1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تحقیق جہاد القسطنطنیہ اور یزید بن معاویہ / یعنی کمانڈر ابنِ کمانڈر

'تحقیق حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از lovelyalltime, ‏نومبر 16، 2014۔

موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔
  1. ‏نومبر 16، 2014 #1
    lovelyalltime

    lovelyalltime سینئر رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مارچ 28، 2012
    پیغامات:
    3,735
    موصول شکریہ جات:
    2,842
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    کیا یہ تحقیق صحیح ہے یا نہیں وضاحت چاہیے


    ماہنامہ الحدیث حضرو --- حافظ زبیر علی زئی --- تحقیق جہاد القسطنطنیہ اور یزید بن معاویہ / یعنی کمانڈر ابنِ کمانڈر


    امام بخاری اپنی صحیح میں "باب ما قيل في قتال الروم" میں روایت بیان کرتے ہیں کہ الله کے نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا

    أَوَّلُ جَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَغْزُونَ مَدِينَةَ قَيْصَرَ مَغْفُورٌ لَهُمْ


    میری امّت کا پہلا لشکر جو قیصر کے شہر (قسطنطنیہ) پر حملہ کرے گا وہ مغفور ہے


    بخاری کے شا رح المهلب کہتے ہیں کہ:

    قال المهلب : في هذا الحديث منقبة لمعاوية لأنه أول من غزا البحر ، ومنقبة لولده يزيد لأنه أول من غزا مدينة قيصر


    المهلب کہتے ہیں کہ اس حدیث میں منقبت ہے معاویہ کی کیونکہ ان کے دور میں بحری حملہ ہوا اور منقبت ہے ان کے بیٹے کی کہ انہوں نے سب سے پہلے قیصر کے شہر پر حملہ کیا -


    (بحوالہ فتح الباری شرح صحیح البخاری: كتاب الجهاد والسير: باب ما قيل في قتال الروم)

    اس کے برعکس ماہنامہ الحدیث حضرو شمارہ نمبر ٦ نومبر ٢٠٠٤ کے شمارے میں اہلحدیث عالم حافظ زبیر علی زئی لکھتے ہیں کہ:

    سنن ابی داود کی ایک حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یزید والے حملے سے پہلے بھی قسطنطنیہ پر حملہ ہوا ہے جس میں جماعت (پورے لشکر) کے امیر عبد الرحمن بن خالد بن الوليد تھے - چونکہ یہ حدیث ان لوگوں کے لئے زبردست رکاوٹ ہے جو ضرور بالضرور یزید کا بخشا ہوا ہونا ثابت کرنا چاہتے ہیں -



    yazed.jpg


    مزید آگے صفحہ ٨ پر لکھتے ہیں کہ:

    خلاصتہ التحقیق: یزید بن معاویہ کے بارے میں دو باتیں انتہائی اہم ہیں -

    ١: قسطنطنیہ پر پہلے حملہ آور لشکر میں اسکا موجود ہونا ثابت نہیں -

    ٢: یزید کے بارے میں سکوت کرنا چاہیے حدیث کی روایت میں وہ مجروح راوی ہے -

    ضروری ہے کہ تاریخی حقائق کو تسلیم کیا جائے اور کسی کو بھی اپنے بغض و عناد کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے -

    ابو عمرو خليفة بن خياط (المتوفى: 240هـ) اپنی کتاب تاريخ خليفة بن خياط میں لکھتے ہیں کہ:

    كتب عُثْمَان إِلَى مُعَاوِيَة أَن يغزي بِلَاد الرّوم فَوجه يَزِيد بْن الْحر الْعَبْسِي ثمَّ عَبْد الرَّحْمَن بْن خَالِد بْن الْوَلِيد عَلَى الصائفتين جَمِيعًا ثمَّ عَزله وَولى سُفْيَان ابْن عَوْف الغامدي فَكَانَ سُفْيَان يخرج فِي الْبر ويستخلف عَلَى الْبَحْر جُنَادَة بْن أَبِي أُميَّة فَلم يزل كَذَلِكَ حَتَّى مَاتَ سُفْيَان فولى مُعَاوِيَة عَبْد الرَّحْمَن بْن خَالِد بْن الْوَلِيد ثمَّ ولى عبيد اللَّه بْن رَبَاح وشتى فِي أَرض الرّوم
    سنة سِتّ وَثَلَاثِينَ


    عثمان رضی الله تعالیٰ عنہ نے اپنے دور خلافت میں معاویہ رضی الله تعالیٰ عنہ کو حکم لکھا کہ روم کے شہروں پر حملے کئے جائیں پس معاویہ نے توجہ کی يزيد بن الحر العبسِی کی طرف عبد الرحمن بن خالد بن الوليد کی طرف اور دونوں کو گرمیوں کے موسم میں امیر مقرر کیا پھر ہٹا دیا اور سفيان ابن عوف الغامدی کو مقرر کیا - سفيان ابن عوف الغامدی کو بری جنگ پر اور بحری معرکے پر جنادہ بن ابِی اميہ کو مقرر کیا اور ان کو معذول نہیں کیا حتیٰ کہ سفیان کی وفات ہوئی - اس کے بعد معاويہ عبد الرحمن بن خالد بن الوليد کو مقرر کیا اور ان کے بعد عبيد الله بن رباح کو روم کے شہروں کے لئے مقرر کیا سن ٣٦ ہجری تک -


    (تاريخ خليفة بن خياط: صفحہ ١٨٠ ، دار القلم ، مؤسستہ الرسالہ - دمشق ، بیروت)

    الذہبی (المتوفى: 748هـ) اپنی کتاب تاريخ سیر اعلام النبلاء میں سن ٣٢ ہجری کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ:

    سنة اثنتين وثلاثين فيها كانت وقعة المضيق بالقرب من قسطنطينية ، وأميرها معاوية .


    سن ٣٢ ہجری: اور اس میں المضيق کا واقعہ ہوا جو قسطنطنیہ کے قریب ہے ، اور اس کے امیر معاوية تھے -


    (سير أعلام النبلاء: سيرة الخلفاء الراشدين: سيرة ذي النورين عثمان رضي الله عنه: الحوادث في خلافة ذي النورين عثمان: سنة اثنتين وثلاثين)

    المضيق ایک استریت ہے اور اس سے مراد دردانیلیس ہے جو ایجین سمندر کو مرمرا سمندر سے ملاتا ہے اور ایک تنگ سمندری گزر گاہ ہے -

    لیکن ان تمام معرکوں کے باوجود اسلامی لشکر قسطنطنیہ نہیں پہنچ سکا -

    الذہبی اپنی کتاب تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام میں سن ٥٠ ھجری کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ:

    وَفِيهَا غَزْوَةُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ ، كَانَ أَمِيرُ الْجَيْشِ إِلَيْهَا يَزِيدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، وَكَانَ مَعَهُ وُجُوهُ النَّاسِ ، وَمِمَّنْ كَانَ مَعَهُ أَبُو أَيُّوبُ الْأَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ


    اور اس میں غزوہ القسطنطنیہ ہوا اور امیر لشکر عساکر یزید بن معاویہ تھے اور ان کے ساتھ لوگ تھے اور ابو ايوب الانصاری رضی الله عنہ بھی ساتھ تھے -


    ( تاريخ الإسلام: الطبقة الخامسة: حَوَادِثُ سَنَةِ خَمْسِينَ)

    مزید تفصیل أبي زرعة الدمشقي (المتوفى: 281هـ) بتاتے ہیں کہ

    أبي زرعة الدمشقي (المتوفى: 281هـ) اپنی کتاب تاريخ أبي زرعة الدمشقي میں لکھتے ہیں کہ:

    قَالَ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ : فَأَغْزَا مُعَاوِيةُ الصَّوَائِفَ ، وَشَتَّاهُمْ بِأَرْضِ الرُّومِ سِتَّ عَشْرَةَ صَائِفَةً ، تَصِيفُ بِهَا وَتَشْتُو ، ثُمَّ تُقْفِلُ وَتَدْخُلُ مُعَقِّبَتُهَا ، ثُمَّ أَغْزَاهُمْ مُعَاوِيَةُ ابْنُهُ يَزِيدَ فِي سَنَةِ خَمْسٍ وَخَمْسِينَ فِي جَمَاعَةٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسَلَّمَ فِي الْبَرِّ وَالبْحَرِ حَتَّى جَازَ بِهِمِ الْخَلِيجَ ، وَقَاتَلُوا أَهْلَ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ عَلَى بَابِهَا ، ثُمَّ قَفَلَ


    سعيد بن عبد العزيزکہتے ہیں کہ معاويہ نے الصوائف (گرمیوں کے موسم میں حملے) کیے اور سولہ حملے ارض روم پر کیے.......پھر یزید بن معاویہ نے ٥٥ ہجری میں اصحابِ رسول کی جماعت کے ساتھ سمندر اور خشکی کے ذریعہ حملہ کر کے خلیج کو پار کیا اور اہلِ قسطنطنیہ سے ان کے دروازے پر جنگ کی -


    (تاريخ أبي زرعة الدمشقي: ذِكْرُ خِلَافَةِ عُثْمَانَ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ......)

    عبد الرحمن بن خالد بن الوليد (المتوفى: ٤٦ هـ)

    عبد الرحمن بن خالد بن الوليد کے حوالے سے روایات میں بیان ہوا ہے کہ وہ اس لشکر کے اوپر امیر تھے جس نے قسطنطنیہ پر حملہ کیا - یہ روایت سنن ابی داؤد ، جا مع ترمذی ، تفسیر ابن ابی حاتم ، مستدرک حاکم وغیرہ میں بیان ہوئی ہے - تفسیر کی کتابوں میں یہ روایت اس لئے موجود ہے کہ اس میں سوره البقرہ کی ایک آیت {وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلاَ تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ} کا ذکر بھی آتا ہے - عبد الرحمن بن خالد بن الوليد کے حوالے سے تاریخ خلیفہ بن خیاط میں بیان ہوا ہے کہ ارض روم پر کسی حملے میں معاویہ رضی الله عنہ نے ان کو استعمال کیا تھا لیکن ان کے بعد اور لوگوں کو مقرر کیا جس سے ظاہر ہے کہ عبد الرحمن بن خالد بن الوليد کو ابتدائی دور میں امیر لشکر بنایا گیا تھا - سب سے اہم بات یہ ہے کہ ٣٢ ہجری میں خود معاویہ رضی الله عنہ بھی قسطنطنیہ کے پاس المضيق تک پہنچ پائے - اس سے صاف ظاہر ہے کہ عبد الرحمن بن خالد بن الوليد بھی قسطنطنیہ نہیں پہنچ سکے تھے -


    الذہبی اپنی کتاب تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام میں عبد الرحمن بن خالد بن الوليد کے لئے لکھتے ہیں کہ:

    وَكَانَ يَسْتَعْمِلُهُ مُعَاوِيَةُ عَلَى غَزْوِ الرُّومِ. وَكَانَ شَرِيفًا شُجَاعًا مُمَدَّحًا.


    ان کو معاویہ رضی الله تعالیٰ عنہ نے روم کے معرکے میں مقرر کیا اور یہ شریف ، بہادر اور ممدوح تھے -


    (تاريخ الإسلام: الطبقة الخامسة: تَرَاجِمُ أَهْل هَذِهِ الطَّبَقَةِ عَلَى تَرْتِيبِ.....)

    الذہبی جو ایک معتدل مؤرخ ہیں انہوں نے کہیں بھی عبد الرحمن بن خالد بن الوليد کے لئے قسطنطنیہ کے معرکوں کا ذکر نہیں کیا - وہ ان معرکوں میں شامل ہوۓ جو ارض روم کے مختلف شہروں میں ہوۓ - روم وسیع علاقہ تھا جس میں موجودہ ترکی اور قبرص و یونان کے جزائر بھی شامل تھے -

    اب ان روایات کی اسناد دیکھتے ہیں جن میں عبد الرحمن بن خالد بن الوليد کا قسطنطنیہ پر حملے کا تذکرہ آ رہا ہے - قسطنطنیہ کے حوالے سے یہ تمام روایات تقریباً ایک سند (حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ، وَابْنِ لَهِيعَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَسْلَمَ أَبِي عِمْرَانَ) سے آرہی ہیں لیکن اضطراب کا شکار ہیں جیسا کہ مندرجہ ذیل شجرہ کو دیکھنے سے ہوتا ہے -

    ١: سنن أبي داود

    غَزَوْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ نُرِيدُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ
    حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، وَابْنِ لَهِيعَةَ
    عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَسْلَمَ أَبِي عِمْرَانَ


    ٢: تفسير القرآن العظيم لابن أبي حاتم

    غَزَوْنَا الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ

    مَا قُرِئَ عَلَى يُونُسَ بْنِ عَبْدِ الأَعْلَى، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ، وَابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَسْلَمَ أَبِي عِمْرَانَ


    ٣: صحيح ابن حبان

    كُنَّا بِمَدِينَةِ الرُّومِ
    أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الضَّحَّاكِ بْنِ مَخْلَدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ: حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَسْلَمُ أَبُو عِمْرَانَ، مَوْلًى لِكِنْدَةَ


    ٤: المستدرك على الصحيحين

    غَزَوْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ نُرِيدُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ
    حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَسْلَمَ أَبِي عِمْرَانَ


    ٥: المستدرك على الصحيحين

    كُنَّا : بِالْقُسْطَنْطِينِيَّةِ
    حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَنَسٍ الْقُرَشِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، أَنْبَأَ حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَنْبَأَ يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، أَخْبَرَنِي أَسْلَمُ أَبُو عِمْرَانَ، مَوْلَى بَنِي تُجِيبَ


    ٦: الجامع الكبير - سنن الترمذي

    كُنَّا بِمَدِينَةِ الرُّومِ
    حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَسْلَمَ أَبِي عِمْرَانَ التُّجِيبِيِّ


    کبھی راوی کہتے ہیں

    غَزَوْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ نُرِيدُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ - ہم نے جنگ کی ایک شہر میں ہم قسطنطنیہ چاہتے تھے -

    غَزَوْنَا الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ ہم نے قسطنطنیہ میں جنگ کی

    كُنَّا بِمَدِينَةِ الرُّومِ ہم روم کے ایک شہر میں تھے

    كُنَّا بِالْقُسْطَنْطِينِيَّةِ ہم قسطنطنیہ میں تھے

    اسی اضطراب کی وجہ سے شاید یہ روایت صحیحن میں نہیں اور امام ترمذی بھی اس کو حسن صحيح غريب کا درجہ دیتے ہیں -

    دراصل عبد الرحمن بن خالد بن الوليد کے امیر لشکر ہونے کے حوالے سے صحیح بات یہی ہے کہ وہ "كُنَّا بِمَدِينَةِ الرُّومِ" ہم روم کے ایک شہر میں تھے اور "غَزَوْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ نُرِيدُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ" اور انہوں نے جنگ کی ایک شہر میں اور وہ قسطنطنیہ تک رسائی چاہتے تھے -

    منطقی نقطۂ نگاہ سے بھی یہ بات درست نہیں کہ عبد الرحمن بن خالد بن الوليد کی قیادت میں ہونے والا یہ حملہ پہلا تھا کیونکہ اگر یہ پہلا حملہ تھا اور قسطنطنیہ تک رسائی ہو گئی تھی تو پھر قسطنطنیہ پر سولہ حملوں کی کیا ضرورت تھی - اصل بات یہی ہے کہ یہ سارے حملے قسطنطنیہ تک بری راستہ بنانے کے لئے تھے کیونکہ قسطنطنیہ (موجودہ استنبول) ایک بندر گاہ تھی اور اس کا دفاع بہت اچھا تھا -

    اس روایت میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ ایک مسلمان کفار کی صفوں میں کود پڑا جس پر لوگوں نے کہا کہ اس نے اپنے آپ کو ہلاک کیا اور آیت {وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلاَ تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ} پڑھی اس پر ابو ايوب الانصاری رضي الله عنہ نے فرمایا کہ یہ آیت جہاد سے کنارہ کشی کرنے کی ہماری خواہش کی بنا پر نازل ہوئی تھی - اس کے برعکس امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ آیت {وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلاَ تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ} [البقرة: 195] کی تفسیر حذیفہ رضی الله تعالیٰ عنہ نے بیان کی ہے کہ:

    حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، {وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلاَ تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ}
    [البقرة: 195] قَالَ: «نَزَلَتْ فِي النَّفَقَةِ»

    یہ آیت انفاق کے بارے میں نازل ہوئی ہے -

    اس بحث کا خلاصہ ہے کہ تاریخ کی مستند کتابوں سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ یزید بن معاویہ قسطنطنیہ پر حملہ کرنے والے لشکروں میں شامل تھے - قسطنطنیہ پر دو دفعہ حملہ ہوا - ایک سن ٥٠ یا ٥١ ہجری میں ہوا اور اس میں ابو ايوب الانصاری رضي الله عنہ بھی ساتھ تھے - دوسرا حملہ سن ٥٥ ہجری میں ہوا اور اصحابِ رسول کی جماعت کے ساتھ سمندر اور خشکی کے ذریعہ حملہ کر کے خلیج کو پار کیا اور اہل قسطنطنیہ سے ان کے دروازے پر جنگ کی - ان دونوں حملوں میں سپہ سالار لشکر یزید بن معاویہ تھے -

    حدیث القسطنطنیہ پر شیعہ اعتراضات:


    تمام راویوں کا شامی ہونا وہی شام جو معاویہ ابن ابی سفیان اور اسکے بیٹے یزید کا دارلحکومت تھا اور یہاں کے لوگ سخت مخالفین اہلبیت تھے اور بنی امیہ کی شان میں احادیث گھڑنے میں مشہور تھے -

    جواب: اس روایت میں شامیوں کا تفرد نہیں - اس کے ایک راوی خالد بن معدان بن ابی كرب الكلاعی بھی ہیں -

    الأعلام الزركلي کے مطابق:

    خالد بن معدان بن أبي كرب الكلاعي، أبو عبد الله: تابعيّ، ثقة، ممن اشتهروا بالعبادة. أصله من اليمن، وإقامته في حمص (بالشام)


    خالد بن معدان بن ابی كرب الكلاعی ، ابو عبد الله یمنی تھے لیکن حمص شام میں رہتے تھے -


    (جلد ٢ ، صفحہ ٢٩٩ ، الناشر: دار العلم للملایین)

    یہ روایت اُمِ حرام بنت ملحان رضی الله تعالی عنہا کی ہے اور اُمِ حرام ، انس بن مالک رضی الله تعالی عنہ کی خالہ اور عبادہ بن الصامت رضی الله تعالی عنہ کی بیوی ہیں - مدینہ کی رہنے والی تھیں - یہ بھی شامی نہیں - مسلمان فتوحات کی وجہ سے بہت علاقوں میں پھیل گئے تھے - اگر اس اعتراض کو صحیح مانا جائے تو اس بنیاد پر تو علی رضی الله تعالی عنہ بھی کوفی کہلائیں گے -


    روایت کے دوسرے راوی ثور بن يزيد کے لئے لکھتے ہیں کہ:

    یحیی ابن معین (جن کے فن رجال کو تمام علماء مانتے ہیں) اس ثور کے متعلق لکھتے ہیں کہ یہ ثور اس جماعت میں شامل تھا جو علی ابن ابی طالب پر سب کرتے تھے (سب کا مطلب ہے برا کہنا اور گالیاں وغیرہ دینا) یحیی ابن معین کے الفاظ یہ ہیں: و قال فى موضع آخر : أزهر الحرازى ، و أسد بن وداعة و جماعة كانوا يجلسون و يسبون على بن أبى طالب ، و كان ثور بن يزيد لا يسب عليا ، فإذا لم يسب جروا برجلہ


    جواب: ثور بْن يزيد الكلاعي الشامي حمصي - یہ اہل حمص میں سے تھے - ابن معین کے الفاظ کا مطلب ہے: أزهر الحرازي اورأسد بْن وداعة علی کو گالیاں دتیے تھے وكان ثور بن يزيد لا يسب عليا اور ثور بن يزيد علی کو گالیاں نہیں دیتے تھے -

    (الكامل في ضعفاء الرجال از ابن عدی: جلد ٢ ، صفحہ ٣١٠ ، الکتب العلمیہ - بیروت - لبنان)

    اس بات کا تو مطلب ہی الٹا ہے ثور بن يزيد ، علی کو گالیاں نہیں دیتے تھے - ہاں یہ ضرور ہے کہ ابن سعد کے مطابق وہ لا أحب رجلا قتل جدى: علی کو اپنے دادا کے صفیں میں قتل کی وجہ سے نا پسند کرتے تھے -

    یزید بن معاویہ کی بیعت:

    ١: سب سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ یزید بن معاویہ کی بیعت سے لے کر متمکن خلافت ہونے تک کل دس سال ہیں یعنی سن ٥١ ہجری سے لے کر سن ٦٠ ھجری تک - اس دوران تاریخ سے یہ ثابت ہے کہ کسی نے مخالفت نہ کی لیکن معاویہ رضی الله عنہ کی وفات کے ایک سال بعد یعنی ٦١ ہجری میں حسین رضی الله عنہ نے اور عبد الله بن زبیر رضی الله عنہ نے خروج کیا - دونوں کو وہ عصبیت یا سپورٹ نہ مل سکی جو یزید بن معاویہ کو حاصل تھی - ان دونوں نے راست قدم اٹھایا یا نہیں - اس پر رائے زنی کرنے کا ہمارا مقام نہیں کیونکہ حسین رضی الله عنہ اور عبد الله بن زبیر رضی الله عنہ دونوں جلیل القدر ہیں -

    ٢: معاویہ رضی الله عنہ کا اپنے بیٹے کو خلیفہ مقرر کرنے کا عمل بھی قابل جرح نہیں کیونکہ اسلام میں خلیفہ مقرر کرنے کا حق خلیفہ کا ہی ہے جیسے ابوبکر رضی الله عنہ نے عمر رضی الله عنہ کو خلیفہ مقرر کیا - عمر رضی الله عنہ نے شہادت سے پہلے ایک کمیٹی مقرر کی - علی رضی الله عنہ نے شہادت سے پہلے اپنے بیٹے حسن رضی الله عنہ کو مقرر کیا - اسی طرح معاویہ رضی الله عنہ نے بھی علی رضی الله عنہ کی طرح اپنے بیٹے یزید کو مقرر کیا - اسلام میں موروثی خلافت کا نظریہ علی رضی الله عنہ نے ہی پیش کیا -

    ٣: حسن رضی الله عنہ نے علی رضی الله عنہ کی وفات کے سال ٤١ ہجری میں ہی خلافت سے دست برداری کا اعلان کر دیا - چونکہ وہ حسین رضی الله عنہ کے بڑے بھائی تھے اس لئے خاندانِ علی کے ایک نمائندہ تھے - معاویہ رضی الله عنہ کے دور میں دونوں بھائیوں کو وظیفہ بھی ملتا رہا - حسن رضی الله عنہ کی سن ٥٠ ہجری میں وفات ہوئی - سن ٥١ ہجری میں یزید بن معاویہ نے القسطنطنیہ پر حملہ کر کے امت میں اپنی امیر کی صلاحیتوں کو منوا لیا - اس حملے میں جلیل القدر اصحابِ رسول بھی ساتھ تھے - سن ٥١ ہجری میں معاویہ رضی الله عنہ نے یزید کی بیعت کی طرف لوگوں کو دعوت دی -

    بخاری نے سوره الاحقاف کی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ:

    باب {وَالَّذِي قَالَ لِوَالِدَيْهِ أُفٍّ لَكُمَا أَتَعِدَانِنِي أَنْ أُخْرَجَ وَقَدْ خَلَتِ الْقُرُونُ مِنْ قَبْلِي وَهُمَا يَسْتَغِيثَانِ اللَّهَ وَيْلَكَ آمِنْ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ فَيَقُولُ مَا هَذَا إِلَّا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ (17)}
    [الأحقاف:17]

    حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِى بِشْرٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ قَالَ كَانَ مَرْوَانُ عَلَى الْحِجَازِ اسْتَعْمَلَهُ مُعَاوِيَةُ، فَخَطَبَ فَجَعَلَ يَذْكُرُ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ، لِكَىْ يُبَايِعَ لَهُ بَعْدَ أَبِيهِ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِى بَكْرٍ شَيْئًا، فَقَالَ خُذُوهُ. فَدَخَلَ بَيْتَ عَائِشَةَ فَلَمْ يَقْدِرُوا عَلَيْهِ فَقَالَ مَرْوَانُ إِنَّ هَذَا الَّذِى أَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِ {وَالَّذِي قَالَ لِوَالِدَيْهِ أُفٍّ لَكُمَا أَتَعِدَانِنِي}. فَقَالَتْ عَائِشَةُ مِنْ وَرَاءِ الْحِجَابِ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ فِينَا شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ إِلاَّ أَنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ عُذْرِى.


    مروان جو معاویہ رضی الله تعالیٰ عنہ کی جانب سے حجاز پر (گورنر) مقرر تھے انہوں نے معاویہ کے بعد يزيد بن معاويہ کی بیعت کے لئے خطبہ دیا - پس عبد الرحمن بن ابی بكر نے کچھ بولا - جس پر مروان بولے اس کو پکڑو اور عبد الرحمن بن ابی بكر عائشہ رضی الله تعالیٰ عنہا کے گھر میں داخل ہو گئے - اس پر مروان بولے کہ یہی وہ شخص ہے جس کے لئے نازل ہوا ہے {وَالَّذِي قَالَ لِوَالِدَيْهِ أُفٍّ لَكُمَا أَتَعِدَانِنِي} - اس پر عائشہ رضی الله تعالیٰ عنہا نے پردے کے پیچھے سے فرمایا کہ ہمارے لئے قرآن میں سوائے برأت کی آیات کے کچھ نازل نہ ہوا -


    عائشہ رضی الله تعالی عنہا کی وفات ٥٧ ہجری کی ہے لہذا یہ واقعہ معاویہ ر ضی الله تعالیٰ عنہ سے کم از کم تین سال پہلے کا ہے -

    أبو عمرو خليفة بن خياط اپنی کتاب تاريخ خليفة بن خياط میں لکتھے ہیں کہ:

    فِي سنة إِحْدَى وَخمسين وفيهَا غزا يَزِيد بْن مُعَاوِيَة أَرض الرّوم وَمَعَهُ أَبُو أَيُّوب الْأنْصَارِيّ وفيهَا دَعَا مُعَاوِيَة بْن أَبِي سُفْيَان أهل الشَّام إِلَى بيعَة ابْنه يَزِيد بْن مُعَاوِيَة فأجأبوه وَبَايَعُوا


    اور سن ٥١ ہجری میں یزید بن معاویہ نے رومی سر زمین پر جہاد کیا اور ان کے ساتھ تھے ابو ايوب الانصاری اور اسی سال معاويہ بن ابِی سفيان نے اہل شام کو یزید بن معاویہ کی بیعت کی دعوت دی جس کو انہوں نے قبول کیا اور بیعت کی -


    (صفحہ ٢١١)

    بخاری مزید بیان کرتے ہیں کہ:

    باب إِذَا قَالَ عِنْدَ قَوْمٍ شَيْئًا، ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ بِخِلاَفِهِ


    حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ لَمَّا خَلَعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ جَمَعَ ابْنُ عُمَرَ حَشَمَهُ وَوَلَدَهُ فَقَالَ إِنِّى سَمِعْتُ النَّبِىَّ – صلى الله عليه وسلم – يَقُولُ «يُنْصَبُ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ». وَإِنَّا قَدْ بَايَعْنَا هَذَا الرَّجُلَ عَلَى بَيْعِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَإِنِّى لاَ أَعْلَمُ غَدْرًا أَعْظَمَ مِنْ أَنْ يُبَايَعَ رَجُلٌ عَلَى بَيْعِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، ثُمَّ يُنْصَبُ


    نافع کہتے ہیں کہ جب مدینہ والوں نے يزيد بن معاويہ کی بیعت توڑی تو عبدللہ ابن عمر رضی الله تعالیٰ عنہ نے اپنے خاندان والوں کو جمع کیا اور کہا کہ میں نے نبی صلی الله علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ہر دغا باز کے لئے قیامت کے دن ایک جھنڈا گاڑھا جائے گا - اور بے شک میں نے اس آدمی (یزید) کی بیعت کی ہے الله اور اس کے رسول (کی اتباع پر) اور میں کوئی ایسا بڑا عذر نہیں جانتا کہ کسی کی الله اور رسول کے لئے بیعت کی جائے اور پھر توڑی جائے -


    بخاری رحمتہ الله علیہ یزید بن معاویہ کو حسین رضی الله تعالیٰ عنہ کی شہادت کا ذمہ دار نہیں سمجھتے تھے بخاری بَابُ مَنَاقِبِ الحَسَنِ وَالحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا میں روایت کرتے ہیں کہ:

    حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي نُعْمٍ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، وَسَأَلَهُ عَنِ المُحْرِمِ؟ قَالَ: شُعْبَةُ أَحْسِبُهُ يَقْتُلُ الذُّبَابَ، فَقَالَ: أَهْلُ العِرَاقِ يَسْأَلُونَ عَنِ الذُّبَابِ، وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ ابْنَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ


    ابن ابی نعم کہتے ہیں میں نے عبد الله بن عمر کو سنا جب ان سے محرم کے بارے میں سوال ہوا کہ اگر محرم (احرام ) کی حالت میں مکھی قتل ہو جائے تو کیا کریں پس انہوں نے کہا اهل العراق مکھی کے بارے میں سوال کرتے ہیں اور انہوں نے رسول الله صلى الله عليہ وسلم کے نواسے کا قتل کیا -


    بخاری نے ابن عمر کی یہ روایت بیان کر کے قتل حسین کا بوجھ أَهْلُ العِرَاقِ پر بتایا اور أَهْلُ الشام کو اس کا ذمہ دار قرار نہ دیا -

    اس واقعہ (کربلا) کے ١٠٠ سال بعد ابو مخنف لوط بن یحییٰ نے جو اپنے زمانے میں آگ لگانے والا شیعہ مشہور تھا اور ایک قصہ گو تھا اس نے گھڑ کر مختلف قصے اس واقعہ سے متعلق مشہور کیے جن کو ذاکرین اب شامِ غریباں میں بیان کرتے ہیں جو نہایت عجیب اور محیر العقول ہیں مثلاً حسین کا ایک ایک کر کے اپنے رشتہ داروں کو شہید ہونے بھیجنا - ان کے قتل کے وقت آسمان سے خون کی بارش ہونا - آسمان سے ھاتف غیبی کا پکارنا - قبر نبی سے سسکیوں اور رونے کی آواز آنا - حسین کے کٹے ہوۓ سر کا نوک نیزہ پر تلاوت سوره کہف کرنا - وغیرہ


    رہی بات یزید بن معاویہ کی حدیث کی روایت کی تو یہ بھی غیر ضروری ہے کیونکہ یزید بن معاویہ نے کچھ روایت نہیں کیا - اور اصحاب رسول کی سینکڑوں اولادیں ہیں جنہوں نے کوئی روایت بیان ہی نہیں کی - لہذا یہ مسئلہ پیدا ہی نہیں ہو گا تو اس کو بیان کرنے کا فائدہ کیا ہے -

    انہی اختلافات پر امت میں پہلے سیاسی گروہ اور پھر مذہبی فرقے بنے ورنہ اس سے پہلے نہ عقائد کا اختلاف تھا نہ عمل میں کوئی بحث - آج ١٤٠٠ سال گذرنے کے باوجود ہم انہی مسئلوں میں الجھے ہوۓ ہیں جن کی تفصیل میں جانے کا فائدہ نہیں -

    فاعتبرو یا اولی الابصار!
     
  2. ‏نومبر 25، 2014 #2
    qamar abbas

    qamar abbas مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 24، 2014
    پیغامات:
    22
    موصول شکریہ جات:
    3
    تمغے کے پوائنٹ:
    24

    uploadfromtaptalk1416859537446.png اس میں کیا سچائ ہے
     
    Last edited by a moderator: ‏نومبر 28، 2014
  3. ‏نومبر 28، 2014 #3
    قاھر الارجاء و الخوارج

    قاھر الارجاء و الخوارج رکن
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2014
    پیغامات:
    393
    موصول شکریہ جات:
    235
    تمغے کے پوائنٹ:
    71

    جو حالت اس مصنف کی ہے وہی حالت اس کہانی کی ہے
     
  4. ‏مئی 25، 2016 #4
    abdullah786

    abdullah786 رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 24، 2015
    پیغامات:
    428
    موصول شکریہ جات:
    24
    تمغے کے پوائنٹ:
    46

    جناب
    حسین رضی اللہ عنہ عراق میں تھے تو عراقیوں نے ہی قتل کرنا تھا مگر یہ حکومت والے ہی تھے وہاں کے وہ لوگ جو حکومت کے حمایتی تھے ان کی فوج نے شھید کیا ہے اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ جب حسین رضی اللہ عنہ نے مکہ سے کوفہ جانے کا ارادہ کیا تو ابن عباس رضی اللہ عنھما نے ان کو روکنے کی کوشش کی اس پر حسین رضی اللہ عنہ نے ان کو جواب دیاکہ میں نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے کعبہ کی حرمت ماپال ہو۔ وہ کون لوگ تھے جو مکہ میں بھی شھید کرنا چاہتے تھے جبکہ سازشی تو کوفہ میں تھے اور ان کو وہاں بلا رہے تھے تو مکہ میں کون تھے جو ان کو شھید کرنا چاہتے تھے۔ یہ حکومت ہی تھی جو ان کو بلا رہے تھے وہ ان کے ساتھ ہی تھے ان کا شہادت حسین رضی اللہ عنہ میں کوئی ہاتھ نہیں تھا یہ حکومت وقت یعنی یزید ہی کے آلہ کار تھے جو یہاں بھی موجود تھے اور وہاں بھی موجود تھے اور انہوں نے ہی ان کو شھید کیا ہے۔ واللہ اعلم
    اور جہاں تک اپ کا یہ کہنا کہ اس کی تفصیل میں جانے کا کوئی فائدہ نہیں یہ اپ کی بھول ہے آج 1400 سے مسلمان اس خلافت کے لیے ترس رہے ہیں جو میں عدل انصاف سکون اور آزادی رائے تھی اس کو جنہوں نے برباد کر دیا ان کا اج تک دفاع ہوتا ہے کربلا ایک روشنی کا مینار ہے یہ نہیں ڈھ سکتا ہے۔
     
    • غیرمتفق غیرمتفق x 2
    • ناپسند ناپسند x 1
    • لسٹ
  5. ‏مئی 25، 2016 #5
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,339
    موصول شکریہ جات:
    713
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    تحقیق جب تک علماء کریں آپ یہ تو بتا دیں کہ عمر رضی اللہ عنہ اور ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا تو آپ کی نظر میں گارنٹڈلی جنت والے ہیں ۔ اگر ہاں تو آپکا قلم ان کے دفاع میں کیوں حرکت میں نہیں آتا؟
    دوسرا سوال حسین ابن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت اور حسن ابن علی کی شہادت میں سے آپکی نظر میں کیا فرق ہے اسی طرح صحابہ الکرام رضی اللہ عنہم کی شہادتوں پر بهی آپ ماتم کناں ہوتے ہیں یا معاملہ خاص یزید کا ہی ہے حسین کی آڑ میں ؟
     
  6. ‏مئی 25، 2016 #6
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,350
    موصول شکریہ جات:
    1,076
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    یہ لوگ دراصل بغض یزید میں اس قدر اندھے ہو گۓ ہیں کہ ان کو کچھ سجھائ نہیں دیتا.
    اللہ ہدایت عطا فرماۓ
     
    • متفق متفق x 3
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  7. ‏مئی 25، 2016 #7
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,339
    موصول شکریہ جات:
    713
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    بغض یزید کرتے رہیں ، اور کریں لیکن اس بغض کو حسین ابن علی کی محبت نا کہیں ۔
    یہ سب انکی مخصوص مجلسوں تک کیا کریں ۔ ہمارے گهروں میں ماتم حرام ہے ۔
     
  8. ‏مئی 25، 2016 #8
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,339
    موصول شکریہ جات:
    713
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    اس طرح کے خود ساختہ قصص بالکل وہی حیثیت رکهتے ہیں جیسے الف لیلوی کہانیاں ۔
    اگر کوئی ان داستانوں کی سچائی پوچہے تو جو جواب ہوگا وہی جواب اس شری صفحہ کا ہے ۔
     
    • متفق متفق x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
  9. ‏مئی 26، 2016 #9
    abdullah786

    abdullah786 رکن
    شمولیت:
    ‏نومبر 24، 2015
    پیغامات:
    428
    موصول شکریہ جات:
    24
    تمغے کے پوائنٹ:
    46

    جناب
    یہ اپ مجھے سے پوچھ رہے ہیں؟
     
  10. ‏مئی 26، 2016 #10
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,339
    موصول شکریہ جات:
    713
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    جی جناب
     
لوڈ کرتے ہوئے...
موضوع کا سٹیٹس:
مزید جوابات پوسٹ نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

اس صفحے کو مشتہر کریں