 30، 2015 #3
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,985
    موصول شکریہ جات:
    6,510
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ !

    شیخ محترم @اسحاق سلفی بھائی کیا اسلام میں اس طرح کا انشورنس جائز ہے اور اگر حکومت لوگوں پر زبردستی انشورنس کا حکم دے تو اس کا گناہ کیا دونوں پر ہو گا -
     
  4. ‏نومبر 30، 2015 #4
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,402
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔
    محترم بھائی اس ہیلتھ انشورنس کی کیفیت و تفصیل میرے علم میں نہیں ۔اسلئے اس کے جائز یا ناجائز ہونے کے متعلق نہیں بتا سکتا ۔
    محترم شیخ خضر حیات صاحب اس سعودی پالیسی کی تفصیل بتا سکتے ہیں ۔۔

    ویسے ایک خبر میں بھی پڑھی تھی کہ :
    http://urdu.alarabiya.net/
    سعودی عرب: غیرملکیوں کی ہیلتھ انشورنس کے بغیر اقامہ ناممکن
    اکیس جنوری سے سختی شروع کر دی جائے گی
    بدھ 16 ربیع الاول 1436هـ - 7 جنوری 2015م

    ریاض ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ
    سعودی حکومت کے حالیہ فیصلے کے مطابق غیر ملکیوں کو اکیس جنوری سے ہیلتھ انشورنس کے بغیر سعودی عرب میں قیام کے لیے اقامہ جاری کیا جائے گا نہ پہلے سے جاری شدہ کسی اقامہ کی تجدید کی جائے گا۔ یہ بات سعودی عرب کے ڈائریکٹر جنرل پاسپورٹ نے بتائی ہے۔

    بتایا گیا ہے کہ یہ مہم محکمہ پاسپورٹ کو کونسل برائے کوآپریٹو پیلتھ انشورنس کی طرف سے سعودی محکمہ پاسپورٹ کو کی گئی درخواست کے بعد شروع کی جا رہی ہے۔ اس مہم کے نتیجے میں کسی غیر ملکی شہری یا اس کے اہل خانہ سمیت کسی کے بھی اقامہ کی اس وقت تک تجدید ہو سکے گی، نہ اقامہ کی مدت میں توسیع ہو گی اور نہ ہی انہیں نئے اقامے جاری ہو سکیں گے، جب تک کہ ان کے ہیلتھ انشورنس سرٹیفیکیٹ نہیں ہوں گے۔

    ڈائریکٹر جنرل پاسپورٹ کرنل خالد شیخان کا کہنا ہے کہ اقامہ کے لیے درخواست دینے والوں کے لیے لازم ہو گا کہ وہ اپنا پیلتھ انشورنس سرٹیفیکیٹ ہمراہ پیش کریں۔

    ڈائریکٹر جنرل کے مطابق اس سلسلے میں کونسل برائے کوآپریٹو ہیلتھ انشورنس غیر ملکیوں کی انشورنس کے حوالے سے ڈیٹا فراہم کرے گی اور اس کی روشنی میں اقامہ جاری کیا جائے گا یا اس کی تجدید کی جائے گی۔ انہوں نے کہا جن غیر ملکیوں کے ہیلتھ انشورنس سرٹیفیکیٹ نہیں ملیں گے انہیں اقامہ جاری نہیں ہو سکے گا۔

    اس سے پہلے ایک بیان میں کونسل برائے کوآپریٹو ہیلتھ انشورنس کی طرف سے کہا گیا تھا جو کفیل حضرات اپنے ملازمین اور ان کے اہل خانہ کی پیلتھ انشورنس کے حوالے سے ادائیگی نہیں کریں گے تو ان سے قانون کے مطابق سختی سے یہ وصولیاں کی جائیں گی۔ حتی کہ پہلے سے موجود واجب الادا رقوم بھی حاصل کی جائیں گی اور جرمانہ بھی وصول کیا جائے گا۔

    اس حوالے سے غیر ملکی شہریوں کا خیال ہے کہ ان کے تمام اہل خانہ کی ہیلتھ انشورنس سے متعلق فیصلہ کے بعد کمپنیاں تمام کارکنوں سے پریمیم کے معاملے میں سختی کریں گی۔

    واضح رہے سعودی عرب میں دس لاکھ کے قریب غیر ملکیوں کی انشورنس ہے اور ان کی ہیلتھ انشورنس کو مجموعی طور پر انتیس انشورنس کمپنیاں ڈیل کرتی ہیں۔

    توقع کی جا رہی ہے کہ دوہزار اٹھارہ تک خلیجی ممالک میں ہیلتھ انشورنس کی مارکیٹ کا حجم انہتر اعشاریہ چار ارب ڈالر ہو جائے گا۔ دوہزار تیرہ میں یہ حجم انتالیس اعشاریہ چار ارب ڈالر تھا۔
     
    Last edited: ‏نومبر 30، 2015
  5. ‏نومبر 30، 2015 #5
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,985
    موصول شکریہ جات:
    6,510
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ !

    شیخ محترم @خضر حیات بھائی
     
  6. ‏نومبر 30، 2015 #6
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,402
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    ہیلتھ انشورنس پر ۔۔ایک فتوی
    میڈیکل انشورنس کا حکم
    کسی پرائیویٹ ہسپتال کے شعبہ انشورنس میں بطور فی میل ڈاکٹر کا م کرنا کیسا ہے؟ میری ذمہ داری مطلوبہ مریض کی طبی رپورٹیں ، میڈیکل ٹیسٹ، اور آپریشن سے متعلقہ اشیاء انشورنس کمپنی کو ارسال کرنا ہے، تا کہ انشورنس کمپنی کی موافقت سےمطلوبہ کاروائی عمل میں لائی جائے، کیا ایسی ملازمت حرام ہے یا حلال؟ مجھے آپ سے اس مسئلے کی وضاحت مطلوب ہے۔

    الحمد للہ:



    اول:

    تجارتی انشورنس کی تمام تر اقسام حرام ہیں، اس میں زندگی، صحت، اور پراپرٹی تمام قسم کی انشورنس شامل ہیں، تاہم دو حالتوں میں انشورنس کروانا جائز ہوگا:

    1- انسان کو انشورنس کروانے کیلئے مجبور کر دیا جائے، جیسے کہ گاڑی وغیرہ کی انشورنس کیلئے مجبور کیا جاتا ہے، یا کوئی کمپنی اپنے ملازمین کیلئے میڈیکل انشورنس کو لازمی قرار دے، تو ایسی صورت میں گناہ مجبور کرنے والے پر ہوگا۔

    2- انسان میڈیکل انشورنس کا اتنا مجبور ہو جائے کہ اس کے بغیر مالی مشکلات کی وجہ سے علاج کروانا ناممکن ہو، تو ایسی صورت میں میڈیکل انشورنس متعدد علمائے کرام کے ہاں جائز ہے، کیونکہ میدیکل انشورنس میں حرمت کی وجہ ایک ہے اور وہ ہے جہالت[عدمِ تعین]، اس میں سود نہیں ہوتا، اور جس چیز کی صورت حال ایسی ہو تو ضرورت پڑنے پر وہ جائز ہوتی ہے۔

    میڈیکل انشورنس میں جہالت[عدم تعین]: کی وجہ یہ ہے کہ: انشورنس کروانے والا رقوم تو جمع کرواتا ہے ، لیکن وہ اس بات سے لا علم ہوتا ہے کہ وہ جمع شدہ رقم کے برابر علاج کی خدمت حاصل کریگا یا اس سے کم و بیش ۔

    اور انشورنس کی کچھ صورتیں ایسی ہیں جن میں جہالت کے ساتھ ساتھ ربا بھی ہوتا ہے، مثلاً: لائف انشورنس، کیونکہ اس انشورنس میں انشورنس کروانے والا اتنی اقساط جمع کرواتا ہے جنکی تعداد کا اسے بھی علم نہیں ہے، لیکن یہ لازمی ہے کہ وہ ادا شدہ رقم سے زیادہ ہی وصول کرتا ہے۔

    میڈیکل انشورنس ضرورت کے وقت جائز کہنے والے اہل علم میں : ڈاکٹر علی محی الدین قرہ داغی، داکٹر عبد الرحمن بن صالح اطرم، ڈاکٹر یوسف شبیلی، اور ڈاکٹر خالد دعیجی شامل ہیں۔

    یہ قاعدہ کہ "بنا بر جہالت حرام کردہ شے بوقتِ ضرورت مباح ہوتی ہے " متعدد اہل علم کا محورِ گفتگو رہا ہے چنانچہ :

    شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
    "بیع الغرر [ایسا تجارتی معاہدہ جس میں قیمت یا فروخت شدہ چیز متعین نہ ہو] سے اس لئے منع کیا گیا ہے کہ اس میں قمار بازی اور جوئےکی آمیزش ہے، جو کہ ناحق مال ہڑپ کرنے کے زمرے میں آتا ہے، چنانچہ اگر کسی [تجارتی معاہدے] میں اس کے بغیر چارہ نہ ہواور بڑے نقصان کا خدشہ ہو تو بیع الغرر اس وقت جائز ہو گی؛ تا کہ کم نقصان کو برداشت کر کے بڑے نقصان سے محفوظ رہا جائے، واللہ اعلم" انتہی
    "مجموع الفتاوى" (29/ 483)

    شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ مزید یہ بھی کہتے ہیں:
    "غرر [تجارتی معاہدے میں فروخت شدہ چیز کا عدمِ تعین ] کی وجہ سے ہونے والا نقصان سود کی وجہ سے ہونے والے نقصان سے کم ہے، اسی وجہ سے بعض مواقع پر بوقت ِضرورت اس کی رخصت دی گئی ہے ، کیونکہ ان مواقع پر ان اشیاء کی حرمت ان میں موجود غرر سے زیادہ نقصان دہ ہوتی ہے، مثال کے طور پر: مکان کی خرید و فروخت جائز ہے، چاہے آپکو کی اس مکان کی دیواروں، اور بنیادوں کیلئے استعمال شدہ مواد کے بارے میں علم نہ ہو، اسی طرح حاملہ جانور اور دودھ پلاتے جانور کی خرید وفروخت جائز ہے خواہ آپکو حمل اور دودھ کی مقدار کے بارے میں علم نہ ہو (اگرچہ الگ سے حمل کی خرید و فروخت ، اور اسی طرح اکثر علمائے کرام کے ہاں تھنوں میں موجود دودھ کی فروخت الگ سے کرنا منع ہے)،اسی طرح زرعی اجناس کی صلاحیت ظاہر ہونے کے بعد انکی خرید و فروخت جائز ہے،کیونکہ احادیث مبارکہ کے مطابق پھل یا زرعی اجناس کی صلاحیت ظاہر ہونے کے بعد ان کی خرید و فروخت کرنا ، اور انہیں فصل یا درخت پر باقی رکھنا درست ہے (حالانکہ خرید و فروخت کے بعد ان کا اپنی کونپلوں پہ لگے رہنے میں کچھ غرر کا اندیشہ موجود ہے۔مترجم) ، اسی بات کے جمہور اہل علم یعنی مالک، شافعی، اور احمد قائل ہیں، اگرچہ ابھی تک ان زرعی اجناس میں مکمل طور پر ایسی علامات پیدا نہیں ہوئی ہوتیں جن کے ظاہر ہونے پر ان زرعی اجناس کو مکمل تیار کہا جا سکے۔
    اور اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تابیر شدہ [عمدہ کھجوریں حاصل کرنے کیلئے کھجوروں کی سالانہ پیوند کاری۔ مترجم] کھجور کے درختوں کی فروخت کے وقت خریدار کو اجازت دی ہے کہ وہ تابیر شدہ پھل کی شرط لگا دے کہ وہ میرا [یعنی: خریدار کا] ہوگا، تو ایسی صورت میں خریدار کھجور کے درخت کے ساتھ ساتھ تابیر شدہ پھل کا اسکی مکمل صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے ہی مالک بن جاتا ہے ، چنانچہ ان مثالوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ضمنی اور تھوڑے بہت غرر [جہالت اور عدم تعین] کیساتھ تجارتی معاہدہ کرنا جائز ہے، جو کسی اور صورت میں جائز نہیں ہے " انتہی
    "الفتاوى الكبرى" (4/ 21)

    دوم:

    ہمیں یہی لگتا ہے کہ ہسپتال کے شعبہ انشورنس میں بطور طبیب کام کرنا جائز ہے؛ اور اسے حرام کام میں تعاون شمار نہیں کیا جاسکتا؛ کیونکہ بعض ڈاکٹر اور میڈیکل سے منسلک حضرات میں سے بھی ایسے ہیں جنہیں انشورنس کی ضرورت ہے، یا انہیں انشورنس کیلئے مجبور کیا گیا ہے، یا اسکی کمپنی سے زبردستی اسکی ، یا اسکے اہل خانہ کی انشورنس کروا دی جاتی ہے، اور ایسے حالات میں ان لوگوں کیلئے میڈیکل انشورنس سے فائدہ اٹھانا اور استعمال کرنا جائز ہے، جیسے کہ پہلے بھی اسکی وضاحت گزر چکی ہے، اس کے بعد ایسے لوگ باقی رہ جائیں گے جنہیں انشورنس کی ضرورت تو نہیں تھی لیکن پھر بھی انہوں نے انشورنس کروا لی تو ایسے لوگوں کو پہچاننا اور انہیں ضرورت مند لوگوں سے الگ کرنا مشکل ہے، اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی انہیں معاف فرمائے۔

    واللہ اعلم.

    اسلام سوال و جواب
     
  7. ‏نومبر 30، 2015 #7
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,985
    موصول شکریہ جات:
    6,510
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    جزاک اللہ خیر - شیخ محترم
     
  8. ‏نومبر 30، 2015 #8
    کنعان

    کنعان فعال رکن
    جگہ:
    برسٹل، انگلینڈ
    شمولیت:
    ‏جون 29، 2011
    پیغامات:
    3,564
    موصول شکریہ جات:
    4,376
    تمغے کے پوائنٹ:
    521

    السلام علیکم

    ابھی مصروف ہوں شام کو وقت ملا تو اس پر لکھتا ہوں۔

    والسلام
     
  9. ‏دسمبر 01، 2015 #9
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,777
    موصول شکریہ جات:
    8,337
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    سعودیہ میں انشورنس کی دو قسمیں کی ہوئی ہیں :
    1۔ تعاونی انشورنس : جو جذبہ خیر سے اور تعاونی علی البر و التقوی کے نقطہ نظر سے کچھ لوگ آپس میں کمیٹی ڈال لیں ، تاکہ اگر ان میں سے کسی کا کوئی نقصان ہو جائے ، یا ضرورت پڑ جائے تو اس کے ساتھ تعاون کیا جاسکے ، اس جمع شدہ مال کو تجارت میں بھی لگایا جاسکتا ہے ، لیکن نفع کسی خاص شخص کے لیے نہیں بلکہ اس پراجیکٹ کا ہی ہوگا ۔
    2۔ تجارتی انشورنس : معروف ہے ۔
    پہلی جائز ، جبکہ دوسری ناجائز ہے ۔ ( تفصیل)
    ہیلتھ انشورنس کو وہ پہلی قسم میں شمار کرتے ہیں ۔ واللہ اعلم ۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں