1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تراویح کی رکعت کے بارے میں

'نوافل وسنن' میں موضوعات آغاز کردہ از عاقل محمدی, ‏جولائی 01، 2015۔

  1. ‏جولائی 01، 2015 #1
    عاقل محمدی

    عاقل محمدی رکن
    شمولیت:
    ‏اپریل 16، 2015
    پیغامات:
    57
    موصول شکریہ جات:
    16
    تمغے کے پوائنٹ:
    41

    السلام علیکم۔۔۔
    میں یہ جاننا چاہ رہا تھا کے ہمارے اسلاف میں سے کون کون 20 سے زائد تراویح کے رکعت کے قائل تھے؟
    اور یہ بھی کے امام مالک رحہ،امام شافعی رحہ، اور امام احمد رحہ، یہ کتنی رکعت کے قائل تھے؟

    جزاک اللہ خیر۔۔۔
     
  2. ‏جولائی 01، 2015 #2
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,650
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    وروي ابن عباس انه صلّی رسول الله صلی الله عليه وسلم عشرين ركعة في رمضان ثم أوتر بثلث لكن المحدثين قالوا ان هذا الحديث ضعيف والصحيح ما روته عائشة رضي الله عنها صلّی احدي عشرة ركعة كما هوا عادتة في قيام الليل وروي انه كان بعض السلف في عهد عمر بن عبدالعزيز يصلون احدي عشرة ركعة قصدا للتشبه برسول الله صلی الله عليه وسلم
    اور ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں بیس رکعتیں پڑھیں پھر اس کے بعد تین وتر پڑھے لیکن محدث کہتے ہیں کہ یہ حديث ضعيف ہے اور صحیح وہ ہی ہے جو عائشہ رضی اللہ عنہ روایت کرتی ہیں کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے گیارہ رکعت پڑھیں جیسے کہ قیام الیل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی اور روایت ہے کہ بعضےبزرگ عمر بن عبدالعزیر کے عہد میں گیارہ رکعت پڑھا کرتے تھے اس غرض سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہت ہو جاوے
    ماثبت بالسُّنَّة في أيام السَّنَة
    المؤلف: عبد الحق بن سيف الدين الدهلوي
    بالمطبع المجتبائي بدهلي سنة 1891 مع ترجمة باللغة الأردية

    ص 217 - 218
    [​IMG]
    [​IMG]
    [​IMG]

    امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبب کا مؤقف اگلی تحریر میں بیان کیا جائے گا۔ ان شاء اللہ!
     

    منسلک کردہ فائلیں:

    Last edited: ‏جولائی 01، 2015
    • زبردست زبردست x 3
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  3. ‏جولائی 01، 2015 #3
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,650
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    امام مالک رحمہ اللہ کا تراویح کی رکعات کی تعداد سے متعلق مؤقف:

    ”الذي آخذ به لنفسي في قيام رمضان هو الذي جمع به عمر بن الخطاب الناس إحدي عشرة ركعة، وهي صلاة رسول الله صلی الله عليه وسلم ولا إدري من أحدث هذا الركوع الكثير، ذكره ابن مغيث“
    میں اپنے لئے قیام رمضان (تراویح) گیارہ رکعتیں اختیار کرتا ہوں ، اسی پر عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لوگوں کو جمع کیا تھا اور یہی رسول اللہﷺ کی نماز ہے، مجھے پتہ نہیں لوگوں نے بہت سی رکعتیں کہاں سے نکال لی ہیں؟ اسے ابن مغیث مالکی نے ذک
    مجلد 01 ص 287
    الكتاب: الصلاة والتهجد
    المؤلف: عبد الحق بن عبد الرحمن الإشبيلى الأندلسي ابن الخراط أبو محمد
    الناشر: دار الوفاء

    ملاحظہ فرمائیں:عكس صفحه 287 جلد 01 - الصلاة والتهجد - عبد الحق بن عبد الرحمن الإشبيلى - دار الوفاء

    وقيل: إحدى عشرة ركعة، وهو اختيار مالك لنفسه، واختاره أبو بكر العربي.
    اور (تراویح کے متعلق ) جو کہا گیا کہ گیارہ رکعتیں، اسے امام مالک نے اختیار کیا اور ابو بکر العربی نے بھی اسی کو اختیار کیا۔
    مجلد 11 ص 127
    عمدة القاري شرح صحيح البخاري
    المؤلف: أبو محمد محمود بن أحمد بن موسى بن أحمد بن حسين الغيتابى الحنفى بدر الدين العينى
    الناشر: من طباعة إدارة الطباعة المنيرية، ثم صورتها دار الفكر - بيروت، وكذا دار إحياء التراث العربي – بيروت


    مجلد 11 ص 180
    الكتاب:عمدة القاري شرح صحيح البخاري
    المؤلف: أبو محمد محمود بن أحمد بن موسى بن أحمد بن حسين الغيتابى الحنفى بدر الدين العينى
    الناشر:دار الكتب العلمية - بيروت

    ملاحظہ فرمائیں: عكس صفحه 127 جلد 11 - عمدة القاري شرح صحيح البخاري - بدر الدين العينى - دار الفكر - بيروت
    ملاحظہ فرمائیں: عكس صفحه 180 جلد 11 - عمدة القاري شرح صحيح البخاري - بدر الدين العينى - دار الكتب العلمية – بيروت
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  4. ‏جولائی 01، 2015 #4
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,650
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ!
    امام الشافعی رحمہ اللہ کا تراویح کی رکعات کی تعداد سے متعلق مؤقف:

    الزَّعْفَرَانِيُّ عَنِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ: رَأَيْتُ النَّاسَ يَقُومُونَ بِالْمَدِينَةِ تِسْعًا وَثَلَاثِينَ رَكْعَةً قَالَ: " وَأَحَبُّ إِلَيَّ عِشْرُونَ , قَالَ: وَكَذَلِكَ يَقُومُونَ بِمَكَّةَ , قَالَ: وَلَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنْ هَذَا ضِيقٌ وَلَا حَدٌّ يَنْتَهِي إِلَيْهِ , لَأَنَّهُ نَافِلَةٌ فَإِنْ أَطَالُوا الْقِيَامَ وَأَقَلُّوا السُّجُودَ فَحَسَنٌ , وَهُوَ أَحَبُّ إِلَيَّ , وَإِنْ أَكْثَرُوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ فَحَسَنٌ "
    امام شافعی فرماتے ہیں: میں نے مدینہ والوں کو دیکھا کہ وہ انتالیس رکعتیں قیام کرتے ہیں، اور فرمایا: مجھے بیس رکعتیں پسند ہیں، فرما یا: جیسا کہ مکہ میں پڑھی جاتی ہیں، فرمایا: اس چیز (تراویح) میں ذرہ برابر بھی تنگی نہیں ہے اور نہ کوئی حد ہے، کیونکہ یہ نفل نماز ہے، اگر رکعتیں کم اور قیام زیادہ ہو تو بہتر ہے اور مجھے زیادہ پسند ہے اور اگر رکعتیں زیادہ ہوں تو بھی بہتر ہے۔
    مجلد 01 ص 222
    الكتاب: مختصر [قيام الليل وقيام رمضان وكتاب الوتر]
    المؤلف: أبو عبد الله محمد بن نصر بن الحجاج المَرْوَزِي (المتوفى: 294هـ)
    اختصرها: العلامة أحمد بن علي المقريزي
    الناشر: حديث أكادمي، فيصل اباد – باكستان

    ملاحظہ فرمائیں: عکس صفحه 222 جلد 01 - مختصر قيام الليل للمَرْوَزِي - حديث أكادمي، فيصل اباد – باكستان

    امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا تراویح کی رکعات کی تعداد سے متعلق مؤقف:

    وَقَالَ إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ: قُلْتُ لِأَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ: كَمْ مِنْ رَكْعَةٍ تُصَلِّي فِي قِيَامِ شَهْرِ رَمَضَانَ؟ فَقَالَ: قَدْ قِيلَ فِيهِ أَلْوَانٌ نَحْوًا مِنْ أَرْبَعِينَ، إِنَّمَا هُوَ تَطَوَّعٌ،
    امام احمدؒ سے اسحاق بن منصور نے پوچھا کہ: رمضان میں کتنی رکعتیں پڑھنی چاہئیں ؟ تو انہوں نے فرمایا: اس پر چالیس تک رکعتیں روایت کی گئی ہیں، یہ صرف نفلی نماز ہے۔
    مجلد 01 ص 222
    الكتاب: مختصر [قيام الليل وقيام رمضان وكتاب الوتر]
    المؤلف: أبو عبد الله محمد بن نصر بن الحجاج المَرْوَزِي (المتوفى: 294هـ)
    اختصرها: العلامة أحمد بن علي المقريزي
    الناشر: حديث أكادمي، فيصل اباد – باكستان

    ملاحظہ فرمائیں: صفحه 222 جلد 01 - مختصر قيام الليل للمَرْوَزِي - حديث أكادمي، فيصل اباد – باكستان
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • پسند پسند x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  5. ‏جولائی 03، 2015 #5
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    860
    موصول شکریہ جات:
    240
    تمغے کے پوائنٹ:
    118


    السلام علیکم محترم

    اگر کوئ سوال کر دے کہ امام مالک رحہ کے اس قول کی سند کہاں ہے تو ہم کیا کہنگے برائے مہربانی اصلاح کریں
    جزاک اللہ خیر
     
  6. ‏جولائی 04، 2015 #6
    جوش

    جوش مشہور رکن
    شمولیت:
    ‏جون 17، 2014
    پیغامات:
    621
    موصول شکریہ جات:
    307
    تمغے کے پوائنٹ:
    127

    جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے 8 رکعت تراویح کی نماز ثابت ھے تو اسے چھوڑ کر لوگوںکے اقوال کیطرف جانا سنت سے اعراض کی علامت ہے اللہ تعالی ہم سب کو سنت کی اہمیت کو جاننے ،سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے نیز سنت پر وہی عمل کرتا ہے جسکو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہوتی ہے۔
     
  7. ‏جولائی 04، 2015 #7
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,650
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    عبد الحق بن عبد الرحمن الإشبيلى نے بحوالہ ابن مغيث کے بیان کیا ہے، ابن مغيث کی کتاب ،(المتهجدين ، كتاب التهجد) کا ذكر امام الذہبی نے اپنی کتاب سير أعلام النبلاء میں،قاضي عياض نے اپنی کتاب ترتيب المدارك وتقريب المسالك میں ابن فرحون نے اپنی کتاب الديباج المذهب في معرفة أعيان علماء المذهب میں کیا ہے۔
    اس بات کو جلال الدین سیوطی نے بھی بحوالہ ابن جوزی کے بیان کیا ہے!!
    اور اس بات کو عینی حنفی نے بھی درج کیا ہے! عینی حنفی کی عبارت اسی وجہ سے پیش کی گئی!! کہ حنفی علماء کے ہاں بھی امام مالک کا یہ قول معروف ہے! اور اس سے قبل ماثبت بالسُّنَّة في أيام السَّنَة کا حوالہ بھی اسی لئے پیش کیا گیا تھا! سند تو اس میں بھی نہیں!!
    رہی بات کہ اہل حدیث تو دین بغیر سند کے قبول نہیں کرتے !، تو یہ بات بالکل صحیح ہے، کہ ہم امام مالک کے اس قول سے استدلال کرتے ہوئے آٹھ (8) رکعات تراویح کو سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم قرار نہیں دیتے ، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے با سند ثابت حدیث کی بناء پر آٹھ (8) رکعات تراویح کو سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم قرار دیتے ہیں!
     
    Last edited: ‏جولائی 04، 2015
  8. ‏جولائی 04، 2015 #8
    عامر عدنان

    عامر عدنان مشہور رکن
    جگہ:
    انڈیا،بنارس
    شمولیت:
    ‏جون 22، 2015
    پیغامات:
    860
    موصول شکریہ جات:
    240
    تمغے کے پوائنٹ:
    118

    وعلیکم السلام
    جزاک اللہ خیر بھائ
     
  9. ‏مارچ 06، 2016 #9
    عبدالرحمن بھٹی

    عبدالرحمن بھٹی مشہور رکن
    جگہ:
    فی الارض
    شمولیت:
    ‏ستمبر 13، 2015
    پیغامات:
    2,435
    موصول شکریہ جات:
    287
    تمغے کے پوائنٹ:
    165

    محترم اس ”ثابت“ کو ثابت کردیں۔
     
  10. ‏مئی 26، 2017 #10
    عبدالرحمن حنفی

    عبدالرحمن حنفی مبتدی
    شمولیت:
    ‏اپریل 15، 2017
    پیغامات:
    194
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    23

    جواب تا ہنوز ندارد!
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں