1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تربیت اولاد کے عملی اقدام!

'بچوں کی تربیت' میں موضوعات آغاز کردہ از اخت ولید, ‏جنوری 03، 2017۔

  1. ‏اپریل 23، 2017 #11
    اخت ولید

    اخت ولید سینئر رکن
    جگہ:
    ارض اللہ الواسعہ
    شمولیت:
    ‏اگست 26، 2013
    پیغامات:
    1,792
    موصول شکریہ جات:
    1,264
    تمغے کے پوائنٹ:
    326

    جو سکولنگ آپ کے بچوں کو نماز ادا کرنے سے روکے،آپ پر لازم ہے کہ آپ ایسی سکولنگ روک دیں!!
     
    • شکریہ شکریہ x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  2. ‏اپریل 23، 2017 #12
    اخت ولید

    اخت ولید سینئر رکن
    جگہ:
    ارض اللہ الواسعہ
    شمولیت:
    ‏اگست 26، 2013
    پیغامات:
    1,792
    موصول شکریہ جات:
    1,264
    تمغے کے پوائنٹ:
    326

    بچہ گالیاں تبھی دیتا ہے جب بے بس ہوتا ہے.گالیاں دینے کے لیے لازم نہیں کہ سیکھی جائیں،آپ لاکھ گھر میں رکھیں لیکن بے بسی میں جو منہ میں آئے گا،بولے گا۔بے بسی کسی صورت بھی ہو سکتی ہے۔بڑا بہن بھائی مارے،چیز چھین لے،آپ اس کی عزت نفس مجروح کریں۔آپ بچے کو ڈانٹ ڈپٹ کر کے یا دو چار لگا کر گالی منہ سے نکالنے سے تو روک سکتے ہیں لیکن دل میں دیے جانے والی گالیوں کا کیا کریں گے؟بچےکو گالی سے بچانے سے قبل بے بس ہونے سے بچائیں۔
     
  3. ‏اپریل 23، 2017 #13
    اخت ولید

    اخت ولید سینئر رکن
    جگہ:
    ارض اللہ الواسعہ
    شمولیت:
    ‏اگست 26، 2013
    پیغامات:
    1,792
    موصول شکریہ جات:
    1,264
    تمغے کے پوائنٹ:
    326

    "ایک تو گھنٹےسے انہیں کہہ رہی ہوں۔۔مجال ہے جو سنیں۔۔جلدی ختم کرو کھانا۔بیگ؟؟بیگ کہاں ہیں؟؟سب پھیلا دیے ہیں۔۔توبہ۔۔اتنا ستاتے ہیں یہ ٹیوشن سنٹر جاتے ہوئے۔۔اللہ میری پناہ!!"وہ بچوں کو ڈپٹتی گھرکتی بیگ پہنا رہی تھیں۔"آئے ہائے!!ٹیوشن والی کے پاس بھی جانا تھا۔۔آج کل بالکل محنت نہیں کروا رہی۔سارا کام بچوں کو گھر آ کر کرنا پڑتا ہے۔کل تو صہیب رات گیارہ بجے سویا ہے۔"بچوں کو بھیج کر وہ میرے ساتھ باتیں کرنے لگیں۔
    "اتنے مسائل ہیں تو آپ بچوں کو خود گھر میں کیوں نہیں پڑھا لیتیں؟؟"ایسے ہی میرے دل میں آیا تو پوچھ لیا۔
    "اب آپ کو تو پتا ہے کہ کتنے کام ہوتے ہیں۔۔سارا گھر۔۔روز مشین لگاؤ،یونیفارم دھوؤ۔برتن دھوؤ،کھانا پکاؤ۔۔اتنے ڈھیر کام کون کرے؟؟میرے کون سا سسرال،میکہ یہاں ہے کہ ساتھ ہاتھ بٹا دیں گے۔بچوں کے آنے پر تھکاوٹ سے چور ہو جاتی ہوں۔۔بھلا انہیں کیسے پڑھاؤں؟"وہ روٹین بتانے لگیں۔
    "واقعی!!یہ کام اہم ہو گئے ہیں بچوں سے۔۔کل ان کاموں نے ہی تو صدقہ جاریہ بننا ہے!!"میں نے طنزا دل میں سوچا اور ساتھ ہی اپنی اس سوچ کا بھی بر وقت جنازہ نکالا کہ کام والی کسی طور نہیں رکھنی چاہیے۔
    تین ہزار پر کام والی رکھنا مناسب ہے بجائے تین ہزار ایک بچے کی ٹیوشن فیس دینے کی!!
     
  4. ‏اپریل 25، 2017 #14
    اخت ولید

    اخت ولید سینئر رکن
    جگہ:
    ارض اللہ الواسعہ
    شمولیت:
    ‏اگست 26، 2013
    پیغامات:
    1,792
    موصول شکریہ جات:
    1,264
    تمغے کے پوائنٹ:
    326

    ہم بچے کی تربیت سرے سے کرتے ہی نہیں ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ ہم نے انہیں یہ تو نہیں سکھایا تھا۔صاحب!مسئلہ یہ نہیں ہے کہ آپ نے انہیں یہ نہیں سکھایا تھا،مسئلہ یہ ہے کہ آپ نے انہیں کچھ سکھایا ہی نہیں تھا!!
     
    • پسند پسند x 1
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  5. ‏مئی 03، 2017 #15
    اخت ولید

    اخت ولید سینئر رکن
    جگہ:
    ارض اللہ الواسعہ
    شمولیت:
    ‏اگست 26، 2013
    پیغامات:
    1,792
    موصول شکریہ جات:
    1,264
    تمغے کے پوائنٹ:
    326

    والدین اور اولاد کی باہم بات چیت کے لیے کوئی بھی موضوع ممنوع نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہر موضوع حدود میں ہونا چاہیے۔افراط و تفریط تباہی ہے۔
     
  6. ‏جنوری 26، 2019 #16
    محمد فیض الابرار

    محمد فیض الابرار سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2012
    پیغامات:
    3,039
    موصول شکریہ جات:
    1,194
    تمغے کے پوائنٹ:
    402

    مجھے تو ایک بات سمجھ میں آئی کہ
    تربیت کو تربیت کی ضرورت ہے وگرنہ ۔۔۔۔
     
    • پسند پسند x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  7. ‏مارچ 27، 2019 #17
    اخت ولید

    اخت ولید سینئر رکن
    جگہ:
    ارض اللہ الواسعہ
    شمولیت:
    ‏اگست 26، 2013
    پیغامات:
    1,792
    موصول شکریہ جات:
    1,264
    تمغے کے پوائنٹ:
    326

    کبھی کبھی سوچتی ہوں کہ بچوں کی تربیت سے قبل ہم اپنی کتنی تربیت کرتے ہیں؟؟ہمیں ابن قاسم،صلاح الدین،غزنوی،سید احمد(رحمہم اللہ) تو چاہئیں،ہمیں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ جیسا جری تو چاہیے۔۔لیکن اسماء رضی اللہ عنہا بننے کو کون تیار ہے؟؟ہمیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ایمان والے جوان چاہئیں۔۔بچوں کو تو کجا کبھی خود ہم نے سوکھی روٹی کھائی ہے؟؟کبھی پیوند لگا لباس پہنا ہے؟؟سنت کے طور پر ہی سہی۔۔کبھی؟؟یقینا اور یقیناکبھی نہیں!!ابھی تو ہمیں خود اپنی تربیت کی ضرورت ہے۔۔
     
  8. ‏مارچ 27، 2019 #18
    اخت ولید

    اخت ولید سینئر رکن
    جگہ:
    ارض اللہ الواسعہ
    شمولیت:
    ‏اگست 26، 2013
    پیغامات:
    1,792
    موصول شکریہ جات:
    1,264
    تمغے کے پوائنٹ:
    326

    ہمارے دور کے اعرابی ہمارے بچے ہیں۔مساجد میں بچوں سے معاملہ کرتے ہوئے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مسجد نبوی میں اعرابی سے کیے جانے والا
    معاملہ یاد رکھیے۔
    (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں پیشاب کرنے والے اعرابی کو ڈانٹنے سے منع کیا اور بعد میں اسے سمجھایا کہ مساجد کو پاک رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔)
     
  9. ‏اپریل 06، 2019 #19
    اخت ولید

    اخت ولید سینئر رکن
    جگہ:
    ارض اللہ الواسعہ
    شمولیت:
    ‏اگست 26، 2013
    پیغامات:
    1,792
    موصول شکریہ جات:
    1,264
    تمغے کے پوائنٹ:
    326

    صرف اپنے لیے نہیں!
    اپنی نسل کے لیے بھی۔۔نیکی کے کچھ کام کرنا ضروری ہیں۔
    وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًاکو یاد رکھتے ہوئے کچھ چھوڑ دینا اور کچھ پر عمل شروع کر دینا۔کچھ ایسے کام جو ابھی تو مفید نہیں نظر آ رہے لیکن مستقبل میں اگلی نسل اس سے فائدہ اٹھائے گی۔لازم نہیں کہ نسل آپ کی ہی ہو۔بچے سب کے سانجھے ہوتے ہیں۔
     
  10. ‏اپریل 06، 2019 #20
    اخت ولید

    اخت ولید سینئر رکن
    جگہ:
    ارض اللہ الواسعہ
    شمولیت:
    ‏اگست 26، 2013
    پیغامات:
    1,792
    موصول شکریہ جات:
    1,264
    تمغے کے پوائنٹ:
    326

    ہر گھرانے کے کچھ ان کہے اصول ہوتے ہیں جن کو کوئی دہراتا نہیں ہے لیکن عملی صورت میں ہمیشہ موجود ہوتے ہیں۔ہمارے گھرانے کا ایک اصول بچوں کا اکیلے کسی کے گھر رات رہنے کی اجازت کا نہ ہونا تھا۔اب تو پھر بھی کوئی موقع مل ہی جاتا ہے لیکن ہمارے بچپن اور نو عمری میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ چچا تایا زاد بہنیں اکیلی سوئی ہوں۔ایک دہائی سے زیادہ عرصہ ہمسائے میں گزارنے کے باوجود صرف ایک بار چھوٹی آپی کی منت سماجت کے بعد ایسا سلیپ اوور ہوا تھا کہ گھر میں سب سے بڑی چودہ سالہ چھوٹی آپی اور سب سے چھوٹی سال سے کم کی چچازاد بہن تھی۔ساری رات "فلسطین فلسطین" کھیلنے کے بعد فجر میں سوئے ہی تھے کہ چچی جان لینے کے لیے آ گئیں۔ٹوئن سیٹیز میں سب اکھٹے ہوتے تو کزنز کا اجتماع ہمارے یہاں ہوتا۔ساری رات حسن قرات،نظموں،بیت بازی،نام چیز جگہ جانور اور چپس کا دور چلتا لیکن سوتے وقت امی جان ساتھ ہوتیں۔خال ہی کوئی موقع ایسا ہو گا کہ کسی بڑے کے بنا اکیلے سوئے ہوں۔ددھیال میں سب اکھٹے ہوتے تو ہر سربراہ اپنے بچوں کو لیکر اپنے ساتھ الگ کمرے میں سوتا۔کبھی ہم بچے گپیں ہانکنے اور کھیلنے کودنے سے رات گئے فراغت پا کر کسی ہال کمرے میں سوتے تو پھپھو جان لازمی ساتھ ہوتیں یا پھر کوئی بھی امی۔اس وقت بے حد غصہ آتا تھا کہ یہ کیا بات ہوئی؟ایسا کیوں نہیں ہو سکتا کہ ہم کھیلتے کھیلتے جہاں دل کرے،سو جائیں۔۔اس وقت کچھ سختی محسوس ہوتی تھی اب نعمت محسوس ہوتی ہے۔کبھی بڑوں سے پوچھا نہ بڑوں نے اس بارے بات کی۔اب شعور کی عمر کو پہنچنے پر احساس ہوا کہ کتنا اچھا ان کہا اصول تھا۔لڑکیوں میں بھی حیا کا ہونا ضروری ہے۔ہم جنس پرستی ہمارے معاشرے میں بھی ایسے ہی فروغ نہیں پا گئی۔لڑکیوں میں حتی کہ بہنوں میں بھی ایک فاصلہ ہونا ضروری ہے۔لاڈ پیار کی ایک حد قائم ہونا اہم ہے۔ہمارے یہاں سہیلیاں تک بستر شئیر کر لیتی ہیں۔شریعت میں کتنا سنہری اصول موجود ہے کہ دس سال سے بہن بھائیوں تک کے بستر الگ کر دیں۔ااگر کبھی ضرورت پڑے بھی تو کم ازکم اپنا ڈوپٹہ اپنے اوپر اوڑھ کر سوئیں۔کبھی کبھار ایسا ہونا اس قدر معیوب نہیں لیکن معمول بنا لینا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔بچہ ہو یا بچی رات کسی عزیز کے ہاں بھی بلاوجہ اکیلا نہ گزارنے دیں۔الا یہ کہ شعور کی منزل کو پہنچ چکا ہو۔کزنز یا سہیلیوں خصوصا ہم عمر میں ایک دوسرے کی گود میں سر رکھنا،بار بار جسم کو چھونا جپھی کی صورت میں یا ہمدردی کے لیے معیوب ہونا چاہیے۔بچیوں کو ڈانٹیں نہ ڈپٹیں کہ وہ ایک دوسرے کو اچھوت سمجھنے لگیں لیکن حکمت سے انہیں اس بات کا شعور دیں کہ یہ حد کوئی بھی کراس نہیں کر سکتا۔۔ہمارے یہاں لڑکوں خصوصا لڑکیوں کے لیے ہاسٹل میں رہنا بھی کبھی پسندیدہ نہیں رہا۔ہاسٹل میں رہنے کی نوبت بھی آن پڑے تو کوشش کریں کہ بچہ/بچی سترہ اٹھارہ برس کا ہو۔اس سے کم عمر بچہ بہت کم ہی الارمنگ حد کو محسوس کر سکتا ہے۔یہ سب باتیں لڑکے اور لڑکیوں کے لیے یکساں ہیں۔ہمارے یہاں ستر کو لیکر بعض اوقات دینی گھراتوں میں بھی محارم کے سامنے ایسا لباس زیب تن کیا جاتا ہے کہ خواتین کی محفل بھی ہو تو جائز نہیں۔دل کی سنیں۔دل غلط نہیں کہتا۔ضمیر دستک دے رہا ہو تو بات مان لیں۔آپ کا جسم اللہ کی امانت ہے اس سے آپ بھی لطف اندوز نہیں ہو سکتے کہ کجا کوئی دوسرا،چاہے صرف نظر ہی حد تک ہی کیوں نہ ہو۔
    چھوٹے چچا جان سے بھیا اور آپیوں کا بہن بھائیوں والا پیار تھا۔ٹین ایجز میں بھی خوب ہنسی مذاق اور دھکم پیل چلتی۔والد محترم کے آتے ہی ہم سب شریف بن جاتے کہ ڈانٹ پڑے گی۔اب سوچتی ہوں کہ ہم اپنا دو ڈھائی سال کا بچہ بھی چچا اور ماموں کے ساتھ بھیجتے وقت بھی سوچتے ہیں۔کیسی آفت ہے کہ اپنوں سے اعتماد اٹھ گیا ہے۔کیسا ظلم ہے کہ اعتماد کا خون ہو چکا ہے۔مقدس رشتوں سے ڈر آنے لگا ہے۔یہ سب چیزیں اچانک نہیں ہو گئیں آہستہ آہستہ سرایت کروائی گئی ہیں۔ان سب کے تدارک کے ساتھ ساتھ حٖفاظت کا پہلو مقدم رکھیے۔ہماری نسل بہت قیمتی ہے۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں