1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تحقیق الحسن بصری سمع من ابی هریرۃ رضی الله عنه.!

'مراسیل' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عثمان رشید, ‏ستمبر 20، 2017۔

  1. ‏ستمبر 20، 2017 #1
    محمد عثمان رشید

    محمد عثمان رشید رکن
    جگہ:
    پاکستان فیصل آباد
    شمولیت:
    ‏ستمبر 06، 2017
    پیغامات:
    94
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    54

    حسن بصری رحمه الله علیه بهت بڑے محدث زبردست ثقه حجت امام تهے. حافظ ابن حجر نے انکے متعلق لکھا هے:
    "ثقه فقیه فاضل مشھور, وکان یرسل کثیرا ویدلس" نیز حافظ نے طبقات المدلسین میں کهتے هیں الامام المشھور من سادات التابعین رای عثمان وسمع خطبته ورای علیا ولم یثبت سماعه منه
    (التقریب ۱۲۲۷.)
    الفتح المبین فی تحقیق طبقات المدلسین میں حافظ زبیر علی زئی نے انکو تیسرے طبقه کے مدلس بتایا هے.
    انھوں نے بعض صحابه کو دیکھا اور بعض سے روایت کی.
    جیسا کے الحسن عن سمرۃ
    (التاریخ الاوسط للبخاری ج ۲ ص ۱۸۰,)
    الحسن عن جابر
    (نیل المقصود فی التعلیق علی سنن ابی داود زبیرعلی زئی رقم ۳۵۴. و الفتح المبین ص ۵۶ رقم ۴۰/ ۲)
    ان هی میں سے ایک روایت الحسن عن ابی هریرۃ هے
    هم ان شاءالله یهاں ان شبھات کا جائز لے گئے
    .
    سب سے پهلے پیش کی جانی والی روایت مسند ابی یعلی وسنن الدارمی ج ۲ ص ۳۸۲.
    سے هوتی هے جس کی سند میں ابوالمقدام مدنی جو کے ضعیف جدا هے. اور ابن الجوزی نے اس روایت کو (الموضوعات ج ۱ ص ۲۴۷.) پر درج کیا هے.
    .
    اس مضمون پر دوسری روایت مسند الطیالسی سے پیش کی جاتی هے.
    "حدثنا عباد بن راشد قال حدثنا الحسن قال حدثنا ابوهریرۃ...الحدیث"
    (مسند الطیالسی ج ۴ ص ۲۱۷, وفی نسخه ج ۲ ص ۷۶۵ ح ۲۵۹۴.)
    وقال علامه هیثمی بعد فی روایت:
    "فیه عباد بن راشد وثقه ابوحاتم وغیره وضعفه جماعه وبقیه رجال احمد الصحیح."
    (مجمع الزوائد ج ۱۰ ص ۶۲۴.)
    ومرۃ: رواه البزار وفیه عباد بن راشد وثقه ابن معین وغیره وضعفه ابوداود وغیره.
    (مجمع الزوائد ج ۱ ص ۱۰۶. رقم ۴۰۱.)
    وقال ذهبی فی تکلم فیه وهو موثق ص ۱۰۵ رقم ۱۷۳,
    "صدوق وقال النسائی لیس بالقوی"
    .
    ثقه عجلی وابن شاهین
    (الثقات عجلی ج ۲ ص ۱۶, رقم ۸۳۵. ثقات ابن شاهین ص ۱۷۱ رقم ۱۰۱۶.)
    رواه بخاری ج ۶ ص ۲۹ حدیث ۴۵۲۹. ورجال صحیح البخاری الهدایه والارشاد ج ۲ ص ۸۶۳ رقم ۱۴۵۸. مقرونا.
    وقال حافظ ابن حجر فی التقریب رقم ۳۱۲۶ ص ۳۷۶ صدوق له اوهام.
    .
    یه راویت کے راوی ثقه هیں مگر اس میں ایک علت هے کے حسن کا سماع ابوهریرۃ سے ثابت نهیں. اور چوں که حافظ نے اسکو صدوق له اوهام بتایا هے اسلئے عباد بن راشد کو اس میں بهی غلطی لگی. کیونکه ابوحاتم, ابوزرعه اور علامه المناوی نے بهی وهم وخطا کا حکم صادر کیا اور کیا بهی مطلقا هے اور محدثین کی جرح کے مطابق اس میں خطا هی معلوم هوتی هے. تفصیل آرهی هے.
    .
    اس موضوع پر دوسری راویت پیش کی جاتی هے.
    سنن النسائی ج ۲ ص ۱۰۴, الکبری ج ۵ ص ۲۷۶ حدیث ۱۲۲۵۶ وغیره.
    "عن اسحاق بن ابراهیم بن راهویه قال اخبرنا المخرومی وهو المغیره بن سلمه عن وهیب عن ابوب عن الحسن عن ابی هریرۃ قال قال رسول الله صلی الله علیه وسلم...قال الحسن لم اسمعه من احد غیر ابی هریرۃ"
    .
    علامه البانی رحمه الله اور شیخ احمد شاکر رحمه الله اس روایت کو بیان کرنے کے بعد کهتے هیں
    "قلت وهذا نص صریح منه انه سمعه من ابی هریرۃ, وهو ثقه صادق فلا ادری وجه جزم نسائی بنفی سماعه منه! مع انه السند الیه صحیح علی شرط مسلم"
    پهر علامه البانی نے حافظ کا کلام نقل کیا جو کے
    "وهذ اسناد لا یطعن فی احد من رواته وهو یوید انه سمع من ابی هریرۃ فی"
    پهر کهتے هیں
    "قلت: یعنی ان الذی تحرر فی اختلاف العلماء فی سماع الحسن من سمرۃ انه سمع شیئا."
    (سلسله صحیحه ج ۲ ص ۲۱۱ رقم ۶۳۲. نیز دیکھے مسند احمد مع حاشیه شیخ شاکر ج ۱۲ ص ۱۰۹ رقم ۷۱۳۸.)
    پهر ایک دوسری جگه لکهتے هیں:
    "حسن معروف بالتدلیس مع الاختلاف فی ثبوت سماعه من ابی هریرۃ کما حکی الطبرانی عقب الحدیث..."
    (سلسله ضعیفه ج ۱۴ ق ۱ ص ۲۹۴ رقم ۶۶۲۳.)
    .
    اور اس هی روایت کو مضبوط رکھتے هیں مگر همارے نزدیک یه روایت کے جن الفاظ سے حجت پکڑئی جاتی هے وه هی صحیح نهیں هے.
    کیونکه اس میں جو "حسن کا قول" هے وه قول تحریف یا مصحف هے یا کاتب کی غلطی هم ان شاءالله دلائل و براهین سے واضح کریں گئے.
    اول:
    یه هی روایت مسند احمد ج ۲ ص ۴۱۴ رقم ۳۴۶۱ ایک جلد والا نسخه میں روایت موجود هے مگر یهاں حسن کا کلام موجود نهیں حالانکه یه روایت بهی وهیب عن ایوب سے هی هے.
    اسکے علاوه یه روایت مسند ابی یعلی ج ۱۱ ص ۱۱۰ پر.
    وهاں بهی حسن کا قول موجود نهیں.
    امام بیهقی نے بهی اس راویت کو نقل کیا مگر وهاں بهی یه قول موجود نهیں
    (السنن الکبری للبیهقی ج ۷ ص ۳۱۶ رقم ۱۴۶۳۹؛)
    ثانی:
    علامه مزی نے اس راویت کو تحفه الاشراف میں ج ۹ ص ۳۱۹ ح ۱۲۲۵۶.
    پر نسائی کے حواله سے نقل کیا:
    "عن اسحاق بن ابراهیم بن راهویه قال اخبرنا المخزومی وهو المغیره بن سلمه عن وهیب عن ایوب عن الحسن به."
    پهر اسکے بعد لکھتے هیں
    "قال النسائی الحسن لم یسمع ابی هریرۃ شیئا ومع هذا انی لم اسمع هذا الا من حدیث ابی هریرۃ."
    .
    اصل الفاظ نسائی کے یه تهے جو کے کپھ کے کپھ بن گئے یه غلطی سنن الصغری میں اور الکبری دونوں میں موجود هے جو کے قدیم غلطی معلوم هوتی هے.
    یعنی امام نسائی بتانا یه چاهتے تهے کے حسن کا سماع جو هے ابو هریرۃ رضی الله عنه سے ثابت نهیں مزید یه کے ابن حزم نے (المحلی ج ۱۰ ص ۲۳۶.) پر نسائی سے نقل کیا الحسن لم اسمعه من ابی هریرۃ, حافظ ابن حجر نے الفتح الباری وتهذیب میں نقل کیا
    "قال الحسن لم اسمع من ابی هریرۃ غیر هذا الحدیث"
    یعنی کے اس میں اختلاف واقع هو کے صحیح کیا هے مگر هماری نظر میں راجح علامه مزی والا کلام هی هے.
    کیونکه بعض اوقات هوتا یوں هے کے تحریف ومصحف واقعه هونے کی وجه سے محدثین اسپر قیاس رائی نهیں بلکه جو چیز ان کو صحیح معلوم هوتی هے اسکے مطابق جواب دیتے هیں اگرچه وه چیز مصحف وتحریف هوتی هے.
    .
    اسکے چند مثالیں پیش خدمت هیں:
    ابوحاتم نے (العلل ج ۲ ص ۲۹۴, ۲۹۵ رقم ۲۳۸۸.) پر ایک روایت نقل کی اور سند بیان اسطرح کی:
    "رواه محمد بن ابی موسی الانصاکی عن حجاج بن محمد عن ابن جریج قال اخبرنی زیاد بن حمید عن انس قال رسول الله صلی الله علیه وسلم...الحدیث"
    اسکے بعد ابن ابی حاتم کهتے هیں میں نے اپنے والد سے اسکے متعلق پوحپها تو کهتے هیں:
    "زیاد لا یدری من هو وانما یروی هذا الحدیث عن حمید عن انس عن النبی صلی الله علیه وسلم."
    .
    اور یه بهی تصحیف هوئی جسکی وجه سے ابوحاتم کهتے هیں میں نهیں جانتا بلکه یه حدیث عن حمید عن انس مروی هے.
    حالانکه صحیح زیاد, عن حمید بن انس هے
    جو "عن" هے وه "بن" سے تصحیف هوگیا
    اور جو اس میں زیاد هے وه ابن سعد بن عبدالرحمن الخراسانی هے جس کو خود ابوحاتم نے ثقه بتایا هے
    (جرح وتعدیل ج ۳ ص ۵۳۳,)
    .
    نیز اس هی طرح یه صحیح سند نسائی میں بهی موجود هے
    "من طریق ابن جریج قال اخبرنا زیاد بن سعد عن حمید الطویل به."
    (سنن الکبری للنسائی ج ۴ ص ۳۷۶,)

    یعنی کے تحریف روح نما هونے کی وجه سے ابوحاتم بهی غلط کو پکڑ نه سکے اور انهوں اس کو صاف صاف کهه دیا کے میں نهیں جانتا.
    نمبر ۲:
    اس هیطرح تاریخ الکبیر للبخاری ج ۵ ص ۳۳۷ رقم ۱۰۳۷:
    "حدثنا علی بن یحیی ناجابر بن اسماعیل مولی المودیر عن عبدالرحمن."
    یه سند پوری کی پوری محرف هے.
    تفصیل دیکھے
    .
    ۱: حدثنا علی بن یحیی یه تحریف هے اصل میں یه علی بن بحر هے جو کے ابن بری القطان ابوالحسن البغدادی هے جو کے حاتم بن اسماعیل سے روایت کرتا هے
    دیکھے تهذیب الکمال للمزی ج ۲۰ ص ۳۲۵, ۳۲۶.
    .
    نمبر ۲:
    "جابر بن اسماعیل مولی المودیر جو کے تحریف هے اصل میں حاتم بن اسماعیل سے بدل گیا جو کے ابواسماعیل المدنی هے اور اس هیطرح ابن ابی حاتم نے جرح تعدیل میں نقل کیا ج ۷ ص ۵۸, ابوحاتم نے بخاری کی سند کو غنام والد عبدالرحمن بن غنام میں نقل کیا هے
    .
    نمبر ۳:
    "مولی المودیر"
    اور یه بهی تحریف هے
    اصل میں یه "الموذن" هے
    جو کے اسماعیل کی نسبت هے.
    اور صحیح سند اسطرح هے
    "علی بن بکر نا حاتم بن اسماعیل عن اسماعیل الموذن مولی عبدالرحمن بن غنام عن عبدالرحمن."
    .
    اور اس هی طرح یه سند حافظ لابن حجر نے الاصابه ج ۵ ص ۱۹۱ میں نقل کی اور ابن ابی حاتم نے جرح تعدیل ج ۷ ص ۵۸ پر نقل کی.

    نمبر ۳:
    مجمع الزوائد ج ۱۰ ص ۱۶۱
    پر علامه هیثمی ایک راوی "احمد بن عمیر النصیبی" کے متعلق کهتے هیں "لا اعرفه"
    جبکه یه روایت مجھول نهیں هے بلکه اس میں تحریف هوئی جسکی وجه سے علامه هیثمی نے اسکو مجھول بتایا
    یه راوی اصل میں "حماد بن عمرو النصیبی" هے جیسا کے الطبرانی الکبیر ج ۵ ص ۱۰۱ پر موجود هے.
    اور یه راوی متهم بوضع الحدیث هے.
    انظر لسان ج ۳ ص ۱۸۳.
    اسطرح ایک مثال اور دیکھے کے علامه هیثمی نے مجمع الزوائد ج ۸ ص ۹۸
    پر ایک روای "ابراهیم بن القاسم عنه الامام احمد بن حنبل"
    نقل کیا پهر کهتے هیں "لم اعرفه"
    حالانکه یه بهی تحریف هے
    اصل میں "ازهر بن القاسم" هے
    دیکھے مسند احمد ج ۵ ص ۷۹ والاطرافه للحافظ ج ۸ ص ۳۵۰.
    اور یه ازهر تهذیب الکامل ج ۲ ص ۳۹۲ کے رجال سے هے
    .
    خلاصه کلام:
    یه کے اس طرح کے تحریفات ومصحفات کی وجه سے بعض اوقات انسان وهم کا شکار هو جاتا هے اور حقائق واضح نه هونے کی بنیاد پر کپھ اور حکم لگا دیتا هے جیسا کے ابهی ائمه حدیث جو کے آپنے فن کے ماهر هیں ان سے غلطی هو جاتی هے.
    بهرحال جب یه بات واضح هو گی کے نسائی کے مطبوع نسخه میں غلطی هے جسکی وجه سے شیخ احمد شاکر, علامه البانی, حافظ وغیره متاثر هو گئے. والله اعلم.
    .
    نمبر ۴:
    نسائی کی مذکوره سند میں موجود راوی جو کے وهیب عن ایوب عن الحسن عن ابی هریرۃ موجود هے
    اور یه سند هی سماع کا انکار کرتی هے جو کے همارے موقف کو تائید اور سونے پر سوهگے کا کام کرتی هے. جس معلوم هوتا هے که غلطی هے اصل حقیقت کپھ اور تهی مگر بن کپھ اور گی.
    دیکھے
    "حدثنا علی بن الحسن نا احمد بن حنبل نا عثمان نا وهیب قال قال ایوب لم یسمع الحسن ابی هریرۃ."
    (المراسیل ابوحاتم رقم ۱۰۶. ورواته ثقات)
    نوٹ:
    یهاں بهی ایک غلطی هے کے احمد بن حنبل جس سے راویت کرتے هیں وه عثمان نهیں بلکه صحیح عفان هے مشھور مسلم کا راوی جو کے غلطی کے وجه سے عثمان بن گیا جیسا کے هم ابهی مثالوں سے واضح کر آئیں هیں کے غلطی هونے کی وجه سے کپھ کا کپھ بن جانا بعید نهیں نیز اسماء الرجال کا مطالعه کرنے والے لوگ بغوبی واقف هے
    یه هی راویت امام احمد کے بیٹے نے بهی نقل کی:
    "حدثنا ابی قال حدثنا عفان حدثنا وهیب قال قال ایوب لم یسمع من ابی هریرۃ."
    (مسائل امام احمد روایه صالح ص ۱۴۴. رواته ثقات ورجاله رجل صحیح)
    .
    لهذا ثابت هو گیا کے ایک تو نسائی میں غلطی کی وجه سے بعض غلطی کا شکار هو گئے, نمبر ۲ خود ایوب سختیانی نسائی کے راوی تهے اور انهوں نے هی خود سماع کا انکار کر دیا لهذا معلوم هوا راجح انکار هے سماع نهیں.
    .
    باقی رهی بات عباد بن راشد والی روایت کی تو عرض هے که ایک روایت ابن سعد وغیره سے بهی پیش کی جاتی هے ربیعه بن کلثوم والی اور یه جناب بهی حافظ کی تصرایح کے مطابق کپھ خطا رکهتے هیں
    اور ابوحاتم کی اس پر جرح بهی هے.
    مکمل دیکھے
    "سمعت ابا زرعه یقول لم سمع حسن ولم یره فقیل له فمن قال حدثنا ابوهریرۃ قال یخطی" اور اسطرح ابوحاتم نے بهی خطا کی جرح کی. اور علامه مناوی نے بهی وهم کا حکم لگایا علامه مناوی کے الفاظ هیں
    "کل مسند جاء فیه التصریح بسماعه منه یعنی الحسن عن ابی هریرۃ وهم."
    (المراسیل ابوحاتم ص ۳۶, ۳۷, وجامع التحصیل ص ۱۹۴, ۱۹۷, الفیض القدیر ج ۶ ص ۲۶۰, بحواله مسند ابی یعلی حاشیه ج ۸ ص ۴۱۸ محقق سعید بن السناری)

    ابوحاتم نے مراسیل رقم ۱۱۱ پر ربیعه بن کلثوم اور سالما بن الخیاط دونوں کے حدثنا سمعت پر انکار کیا اور وهم کا حکم گزر چکا. اصل دلیل نسائی کی تهی جسکو هم واضح کر چکے. ان علماء کے اقوال دیکھے مگر اس سے پهلے یه دیکھے کے ماهر رجال فن جب کسی چیز پر حکم لگاتا هے اور تمام چیزیں اسکے سامنے هوتی هیں تو اعتبار ماهر رجال کا هو گا جسیکی خاصی تفیصل اشارۃ کفایت الله سنابلی صاحب نے یزید بن معاویه پر اعتراضات کے جوابات پر امام بخاری کی جرح کے متعلق بیان کی. اور یهاں بهی العلل کے ائمه انکار کرتے هیں لهذا ان کی بات کو ترجیح هو گی. جیسا کتب العلل میں آج بهی دیکھا جاسکتا هے کے راویت کی سند کے سارے راوی ثقه هوتے هیں مگر پهر بهی راوی ضعیف موضوع هوتی هے جیسا کے رفع الیدین بروایه حضرت علی..!
    .
    ۱: طبرانی کے حواله سے ان کا کلام گزر چکا
    (طبرانی صغیر ص ۸۳ طبع هند.)
    ۲: امام دارقطنی قال "والحسن لم یثبت سماع من ابی هریرۃ."
    (کتاب العلل ج ۱۰ ص ۲۶۶ حدیث ۲۰۰۱.)
    ۳: امام ترمذی
    (جامع ترمذی طبع دارالسلام ص ۶۵۰ حدیث ۲۸۸۹ نیز ۲۷۰۳.)
    ۴: امام احمد ح ۸۷۲۷ ایک جلد والا نسخه

    ۵: امام بخاری نے تاریخ الکبیر ج ۲ ص ۳۵ پر کها
    "لا یصح سماع الحسن من ابی هریرۃ فی هذا"
    شیخ احمد شاکر نے اس قول پر کلام کیا.

    ۶: امام ابوبکر البزار ح ۴۱۶۱
    ۷: ابن حبان نے (المجروحین ص ۲۲۹.) ترجمه سالم بن عبدالله الخیاط
    کها لم یسمع الحسن عن ابی هریرۃ شیئا
    نیز دیکھے (المجروحین ج ۱ ص ۸۱.)

    ۸: ابن سعد
    (طبقات ابن سعد ۷/ ۱/ ۱۱۵.)
    ۹: علام مزی کا حواله گزر چکا.
    ۱۰: العلائی کا حواله گزر چکا.

    ۱۱: شعبه نے یونس بن عبیدالله سے حسن کے سماع کے متعلق پوحپها تو جواب دیا رآه قط
    (المراسیل ابوحاتم ص ۳۶, ۳۷.)
    ۱۲: امام احمد کے بیٹے صالح نے احمد سے پوحپها کے بعض لوگوں نے جو حدثنا کها تو احمد نے جواب دیا کے ابوحاتم نے سماع کا انکار کیا لم یسمع من ابی هریرۃ
    (ایضا)

    ۱۳: امام العلل علی بن مدینی
    (العلل ص ۶۱ رقم ۶۷.)
    ۱۴: قتاده
    (المراسیل ایضا)
    ۱۵: جریرا نے کها لم یسمع ولم یره
    (ایضا.)
    ۱۶: ابوحاتم
    (ایضا)
    ۱۷: ابوزرعه
    (ایضا)
    ۱۸: علامه زیعلی
    (نصب الرایه ج ۲ ص ۴۷۶ کتاب الصوم.)
    ۱۹: علامه ذهبی فی المیزان ج ۱ ص ۴۸۳ ت ۱۸۲۸.
    ۲۰: علی بن زید
    (المراسیل ایضا)
    ۲۱: ابن ملقن نے المقنع ج ۲ میں
    ۲۲: امام حاکم نے معرفه علوم الحدیث ۱۱۱ میں کها هے لم یسمع من ابی هریرۃ.

    ۲۳: شریف حاتم نے مرسل خفی میں کافی جگه پر حسن کے سماع کا انکار کیا
    (دیکھے ج ۱ ص ۴۷۲. وغیره.)
    .
    ۲۴: سلیم الهلالی نے بهی سماع کا انکار کیا
    (تخریج عمل الیوم اللیل ابن سنی رقم ۲۷۶.)
    .
    ۲۵: مسند ابی یعلی کے حواشیه سعید السناری نے
    ۲۶: شیخ ارشاد الحق اثری نے تفسیر سورۃ یسن کی تفسیر میں پهلے چند صفحات پر
    ۲۷: شیخ زبیر علی زئی صاحب نے الفتح المبین میں.
    .
    خلاصه تحقیق الحسن لم یسمع من ابی هریرۃ
     
  2. ‏ستمبر 22، 2017 #2
    محمد عثمان رشید

    محمد عثمان رشید رکن
    جگہ:
    پاکستان فیصل آباد
    شمولیت:
    ‏ستمبر 06، 2017
    پیغامات:
    94
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    54

    شکریه محترم عدیل سلفی صاحب.
     
  3. ‏ستمبر 22، 2017 #3
    محمد عثمان رشید

    محمد عثمان رشید رکن
    جگہ:
    پاکستان فیصل آباد
    شمولیت:
    ‏ستمبر 06، 2017
    پیغامات:
    94
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    54

    عبدالرحمن بن یحیی معلی کهتے هیں:
    "لم یسمع الحسن من ابی هریرۃ فالخبر منقطع."
    (الفوائد المجموعه ص ۳۰۳ رقم ۱۴ حاشیه ۱.)
     
  4. ‏دسمبر 25، 2017 #4
    صدیقی مصبور

    صدیقی مصبور مبتدی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 25، 2017
    پیغامات:
    6
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    4

    کہاں امام ابن حجر کا قول
    اور کہاں آپ مطابقت میں زبیر علی کا قول پیش کر رہے ہیں؟
    الله الله

    Sent from my Redmi 3S using Tapatalk
     
  5. ‏دسمبر 25، 2017 #5
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,649
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    مطابقت میں اتنی پریشانی لاحق ہے!
    لگدا اے سٹ ڈونگی لگی اے!
     
  6. ‏دسمبر 26، 2017 #6
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    السلام علیکم
    لکھتے وقت اردو تحریر استعمال کیا کریں۔ پڑھنے میں بہت دشواری ہو رہی ہے۔ دوسری بات مذکر مونث اور عربی عبارت میں صیغوں میں بھی بہت مسئلہ ہے جس سے سمجھنے میں تنگی ہو رہی ہے۔ بہت سی جگہوں پر عبارات مکمل بھی نہیں ہیں۔
     
    • متفق متفق x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  7. ‏دسمبر 27، 2017 #7
    محمد عثمان رشید

    محمد عثمان رشید رکن
    جگہ:
    پاکستان فیصل آباد
    شمولیت:
    ‏ستمبر 06، 2017
    پیغامات:
    94
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    54

    جی هم ان شاءالله خیال رکھے گئے اور اپنی غلطیوں کو دور کرنے کی کوشش بهی کریں گے.
     
  8. ‏دسمبر 28، 2017 #8
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,763
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    و علیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    عثمان بھائی جس طرح لکھتے ہیں ، اس میں ایک اور بڑا مسئلہ ہے، اس طرح لکھی گئی تحریریں اردو سرچ انجن میں نہیں آتیں ۔ کیونکہ یہ اصل میں اردو ہے ہی نہیں ، یہ عربی کی بورڈ ہے ، جس میں کمی بیشی کرکے اردو الفاظ داخل کیے گئے ہیں ۔
     
  9. ‏دسمبر 29، 2017 #9
    محمد عثمان رشید

    محمد عثمان رشید رکن
    جگہ:
    پاکستان فیصل آباد
    شمولیت:
    ‏ستمبر 06، 2017
    پیغامات:
    94
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    54

    جی محترم خضر حیات صاحب شکریه.
    اصل میں میرے پاس جو موبائل هے وه نوکیا کا هے جس میں اردو عربی فارسی تینوں زبان کا استعمال ایک کی بورڈ سے کر سکتے هیں اور میرے موبائل میں اس چیز کی اجازت هے,
    میں اپنے دوسرے معاملات میں بهی اس هی موبائل سے اردو استعمال کرتا هو بالکل ٹهیک نظر اور لکهی جاتی هے مگر اب مجھ کو اس فارم کا معلوم نهیں.
    بهرحال هم ان شاءالله کوشش کریں گئے که آگے سے اس چیز کا خیال رکھے.
    شکریه.
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں