1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تحریک اہل حدیث کادینی تصور: ایک مختصر نفسیاتی جائزہ

'سلفیت' میں موضوعات آغاز کردہ از عمر اثری, ‏ستمبر 22، 2016۔

  1. ‏مارچ 10، 2017 #21
    حافظ عبدالکریم

    حافظ عبدالکریم رکن
    جگہ:
    کڑمور
    شمولیت:
    ‏دسمبر 01، 2016
    پیغامات:
    138
    موصول شکریہ جات:
    25
    تمغے کے پوائنٹ:
    39

    جزاک اللہ خیرا
     
  2. ‏مارچ 10، 2017 #22
    حافظ عبدالکریم

    حافظ عبدالکریم رکن
    جگہ:
    کڑمور
    شمولیت:
    ‏دسمبر 01، 2016
    پیغامات:
    138
    موصول شکریہ جات:
    25
    تمغے کے پوائنٹ:
    39

    تحقیقی مضمون پڑھ کر بہت خوشی ہوی اللہ آپ کو جزائے خیر دے
     
  3. ‏اپریل 30، 2017 #23
    سرفراز فیضی

    سرفراز فیضی سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی۔
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 22، 2011
    پیغامات:
    1,091
    موصول شکریہ جات:
    3,772
    تمغے کے پوائنٹ:
    376

    یہ اور اس کے اوپر کا اقتباس مجھے لگ رہا ہے کہ مولانا حنیف ندوی کی تحریر ہے ۔ مولانا کے طرز بیان صاف جھلک رہا ہے ۔ اوپر کا اقتباس تو ایک جمعیت اہل حدیث پاکستان کی سائٹ پر مولانا حنیف ندوی کے ایک مضمون میں پڑھا بھی ہے میں نے ۔
     
  4. ‏اپریل 30، 2017 #24
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,333
    موصول شکریہ جات:
    1,074
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    محترم شیخ!
    یہ تو علامہ عبد الحمید رحمانی رحمہ اللہ کے مجموعہ مقالات سے ماخوذ ہے. اس سے زیادہ مجھے علم نہیں. آپ کو تو معلوم ہوگا کہ سیمینار ہوا تھا تو اس وقت مجموعہ مقالات منظر عام پر آئی تھی
     
  5. ‏اپریل 30، 2017 #25
    سرفراز فیضی

    سرفراز فیضی سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی۔
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 22، 2011
    پیغامات:
    1,091
    موصول شکریہ جات:
    3,772
    تمغے کے پوائنٹ:
    376

    کیا مجموعہ مقالات میں آپ نے خود دیکھی ہے یہ تحریر؟
    اس وقت مجموعہ ہے نہیں میرے پاس
    لیکن یہ بات پورے وثوق سے بول سکتا ہوں کہ یہ دونوں اقتباسات مولانا حنیف ندوی کی تحریر ہے ۔
     
  6. ‏اپریل 30، 2017 #26
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,333
    موصول شکریہ جات:
    1,074
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    جی ہاں
     
  7. ‏اپریل 30، 2017 #27
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,333
    موصول شکریہ جات:
    1,074
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    میں ان شاء اللہ تسلی کے لئے ایک بار اور دیکھ لوں گا.
     
  8. ‏جولائی 21، 2017 #28
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,661
    موصول شکریہ جات:
    8,301
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    یہ مضمون محدث میگزین لاہور میں بھی چند ماہ پہلے نشر کیا گیا تھا ، جس پر ایک صاحب علم دوست نے اسی بات کی طرف توجہ دلائی ہے ، جس کا ذکر فیضی صاحب نے کیا ہے ، انہوں نے مدیر محدث کے نام ایک خط لکھا ہے ، جو ذیل میں درج کیا جاتا ہے :
    ⁠⁠⁠محترم جناب ڈاکٹر حسن مدنی حفظکم اللہ
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    جنوری 2017 کا ماہنامہ محدث نظر سے گزرا. اس میں مولانا عبدالحمید رحمانی صاحب کے مقالات سے ماخوذ ایک مضمون بعنوان "تحریک اہلحدیث کا دینی تصور " شائع ہوا ہے.اس مضمون کے حوالے سے دو باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں. ایک کا تعلق اس مضمون کی معروضیت سے ہے اور دوسری کا موضوعیت سے.
    پہلی بات تو یہ ہے کہ اس مضمون کا انتساب مولانا عبدالحمید رحمانی کی طرف درست نہیں ہے.بات کی توضیح کے لیے محدث میں شائع شدہ اس منتخب مضمون کے تین حصے کیے جاسکتے ہیں.
    ا:پہلا حصہ ابتداء سے اس سرخی تک ہے جس کا عنوان دیا گیا ہے "جذبۂ حب رسول کا تقاضا" یہ سارا حصہ مولانا حنیف ندوی کا لکھا ہوا ہے. ان کا یہ مضمون "الاعتصام" میں "اہلحدیث کا تصور دینی" کے عنوان سے چھپا تھا. اس مضمون کا کچھ حصہ مولانا اسحق بھٹی صاحب نے اپنی کتاب "برصغیر میں اہلحدیث کی آمد" میں درج کیا ہے جس کے لیے انہوں نے سرخی لگائی ہے "مولانا حنیف ندوی کی ایک تحریر" (دیکھیے "برصغیر میں اہلحدیث کی آمد"صفحہ نمبر 294)
    ب :اس کے بعد دوسرا حصہ شروع ہوتا ہے جس کے لیے محدث میں سرخی لگائی گئی ہے "تحریک اہلحدیث کا تاریخی موقف اور اس کی خدمات" یہ حصہ صفحہ نمبر 60 کے اس جملے پر اختتام پذیر ہوتا ہے
    "اللہ تعالی ہمیں اتفاق, خلوص, اور عمل صالح کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہم اسلام اور اہل اسلام کے لیے مفید تر ثابت ہوسکیں"
    مضمون کا یہ دوسرا حصہ مکمل طور پر مولانا اسمعیل سلفی رحمہ اللہ کا لکھا ہوا ہے. یہ مضمون اسی عنوان کے ساتھ ان کے مجموعۂ مضامین موسوم بہ "تحریک آزادئ فکر اور شاہ ولی اللہ کی تجدیدی مساعی" کے صفحہ نمبر 157 پر دیکھا جاسکتا ہے.
    ج: اس کے بعد اس مضمون کا تیسرا حصہ ہے جس کا عنوان ہے "مختلف مکاتب فکر کے علماء کے اقوال"اس حصے کے متعلق غالب گمان یہی ہے کہ یہ حصہ مولانا عبدالحمید رحمانی ہی کا لکھا ہوا ہوگا.
    معلوم نہیں کہ مضامین کے انتساب میں یہ غلطی کہاں پر ہوئی کیونکہ مولانا عبدالحمید رحمانی کے متعلق تو اس بدگمانی کے لیے کوئی وجہ جواز نہیں کہ انہوں نے مولانا حنیف ندوی اور مولانا اسمعیل سلفی کے یہ مضامین جان بوجھ کر اپنی طرف منسوب کیے ہوں گے. ان کا مجموعۂ مقالات میرے پاس موجود نہیں ہے ورنہ اس ضمن میں یقین کے ساتھ کوئی بات کہی جاسکتی تھی.
    دوسری بات جس کا تعلق مضمون کی موضوعیت کے ساتھ ہے, یہ ہے کہ اس میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رح کے مسلک کی توضیح کے لیے ان کے سوانح الجزء اللطیف سے ایک فارسی عبارت پیش کی گئی ہے جو یوں ہے
    "وبعد ملاحظۂ کتب مذاہب اربعہ واصول فقہ ایشاں واحادیثے کہ متمسک ایشاں است قرارداد خاطر بمدو نورعینی روش فقہاء ومحدثین افتاد"
    اس عبارت میں "فقہاء ومحدثین" کے الفاظ پڑھنے سے ذہن میں اشکال پیدا ہوا کہ اگر شاہ صاحب کے الفاظ یہی ہیں تو جس مقصد کے لیے اس عبارت کو یہاں پیش کیا گیا ہے,وہ مقصد اس سے حاصل نہیں ہورہا. کیونکہ دوسرے حلقے میں پہلے ہی یہ بات زبان زد عام وخاص ہے کہ حدیث اور فقہ دو متوازی راستے ہیں جن کا باہم اتصال واجتماع کبھی نہیں ہوتا یا ہوتا بھی ہے تو شاذ ونادر. اس صورت حال میں یہاں "فقہاء ومحدثین" کے الفاظ ان کے اس خیال کو تقویت دیتے ہیں کہ شاہ صاحب بھی فقہاء اور محدثین کے دائرۂ ہائے کار الگ الگ قرار دیتے ہیں اور دونوں کی روش کو یہاں پسند فرمارہے ہیں.
    الجزء اللطیف تو میرے پاس ہے نہیں لیکن صحیح صورت حال جاننے کے لیے "مولانا سندھی اور ان کے افکار وخیالات پر ایک نظر" کی طرف رجوع کیا جہاں سے یہ عبارت نقل کی گئی تھی تو معلوم ہوا کہ سید سلیمان ندوی صاحب نے یہاں "فقہاء ومحدثین" کی بجائے "فقہاء محدثین" کے الفاظ نقل کیے ہیں. اور ان الفاظ سے جہاں یہ معاملہ سلجھ جاتا ہے کہ شاہ صاحب فقہاء حدیث کی روش کو پسند فرمارہے ہیں, وہیں یہ بھی پتا چل جاتا ہے کہ شاہ صاحب رح کےنزدیک محدثین رح "فقاہت" سے کورے نہیں ہوتے بلکہ اس سے بہرہ مند ہوتے ہیں.
    اس مضمون سے متعلق ان دو باتوں کی وضاحت قارئین محدث کے لیے ضروری تھی جس کے لیے یہ چند سطریں آپ کی جانب لکھی گئی ہیں. دعا ہے کہ اللہ تعالی دین کے اس کام میں آپ کا حامی وناصر ہو اور آپ کی کاوشوں کو شرف قبولیت سے نوازے. آمین
    طالب دعا
    حافظ محمد سرور لیکچرر گورنمنٹ کالج بورے والا
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں