1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تحقیق درکار ہے: صدقہ اور قبر کی حرارت

'تحقیق حدیث' میں موضوعات آغاز کردہ از abu khuzaima, ‏جون 28، 2019۔

  1. ‏جون 28، 2019 #1
    abu khuzaima

    abu khuzaima رکن
    شمولیت:
    ‏جون 28، 2016
    پیغامات:
    66
    موصول شکریہ جات:
    12
    تمغے کے پوائنٹ:
    46

    برائے مہربانی اس روایت کی تحقیق بتادیں

    إنَّ الصَّدقةَ لتُطفيءُ عَن أهلِها حرَّالقبورِ ، وإنَّما يَستَظلُّ المؤمِنُ يومَ القيامةِ في ظلِّ صدقتِهِ
    (رواہ طبراني )

    Sent from my SM-G920F using Tapatalk
     
    Last edited by a moderator: ‏جون 29، 2019
  2. ‏جون 29، 2019 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    صدقہ عذاب قبر سے نجات ہے ؛
    امام ابوالقاسم سليمان بن أحمد الطبراني (المتوفى: 360هـ) اپنی کتاب "المعجم الکبیر " 787 ،میں روایت کرتے ہیں
    حدثنا يحيى بن عثمان بن صالح، ثنا سعيد بن أبي مريم، ثنا رشدين بن سعد، حدثني عمرو بن الحارث، وابن لهيعة، والحسن بن ثوبان، عن يزيد بن أبي حبيب، عن أبي الخير، عن عقبة بن عامر قال: قَالَ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم إِن الصَّدَقَة لتطفىء عَن أَهلهَا حر الْقُبُور وَإِنَّمَا يستظل الْمُؤمن يَوْم الْقِيَامَة فِي ظلّ صدقته»

    صدقہ روز قیامت صدقہ کرنے والے پر سایہ کرے گا۔
    رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : بلاشبہ صدقہ قبر والوں پر سے قبر کی گرمی اور شدت کو ختم کردیتا ہے ،اور روز محشر مومن اپنے دیئے گئے صدقہ کے سائے میں ہوگا ۔ { الطبرانی } (صحیح الترغیب ،للالبانی)
    علامہ عبد العظيم المنذري (المتوفى: 656 ھ) فرماتے ہیں :رَوَاهُ الطَّبَرَانِيّ فِي الْكَبِير وَالْبَيْهَقِيّ وَفِيه ابْن لَهِيعَة اس روایت کو امام طبرانیؒ نے المعجم الکبیر میں روایت کیا اور اس کی اسناد میں ابن لھیعہ (کمزور راوی ) واقع ہے "
    (الترغيب والترهيب1291)
    اور علامہ ناصر الدین البانیؒ سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ (جلد 7 ص1413 )میں اس حدیث کو درج کرکے اس پر طویل کرتے ہیں ،اور خلاصۃ الکلام کے طور پر لکھتے ہیں :
    علامہ عبد العظيم المنذري (المتوفى: 656 ھ) اور علامہ نُورِ الدِّينِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي بَكْر الهَيْثَمِي المتَوَفَّى سنة 807 هـ نے
    اس کی اسناد میں ایک کمزور راوی ابن لھیعہ کی نشاندہی کی ہے ،لیکن تحقیق یہ ہے کہ اس متن کی روایت میں ابن لھیعہ کی متابعت ہونے کے سبب اس کی اسناد جید ہے ،
    وجملة القول؛ أن إسناد الطبراني جيد بالمتابعات المذكورة: (عمرو بن
    الحارث) ، و (ابن لهيعة) ، و (الحسن بن ثوبان) عن يزيد بن أبي حبيب.
    وبهذا التحقيق يتبين تقصير المنذري في قوله في «الترغيب» (2/25) :
    «رواه الطبراني في «الكبير» ، والبيهقي، وفيه ابن لهيعة» !
    ونحوه قول الهيثمي في «المجمع» (3/110) :
    «رواه الطبراني في «الكبير» ، وفيه ابن لهيعة، وفيه كلام» !
    ففاتهما متابعة الحسن بن ثوبان وعمرو بن الحارث المقوية له، مما ورطني قديماً
    ـ وقبل طبع «المعجم الكبير» ـ أن أخرج الحديث في «الضعيفة» برقم (3021)
    متابعة مني لهما، ولا يسعني إلا ذلك؛ ما دام المصدر الذي عزواه إليه لا تطوله
    يدي؛ كما كنت بينت ذلك في مقدمة كتابي «صحيح الترغيب» ، أما وقد وقفت
    عليه الآن، وعلمت أن ابن لهيعة قد توبع ـ خلافاً لما أوهما ـ؛
    _____________
    عَنْ الحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الصَّدَقَةَ لَتُطْفِئُ غَضَبَ الرَّبِّ وَتَدْفَعُ مِيتَةَ السُّوءِ»: «هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الوَجْهِ»
    سنن الترمذي 664

    سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: 'صدقہ رب کے غصے کو بجھا دیتاہے اور بری موت سے بچاتاہے'۔امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
    نوٹ:( حدیث کا پہلا ٹکڑا صحیح ہے )
    (سندمیں حسن بصری مدلس ہیں اورروایت عنعنہ سے ہے، اورعبداللہ بن عیسیٰ الخزارضعیف ہیں لیکن پہلے ٹکڑے کے صحیح شواہد موجودہیں دیکھئے الصحیحۃ رقم:۱۹۰۸)
    اور صحیح حدیث ہے :
    عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ
    صحیح بخاری 1417
    عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سنا کہ جہنم سے بچو اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا دے کر ہی سہی ( مگر ضرور صدقہ کرکے دوزخ کی آگ سے بچنے کی کوشش کرو )

    عَنْ فَضَالَةَ بن عُبَيْدٍ مرفوعا: اجْعَلُوا بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ النَّارِ حِجَابًا وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ.
    فضالہ بن عبید ؓمرفوعا بیان كرتے ہیں: اپنے اور آگ كے درمیان پردہ حائل كر دو اگر چہ ایك کھجور کے ٹکڑے کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو ۔
    صَحِيح الْجَامِع: 153 , والصحيحة: 897

    عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَتِرَ مِنْ النَّارِ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَلْيَفْعَلْ
    عدیبن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت کی، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فر ما تے ہو ئے سنا :" تم میں سے جو شخص آگ سے محفوظ رہنے کی استطا عت رکھے چا ہے کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے سے کیوں نہ ہو وہ ضرور (ایسا ) کرے ۔
    صحیح مسلم ،کتاب الزکوٰۃ

    وَعَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَجَلِيِّ رضي الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم : "مَنْ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَتِرَ مِنْ النَّارِ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَلْيَفْعَلْ "
    (مسلم) 66 - (1016) , (ترمذي) 2415 , (ابن ماجة) 185 , (خ) 1413 , 6023
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    • علمی علمی x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں