1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

تحریر((ظفراقبال ظفر))پاکستانی معاشرے میں عورت کی تذلیل اور اسلام کا تصور تحفظ نسواں:

'جامعہ لاہور الاسلامیہ' میں موضوعات آغاز کردہ از ظفر اقبال, ‏جنوری 28، 2017۔

  1. ‏جنوری 28، 2017 #1
    ظفر اقبال

    ظفر اقبال رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 22، 2015
    پیغامات:
    171
    موصول شکریہ جات:
    14
    تمغے کے پوائنٹ:
    56

    پاکستانی معاشرے میں عورت کی تذلیل اور اسلام کا تصور تحفظ نسواں:
    اسلام ایک مکمل ضابظہ حیا ت اور ضابطہ اخلاق ہے ۔دنیا میں پیش آمدہ ہر مسئلے کا حل اسلام پیش کرتا جس کی وجہ سے اسلام عالمگیر مذیب ہونے کا دعوی بھی کرتا ہے ۔اسلام تمام مذاہب عالم کے ماننے والوں کے لیے رہنما بن کر آیا ہے ۔کسی ملک اور اس کے رہنے والوں کا کوئی بھی مسئلہ ہو سوائے اسلام کےکوئی دوسرا مذہب اس کی رہنمائی پیش نہیں کر سکتا ۔وہ اجتمائی مسئلہ ہو یا انفرادی ‘معاشی مسئلہ ہویا اقتصادی ‘ مذہبی مسئلہ درپیش ہو یا سیاسی ‘اس مسئلے کا تعلق عبادات سے ہو یا معاملات سے ‘ حاجیات سے اس کا تعلق ہو یا تحسینیا ت سے ‘ امن و عافیت کا مسئلہ ہویا جنگ وجدل ‘مفاہمت و صلح کا مسئلہ ہو یا مخاصمت و فساد کا ‘ایجادات کا مسئلہ ہو یا تحقیق و ریسرچ کا ‘تعلیم و تعلم کا مسئلہ ہو یا عائلی زندگی کے رسم و رواج ہو ‘خریدوفروخت کا مسئلہ ہویا زراعت کا مسئلہ ہو۔ تہذیب و تمدن کا مسئلہ ہو یا ثقافت و کلچر کا مسئلہ ہو۔فیشن کا مسئلہ ہو یا زیب و زینت کا مسئلہ ہو۔ اخلاقیات اور ٹریفک کے مسائل ہو یا طہارت و نفاست کا مسئلہ ہو ‘ خانہ جنگی ہو یا عالمی دہشت گر دی ہو۔ انسانی احترام اور مقام و مرتبہ ہو یا باہمی لڑائی ہو ۔فرقہ ورایت ہو یا چوری اور ڈاکہ زنی ہو۔ تبدیلی مذہب کا مسئلہ ہویاذمیو ں اور معاہدوں کے حقوق کا مسئلہ ہو ۔ملکوں اور قوموں کی خارجہ و داخلہ پالیسی ہو ۔حتی کے انسانی زندگی سے لے کر موت اور اس کے بعد تجہیزوتکفین و قبر تک کے تمام مسائل کو بڑی ہی خوش اسلوبی کے ساتھ اسلام ان کی رہنمائی کرتا ہے ۔غرض کہ قیامت تک کے پیش آمدہ تمام مسائل کا حل اسلام بڑے واضع اور غیر مبیہم انداز میں پیش کرتا ہے ۔مگر افسوس صد افسوس کے 70 برس کا عرصہ بیت جانے کے بعد آج تک جو ستم ظریفی اس سنف نازک کے ساتھ کی گئی قلم و قرطاس لکھتے وقت لرز جاتے ہیں ۔وہ پاکستان جس کو کلمہ طیبہ کی بنیا د پرحاصل کیا تھا ۔جس کے حصول کا بنیادی مقصد انسانیت اور مسلمانوں کو تحفظ وآزادی اور سکون کی زندگی گزارنے کے لیے الگ مملکت کا قیام تھا۔ آخر مسلمان الگ مملکت کے حصول کے لیے کیوں لاکھوں قربانیا ں دینے اور عورتوں کی عزتوں کی قربانی تک دینے کو تیار ہو گئے ۔آخر کیا وجہ تھی اس مملکت خدا داد کے حصول کے وقت ہمیں ہماری آنکھوں کے سامنے آپنی ماں بہن بیٹی اور بہو کی عزت لٹتی دیکھنی پڑی اور عورتوں کی چھاتیا ں کٹتی دیکھنے پر مجبور ہو گے ۔کیا وجہ تھی کے ہمیں جائیدادیں اور بیوی بچے قربان کرنے پڑے ۔؟ تاریخ کی کتب کی ورق گردانی سے پتہ چلتا ہے کے ہندوستانی معاشرے میں ایک تو مسلمانوں کو مذہبی مشکلات تھیں اور دوسری بات مسلمانوں کی لٹتی عزتیں ان کے مردہ ضمیروں کو جھنجوڑنے لگیں اور غیرت مسلم ان کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لیے تئی دامن سے باہر آ چکی تھی ۔مسلمان اس گندی تہذیب سے آپنے ایمان اور حیا کی رہی سہی بسات لپیٹنے کے لیے ہجرت پر مجبور ہوئے ۔پھر ہجرت کے وقت جو خونی کھیل کھیلا گیا اور اس عورت پرجو قیامت برپا ہوئی کون نہیں جانتا ۔ یہ سب کچھ اس لیے آپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ کر برداشت کرنا پڑا کے ایک ریاست اسلامی کا قیام ممکن ہو سکے ۔اسلام بڑا واضع دین ہے جس کے ماننے والے اس عورت کے تحفظ کے لیے دنیا و ما فیھا کی قربانی دینے کو تیار ہو جاتے ہیں ۔ مگر اس کی نموس پر آنچ نہیں آنے دیتے ۔یہی وجہ تھی کے ایک غیرمسلم عورت کی پکار پر محمد بن قاسم سمندر پار سےاس کی مدد کو پہنچا اوروہ اس بہن کی پکار پرراجہ دہرکے تخت وتاج و روندتا ہوا ملتان کی سرزمین پر پہنچا۔مگر آج اسی پاکستان کی سر زمین پراس سنف نازک کے ساتھ ہوش ربا ظلم ڈہائے جا رہے ہیں۔نظریہ پاکستان اوراس مملکت خدا دادکےحصول کی خاطر قربانیاں دینے والوں کی قربانی پر سیاہی ڈال کر یہ ثابت کیا جا رہا ہے کہ تم نےاس ملک کوحاصل کر کے جرم کیا ہے ۔کیونکہ عورت سمجھنے لگی ہے کہ شاید میں ہندوستانی معاشرےمیں محفوظ تھی یہاں آ کر مجھے تنہا کردیا گیا ہے ۔ عورت جو کبھی با وقار ہوا کرتے تھی۔ فیشن اور مغربی تہذیب اوریورپ کے تصور حقوق نسواں و آزادی نسواں جیسے نعروں نے اس عورت کو آپنے مقام و مرتبہ سے خالی ذہن بنادیاہے ۔ وہ عورت جو کسی بھی معاشرے ‘قوم اور خاندان کی بنیادی اکائی ہے ۔ جس سےمعاشرےتشکیل پاتے ہیں ۔جو انسان کی اولین درسگاہ ہے ۔جو رحمت و شفقت کا اعلیٰ معیارہے ۔جو محبت و مودت کا سر چشمہ ہے ۔جس سے قومیں وجود میں آتی ہیں۔جس کے قدموں میں جنت رکھ دی گئی ہے۔جس عورت کو خیرمطاع الدنیا المرءۃ الصالح کا درجہ دیا گیا ۔افسوس سے کہنا پڑھا ہے کے آج قومیں اس کے وجود کو قبول کرنے کو تیار نہیں۔ کسی جگہ پر بیٹی کی پیدائش پر عورت پر طعن کیا جاتا ہے تو کسی جگہ اس پر معاشی بوجھ ڈال کر اس کو گھر کی چوکھٹ سے نکال دیا گیا ہے ۔ کسی جگہ اس پر پٹرول پھینک کر زندا جلا دیا جاتا ہے تو کسی جگہ چہیرے پر تیزاب پھینک کر اس کی ہستی کو مٹانے کی سر توڑ کوشش کی جاتی ہے ۔ کسی جگہ اس کی ناک کاٹ دی جاتی ہے تو کسی جگہ اس کے بال اور ہونٹ کاٹ دئیے جاتے ہیں ۔ کسی جگہ اس بیچاری کو غیرت کے نام پر قتل کر کے آپنے اوپر سے بوجھ (جسے وہ بوجھ تصور کرتے ہیں ) اسے ہلکا کر دیا جاتا ہے ۔کسی جگہ جہیز کم لانے کی صورت میں اس کو مارا پیٹا جاتا ہے تو کسی جگہ نائٹ کلبوں اور فائوسٹار ہوٹلوں میں اس کے جسم کی تجارت کی جاتی ہے ۔ کبھی اس کو اغواں کر کے زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا جاتا ہے تو کبھی اس کو بازار حسن کی ملکہ سمجھ کر فیشن شو ء اور سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کر دیا جاتا ہے ۔ افسوس کے ایسے واقعات دیکھ کر حقوق انسانی کی تنظیمں کیوں آنکھوں اور آپنی غیرت پرپردا ڈال لیتی ہیں ۔ ناجانے کیوں ان کو ملالہ جیسی عورتیں جو خود ساختہ ڈرامہ رچا کر اسلام کے نام کو بدنام کرنے کی کوشش میں میڈیا اور حقوق انسانی کی خاطر کام کرنے والی تنظیمں بے لگا ہو جاتی ہیں اور رینٹ کے تجزیہ نگار تجزیہ کرتے حواس باختہ ہو جاتے ہیں ۔لگتا ہے ان کو صرف ایک مظلوم عورت نظر آئی ہے باقی کشمیری ‘ فلسطینی ‘ شامی اور برمی مسلمان اور با حیا عور تیں نظر نہیں آتیں ۔ان کو ڈاکٹر عافیہ تو نظر نہیں آتی مگر ملالہ یوسف زئی ہی مظلوم عورت تھی جس کو ایوارڈ دیئے گے‘ تو کہیں اس کو ایزازی ڈگریوں سے نوازہ گیا ۔مگر تعلیم سے محروم اچھے رشتے نہ ملنے کی وجہ سے کتنی خود کشیاں کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں ۔کسی جگہ گھریلوں ملازمہ ہونے کی صورت میں چائے لیٹ لانے پر مصعوم ملازمہ کے چہرے پر گرم چائے پھینک کر اس کے چہر ے کو جلانے کے بعد تفتیش سے پتہ چلتا ہے کہ اس گھر کے مالک دو بھائی اور ان کا مالی اس سے کئی بار ذیادتی بھی کر چکے ہیں ۔اور یہ سب ستم ظریفی کوئی باہر سے آ کر کرنے والے نہیں اسی پاکستان کے باشندے اور مسلمان ہیں ۔
    شعر: یہ عزت مجھے آج تک کسی دشمن نے نہیں بخشی ....ہمیشہ دوست ہی کا ہاتھ پہنچا ہے گریباں تک
    قارئین کرام :بد امنی ‘فساد اور تعلیمی اداروں کے سامنے پبلک مقامات پر عورتوں سے چھیڑ چھاڑ آوارہ لڑکوں کا مشغلہ بنا ہوا ہے ۔خاندانی عنا پسندی کی وجہ سے قتل غیرت کے واقعات میں آئے روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔والدین آپنی بیٹی کی شادی پر ہزاروں نخرے برداشت کرتے ہیں اور لا کھ جتن جتاتے ہیں مگر بد بخت شوہر کم جہیز ‘ لڑکی کی پیدائش ‘ وغیرہ کی صورت میں اس بیچاری کا جینا دو بھر کر دیتا ہے ۔طعن و تشنی اور خاوند میا ں کے لڑائی جھگڑے روز کا معمول بن جاتے ہیں ۔لڑکی اور لڑکا ایک دوسرے کے والدین اور بہن بھائیوں کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتے ۔ نتیجہ طلاق اور خود کشی کی صورت میں نکلتا ہے ۔اگر اولاد کی تربیت اسلامی نہج پر کی جائے ۔بیٹی کو خاوند کی اطاعت و فرمابرداری کا درس دیا جائے ۔بیٹی آپنے سسرال اور بیٹا آپنے سسرال کی عزت کرے ۔ایک دوسرے کے بہن بھائیوں کو آپنے پر تر جیح دیں ۔ والدین آپنے بیٹے کی تربیت اس طررح کریں کہ بیوی کے حقوق فرائض اور شفقت و محبت کا درس دیں کہ کس قدر پیار اور محبت سے بیٹی کی پر ورش کی اور تیرے ساتھ رخصت کیا اب اس کے ساتھ ویسا پیار والامعاملہ کرنا اس کے لیے ہر اسائش کا انتظام کرنا اور اس کے آرام کا خیال رکھنااس کی ضروریات پوری کرنا ۔تو میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہو ہر گھر اور معاشرہ امن وعافیت اور مودت و محبت کا حسین منظر پیش کرے ۔ ہر گھر میں خوش گوار ماحول پیدا ہو ہر کوئی دوسرے کی عزت کرے اور ایک دوسرے کے حقوق و فرائض کا خیال رکھے تو یہی گھرانے جنت کی نظیر پیش کرنے لگیں ۔ ایک دوسرے کی خطائیں معاف کر دی جائیں اور برداشت اور صبر کا مظاہرہ کیا جائے تو اس خاندان کے بچے ایک اچھے معاشرے کے فرد بن جائیں گے۔ کوئی معاشرہ اور گھرانہ بھی برباد نہ ہو گا کسی کی بیٹی کو طلاق نہ ہو کسی کی بیٹی خود کشی کرنے پر مجبور نہ ہو ۔ اور کسی کی بیٹی گھر سے بھاگ کر کورٹ اور لو میرج کرنے کی جرت نہ کرے ۔ہر بیٹی والاداماد اور ہر بیٹے والا بہو کی احسان مند ہو اور ایک دوسرے کے شکر گزار ہوتو بہت جلد یہ گھرانے ایک اچھے اور خوس قسمت گھرانے بن جائیں گے ۔ہر بیٹی دوسر ے گھر جا کر خاوند کے والدین کو آپنے والدین اور خاوند کے بہن بھائیوں کو آپنے بہن بھائی تصور کریں تو کبھی بھی اختلافات پیدا نہ ہو ۔یاد رکھیں 95 فیصد طلاقیں عورت کے خاوند کے والدین اور بہن بھائیوں سے عدم برداشت کی وجہ سے ہوتی ہیں اور صرف 5 فیصد طلاقیں خاوند بیوی کی باہمی لڑائی جھگڑے کی وجہ سے ہوتی ہیں ۔
    عوورت کی تذلیل کی وجوہات:
    ٭اسلامی تعلیمات سے انحراف ۔
    ٭اسلامی تربیت کا فقدان ۔
    ٭غیر اسلامی رسم و رواج۔
    ٭ عورت کا آزاد اور بے پردہ گومنا ۔
    ٭ عدم برداشت۔
    ٭بیٹی اور بیٹے کے درمیا ن نا انصافی ۔
    مخلوط تعلیم اور لڑکے لڑکیوں کا آزادانہ میل جول ۔
    ٭ والدین کی اولاد کے رشتے کا انتخاب کرتے وقت دنیا کو ترجیح دینا اور دینی رشتے کا انتخاب نہ کرنا ۔
    ٭ غیر مسواوی نظام تعلیم ۔
    ٭ انٹر نیٹ ‘کیبل اور انڈرائیڈ موبائل کا بڑھتا رجحان جس نے ہر کسی کو اس کے فرائض سے غافل کر دیا ہے ۔
    ٭ عورت پر معاشی اور گھر کے کام کاج کی ذمہ درایوں کا بوجھ ڈال دینا ۔
    ٭ خاندانی عنا پسندی ۔
    ٭ عورت کا آپنی گھریلوں ذمہ داریوں سے انحراف ۔
    ٭ لاقانونیت اور فحاشی اور بے حیائی کے اڈوں کو تحفظ دینا جس کے نتیجے میں جس کا جو دل کرے من مانی کرنے کے لیے وہ کر گزرے اس کو کوئی پوچھنے والا نہ ہو ۔
    ٭ لوگوں کا قانون کو ہاتھ میں لے کر خود کی عورت کی زندگی اور موت کا فیصلہ کر گزرنے میں اسے کوئی شرمندگی محسوس نہ ہو ۔
    ٭ مغربی این جی اوز کا غیر اخلاقی رویہ ۔
    ٭ میڈیا کا غیر اخلاقی پر گرام نشر کرنا اور عورت کی آزادی کا نعرہ لگا ہر عورت کو گھر کے پاکیزہ ماحول سے باہر لا کھڑا کرنا اور آپنے حقوق کی خاطر اس کو سڑکوں اور چراہوں پہ جلسے اور جلوسوں میں آزادانہ گومنا۔
    ٭ عورت کو اشتہارات کی زینت بنا کر پیش کرنا ۔
    ٭عورت کو بڑے بڑے ہوٹلوں اور کلبوں کی زینت اور ماڈرن بنا کر پیش کرنا وغیرہ
     
    Last edited: ‏فروری 01، 2017
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں