1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ترک رفع الیدین کے متعلق حدیث ابن مسعود کا جائزہ

'نماز' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد طلحہ اہل حدیث, ‏نومبر 14، 2019۔

  1. ‏نومبر 14، 2019 #1
    محمد طلحہ اہل حدیث

    محمد طلحہ اہل حدیث مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 04، 2019
    پیغامات:
    86
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    18

    تحقیق و تحریر: محمد طلحہ سلفی



    بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ


    امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ

    حدثنا هناد حدثنا وكيع عن سفيان عن عاصم بن كليب عن عبد الرحمن بن الأسود عن علقمة قال قال عبد الله بن مسعود ألا أصلي بكم صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى فلم يرفع يديه إلا في أول مرة قال وفي الباب عن البراء بن عازب قال أبو عيسى حديث ابن مسعود حديث حسن وبه يقول غير واحد من أهل العلم من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم والتابعين وهو قول سفيان الثوري وأهل الكوفة

    عبد اللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز نا پڑھاؤں تو انہوں نے نماز پڑھائی اور شروع میں پہلی دفعہ کے علاوہ رفع الیدین نہیں کیا۔

    [دیکھیے سنن ترمذی حدیث 257، سنن نسائی حدیث 1027 وغیرھما ]


    یہ روایت ضعیف ہے



    محدثین کی ایک بڑی جماعت نے اس روایت کو ضعیف کہا ہے۔ جبکہ اس حدیث کی تصحیح و تحسین امام ابن حزم اور امام ترمذی نے کی ہے

    جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

    Sent from my SM-J510F using Tapatalk
     
  2. ‏نومبر 14، 2019 #2
    محمد طلحہ اہل حدیث

    محمد طلحہ اہل حدیث مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 04، 2019
    پیغامات:
    86
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    18

    1) امام ابو حاتم الرازی

    امام عبد الرحمن بن ابی حاتم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ

    سألت أبي عن حديث رواه الثوري، عن عاصم بن كليب، عن عبد الرحمن بن الأسود، عن علقمة، عن عبد الله: أن النبي (ص) قام، فكبر فرفع يديه، ثم لم يعد؟

    قال أبي: هذا خطأ

    میں نے اپنے والد (امام ابو حاتم) سے سوال کیا ایک حدیث کے بارے میں "جسے (سفیان) ثوری نے عاصم سے انہوں نے عبد الرحمن بن الاسود سے، انہوں نے علقمہ سے انہوں نے عبد اللہ بن مسعود ؓ سے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا بےشک نبیﷺ نماز کے لئے کھڑے ہوئے اللہ اکبر کہا اور اپنے ہاتھوں کو بلند کیا پھر دوبارہ ہاتھ نہیں اٹھائے" (اس حدیث کے متعق) میرے والد نے کہا یہ حدیث خطا ہے

    [علل الحدیث لابن أبي حاتم 128/2، البدر المنیر 492/3]


    بعض لوگوں نے امام ابو حاتم الرازی کی بات کا غلط مفہوم اخذ کرنے کی کوشش کی ۔ اور کہہ ڈالا کہ جناب امام ابو حاتم نے جو جرح کی ہے اس سے ان کا مقصود صرف ثم لا یعود کے الفاظ پر جرح کرنا تھا اور ترمذی والی روایت جس کو امام ترمذی نے حسن کہا اس روایت کو انہوں نے قطعاً ضعیف نہیں کہا کیوں کہ وہاں ثم لا یعود کے الفاظ نہیں۔

    ان کے علم کے لئے بتا دوں کہ ثم لا یعود اور لا یرفع یدیه الا فی اول مرۃ وغیرھما کا معنی ایک ہے۔

    لہذا جب یہ دونوں الفاظ ہم معنی ہیں تو یہ اعتراض ہی نہیں اور بالخصوص تب جب آئمہ محدثین بھی اس میں فرق نہیں رکھتے چنانچہ امام ابو حاتم رحمہ اللہ کی جرح کو امام ابن ملقن رحمہ اللہ نے اسی حدیث سے متعلق لیا ہے جس کو ترمذی نے حسن کہا ہے

    چنانچہ وہ حدیث ابن مسعود کے متعلق کہتے ہیں کہ

    و أما (الجواب عن ) الحديث الثالث وهو حديث ابن مسعود............. قال ابن أبي حاتم في علله: سألت أبي عنه فقال: هذا حديث خطا

    "اور (تارکین رفع الیدین کی ) جو تیسری حدیث (دلیل) ہے وہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (اس حدیث کے متعلق) امام ابن ابی حاتم نے (اپنی کتاب) علل (الحدیث) میں کہا کہ میں نے اپنے والد ابو حاتم رحمہ اللہ سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا یہ حدیث خطا ہے"


    اور پھر دیگر محدثین سے جرح نقل کرنے کے بعد اسی حدیث کے متعلق فرماتے ہیں کہ:

    وأنكروا على ترمذي تحسينه

    (امام) ترمذی کی اس حدیث کی تحسین پر محدثین نے انکار کیا ہے

    [دیکھیے البدر المنیر 492،493/3]


    معلوم ہوا جس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن کہا ہے امام ابو حاتم رحمہ اللہ کی جرح کو امام ابن الملقن رحمہ اللہ نے اسی حدیث سے متعلق سمجھا ہے۔ کیوں کہ دونوں روایتوں کا معنی و مفہوم ایک ہے تو کیوں کر محض الفاظ کے ظاہری اختلاف کے مد نظر دونوں روایتوں کو الگ الگ قرار دے دیا جائے۔ بالخصوص تب جبکہ معنوی طور پر دونوں ایک ہی روایت ہیں اور محدثین بھی ان میں فرق نہیں کرتے۔ لہذا امام ابو حاتم کی جرح بھی ثابت ہے اور اسی حدیث پر ہے



    اسی طرح حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو نقل کیا اور فرمایا کہ عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ:

    ألا أصلي بكم صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى فلم يرفع يديه إلا في أول مرة وفي رواية ثم لا يعود أخرجه أبو داود والترمذي وحسنه..............قال ابن أبي حاتم عن أبيه هذا خطأ

    کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز نا پڑھاؤں تو انہوں نے نماز پڑھائی اور شروع میں پہلی مرتبہ کے علاوہ ہاتھ نہیں اٹھائے اور ایک روایت میں الفاظ ہیں کہ پھر دوبارہ ہاتھ نہیں اٹھائے اس حدیث کو ابوداؤد اور ترمذی نے نکالا ہے اور امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ امام عبد الرحمن بن ابی حاتم نے اپنے والد سے نقل کیا کہ یہ حدیث خطا ہے

    [الدراية لابن الحجر 150/1]

    حافظ ابن حجر کے اس حوالے کے بعد مزید تفصیل کی گنجائش نہیں رہتی لہذا امام ابو حاتم کی جرح ترمذی کی زیر بحث روایت سے ہی متعلق ہے


    (2) امام عبد اللہ ابن مبارک

    امام عبد اللہ ابن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:

    لم يثبت حديث بن مسعود أن النبي صلى الله عليه وسلم لم يرفع يديه إلا في أول مرة

    عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث ثابت نہیں کہ وہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم شروعع (نماز) میں ایک مرتبہ کے علاوہ رفع الیدین نہیں کرتے

    [سنن ترمذی حدیث 256 و سندہ صحیح ، ورواہ البیھقی فی المعرفة السنن والآثار 422/2]



    امام عبد اللہ ابن مبارک کی جرح اس حدیث سے ہٹانے کے لئے تارکین رفع الیدین نے کہیں طرح کے شبہات ظاہر کیے۔

    چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث اور ہے اور وہ حدیث جس کو امام ترمذی نے حسن کہا ہے وہ اور ہے کیوں کہ یہ جس حدیث کو امام ابن مبارک نے غیر ثابت کہا وہ قولی حدیث ہے اور جس کو امام ترمذی نے حسن کہا وہ فعلی حدیث ہے

    عرض ہے کی یہ صرف قیاس آرائیاں ہیں اور کچھ نہیں کیوں کہ امام ابن مبارک رحمہ اللہ نے اس روایت کو اختصار کے ساتھ نقل کر کے اس کو غیر ثابت کہا ہے اور حدیث کے عام طالب علم پر بھی مخفی نہیں کہ محدثین بعض اوقات روایت کو اختصار کے ساتھ نقل کر کے اس پر حکم لگا دیتے ہیں اس سے ان کی کوئی اور روایت مراد نہیں ہوتی۔

    اور امام عبداللہ ابن مبارک کے قول کا بھی یہیں حال ہے چنانچہ محدثین متفقہ طور پر امام عبد اللہ ابن مبارک کے اس قول کو اسی حدیث سے متعلق سمجھتے ہیں جس حدیث کو امام ترمذی نے حسن کہا ہے


    چنانچہ امام ابن القطان رحمہ اللہ سنن ترمذی کے حوالے سے عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی زیر بحث روایت نقل کر کے کہتے ہیں کہ

    وذكر الترمذي عن ابن المبارك أنه قال: لا يصح

    امام ترمذی نے ابن مبارک رحمہ اللہ سے نقل کیا کہ انہوں نے اس (ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی زیر بحث روایت) کو غیر ثابت کہا

    [دیکھیے بیان الوھم والإيهام 365/3]


    امام ابن الملقن رحمہ اللہ نے بھی امام ابن مبارک کا قول اسی حدیث ابن مسعود سے متعلق نقل کیا ہے جس حدیث کو امام ترمذی نے حسن کہا ہے۔ چنانچہ امام ابن الملقن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:

    قال ابن المبارك لم يثبت حديث عندي حديث ابن مسعود

    امام ابن مبارک نے کہا کہ میرے نزدیک حدیث ابن مسعود ثابت نہیں

    [دیکھیے البدر المنیر 492/3]


    امام بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:

    روي عن عبد الله بن مسعود، قال: ألا أصلي بكم صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم، فصلى، ولم يرفع يديه إلا أول مرة............... قال عبد الله بن المبارك: لم يثبت حديث ابن مسعود

    عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز نا پڑھاؤں تو انہوں نے نماز پڑھائی اور رفع الیدین نہیں کیا سوائے شروع میں ایک مرتبہ کے۔ .............. امام ابن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ (یہ) حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ ثابت نہیں۔

    [دیکھیے شرح السنہ للبغوی 125/3]


    اسی طرح امام بیھقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

    قال عبد الله بن مسعود: ألا أصلي لكم صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: «فصلى ولم يرفع يديه إلا مرة» ...................عن عبد الله بن المبارك قال: لم يثبت عندي حديث عبد الله بن مسعود أن رسول الله صلى الله عليه وسلم: رفع يديه أول مرة، ثم لم يرفع


    ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز نا پڑھاؤں تو انہوں نے نماز پڑھائی تو سوائے ایک مرتبہ کے رفع الیدین نہیں کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عبد اللہ ابن مبارک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میرے نزدیک حدیث ابن مسعود ثابت نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف شروع میں ایک مرتبہ رفع الیدین کیا پھر دوبارہ نہیں کیا

    [دیکھیے معرفة السنن والآثار 422/2]


    امام بیھقی نے حدیث ابن مسعود کو نقل کرنے کے بعد ہی حدیث ابن مسعود سے متعلق ابن مبارک رحمہ اللہ کہ جرح نقل کی جس سے ثابت ہوا کہ امام بیھقی بھی اس جرح کو اسی حدیث سے متعلق سمجھتے تھے


    امام حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ فرماتے ہیں کہ:

    ألا أصلي بكم صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى فلم يرفع يديه إلا في أول مرة وفي رواية ثم لا يعود أخرجه أبو داود والترمذي وحسنه ونقل عن ابن المبارك أنه قال لم يثبت عندي

    کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز نا پڑھاؤں تو انہوں نے نماز پڑھائی اور شروع میں پہلی مرتبہ کے علاوہ ہاتھ نہیں اٹھائے اور ایک روایت میں الفاظ ہیں کہ پھر دوبارہ الفاظ نہیں اٹھائے اس حدیث کو ابوداؤد اور ترمذی نے نکالا ہے اور امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے اور (امام ترمذی نے) ابن مبارک رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا یہ حدیث میرے نزدیک ثابت نہیں

    [دیکھیے الدراية 150/1]


    جناب احناف کے علامہ عینی حنفی بھی ابن مبارک رحمہ اللہ کی جرح کو اسی حدیث سے متعلق خیال کرتے ہیں۔ چنانچہ وہ سنن ابو داود کی شرح میں لکھتے ہیں کہ:

    نا عثمان بن أبي شيبة، نا وكيع، عن سفيان، عن عاصم

    - يعني: ابن كليب- عن عبد الرحمن بن الأسود، عن علقمة قال: قال عبد الله بن مسعود: ألا أصلى بكم صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: فصلى، فلم يرفع يديه إلا مرة ........... أخرجه الترمذي،

    وقال: حديث حسن صحيح، وأخرجه النسائي عن ابن المبارك، عن سفيان. واعترض على هذا الحديث بأمور، منها: ما رواه الترمذي (3) بسنده عن ابن المبارك قال: لم يثبت عندي حديث ابن مسعود

    [دیکھیے شرح سنن ابی داود 341/3]


    لہذا ثابت ہوا محدثین متفقہ طور پر عبداللہ ابن مبارک رحمہ اللہ کی جرح کو اسی حدیث ابن مسعود سے متعلق خیال کرتے ہیں جو ترمذی نے نقل کی ہے۔

    لہذا دور حاضر کا ان کی جرح سے فعلی حدیث اور قولی حدیث کا فرق نکالنا جہالت ہے اور کچھ نہیں۔

    (3) امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ

    امام بخاری فرماتے ہیں کہ:

    ويروى عن سفيان , عن عاصم بن كليب , عن عبد الرحمن بن الأسود , عن علقمة قال: قال ابن مسعود: " ألا أصلي بكم صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم: فصلى ولم يرفع يديه إلا مرة

    وقال أحمد بن حنبل: عن يحيى بن آدم قال: نظرت في كتاب عبد الله بن إدريس عن عاصم بن كليب ليس فيه: ثم لم يعد فهذا أصح لأن الكتاب أحفظ عند أهل العلم لأن الرجل ربما حدث بشيء ثم يرجع إلى الكتاب فيكون كما في الكتاب

    سفیان ثوری سے عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمہ کی سند سے مروی ہے کہ عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز نا پڑھاؤں تو انہوں نے نماز پڑھائی تو ایک مرتبہ کے علاوہ رفع الیدین نہیں کیا۔

    اور امام احمد بن حنبل نے یحیی بن آدم سے کہا کہ میں نے عبداللہ ابن ادریس کی عاصم بن کلیب سے کتاب میں دیکھا اس میں پھر دوبارہ ہاتھ نا اٹھانے کے الفاظ نہیں تھے۔ اور (عبداللہ ابن ادریس ) کی یہ روایت أصح (یعنی بنسبت سفیان ثوری کے زیادہ صحیح ) ہے۔ کیوں کہ علماء کے نزدیک کتاب زیادہ محفوظ ہوتی ہے۔ کیوں کہ آدمی بعض اوقات کوئی بات کرتا ہے تو پھر جب (اپنی کتاب ) کی طرف رجوع کرتا ہے تو (درست) وہیں ہوتا ہے جو کتاب میں ہے

    [كتاب الرفع اليدين للبخاري صفحہ 28]


    گویا امام احمد سفیان ثوری کی روایت کے مقابلے میں عبداللہ ابن ادریس کی روایت کو راجح قرار دے رہے ہیں۔ اور سفیان ثوری کی روایت پر جرح کر کے ان کی روایت کو ضعیف و غیر محفوظ قرار دے رہے ہیں۔


    اور آئمہ محدثین بھی بالاتفاق امام احمد کے اس قول سے حدیث ابن مسعود کی تضعیف ہی مراد لے رہے ہیں۔


    چنانچہ امام ابن الملقن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ

    (وضعفه) أيضا الإمامان أحمد بن حنبل ويحيى (بن آدم) على ما نقله عنهما البخاري في كتاب «رفع اليدين» وتابعهما على تضعيفه

    اور اس حدیث (ابن مسعود) کو امام احمد بن حنبل اور امام یحیی بن آدم نے ضعیف قرار دیا ہے جس کو امام بخاری نے اپنی کتاب رفع الیدین میں نقل کیا ہے اور امام بخاری نے بھی اس حدیث کی تضعیف میں ان (یعنی امام احمد اور امام یحیی بن آدم) کی متابعت کی ہے۔

    [البدر المنیر 492/3]


    امام نووی فرماتے ہیں کہ:

    وروى البخاري في كتاب رفع اليدين تضعيفه عن أحمد بن حنبل وعن يحيى بن آدم وتابعهما البخاري على تضعيفه

    امام بخاری نے اپنی کتاب رفع الیدین میں امام احمد اور امام یحیی بن آدم سے اس حدیث کی تضعیف نقل کی ہے اور اس حدیث کی تضعیف پر امام بخاری نے ان کی متابعت کی ہے

    [دیکھیے المجموع شرح المہذب للنووی 403/3]


    (4) امام یحیی بن آدم رحمہ اللہ

    جب امام احمد بن حنبل نے امام یحیی بن آدم سے یہ بات بیان کی کہ میں نے ابن ادریس کی عاصم بن کلیب سے کتاب میں دیکھا تو اس میں پھر دوبارہ ہاتھ نا اٹھائے کے الفاظ نہیں تھے اور ابن ادریس کی یہ والی روایت زیادہ صحیح ہے کیوں کہ علماء کے نزدیک کتاب زیادہ محفوظ ہوتی ہے ۔ تو اس پر امام یحیی بن آدم نے کوئی اختلاف نہیں کیا یعنی گویا وہ امام احمد بن حنبل کی اس بات سے متفق تھے۔ اسی وجہ سے آئمہ محدثین نے اس حدیث کی تضعیف کرنے والوں میں امام یحیی بن آدم کا نام بھی ذکر کیا

    [تفصیل دیکھیے نمبر 3 پر امام احمد کی جرح کی تحت]


    (5) امام بخاری رحمہ اللہ

    امام بخاری فرماتے ہیں کہ:

    ويروى عن سفيان , عن عاصم بن كليب , عن عبد الرحمن بن الأسود , عن علقمة قال: قال ابن مسعود: " ألا أصلي بكم صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم: فصلى ولم يرفع يديه إلا مرة

    وقال أحمد بن حنبل: عن يحيى بن آدم قال: نظرت في كتاب عبد الله بن إدريس عن عاصم بن كليب ليس فيه: ثم لم يعد فهذا أصح لأن الكتاب أحفظ عند أهل العلم لأن الرجل ربما حدث بشيء ثم يرجع إلى الكتاب فيكون كما في الكتاب

    حدثنا الحسن بن الربيع , حدثنا ابن إدريس , عن عاصم بن كليب , عن عبد الرحمن بن الأسود , حدثنا علقمة أن عبد الله

    رضي الله عنه قال: " علمنا رسول الله صلى الله عليه وسلم الصلاة: فقام فكبر ورفع يديه , ثم ركع , فطبق يديه جعلهما بين ركبتيه فبلغ ذلك سعدا فقال: صدق أخي قد كنا نفعل ذلك في أول الإسلام ثم أمرنا بهذا ".

    قال البخاري: "وهذا المحفوظ عند أهل النظر من حديث عبد الله بن مسعود"

    "سفیان ثوری سے عن عاصم بن کلیب عن عبد الرحمن بن الاسود عن علقمہ کی سند سے مروی ہے کہ عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز نا پڑھاؤں تو انہوں نے نماز پڑھائی تو ایک مرتبہ کے علاوہ رفع الیدین نہیں کیا۔

    اور امام احمد بن حنبل نے یحیی بن آدم سے کہا کہ میں نے عبداللہ بن ادریس کی عاصم بن کلیب سے کتاب میں دیکھا اس میں پھر دوبارہ ہاتھ نا اٹھانے کے الفاظ نہیں تھے۔ اور (عبداللہ ابن ادریس ) کی یہ روایت أصح (یعنی بنسبت سفیان ثوری کے زیادہ صحیح ) ہے۔ کیوں کہ علماء کے نزدیک کتاب زیادہ محفوظ ہوتی ہے۔ کیوں کہ آدمی بعض اوقات کوئی بات کرتا ہے تو پھر جب (اپنی کتاب ) کی طرف رجوع کرتا ہے تا (درست) وہیں ہوتا ہے جو کتاب میں ہے

    (امام احمد کا قول نقل کرنے کے بعد امام بخاری اپنی سند سے ابن ادریس کی وہ والی روایت نقل کرتے ہیں جس کو امام احمد بن حنبل نے سفیان ثوری کی حدیث کے مقابلے میں زیادہ صحیح قرار دیا چنانچہ امام بخاری فرماتے ہیں کہ) ہمیں بیان کیا الحسن بن الربیع نے، انہیں بیان کیا ابن ادریس نے، انہوں نے عاصم بن کلیب سے، انہوں نے عبدالرحمن بن الاسود سے وہ کہتے ہیں ہمیں علقمہ (بن وائل) نے حدیث بیان کی کہ بے شک عبداللہ (ابن مسعود) رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سکھلائی ہے۔ پس وہ کھڑے ہوئے تو تکبیر کہی اور رفع الیدین کیا پھر رکوع کیا تو اپنے دونوں ہاتھوں کو تطبیق کرتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھوں کو گھٹنوں کے درمیان رکھ کیا۔ پھر سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو یہ بات پہنچی تو انہوں نے کہا میرے بھائی نے سچ کہا ہم اسلام کے ابتدائی دور میں اسی طرح کرتے تھے امام بخاری فرماتے ہیں محقق علماء کے نزدیک عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث میں سے (صرف) یہی والی حدیث محفوظ ہے "


    یعنی گویا ابن ادریس کی روایت محفوظ ہے اور سفیان ثوری کہ روایت غیر محفوظ (یعنی ضعیف) ہے امام بخاری کے نزدیک۔

    آئمہ محدثین نے اسی وجہ سے امام بخاری کو زیر بحث حدیث کی تضعیف کرنے والوں میں شمار کیا ہے

    [تفصیل دیکھیے نمبر 3 پر امام احمد کی جرح کی تحت]


    (6) امام ابو داود رحمہ اللہ

    امام ابو داود رحمہ اللہ زیر بحث حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے متعلق کہتے ہیں کہ:

    هذا حديث مختصر من حديث طويل وليس هو بصحيح على هذا اللفظ

    یہ ایک طویل حدیث سے ماخوذ ایک مختصر ٹکڑا ہے، اور یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ صحیح نہیں

    [دیکھیے سنن ابو اود حدیث 748 نسخہ بیت الافکار الدولیہ صفحہ 102، نسخہ حمصیہ 478/1]


    دور حاضر کے بعض جاہل لوگوں نے امام ابو داود کی اس جرح کو اس حدیث پر سے ہٹانے کی کوشش کی اور دعوی کر ڈالا کہ یہ عبارت امام ابو داود کی ہے ہی نہیں.

    حالانکہ یہ عبارت امام ابو داود کی ہی ہے اور ان کے نسخہ میں موجود ہے

    بعض نے یہ کہا ابو داود سے ان کی یہ عبارت قدیم شاگردوں نے نقل کی ہے متاخر شاگردوں نے نقل نہیں کی۔ جیسے کہ فیصل خان بریلوی حلیق (یعنی ڈاڑھی منڈے) صاحب نے اپنی کتاب ترویج عینین میں اس پر طویل بحث کی ہے

    پھر انہوں نے قدیم شاگردوں میں درج ذیل نام گنوائے

    1) ابو علی اسحاق بن موسی بن سعید الرملی الوارق

    2) ابو الطیب احمد بن ابراہیم ابن الاشنانی بغدادی

    3) ابو محسن علی بن الحسن بن الانصاری


    اس کے بعد متاخر شاگرودوں کے نام گنوائے

    1) ابو بکر احمد بن سلمان البغدادی

    2) ابو سعید احمد بن محمد بن سعید بن زیاد ابن الاعرابی البصری

    3) ابو بکر محمد بن بکر بن محمد بن عبد الرزاق بن داسہ البصری

    4) ابو علی محمد بن احمد بن عمرو الؤلوی البصری

    [دیکھیے ترویج العینین صفحہ 18]


    اب ہم زرا موصوف کو آئنہ دکھاتے ہیں کہ یہ جرح امام ابو داود سے صرف قدیم نہیں بلکہ متاخر شاگردوں میں سے ابن داسہ نے بھی نقل کی ہیں جو بقول فیصل خان رضوی بریلوی حلیق (ڈاڑھی منڈے) صاحب کے امام ابو داود کے متاخر شاگرد ہیں۔

    [اس نسخہ کا عکس ملاحظہ فرمائیں اس مضمون کے آخر میں پہلا عکس]


    اور آئمہ محدثین نے امام ابو داود کی عبارت کو معتمد علیہ گردانا ہے اور اس عبارت کو امام ابو داود کی طرف منسوب کیا ہے۔ جس سے واضح ہو جاتا ہے کہ آئمہ محدثین کے نزدیک یہ عبارت امام ابو داود ہی کی ہے۔ اور اس دلیل کے بعد کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ اس عبارت کو امام ابو داود کے حوالے سے غیر ثابت قرار دیا جائے


    ان محدثین کے نام جنہوں نے اس عبارت کو امام ابو داود کی مانا ہے:

    1) امام ابن عبد البر کہتے ہیں کہ

    قال أبو داود في حديث عاصم بن كليب عن عبد الرحمان بن الأسود عن علقمة عن ابن مسعود قال ألا أصلي بكم صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى فلم يرفع يديه إلا مرة واحدة هذا حديث يختصر من حديث طويل وليس بصحيح على هذا المعنى

    [دیکھیے التمہید لابن عبد البر 220/9]


    2) امام ابن الجوزی نے فرمایا:

    وقال ابو داود: لیس بصحیح

    [دیکھیے التحقیق فی اختلاف الحدیث صفحہ 335 ]

    فیصل رضوی صاحب نے امام ابن الجوذی کے مذکور حوالے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ:

    " امام ذھبی نے اپنی کتاب التنقیح کتاب التحقیق فی احادیث تعلیق پر امام ابوداود نے اس جرح کے الفاظ نقل نہیں کئے کیوں کہ یہ کتاب ابن الجوذی کی کتاب التحقیق پر تعلیق ہے۔ لہذا انہوں نے اس کتاب میں امام ابو داود سے جرح نقل کرنے پر اتفاق نہیں کیا۔ اور یہ بھی معلوم ہوا کہ امام ذھبی کے پاس جو سنن ابو داود کا نسخہ تھا۔ اس میں ابو داود کی جرح منقول نہیں تھی"

    [دیکھیے ترویج العینین صفحہ 17 ]


    عرض ہے کہ اگر امام ذھبی کے پاس وہ نسخہ تھا جس میں امام ابو داود کی عبارت نہیں تھی تو کیا ہوا باقی آئمہ محدثین کے پاس تو تھا نا اور انہوں نے امام ابو داود کی اس عبارت کو ثابت شدہ مانا تب ہی تو نقل کیا اور نقل کر کے اس عبارت کو معتبر سمجھا۔


    3) امام ابن ملقن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ:

    وقال أبو داود: هذا الحديث ليس هو بصحيح على هذا اللفظ

    [دیکھیے البدر المنیر 492/3]


    4) امام ابن القطان کہتے ہیں کہ:

    وممن ضعفه كذلك أبو داود، وزعم أنه مختصر من حديث طويل، قال: وليس بصحيح على هذا اللفظ

    [بیان الوھم ولایھام لابن القطان 365/3]

    اور ایک جگہ کہا کہ:

    قال أبو داود: حدثنا عثمان بن أبي شيبة، قال: حدثنا وكيع، عن سفيان، عن عاصم بن كليب، عن عبد الرحمن بن الأسود، عن علقمة قال: قال عبد الله بن مسعود: ألا أصلي بكم صلاة رسول الله - صلى الله عليه وسلم -؟ قال: فصلى فلم يرفع يده إلا مرة.

    قال أبو داود: هذا الحديث مختصر من حديث طويل، وليس هو بصحيح على هذا اللفظ

    [بیان الوہم والایھام 366/3]


    5) امام ابن الھادی حدیث ابن مسعود کے متعلق کہتے ہیں کہ:

    قال أبو داود: ليس بصحيح

    [دیکھیے التنقیح لابن عبد الھادی 135/2]


    6) امام حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں کہ:

    قال أبو داود: ليس هو بصحيح

    [تلخیص الحبیر 402/1]


    7) صاحب مشکوۃ المصابیح نے بھی اس عبارت کو امام ابو داود کی مانا ہے

    [دیکھیے مشکوۃ المصابیح حدیث 809]


    8) ملا علی قاری حنفی اس حدیث کے متعلق کہتے ہیں کہ:

    وقال أبو داود: ليس هو بصحيح على هذا المعنى

    [مرقاۃ المفاتیح 668/2]


    لہذا معلوم ہوا تمام آئمہ نے اس جرح کو ثابت مانا ہے۔ اور امام ابو داود کی اس عبارت پر نقل کر کر اپنا اعتماد ظاہر کیا ہے۔

    جو اس بات کی زبردست دلیل ہے کہ امام ابو داود کی اس عبارت کا وجود ان کی کتاب السنن میں ہے۔


    (7) امام البزار رحمہ اللہ

    امام ابن عبد البر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ:

    قال أبو بكر أحمد بن عمر البزار وهو حديث لا يثبت ولا يحتج به قال أبو بكر سمعت البزار يقوله

    امام بزار نے کہا وہ حدیث (ابن مسعود) ثابت نہیں اور نا ہی قابل احتجاج ہے


    [التمهيد 220/9]


    8) امام محمد بن وضاح

    امام ابن عبد البر کہتے ہیں کہ:

    حدثنا أحمد بن محمد بن أحمد حدثنا أحمد بن سعيد حدثنا سعيد بن عثمان قال سمعت محمد بن وضاح يقول الأحاديث التي تروى عن النبي صلى الله عليه وسلم في رفع اليدين ثم لا يعود ضعيفة كلها

    امام محمد بن وضاح فرماتے ہیں کہ وہ تمام احادیث جس میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے رفع الیدین کا ثبوت اور بعد میں ترک مروی ہے وہ سب کی سب ضعیف ہیں

    [التمھید لابن عبد البر 221/9]


    9) امام ابن حبان رحمہ اللہ

    امام ابن حبان رحمہ اللہ اپنی کتاب "وصف الصلاۃ بالسنة" میں فرماتے ہیں کہ:

    هو في الحقيقة أضعف شيء يعول عليه؛ لأن له عللا تبطله

    حقیقت میں یہ روایت سب سے زیادہ ضعیف ہے کیوں کہ اس کی علتیں ہیں جو اسے باطل قرار دیتی ہیں

    [البدر المنیر 494/3،تلخيص الحبير 402/1]


    بعض لوگوں نے اس کی سند پر اعتراض کیا کہ یہ بے سند ہے۔

    عرض ہے کہ امام حافظ ابن حجر اور امام ابن الملقن رحمہ اللہ نے اس جرح کو امام ابن حبان کی کتاب الصلاۃ سے نقل کیا ہے۔ اور یہ تو عام فہم طالب علم بھی جانتا ہے کہ کتاب سے نقل معتبر ہوتا ہے


    10) امام ابن عبد البر رحمہ اللہ

    امام ابن عبدالبر رحمہ اللہ ترک رفع الیدین کے متعلق حدیث برا بن عازب اور حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ:

    وهذان حديثان معلولان عند أهل العلم بالحديث

    محدثین کے نزدیک یہ دونوں احادیث معلول (وغیر محفوظ) ہیں

    [التمهيد 215/9]


    11) امام دار قطنی رحمہ اللہ

    جب امام دار قطنی سے اس روایت ( علقمة، عن عبد الله، قال: ألا أريكم صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم، فرفع يديه في أول تكبيرة، ثم لم يعد ) کے متعلق سوال ہوا تو انہوں نے اس روایت کی سند کو صحیح قرار دیا اور پھر طویل بہث کرنے کے بعد کہا کہ:

    وليس قول من قال: "ثم لم يعد" محفوظا

    جس نے دوبارہ رفع الیدین نا کرنے کے الفاظ کہے اس کی روایت محفوظ نہیں

    [علل الدارقطنی 173/5]


    گویا امام دار قطنی کے نزدیک صرف اتنا حصہ محفوظ ہے کہ ( عن عبد الله، قال: ألا أريكم صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم، فرفع يديه في أول تكبيرة ) اور اس سے ترک توو ثابت ہی نہیں ہوتا

    گویا کہ سفیان ثوری کی زیر بحث روایت امام دار قطنی کے نزدیک ضعیف ہے جس میں پھر دوبارہ رفع الیدین نا کرنے کے الفاظ ہیں


    12) امام ابن الملقن رحمہ اللہ

    امام ابن الملقن رحمہ اللہ نے اس زیر بحث حدیث کو ضعیف کہا

    [دیکھیے البدر المنیر 492/3]


    13) امام عبد الحق الاشبیلی

    امام عبد الحق الاشبیلی نے کہا:

    لا یصح

    یعنی یہ حدیث غیر ثابت ہے

    [أحكام الوسطى 367/1]


    15) امام نووی رحمہ اللہ

    امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ

    " اتفقو على تضعيفه وأنكروا على الترمذي قوله: إنه حسن "

    اس حدیث کے ضعیف ہونے پر اجماع ہے (سوائے امام ترمذی کے) اور امام ترمذی کے اس حدیث کو حسن کہنے پر محدثین نے انکار کیا ہے

    [دیکھیے خلاصة الأحكام 355/1]


    لہذا ثابت ہوا ان جمہور محدثین نے اس روایت کو ضعیف کہا ہے اس کے مقابلے میں امام ترمذی کا حسن کہنا اور امام ابن حزم کا صحیح کہنا درست نہیں۔

    بعض لوگوں نے امام احمد اور امام نسائی کو بھی اس حدیث کی تصحیح کرنے والوں میں شمار کر لیا

    جبکہ امام نسائی نے اپنی سنن میں صرف روایت ذکر کی ہے کوئی صحیح نہیں کہا اور سکوت نسائی کے حجت ہونے کی دلیل کوئی نہیں۔ اسی طرح امام احمد نے مسند احمد بن حنبل میں اس روایت کو لیا ہے لیکن احتجاج قطعاً نہیں کیا کیوں کہ امام احمد نے اپنی اس کتاب میں کوئی صحت کا التزام نہیں کیا

    اسی طرح بعض لوگوں نے صرف محض اس روایت کو نقل کرنے والوں کو ہی اس حدیث سے حجت پکڑنے والوں میں شمار کر لیا جو کہ صرف اور صرف جہالت ہے اور کچھ نہیں

    اور ان جمہور محدثین کی بات ہر لحاظ سے مقدم ہے

    اور دوسری بات یہ روایت غیر ثابت و ضعیف ہونے کے ساتھ ساتھ عام بھی ہے جبکہ رکوع جاتے اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع الیدین کرنے کی روایات خاص ہیں

    اور یہ اصول تو عام فہم طالب علم بھی جانتا ہے خاص کو عام پر مقدم رکھا جاتا ہے


    بالفرض بالفرض اگر یہ روایت صحیح بھی ہوتی تو چونکہ رفع الیدین کرنے کی روایات خاص ہیں اور یہ حدیث عام ہے تو اس میں اور رفع الیدین کرنے والی روایات میں تطبیق ممکن ہے۔ وہ اس طرح کہ زیر بحث روایت سے یہ مراد لی جاتی کہ صرف تکبیر تحریمہ کے وقت ایک بار رفع الیدین کیا جائے اور اس مقام پر دوبارہ رفع الیدین نا کیا جائے اور رکوع جاتے اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع الیدین کیا جائے اور دو رکعتوں کے بعد رفع الیدین کیا جائے۔

    اس تطبیق سے تمام احادیث پر عمل ہو جاتا



    Sent from my SM-J510F using Tapatalk
     
  3. ‏نومبر 14، 2019 #3
    محمد طلحہ اہل حدیث

    محمد طلحہ اہل حدیث مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 04، 2019
    پیغامات:
    86
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    18

    الزامی جواب:

    اگر اس روایت سے حنفی یہ مراد لیتے ہیں کہ اس سے مراد تکبیر تحریمہ کے بعد ہر رفع الیدین سے ہے تو وتر اور عیدین والا رفع الیدین کیوں کرتے ہو

    اس کو بھی تو منسوخ سمجھو لیکن نہیں تعصب مسلک پرستی میں وہاں رفع الیدین کریں گے اور یہاں نہیں کریں گے

    اگر ان کی تخصیص ثابت ہے تو رکوع والے رفع الیدین کی تخصیص بھی تو ثابت ہے

    فما جوابكم فهو جوابنا



    Sent from my SM-J510F using Tapatalk
     
  4. ‏نومبر 14، 2019 #4
    محمد طلحہ اہل حدیث

    محمد طلحہ اہل حدیث مبتدی
    شمولیت:
    ‏مارچ 04، 2019
    پیغامات:
    86
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    18

    سفیان ثوری رحمہ اللہ کی متابعات کا جائزہ:

    سنن دار قطنی کے حوالے سے سفیان ثوری رحمہ اللہ کی دو متابعات پیش کی جاتی ہیں

    ایک ابو بکر النھشلی کی اور ایک ابن ادریس کی

    [دیکھیے سنن دار قطنی 171/5]


    لیکن یہ دونوں متابعات بے سند ہیں امام دار قطنی سے لے کر امام ابن ادریس اور ابو بکر النھشلی تک سند معلوم نہیں۔


    کیا وکیع بن الجراح رحمہ اللہ نے سفیان ثوری رحمہ اللہ کی متابعت کی؟؟؟

    امام ابن عبد البر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ

    حدثنا عبد الوارث بن سفيان قال حدثنا قاسم بن أصبغ قال حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل قال حدثني أبي قال حدثنا وكيع عن عاصم بن كليب عن عبد الرحمان بن الأسود عن علقمة قال قال ابن مسعود ألا أصلي بكم صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم قال فصلى فلم يرفع يديه إلا مرة

    [دیکھیے التمھید 215/9]


    عرض ہے کہ یہ متابعت معتبر نہیں کیوں کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے دراصل اپنی کتاب المسند میں اس روایت کو وکیع عن سفیان کے طریق سے بیان کیا ہے

    [دیکھیے مسند أحمد ط الرسالہ 203/6]

    امام ھناد بن السری بن مصعب رحمہ اللہ نے بھی اس روایت کو وکیع عن سفیان کے طریق سے بیان کیا

    [دیکھیے جامع ترمذی حدیث 257]

    صرف یہیں نہیں بلکہ امام عثمان بن ابی شیبہ نے بھی اس روایت کو وکیع عن سفیان کے طریق سے بیان کیا

    [دیکھیے سنن ابوداود حدیث 748]


    لہذا کتاب التمہید میں اس روایت کو وکیع عن عاصم بن کلیب کے حوالے سے بیان کرنا نیچے کے کسی راوی کی غلطی ہے کیوں کہ احمد بن حنبل خود اس روایت کو اپنی کتاب المسند میں وکیع عن سفیان کے طریق سے بیان کیا تو ایسے کیسے ممکن ہے کہ وہ اس روایت کو بغیر سفیان ثوری کے حوالے سے بیان کرے۔ بالخصوص تب جب امام ھناد اور امام عثمان بن ابی شیبہ نے بھی اس روایت کو وکیع عن سفیان کے ہی طریق سے بیان کیا ہے

    لہذا ثابت ہوا کہ التمہید والی روایت خطا ہے اور محفوظ یہ ہے کہ امام احمد بن حنبل نے اس روایت وکیع عن سفیان کے ہی طریق سے بیان کیا ہے


    حدیث عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے شواہد کا جائزہ:

    پہلا شاہد:

    امام ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:

    حدثنا وكيع، عن مسعر، عن أبي معشر، عن إبراهيم، عن عبد الله، «أنه كان يرفع يديه في أول ما يستفتح، ثم لا يرفعهما»

    [المصنف ابن ابی شیبہ 213/1]


    یہ روایت بھی ضعیف ہے۔

    ابراہیم النخعی رحمہ اللہ اور عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا سماع ثابت نہیں۔

    اور عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے جب ابراہیم النخعی روایت کریں تو وہ حجت نہیں ہے۔ اگرچہ وہ غیر واحد (کئی ایک ) سے بیان کرتے ہیں۔ کیوں کہ وہ غیر واحد جن سے ابراہیم نخعی نے سنا ہے۔ کیا ان لوگوں کا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے لقاح و سماع ثابت بھی ہے یا نہیں۔ اور کیا وہ غیر واحد مجہول ہیں یا ثقہ ہیں یا ضعیف ہیں کون ہیں کچھ خبر نہیں۔

    اس بات کے متعلق یہ بات کہنا کہ وہ غیر واحد سے مراد ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگرد ہیں تو یہ بھی باطل ہے کیوں کہ اس کی کوئی دلیل نہیں۔

    چنانچہ امام ترمذی کہتے ہیں کہ

    حدثنا أبو عبيدة بن أبي السفر الكوفي حدثنا سعيد بن عامر عن شعبة عن سليمان الأعمش قال قلت لإبراهم النخعي أسند لي عن عبد الله بن مسعود فقال إبراهيم إذا حدثتك عن رجل عن عبد الله فهو الذي سميت وإذا قلت قال عبد الله فهو عن غير واحد عن عبد الله

    یعنی اعمش نے کہا میں نے ابراہیم (النخعی) سے ابن مسعود رضی اللہ تک سند کا پوچھا تو ابراہیم النخعی رحمہ اللہ نے کہا کہ جب میں کسی شخص کے حوالے سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بات بیان کروں تو وہ میں نے صرف اسی سے سنی ہے اور جب میں یہ کہوں کہ عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ نے (یہ) کہا تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی وہ بات میں نے کہیں اشخاص کے حوالے سے سنی ہے"

    [علل الصغیر للترمذی 755/5]


    اب وہ غیر واحد کون ہیں معلوم نہیں لہذا اس بات کو متصل اور صحیح کہنا درست نہیں

    چنانچہ امام نووی رحمہ اللہ ایک روایت کے متعلق کہتے ہیں کہ:

    (وفيه) ضعف آخر وهو أن إبراهيم النخعي لم يدرك ابن مسعود بالاتفاق فهو منقطع ضعيف

    اس (روایت) میں دوسرا ضعف یہ ہے کہ ابراہیم النخعی نے بالاجماع ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا پس یہ روایت منقطع اور ضعیف ہے

    [دیکھیے المجموع شرح المهذب 355/3]

    یہاں غور کرنے کی بات ہے کہ امام نووی رحمہ اللہ ابراہیم عن ابن مسعود والی سند کو وجہ ضعف سمجھتے ہیں۔


    امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:

    أن إبراهيم لو روي عن علي و عبد الله لم يقبل منه لأنه لم يلق واحدا منها

    اگر ابراہیم نخعی علی رضی اللہ عنہ اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کریں تو وہ قبول نہیں کیا جائے گا کیوں کہ ابراہیم کی ان میں سے کسی ایک سے بھی ملاقات ثابت نہیں

    [دیکھیے کتاب الأم للشافعی 169/10]



    امام احمد بن فرح الاشبیلی رحمہ اللہ ایک روایت کے متعلق جو (معشر عن إبراهيم عن ابن مسعود) کی سند سے مرویی ہے فرماتے ہیں کہ:

    وهذا مرسل، إبراهيم لم يسمع من عبد الله ومرسلات إبراهيم ليست بشيء.

    یہ روایت مرسل ہے (کیوں کہ) ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نہیں سنا اور ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کی مراسلات کچھ حیثیت نہیں رکھتی

    [دیکھیے مختصر خلافیات للبیھقی 314/1]


    امام بیھقی رحمہ اللہ نے ابو عبداللہ (الحاکم) رحمہ اللہ سے نقل کیا کہ امام حاکم اس موقوف مرسل شاہد کے متعلق فرماتے ہیں کہ:

    وإبراهيم النخعي لم ير ابن مسعود والحديث منقطع

    ابراہیم نخعی نے ابن مسعود رضی اللہ کو نہیں دیکھا اور یہ حدیث منقطع ہے

    [دیکھیے خلافیات للبیھقی 365/2]

    اور امام بیھقی نے امام حاکم کے اس کلام کو بطور دلیل پیش کیا اور احتجاج کیا گویا وہ ان کے اس کلام سے متفق تھے


    امام ذھبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:

    أنه إذا أرسل عن ابن مسعود وغيره فليس ذلك بحجة

    ابراہیم نخعی جب ابن مسعود رضی اللہ عنہ وغیرہ سے ارسال کریں تو تب وہ حجت نہیں ہیں

    [دیکھیے میزان الاعتدال 75/1]


    لہذا یہ موقوف شاہد ضعیف ہے اور ضعیف ہونے کے ساتھ ساتھ عام بھی ہے جب کہ رکوع والا رفع الیدین خاص ہے لہذا اس روایت کو اس روایت پر حجت بنانا ہی بیو قوفی ہے


    دوسرا شاہد

    امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:

    حدثنا إسحاق بن إبراهيم، عن عبد الرزاق، عن حصين، عن إبراهيم، أن ابن مسعود كان يرفع يديه في أول شيء، ثم لا يرفع بعد

    [دیکھیے طبرانی الکبیر 261/9]


    یہ شاہد بھی ضعیف ہے ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور ابراہیم نخعی کا لقاح ثابت نہیں

    اور اسحاق بن ابراہیم الدبری کی روایت امام عبد الرزاق کے ساتھ ضعیف ہو گی کیوں کہ اسحاق بن ابراہیم الدبری نے عبد الرزاق سے آخری عمر میں سماع کیا جب وہ مختلط ہو گئے تھے


    اس طرح کے اور بھی شواہد میں لیکن ان سب میں مرکزی راوی ابراہیم نخعی ہیں جو ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ارسال کرتے ہیں

    اور اوپر دلائل سے بتا دیا جا چکا ہے کہ آئمہ محدثین ابراہیم عن ابن مسعود والی سند کو قبول نہیں کرتے


    شاہد نمبر 3 (مرفوع شاہد)

    حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ

    "میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز پڑھی وہ شروع نماز میں تکبیر تحریمہ کے علاوہ ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے"

    [سنن دار قطنی 295/1]


    تبصرہ:

    یہ روایت سخت ضعیف ہے محمد بن جابر الیمامی جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہے

    تمام حوالہ نقل کرنے میں مضمون کافی طویل ہو جائے گا لہذا ہم جرح مفسر پیش کر دیتے ہیں

    امام ابو حاتم کہتے ہیں کہ:

    حديثه عن حماد، فيه اضطراب

    اس کی حدیث حماد بن ابی سلیمان سے مضطرب ہوتی ہے

    [دیکھیے الجرح والتعدیل 219/7]


    یہ مرفوع شاہد بھی حماد بن ابی سلیمان کی سند سے ہے۔ لہذا یہ جرح مفسر ہو گئی۔


    دوسری علت یہ ہے کہ حماد بن ابی سلیمان بھی اختلاط کا شکار ہیں اور ان کی صرف ان کے قدیم شاگردوں کی بیان کردو روایت صحیح ہو گی۔ اور ان میں محمد بن جابر کا نام نہیں


    امام ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:

    " حماد بن ابی سلیمان کی صرف وہ روایت مقبول ہوتی ہیں

    جو ان سے ان کے قدیم شاگرد شعبہ، سفیان ثوری اور الدستوائی نے بیان کی۔ اس کے علاوہ سارے لوگوں نے اس سے اختلاط کے بعد سماع کیا"

    [مجمع الزوائد 119/1]


    یہ علت قادحہ ہے اس روایت میں


    اور آئمہ فن بھی اس روایت کو ضعیف ہی شمار کرتے ہیں

    چنانچہ امام احمد کہتے ہیں کہ:

    ھذا حدیث منکر

    یہ حدیث منکر ہے

    [دیکھیے العلل و المعرفۃ والرجال 117/1]


    امام حاکم نے اس کی سند کو ضعیف کہا

    [دیکھیے المعرفتہ والسنن والآثار 424/2]


    امام ابن الجوذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ

    هذا حديث لا يصح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم

    یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔

    [دیکھیے الموضوعات 96/2]


    لہذا معلوم ہوا کہ یہ ترمذی والی حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ ضعیف ہے اور اس کے شواہد بھی ضعیف ہیں۔

    اللہ ہمیں حق قبول کرنے کی توفیق دے


    آنکھیں ہیں اگر بند تو دن بھی رات ہے

    اس میں بھلا کیا قصور آفتاب کا


    اسی کے ساتھ ہم اپنے مضمون کا اختتام کرتے ہیں۔

    وصلی اللہ علیہ وسلم علی نبینا محمد و علی آله و أصحابه أجمعین



    Sent from my SM-J510F using Tapatalk
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں