1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تحقیق واقعہ

'تاریخی روایات' میں موضوعات آغاز کردہ از عمر اثری, ‏نومبر 21، 2015۔

  1. ‏نومبر 21، 2015 #1
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,350
    موصول شکریہ جات:
    1,078
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
    حضرت عمر رضى الله عنه کے قبول اسلام کے واقعے کی تحقیق درکار ھے.
     
  2. ‏نومبر 21، 2015 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,361
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ؛؛
    اس کی تفصیل کیلئے آپ ’’ الرحیق المختوم ‘‘ کا مطالعہ فرمائیں ۔۔جو کتاب و سنت لائبریری سے ڈاون لوڈ کی جا سکتی ہے ؛
    ’ الرحیق المختوم ‘‘ کے متعلقہ باب کا متن پیش خدمت ہے ،جو (منقول از اردو مجلس ) :
    حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام:
    ظلم و طغیان کے سیاہ بادلوں کی اس گھمبیر فضا میں ایک اور برق تاباں کا جلوہ نمودار ہوا جس کی چمک پہلے سے زیادہ خیرہ کن تھی، یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنی مسلمان ہو گئے۔ انکے اسلام لانے کا واقعہ 6 سن نبوی کا ہے۔(63) وہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کے صرف تین دن بعد مسلمان ہوئے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انکے اسلام لانے کے لئے دعا کی تھی۔ چنانچہ امام ترمذی نے ابن عمر سے روایت کیا ہے اور اسے صحیح بھی قرار دیا ہے۔ اسی طرح طبرانی نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اور حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
    اَ لّٰھُمَّ اَعِزَّ الاِسلاَمِ بِاَحَبِّ الَّجُلَینِ اِلَیکَ بعمر بن الخطاب اَو بِاَبِی جہل بن ہشام۔
    ترجمہ: اے اللہ! عمر بن الخطاب اور ابو جہل بن ہشام میں سے جو شخص تیرے نزدیک زیادہ محبوب ہے اسکے ذریعے سے اسلام کو قوّت پہنچا۔
    اللہ نے یہ دعا قبول فرمائی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسلمان ہو گئے۔اللہ کے نزدیک ان دونوں میں زیادہ محبوب حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے۔(64)
    حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے سے متعلق جملہ روایات پر نظر ڈالنے سے واضح ہوتا ہے کے انکے دل میں اسلام رفتہ رفتہ جاگزیں ہوا۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان روایات کا خلاصہ پیش کرنے سے پہلے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مزج اور جذبات و احساسات کی طرف بھی مختصرا" اشارہ کر دیا جائے۔
    حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنی تند مزاجی اور سخت خوئی کے لئے ،مشہور تھے۔مسلمانوں نے ایک طویل عرصے تک انکے ہاتھوں طرح طرح کی سختیاں جھیلی تھیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان میں متضاد قسم کے جذبات باہم دست و گریباں تھے،چنانچہ ایک طرف تو وہ آباؤ اجداد کی ایجاد کردہ رسموں کا بڑا احترام کرتے تھے اور بلا نوشی اور لہوولعب کے دلدادہ تھے لیکن دوسری طرف وہ ایمان اور عقیدے کی راہ میں مسلمانوں کی پختگی اور مصائب کے سلسلے میں انکی قوت برداشت کو خوشگوارحیرت و پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔پھر انکے اندر کسی بھی عقلمند آدمی کی طرح شکوک و شبہات کا ایک سلسلہ تھا جو رہ رہ کر ابھرتا تھا کہ اسلام جس چیز کی دعوت دے رہا ہے غالبا" وہی زیادہ برتر اور پاکیزہ ہے۔اسلئے انکی کیفیت دم میں ماشہ دم میں تولہ کی سی تھی کہ ابھی بھڑکے اور ابھی ڈھیلے پڑ گئے۔(65)
    حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کے متعلق تمام روایات کا خلاصہ مع جمع و تطبیق --------- یہ ہے کہ ایک دفعہ انہیں گھر سے باہر رات گزارنی پڑی۔وہ حرم تشریف لائے اور خانہ کعبہ کے پردے میں گھس گئے۔اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے اور سورۃ الحاقّہ کی تلاوت فرما رہے تھے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ قران کی تلاوت سننے لگے اور اسکی تالیف پر حیران رہ گئے۔ ان کا بیان ہے کہ میں نے اپنے جی میں کہا: " خدا کی قسم یہ تو شاعر ہے جیسا کہ قریش کہتے ہیں" لیکن اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔
    إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ
    وَمَا ھُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِيلا مَا تُؤْمِنُونَ

    ترجمہ: یہ ایک بزرگ رسول کا قول ہے۔یہ کسی شاعر کا قول نہیں ہے۔تم لوگ کم ہی ایمان لاتے ہو۔
    سورہ الحاقّہ: 40-41
    حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے ------- اپنے جی میں------- کہا: (اوہو) یہ تو کاہن ہے۔ لیکن اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی:
    وَلا بِقَوْلِ كَاھِنٍ قَلِيلا مَا تَذَكَّرُونَ
    تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ ۔(الیٰ اٰخر السورۃ)

    ترجمہ: یہ کسی کاہن کا قول بھی نہیں،تم لوگ کم ہی نصیحت قبول کرتے ہو۔ یہ اللہ رب العالمین کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔
    سورۃ الحاقّہ: 42-43 ( اخیر سورہ تک)
    حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے اس وقت میرے دل میں ایمان جاگزیں ہو گیا۔(66)
    یہ پہلا موقع تھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دل میں اسلام کا بیج پڑا، لیکن ابھی انکے اندر جاہلی جذبات، تقلیدی عصبیت اور آباءاجداد کے دین کی عظمت کے احساس کا چھلکا اتنا مضبوط تھا کہ نہاں خانہ دل کے اندر مچلنے والی حقیقت کے مغز پر غالب رہا، اس لئے وہ اس چھلکے کی تہہ میں چھپے ہوئے شعور کی پرواہ کئے بغیر اپنے اسلام دشمن عمل میں سرگرداں رہے۔ انکی طبعیت کی سختی اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فرط عداوت کا یہ حال تھا کہ ایک روز خود جناب محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کا کام تمام کرنے کی نیت سے تلوار لیکر نکل پڑے لیکن ابھی راستے ہی میں تھے کہ نُعیم بن عبداللہ الخام عدوی(67) سے یا بنی زہرہ (68) یا بنی مخزوم (69) کے کسی آدمی سے ملاقات ہو گئی۔ اس نے تیور دیکھ کر پوچھا: عمر ! کہاں کا ارادہ ہے؟ انہوں نے کہا: محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے جا رہا ہوں۔ اس نے کہا محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرکے بنو ہاشم اور بنو زہرہ سے کیسے بچ سکو گے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: معلوم ہوتا ہے تم بھی اپنا پچھلا دین چھوڑ کر بے دین ہو چکے ہو۔ اس نے کہا عمر! ایک عجیب بات نہ بتا دوں! تمہارے بہن بہنوئی بھی تمہارا پچھلا دین چھوڑ کر بے دین ہو چکے ہیں۔ یہ سن کر عمر غصّے سے بے قابو ہو گئے اور سیدھے بہن بہنوئی کا رخ کیا۔ وہاں انہیں حضرت خبّاب بن ارت رضی اللہ عنہ سورہ طہٰ پر مبنی ایک صحیفہ پڑھا رہے تھے اور قران پڑھانے کے لئے وہاں آنا جانا حضرت خبّاب رضی اللہ عنہ کا معمول تھا۔ جب حضرت خبّاب نے حضرت عمر کی آہٹ سنی تو گھر کے اندر چھپ گئے۔ ادھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بہن نے صحیفہ چھپا دیا؛ لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ گھر کے قریب پہنچ کر حضرت خبّاب کی قراءت سن چکے تھے؛ چنانچہ پوچھا یہ کیسی دھیمی دھیمی سی آواز تھی جو تم لوگوں کے پاس میں نے سنی تھی؟ انہوں نے کہا کچھ بھی نہیں، بس ہم آپس میں باتیں کر رہے تھے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: غالبا" تم دونوں بے دین ہو چکے ہو؟ بہنوئی نے کہا: اچھا عمر! یہ بتاؤ! اگر حق تمہارے دین کے بجائے کسی اور دین میں ہو تو؟ حضرت عمر کا یہ سننا تھا کہ اپنے بہنوئی پر چڑھ بیٹھے اور انہیں بری طرح کچل دیا۔ انکی بہن نے لپک کر انہیں اپنے شوہر سے الگ کیا تو بہن کو ایسا چانٹا مارا کہ چہرہ خون آلود ہو گیا۔ابن اسحٰق کی روایت ہے کہ ان کے سر میں چوٹ آئی۔بہن نے جوش غضب میں کہا: عمر! اگر تیرے دین کے بجائے دوسرا دین ہی برحق ہو تو؟
    اَشھَدُ اَن لاَّ اِلٰہَ الاَ اللہ وَ اَشھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًارَّسُولُ اللہ۔
    میں شہادت دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں شہادت دیتی ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔
    یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر مایوسی کے بادل چھا گئے اور انہیں اپنی بہن کے چہرے پر خون دیکھ کر شرم و ندامت محسوس ہوئی، کہنے لگے؛ اچھا یہ کتاب جو تمہارے پاس ہے ذرا مجھے بھی پڑھنے کو دو۔ بہن نے کہا!" تم ناپاک ہو" اس کتاب کو صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں۔ اٹو غسل کرو۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اٹھ کر غسل کیا پھر کتاب لی اور "بسم اللہ الرحمن الرحيم" پڑھی۔ کہنے لگے یہ تو بڑے پاکیزہ نام ہیں۔ اسکے بعد
    طہٰ سے اِنَّنِي اَنَا اللَّہُ لا اِلَاَ اِلاَّ اَنَا فَاعْبُدْنِي وَاَقِمِ الصَّلاۃَ لِذِكْرِي۔( سورۃ طہٰ: 1-149)
    تک قرا ءت کی کہنے لگے : "یہ تو بڑا عمدہ اور بڑا محترم کلام ہے۔ مجھے محمّد کا پتہ بتاؤ!۔ حضرت خبّاب رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے یہ فقرے سن کر باہر آگئے اور کہنے لگے: "عمر! خوش ہو جاؤ- مجھے امید ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعرات کی رات تمہارے متعلق جو دعا کی تھی کہ( اے اللہ! عمر بن ابن الخطاب یا ابو جہل بن ہشام کے ذریعے سے اسلام کو قوت پہنچا) یہ وہی ہے۔ اور اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوہ صفا کے پاس والے مکان میں تشریف فرما ہیں"۔ یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی تلوار حمائل کی اور اس گھر کے پاس آکر دروازے پر دستک دی۔ ایک آدمی نے اٹھ کر دروازے کی دراز سے جھانکاتو دیکھا حضرت عمر تلوار حمائل کئے موجود ہیں۔لپک کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی، اور سارے سمٹ کر یکجا ہو گئے۔حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا بات ہے؟ لوگوں نے کہا: عمر ہیں۔ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے کہا: بس! عمر ہے دروازہ کھول دو۔ اگر وہ خیر کی نیت سے آیا ہے تو ہم اسے خیر عطا کریں گے اور اگر کوئی برا ارادہ لیکر آیا ہے تو ہم اسی کی تلوار سے اسکا کام تمام کر دینگے۔ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف فرما تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی تھی۔ وحی نازل ہو چکی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے۔بیٹھک میں ملاقات ہوئی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکے کپڑے اور تلوار کا پرتلا سمیٹ کر پکڑا اور سختی سے جھٹکتے ہوئے فرمایا: عمر! کیا تم اس وقت تک باز نہ آؤگے جب تک اللہ تعالیٰ تم پر بھی ویسی ہی ذلت ورسوائی اور عبرتناک سزا نازل نہ فرمادے، جیسی ولید بن مغیرہ پر نازل ہو چکی ہے؟ یا اللہ! یہ عمر بن خطاب ہے۔یا اللہ! اسلام کو عمر بن خطاب کے ذریعے قوت و عظمت عطا فرما۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حلقہ بگوش اسلام ہوتے ہوئے کہا:
    اَشھَدُ اَن لاَّ اِلٰہَ الاَ اللہ وَ اَشھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًارَّسُولُ اللہ۔
    میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور یقینا"آپ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔
    یہ سن کر گھر کے اندر موجود تمام صحابہ کرام نے اس زور سے تکبیر کہی کہ مسجد حرام والوں کو سنائی پڑی۔(70)
    (63) تاریخ عمر بن الخطاب ابن جوزی ص 11
    (64) ترمذی ابواب المناقب: مناقب ابی حفص عمر بن الخطاب 2/209
    (65) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حالات کا تجزیہ شیخ محمد غزالی نے کیا ہے فقہ السیرۃ ص 92-93
    (66) تاریخ عمر بن الخطاب لابن جوزی ص 1-6۔ ابن اسحق نے عطاء اور مجاہد سے بھی تقریبا" یہی بات نقل کی ہے، البتہ اسکا آخری ٹکڑا اس سے مختلف ہے۔
    دیکھئے سیرۃ ابن ہشام 1؟ 346-348۔اور خود ابن جوزی نے بھی حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اسی کے قریب قریب روایت نقل کی ہے لیکن اسکا آخری حصہ بھی اس روایت سے مختلف ہے۔ دیکھئے تاریخ عمر بن الخطاب ص 1-9
    (67) یہ ابن اسحق کی روایت ہے۔ دیکھئے ابن ہشام 1/344
    (68) یہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ دیکھئے تاریخ عمر ابن الخطاب لابن جوزی ص 9-10
    و مختصر السیرۃ از شیخ عبداللہ ص 1-2
    (69) یہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، دیکھئے مختصر السیرۃ ایضا" ص 1-2
    (70) تاریخ عمر بن الخطاب ص 7-10-11، مختصر السیرۃ شیخ عبداللہ ص 102-103، سیرت ابن ہشام 1؟ 343-346۔
    (منقول از اردو مجلس )
     
    Last edited: ‏نومبر 21، 2015
  3. ‏نومبر 21، 2015 #3
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,350
    موصول شکریہ جات:
    1,078
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    Screenshot_2015-11-21-17-33-16.png Screenshot_2015-11-21-17-33-20.png
     

    منسلک کردہ فائلیں:

  4. ‏نومبر 21، 2015 #4
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,350
    موصول شکریہ جات:
    1,078
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    اسکے بارے میں کیا کہیں گے جناب؟
     
  5. ‏نومبر 21، 2015 #5
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,350
    موصول شکریہ جات:
    1,078
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    کچھ لوگ کہتے ھیں کہ ضعیف روایات جو مشہور ھوں وہ صحیح ھو جاتے ھیں؟
    کیا یہ صحیح ھے؟
     
  6. ‏نومبر 21، 2015 #6
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,361
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    بھائی یہ کس کی کتاب کا سکین ہے ؟
     
  7. ‏نومبر 21، 2015 #7
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,350
    موصول شکریہ جات:
    1,078
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    Screenshot_2015-11-21-17-33-46.png
     
  8. ‏نومبر 21، 2015 #8
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,400
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    • پسند پسند x 3
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  9. ‏نومبر 21، 2015 #9
    عمر اثری

    عمر اثری سینئر رکن
    جگہ:
    نئی دھلی، انڈیا
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 29، 2015
    پیغامات:
    4,350
    موصول شکریہ جات:
    1,078
    تمغے کے پوائنٹ:
    398

    جناب میرے پاس بھی ھے یہ کتاب
    اگر ممکن ھو تو تحقیق کرکے بتا دیں
    اگر وقت ھو آپ کے پاس تو کیونکہ آپ کی مصروفیت یقیناً زیادہ ھونگی.
     
  10. ‏نومبر 22، 2015 #10
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,361
    موصول شکریہ جات:
    2,395
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    یہ کتاب میرے پاس نہیں ہے ۔
    البتہ اس کتاب فضائل صحابہ کے ٹائیٹل پر لکھا ہے کہ اس کی تخریج شیخ مکرم جناب زبیر صاحبؒ نے کی ہے ۔اگر واقعی تخریج انکی ہے تو کافی ہے ۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں