1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تراویح میں تلاوت قرآن کریم

'مسائل رمضان' میں موضوعات آغاز کردہ از ابو حسن, ‏مئی 28، 2019۔

  1. ‏مئی 28، 2019 #1
    ابو حسن

    ابو حسن رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 09، 2018
    پیغامات:
    137
    موصول شکریہ جات:
    17
    تمغے کے پوائنٹ:
    57

    تراویح میں تلاوت قرآن کریم

    (تحریر از أبو حسن ، میاں سعید)
    فرمان رسول ﷺ ہے کہ " تم میں سے بہترین وہ لوگ ہیں جو قرآن سیکھتے اور سیکھاتے ہیں "

    رمضان المبارک میں ہمارے ہاں برصغیر پاک و ہند میں اور یورپی ممالک میں اکثر تراویح کے دوران حفاظ کا قرآن پڑھنے کا انداز ایسا ہوتا ہے کہ الأمان الحفیظ

    ان کے اساتذہ بھی اس بات پر دھیان نہیں دیتے کہ اسکی قرأت کیسی ہے اور یہ پڑھ کس سپیڈ سے رہا ہے؟ اور والدین اسی بات پر خوش ہیں کہ انکا بیٹا حافظ قرآن بن گیا اور بے شک یہ واقعتا خوشی کی بات ہے لیکن ان والدین کو بھی اس بات کا خیال نہیں رہتا کہ ان کا بیٹا قرآن کس خوش الحانی سے پڑھ رہا ہے ؟

    اس حافظ نے دور ہی اس طریقہ سے کیا ہوتا ہے کہ اگر وہ ٹھہر ٹھہر کر ترتیل اور تجوید سے پڑھے تو نہیں پڑھ سکتا، کیونکہ یاد کیا اور پڑھا ہی سپیڈ سے ہے تو ترتیل والا انداز زبان پر چڑھتا ہی نہیں اور غلطیاں بھی بہت زیادہ ہونے لگ جاتیں ہیں

    اسی تیزی کے متعلق سنن ابو داؤد میں وعید وارد ہے کہ ایسے قرآن پڑھنے والے کو اس کا بدلہ دنیا میں ہی دے دیا جائے گا لیکن آخرت میں اس کیلئے کچھ بھی اجر نہ ہوگا اس حافظ کا یا قرآن پڑھنے والے کا کیا حال ہوگا جسے حشر کے دن قرآن پڑھنے پر اجر کی بجائے کچھ نہ ملے ؟ اللہ تعالی ہمیں ایسے قرآن پڑھنے والا بننے سے محفوظ رکھے،آمین

    اب آپ اس بات سے اندازاہ لگائیں کہ ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کی تلاوت کو سن کر سیدالاولین و الاخرین ﷺ نے کیا فرمایا ؟ " اے ابو موسیٰ! بے شک تمہیں (اﷲ تعالیٰ کی طرف سے) آلِ داؤد کی خوش اِلحانی عطا کی گئی ہے" (بخاری)

    یہ کیسی خوش الحانی تھی جس کو سن کر اعلی انداز میں حوصلہ افزائی اور تعریف بیان کی اور جو آج کل رمضان میں تراویح کے دوران ہوتا ہے اس کو سن کر کیا کہا جائے گا ؟

    اکثر رمضان المبارک میں قریبی مسجد میں نوعمرحفاظ جب تراویح کی ابتداء کرتے ہیں تو کوشش ہوتی ہے کہ ان سے مل کر کچھ نصیحت ضرور کی جائے اور اچھا پڑھنے پر حوصلہ افزائی کی جائے

    میرا انداز ہوتا ہے کہ کچھ تیزی دکھانے والے کو سمجھاتا ہوں اور پھر ساتھ میں یہ ذکر کرتا ہوں کہ آخرت میں حافظ قرآن کا اکرام کیا جائے گا اور حدیث میں وارد ہے کہ حافظ قرآن سے کہا جائے گا کہ

    "پڑھ اور جنت کے درجات چڑھ، اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھ جیسے تو دنیا میں پڑھتا تھا، جہاں تیری آخری آیت ہوگی وہیں تیرا مقام ہوگا "أو کما قال


    اب بیٹا تم بتاؤ کہ کیا ٹھہر ٹھہر کر پڑھ رہے ہو؟ اور دوسرا یہ کہ تم جس تیزی سے پڑھ رہے ہو؟ پھر تو جلد ہی تمہاری جنت کا مقام آجائے گا

    تو بیٹا پہلی بات یہ ہے کہ خوش الحانی سے اور اچھے انداز سے پڑھو چاہے 10، 15 منٹ مزید لگیں اور دوسری بات کہ لوگ تمہیں جلدی جلدی پڑھنے کا کہیں تو ایک کان سے سنو اور دوسرے سے نکال دو

    پھر یہ بات بھی ہے کہ نہ تو عربی لغت سے واقفیت حاصل ہوتی ہے اور اسی کی وجہ سے یہ بھی نہیں علم ہوتا کہ یہ جنت کی خوش خبری اور اللہ تعالیٰ کے انعامات کے متعلق آیات ہیں؟ یا کہ جہنم کی وعید اور اللہ کی پکڑ اور عذاب کے متعلق آیات ہیں؟ یہاں پر گریہ طاری ہونا چاہیے یا پھر اسی ترتیب سے پڑھتے چلے جانا ہے؟

    پھر سونے پر سہاگہ یہ کہ پیچھے کھڑے مصلین بھی ویسے ہی ہوتے ہیں جن کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ کیا پڑھا جارہا ہے اور کس کے متعلق ذکر ہورہا ہے ( الاماشاءاللہ ) مصلین کو رکعات کی فکر ہوتی ہے کہ کتنی ہوئیں اور کتنی باقی ہیں؟

    اور پڑھانے والے کو یہ فکر ہوتی ہے کہ کہاں پر رکوع کرنا ہے؟ اور پھر رکوع و سجود میں دھیان اگلی آیت کی طرف رہتا ہے کہ اب شروع کہاں سے کرنا ہے اور ختم کہاں پر کرنا ہے

    حالانکہ اس کے متعلق سیدالاولین و الاخرین ﷺ نے بہت عمدہ انداز میں وضاحت بیان کی اور جس پر عمل کرنے کی عمومی مسلمانوں کو اور خصوصی حفاظ کو ضرورت ہے

    نبی اکرم ﷺ نے فرمایا " تم میں سے قرآن کی اچھی آواز میں تلاوت کرنے والا وہ ہے کہ جس کو تم قرآن پڑھتے ہوئے سنو تو تمہیں یوں لگے کہ وہ اﷲ سے ڈر رہا ہے"(ابن ماجہ)

    متعدد احادیث میں قرآن سن کر رونے کے متعلق وارد ہے اور بہت سے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے واقعات بھی ہیں لیکن میں یہاں صاحب القرآن ﷺ کا واقعہ نقل کرتا ہوں جس کے راوی خود اس واقعہ کو بیان فرما رہے ہیں

    حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے انہیں فرمایا: مجھے قرآن مجید پڑھ کر سناؤ۔
    وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: میں آپ کو پڑھ کر سناؤں ؟
    حالانکہ آپ پر قرآن نازل ہوا! فرمایا: میری یہ خواہش ہے کہ میں اسے دوسروں سے سنوں۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ پھر میں نے سورۃ النساء کی تلاوت کی یہاں تک کہ جب میں اس آیت پر پہنچا

    فَکَيْفَ إذَا جِئْنَا مِنْ کُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيْدٍ وَ جِئْنَا بِکَ عَلَی هَؤُلَاءِ شَهِيْدًا
    پھر اس دن کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے اور (اے حبیب!) ہم آپ کو ان سب پر گواہ لائیں گے

    تو مجھ سے فرمایا رک جاؤ! جب میں نے آپ ﷺ کو دیکھا تو آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے (متفق علیہ)

    یہ تو حال تھا صاحب القرآن ﷺ کا اور ہمارا حال کیا ہوتا ہے قرآن سن کر یا پڑھ کر؟ یہ ہم میں سے ہر ایک اپنی حالت بخوبی جانتا ہے

    یہی حدیث شیخ صلاح البدیر حافظہ اللہ امام مسجد نبوی نے سوڈان کے سفر میں ایک مجلس میں بیان کی اور پھر لوگوں سے سوال کیا کہ اے اللہ کے بندوں "این البکاء" رونا کہاں ہے؟ سیدالاولین و الاخرین ﷺ تو قرآن سن کر روتے تھے لیکن ہمارا رونا کہاں ہے؟ اللہ اکبر

    اب میں وہ حدیث بھی نقل کیے دیتا ہوں جس میں قرآن تیزی سے پڑھنے والوں کے متعلق وعید ذکر کی گئی ہے
    (سنن ابوداؤد، حدیث نمبر: 831، 830)

    سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے، ہم قرآن کی تلاوت کر رہے تھے

    تو آپ ﷺ نے فرمایا : الحمداللہ ! اللہ کی کتاب ایک ہے اور تم لوگوں میں اس کی تلاوت کرنے والے سرخ، سفید، سیاہ سب طرح کے لوگ ہیں،

    تم اسے پڑھو قبل اس کے کہ ایسے لوگ آ کر اسے پڑھیں، جو اسے اسی طرح درست کریں گے، جس طرح تیر کو درست کیا جاتا ہے،

    اس کا بدلہ (ثواب) دنیا ہی میں لے لیا جائے گا اور اسے آخرت کے لیے نہیں رکھا جائے گا ۔

    اس سے قبل والی حدیث کے الفاظ یہ ہیں "عنقریب کچھ ایسے لوگ آئیں گے جو اسے (یعنی قرآن کے الفاظ و کلمات کو) اسی طرح درست کریں گے جیسے تیر درست کیا جاتا ہے (یعنی تجوید و قرآت میں مبالغہ کریں گے) اور اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے کے بجائے جلدی جلدی پڑھیں گے"

    تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود : ٥(٣٣٨) ، (تحفة الأشراف : ٤٨٠٧) (حسن صحیح )

    اے حافظ قرآن ، اے قاری صاحب ، اے امام صاحب اپنے آپ کو ایسا بننے سے بچیں اور اے استاذہ کرام حفظ کرنے والے بچوں کی تلاوت پر دھیان دیں اور تربیت کے اس پہلو میں آپ کیلئے خیر ہی خیر ہے وگرنہ کل شاگرد نے اللہ تعالی کے سوال کرنے پر یہ کہہ دیا کہ استاذ محترم نے سکھایا ہی ایسے تھا تو پھر کیا ہوگا آپکا ؟ حالانکہ اللہ تعالی خود خوب جاننے والا ہے اور وہ سینوں کے بھیدوں سے بھی خوب واقف ہے

    اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کو احسن طریقے سے پڑھنے اور سننے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور خاتمہ بالخير فرمائے اور ہر قسم کی مصیبتوں و پریشانیوں سے محفوظ رکھے اور امت مسلمہ کی حفاظت فرمائے اور کفر کو ذلیل و رسوا فرمائے اور ہمیں فروعی مسائل میں ایک دوسرے سے الجھنے اور تحقیر کرنے سے محفوظ رکھے اور آپسی محبت کو قائم رکھنے اور بھائی بھائی بن کر رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور شرک و بدعات سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین


    واللہ اعلم بالصواب​
     
    Last edited by a moderator: ‏مئی 28، 2019
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں