1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

ترک رفع یدین کے حق میں 43 دلائل

'نماز' میں موضوعات آغاز کردہ از مشوانی, ‏اکتوبر 05، 2012۔

  1. ‏نومبر 14، 2012 #21
    یاسر اقبال

    یاسر اقبال مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 12، 2012
    پیغامات:
    4
    موصول شکریہ جات:
    11
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    تمام دوستوں کو السلام و علیکم !
    گڈ مسلم صاحب ! میں سمجھتا تھا کہ آپ میری اصلاح کے لیے ذرا دیر نہیں لگائیں گے، اور جلدی سے مجھے وہ دلیل پیش فرما دیں گے، لیکن مجھے سخت افسوس ہے کہ میری الجھن کو سلجھانے کی بجائے مزید بڑھا دیا گیا ہے،
    میں آپ سے پوچھتا ہوں ، اگر کوئی غیر مسلم یا نو مسلم شخص آپ سے پوچھتا ہے کہ کیا آپ نماز میں رفع الیدین کرتے ہیں، اور کس کس مقام پر کرتے ہیں ۔۔؟ آپ کا جواب یقینا ہاں ہی ہو گا، اور آپ اسے بتائیں گے کہ ہم ۴ رکعت میں ۱۰ مقام پر اور زندگی کرتے ہیں۔
    اور اس پر اس کو دلیل بھی پیش کریں گے، اگر آپ کے پاس دلیل ہو گی، ۔۔۔
    نا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ اس سے الٹا سوال کرنا شروع کر دیں گے، کہ منسوخ پر دلیل دکھاوٗ ، میں نے اپنی اصلاح کی بات کی تھی، جب کہ آپ اصلاح نہیں بلکہ مناظرانہ طرز پر بات کر رہیں ہیں، آپ کو یہ بھی یاد ہو گا میں نے کہا تھا ۔۔۔جہاں تک جانتا ہوں احناف کا یہ عقیدہ ہے کہ نبی ﷺ نے رفع الیدین کیا اس میں کوئی اختلاف نہیں ، لیکن نبی ﷺ نے رفع الیدین پوری زندگی نہیں کیا، کیونکہ یہ بعد میں منسوخ ہو گیا جیسا کہ دونوں سجدوں کے درمیان بھی رفع الیدین کیا جاتا تھا جس کو اہلحدیث (وہابی) مانتے ہیں لیکن رکوع کے دوران کو منسوخ نہیں مانتے، ۔
    میں نے حنفی بن کر نہیں بلکہ عام مسلمان بن کر سوال کیا کو دو طرفہ اختلاف میرے نزدیک یہ ہے،
    آپ کو چاہیے تھا کہ میری اصلاح کے لیے فورنا حدیث مبارکہ دکھا دیتے، میں مناظرہ کرنے نہیں اپنی اصلاح کرنے آیا تھا۔۔۔۔لیکن افسوس ہے مجھے کہ آپ کسی کی اصلاح نہیں کر سکتے ، بلکہ مزید الجھا سکتے ہیں بس۔۔
    اگر میرے پاس دلائل ہوتے تو مجھے آپ لوگوں سے دلیل کی طلب کیوں ہوتی۔۔! میں غلط ہو ں یا صحیح یہ بات تو تب ثابت ہو جب آپ اپنا موئقف واضح کریں حدیث کے مطابق۔
    میں نے سن رکھا تھا کہ (وہابی) اہلدیثوں) کے پاس رفع الیدین پر ۳۰۰ سے ۴۰۰ احادیث کا ذخیرہ ہے اور وہ بھی صحیح بخاری سے، لیکن میری یا کسی عام مسلمان کی اصلاح کے لیے آپ کے پاس کوئی حدیث نہیں ہے آج پتا چلا۔
    اگر ہوتی تو اب تک ضرور پیش کر چکے ہوتے۔
    تمام ممبرز اس بات پر شاہد ہیں کہ میں نے عام مسلمان ہونے کے ناطے ایک حدیث کا مطالبہ کیا لیکن ، میری اصلاح کی بجائے مجھے مزید فتنے میں ڈال دیا گیا۔
    اب آپ خود اندازہ لگا لیں کہ تمام ممبرز جو کہ عام مسلمان ہیں وہ سمجھ گئے ہوں گے کہ بات دلائل کی نہیں بلکے اپنی ذاتی انا کی ہے۔
    اللہ ہمیں سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے، میں پھر کہوں گا کہ ہے تو یہ تکلیف لیکن میری اصلاح کے لیے صرف ایک حدیث صحیح ، صریح ، مرفوع حدیث پیش کر دیجیے، ۔جس میں آخری نماز اور رکوع کے درمیان کا ذکر ہو۔ ورنہ شور تو سب کو کرنا آتا ہے۔ آپ بھی مچا رہے ہو وہ بھی مچا رہے ہیں ، اصلاح کسی کی بھی نہیں۔
    شکریہ۔ والسلام
     
  2. ‏نومبر 15، 2012 #22
    گڈمسلم

    گڈمسلم سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2011
    پیغامات:
    1,407
    موصول شکریہ جات:
    4,907
    تمغے کے پوائنٹ:
    292

    وعلیکم السلام بھائی
    میں یہ سمجھتا ہوں کہ جس رفع کو پہلے آپ تسلیم کرچکے ہیں اور پھر منسوخ کہہ کر اس کو چھوڑ چکے ہیں اسی منسوخیت پر آپ دلیل پیش کرنے میں کوئی دیر نہیں لگائیں گے اور وہ بھی اونلی ہماری اصلاح کےلیے۔ تاکہ اگر اس رفع الیدین کی منسوخیت نازل ہوچکی ہے اور ہمیں اس کا علم نہیں تو آپ کے توسط سے ہمیں علم ہوجائے گا اور ہم رفع سے رک جائیں گے جس کا ثواب آپ کو قیامت تک ملتا رہے گا۔ ان شاء اللہ
    آپ نے منسوخیت کی دلیل پیش نہ کرکے میری بھی الجھن میں اضافہ کردیا ہے ۔ کہ آخر وہ دلیل کہاں ہے؟ اور پھر یہاں پیش کرنے میں کیا مانع ہے؟ جس بنیاد پہ ہمارے اصحاب منسوخ منسوخ رفع الیدین منسوخ کا نعرہ لگاتے رہتے ہیں۔ اسی دلیل کو جاننے کی الجھن میں بجلی کی طرح اضافہ ہوا ہے۔
    جب وہ ہم سے پوچھے گا کہ آپ نماز میں رفع الیدین کرتے ہیں تو ہم اس کو بادلیل اور پریکٹیکلی دکھا بھی دیں گے۔ لیکن آپ جیسے چالاک مقلدین کے ساتھ معاملہ غور وفکر سے کیا جاتا ہے۔ عجیب صورت حال ہے کہ جب رفع الیدین کی دلیلیں پیش کی جاتی ہیں تو کہا یہ جاتا ہے کہ آپ وہ حدیث دکھائیں جس میں تاحیات کا ذکر ہو۔؟
    محترم یاسر اقبال بھائی میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ آپ نبی کریمﷺ کی ہر ہر سنت پر تاحیات کی قید وشرط اور دلیل میں تاحیات کے الفاظ دکھانے کی بات سے متفق ہیں یا نہیں ؟ ہاں یا ناں میں جواب۔
    پھر میں دیکھوں گا کہ اس شرط وقید کے ساتھ آپ نبی کریمﷺ کی کتنی سنتوں کو تاحیات ثابت کرسکتے ہیں۔
    بہت مضحکہ خیز بات ہے ابھی وہ نیو مسلم ہے یا پھر غیر مسلم وہ تو ہم سے جان رہا ہے کہ آپ رفع الیدین کرتے ہیں یا نہیں۔؟ ہم اس کو بتا دیں گے ان شاء اللہ لیکن آپ کا معاملہ الٹ ہے۔محترم بھائی جان
    عزیز بھائی آپ لوگوں سے بات کرتے کرتے اتنا تو اندازہ ہو چکا ہے کہ آپ کہاں سے بات کررہے ہیں اور کس مقصد وچالاکی کو بیچ میں لا رہے ہیں۔ آپ اپنی ہی پوسٹ نمبر15 کو دوبارہ بغور پڑھ لیں۔ کافی فائدہ ہوگا اور یہ بھی معلوم ہوجائے گا کہ آپ کے یہ الفاظ آپ کی ماقبل پوسٹ سے میل کھاتے بھی ہیں کہ نہیں ؟
    آپ کے الفاظ دوباہ پیش کررہا ہوں۔ دیکھیں ذرا
    ہائی لائٹ باتیں تو آپ کی کچھ اور بتلا رہی ہیں اور آپ کچھ اور فرمارہے ہیں۔؟ اور پھر بقول آپ کے اگر آپ نے اصلاح کی خاطر پوسٹ کی تو اس بات کو آپ خود بھی تسلیم کرتے ہیں کہ رفع الیدین کی جاتی تھی۔اور اب ایک کیےجانے والے عمل کو جن لوگوں نے منسوخ قرار دیا ہے آپ ان سے اس کی دلیل طلب کریں۔ اگر وہ دلیل پیش کردیں تو ٹھیک ورنہ وہی رفع الیدین شروع کردیں جس کے قائل آپ ایک وقت تک ہیں۔
    بجائے اس کے کہ آپ ہم سے اسی سنت کے تاحیات الفاظ کے ساتھ مطالبہ کریں۔
    اگر آپ نے حنفی بن کر نہیں بلکہ عام مسلمان بن کر سوال کیا ہے (باقی آپ کی پوسٹ سے بالکل ظاہر ہے کہ آپ نے عام مسلمان بن کر سوال کیا تھا یا متعصب مقلد بن کر) تو پھر آپ اسی فورم کی ہی ویب سائٹ سے ان کتب کا مطالعہ فرمائیں۔ تفصیلی طور رفع الیدین کی حقیقت جان لیں گے۔ ان شاء اللہ امید ہے آپ مطالعہ کی مشقت برداشت کریں گے اور وہ بھی اپنی اصلاح کےلیے۔
    جی جی بھائی اب جب معاملہ بدلنے لگا ہے تب مزید باتیں شامل ہونے لگی ہیں۔ اگر آپ بحث ومباحثہ نہیں بلکہ اصلاح کےلیے آئے تھے تو پھر آپ کے یہ الفاظ
    محترم بھائی گزارش یہ ہے کہ شروع سے اینڈ تک ایک ہی طرح کا معاملہ کیا کریں بار بار اپنے آپ کو کسی بھی وجہ سے بدلتے رہنا ذرا اچھا نہیں لگتا۔
    جو اصلاح کی نظر سے آئے اس کی اصلاح کی جاتی ہے اور جو چسکا یا پھر بے تکے اعتراضات لے کر حاضر ہو تو اس کی اسی نظر سے خاطر تواضع کی جاتی ہے۔
    ہمار موقف الحمد اللہ حدیث کے مطابق ہے لیکن آپ اپنے کیئے ہوئے اعتراض کے مطابق حدیث کا مطالبہ بنی اسرائیل کی طرح کررہے ہیں۔ یہ نا سمجھ آنے والی بات کے ساتھ کسی کلمہ گو کا شیوہ ہی نہیں۔ جب ایک بار معلوم ہوگیا کہ آپﷺ نماز میں ان ان جگہوں پر یوں یوں رفع الیدین کرتے تھے۔ تو بس ہمیں بھی کرنا چاہیے۔بجائے اس کے کہ ہم تاحیات اور دائمی وغیرہ کی قیود سے اپنے تقلیدی ذہن کو تقویت دیں۔
    حیرانگی ہوتی ہے۔ کہ جب رفع الیدین کی بات ہو تو بیچ میں تاحیات کے الفاظ آجاتے ہیں۔ اگر یہی بات ہے تو پھر کیا آپ مجھے ایسی دلیل پیش فرماسکتے ہیں جس میں اللہ تعالیٰ نے یا نبی کریمﷺ نے فرمایا ہوں کہ ’’ نماز کو تاحیات اس اس طریقہ سے ان ان وقتوں میں اداء کیا کرو ‘‘اگر دلیل ہے تو پیش کرو ورنہ پھر نماز کو بھی چھوڑ دو۔ بے تکے اعتراضات وسوالات سے عقل کا استعمال بہتر ہوتا ہے۔میرے بھائی
    پہلے بھی کہا اور اب بھی کہتا ہوں کہ جو اصلاح کی نظر سے آئے دلائل اسی کے سامنے پیش کیےجاتے ہیں۔ لیکن جو کوئی اور مقصد لے کر حاضر ہو تو پھر معاملہ میں فرق ہوتا ہے۔
    تمام ممبرز جب آپ کی ماقبل پوسٹس پڑھیں گے تو جان جائیں گے کہ آپ کس زاویے سے بات کررہے ہیں۔
    اللہ تعالیٰ ہم سب کو سمجھنے کی توفیق دے۔ اور تمام زندگی اسوہ رسولﷺ کے مطابق گزارنے کی طاقب وتوفیق بھی دے۔ آمین
    محترم بھائی پھر آپ نے وہی بچگانہ سوال کردیا کہ جس میں آخری نماز کا بھی ذکر ہو اور رکوع کے درمیان کا بھی ذکرہو۔ عزیز بھائی اگر ہم تاحیات تاحیات کے الفاظ کی زد میں آگئے تو پھر جو اعمال کرتے ہیں سب سے ہاتھ دھونا پڑ جائے گا۔
    اگر تو رفع الیدین کا ثبوت درکار ہے کہ آپﷺ نے رفع الیدین کیا تو یہ ثبوت بےکار ہے کیونکہ آپ خود تسلیم کرچکے ہیں کہ آپﷺ نے رفع الیدین کیا۔ اگر پھر بھی ثبوت درکار ہیں تو اس پوسٹ کا مطالعہ فرمائیں

    لیکن اگر آپ کہتے ہیں کہ مجھے تاحیات کے الفاظ کے ساتھ حدیث پیش کرو تو پھر ہماری گزارش یہ ہوگی کہ پہلے آپ اس کا منسوخ ہونا ثابت کردیں۔ اس کے بعد ہم تاحیات اس فعل کا ثبوت بھی ثابت کردیں گے۔ ان شاء اللہ
     
  3. ‏نومبر 15، 2012 #23
    یاسر اقبال

    یاسر اقبال مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 12، 2012
    پیغامات:
    4
    موصول شکریہ جات:
    11
    تمغے کے پوائنٹ:
    0

    تمام دوستوں کو السلام و علیکم !
    میں تمام دوستوں کو بتانا چاہوں گا، کہ میں یہاں نیا یوزر ہوں، اور میں رفع الیدین پر کافی دیر سے تحقیق کر رہا ہوں، جس کی وجہ سے تحقیق کے دوران میں اس فورم تک پوہنچا اور میں دو طرفہ دلائل جمع کر رہا ہوں کافی عرصے سے۔
    سب دوست یہ بھی جانتے ہیں کہ یہاں یہ ٹوپک تقریبا مکمل ہو چکا تھا، میرے سوال کرنے سے پہلے تک، جیسے ہی میں نے پوسٹ کی احناف کے رفع الیدین کے عقیدے کے بارے میں جو میرے علم میں ہے، جس کا مجھے گڈ مسلم بھائی نے جواب دیا، کیوں کہ میں کسی تک حد ت دو طرفہ دلائل جانتا ہوں ، اسی وجہ سے میں نے آگے سے جوابات بھی دیے۔ جو سوالات میرے ذہن میں ہیں ان کا پوچھنا میرا حق ہے، مجھے لگا تھا کہ کافی اچھی بحث ہوئی ہے اس فورم پر مجھے بھی سب سوالات کا جواب مل جا ئے گا، لیکن افسوس !
    خیر میں گڈ مسلم صاحب سے کچھ باتیں پوچھنا چاہوں گا مجھے امید ہے کہ مجھے ان کے جوابات ٹھیک ٹھیک ضرور ملیں گیں۔
    اہلدیثوں کے نزدیک۔
    ١۔ نماز میں رفع الیدین کرنا سنت ہے ؟
    ٢۔ پہلے نماز میں رفع الیدین ، نماز شروع کرتے وقت، رکوع کرتے وقت، اور سجدوں کے دوران کیا جاتا تھا۔
    ٣۔ اس کے بعد سجدوں میں رفع الیدین منسوخ ہو گیا۔
    ٤۔اس کے بعد نماز میں ، رفع الیدین کی کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، یعنی رفع الیدین نبی ﷺ اور صحابہ اکرام (علیہم الرضوان) کی سنت رہی۔
    ٥۔ اب جو بھی نماز میں یہ مذکورہ رفع الیدین نہیں کرے گا، اس نے خلاف سنت کام کیا، جس سے نماز فاسد ہو جائے گی، اور واجب الععادہ ہو گی۔

    گڈ مسلم بھائی یا کوئی بھی اہلدیث دوست میری اس الجھن کو سلجا دیں ، مہربانی ہو گی۔اگر اس میں غلطی ہو تو میری رہنمائی ضرور کیجیے گا، اور اپنا موئقف واضح ضرور کیجیے گا۔ کیا یہ باتیں ٹھیک ہیں یا غلط۔؟ اگر ٹھیک ہیں تو کون کون سی ٹھیک ہیں اور اگر غلط ہیں تو کون کون سی غلط ہیں۔
    والسلام۔
     
  4. ‏نومبر 15، 2012 #24
    شاکر

    شاکر تکنیکی ناظم رکن انتظامیہ
    جگہ:
    جدہ
    شمولیت:
    ‏جنوری 08، 2011
    پیغامات:
    6,595
    موصول شکریہ جات:
    21,360
    تمغے کے پوائنٹ:
    891

    رفع الیدین کا موضوع ایسا ہے کہ حنفی ہوں یا اہلحدیث۔ مناظرانہ انداز میں بات کئے بنا رہ پانا ممکن نہیں۔ اس موضوع پر طرفین کے علماء نے اس قدر کتابیں لکھ رکھی ہیں کہ ان کو شمار کرنے کے لئے بھی وقت چاہئے۔ میرا اس بحث میں حصہ لینے کا ارادہ نہیں۔ فقط ایک بات کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ یہ "زندگی بھر" والا مطالبہ فقط رفع الیدین ہی کے بارے میں کیا جاتا ہے۔ حالانکہ سچ یہ ہے کہ نماز کے بارے میں کوئی بھی بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو جائے تو اسے زندگی بھر کے لئے ہی مانا جائے گا الا یہ کہ اس کی منسوخیت ثابت ہو جائے۔
    ثابت کیجئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندگی بھر دو سجدے ہی کرتے رہے؟ حدیث سے "زندگی بھر" کے الفاظ دکھائیں یا پھر آخری نماز میں دو سجدوں کا ہونا ثابت کریں۔
    ثابت کیجئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زندگی بھر ایک ہی رکوع کرتے رہے؟
    ثابت کیجئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی بھر رکوع و سجود میں قرآن کی تلاوت نہیں فرمائی؟

    پھر رفع الیدین ہی کے بارے میں یہ بات کیوں؟
    دوسری چیز یہ ہے کہ احناف اور اہلحدیث نماز شروع کرتے وقت رفع الیدین کے قائل و فاعل ہیں۔ لہٰذا اگر یہ رفع الیدین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری نماز تک ثابت کیا جا سکتا ہو، یا اس کے لئے "زندگی بھر کرتے رہے" کے الفاظ دکھائے جا سکتے ہوں، تو پھر رکوع سے قبل و بعد والے رفع میں بھی ایسا مطالبہ کیا جانا درست ہے۔

    یاسر اقبال صاحب، اگر واقعی آپ مناظرانہ انداز کو پسند نہیں کرتے اور رفع الیدین کے بارے درست موقف تک پہنچنے کے خواہشمند ہیں۔ تو اس دھاگے کو ملاحظہ کیجئے:

    سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ، رفع یدین، جلسہ استراحت اور ایک گروہ کے حیلہ جات!!
     
  5. ‏نومبر 17، 2012 #25
    گڈمسلم

    گڈمسلم سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 10، 2011
    پیغامات:
    1,407
    موصول شکریہ جات:
    4,907
    تمغے کے پوائنٹ:
    292

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ
    گمان غالب ہے کہ آپ نے احناف کا جو عقیدہ منسوخیت کا پیش کیا تھا اس پر بھی آپ نے تحقیق کی ہو گی۔ ہماری گزارش ہے کہ وہ تحقیق یہاں بھی پیش کریں۔ جو دلیل صحیح صریح پر مبنی ہو۔ کیونکہ آپ کا منسوخیت کا دعویٰ پیش کرنا ہی یہ واضح کرتا ہے کہ آپ اس بارے اچھی معلومات رکھتے تھے۔ اور آپ ان تمام دلائل پر بھی دسترس رکھتے تھے جو منسوخیت پر مبنی ہیں۔
    چلیں ان دلائل میں سے ایک یا دو دلیلیں پیش فرما دیں۔ جزاک اللہ
    اس لیے بھائی جان ہم نے بھی آپ پر اعتراض یا کچھ سوالوں کے جواب طلب کیے۔ تاکہ آپ ان کو پیش کریں لیکن تاحال آپ نے ہمارے مطالبے کو پورا نہیں کیا۔ جبکہ پہلے آپ گفتگو بحث ومباحثہ کی نظیر سے کررہے تھے۔ جن کا ثبوت آپ کو دکھلا دیا تھا۔
    کسی بھی سوال کے صحیح جواب کےلیے سوال کادرست ہونا بھی شرط ہے۔ جب تک آپ کا سوال درست نہیں تب تک آپ صحیح جواب نہیں پا سکتے۔ اور آپ کا سوال اس سے ملتا جلتا تھا کہ ’’ جس میں تاحیات کے الفاظ بھی ہوں، اور آخری رکوع کا ذکر بھی ‘‘ تو میرے بھائی اس طرح کے من مانے سوالات کے جوابات پیش نہیں کیے جاسکتے۔
    اگر کسی سنت نبویﷺ پر عمل کرنے کےلیے اس طرح کے سوالات کے جوابات پیش کیے جانے ضروری ہیں تو پھر شاکر بھائی نے کچھ سوالات قائم کیے ہیں ان کا جواب بھی مخالفین پر دیا جانا ضروری ہے۔ لیکن ہمیں احساس ہے کہ نہ شاکر بھائی کے سوالات درست ہیں اور نہ آپ کا سوال درست ہے۔ بلکہ شاکر بھائی کی یہ بات قابل تعریف ہے۔
    اور رفع الیدین کے کرنے والی بات کو آپ بھی مان چکے ہیں۔اس لیے جب اثبات کے دونوں قائل ہیں تو دلیل منکر ہی دے گا۔ آپ اگر تحقیق کررہے ہیں تو باقی دلائل کے بجائے احناف سے صرف منسوخیت پر دلیل طلب کریں اور وہ بھی صحیح، صریح اور واضح۔
    رفع الیدین معتبر ذرائع سے نبی کریمﷺ سے ثابت شدہ عمل ہے۔ اس لیے ہمیں کرنا ہی چاہیے۔ اسی میں ہی خیر ہے۔ اگر ہم نے نہ کیا اور کل قیامت والے دن اللہ تعالیٰ نے پوچھ لیا کہ میرے نبیﷺ کی سنت آپ تک با ذریعہ صحیح پہنچی تھی لیکن تم لوگوں نے کیوں نہیں اس پر عمل کیا تو کیا جواب ہوگا۔؟
     
  6. ‏نومبر 28، 2012 #26
    تلمیذ

    تلمیذ مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏ستمبر 12، 2011
    پیغامات:
    765
    موصول شکریہ جات:
    1,503
    تمغے کے پوائنٹ:
    191

    اور آپ حضرات البانی رحمہ اللہ کی اس تحقیق پر بھی عمل کر لیا کریں


    [​IMG]

    [​IMG]

    [​IMG]
     
  7. ‏دسمبر 03، 2012 #27
    راجا

    راجا سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 19، 2011
    پیغامات:
    734
    موصول شکریہ جات:
    2,555
    تمغے کے پوائنٹ:
    211

    ہم تو دلائل کی بنیاد پر علامہ البانی کی اس تحقیق پر عمل نہیں کرتے اور اسی لئے آپ کی نظر میں "غیر مقلد" قرار پاتے ہیں۔
    آپ کے اپنے مفتی صاحب کی تحقیق پر عمل نہ کرنے کی کی بنیاد ہے؟ کہ نظریاتی طور پر آپ کی مقلدیت بھی متاثر نہیں ہوتی جبکہ عملاً کام غیر مقلدوں والے ہی کرتے ہیں؟
     
  8. ‏اپریل 15، 2013 #28
    lovelyalltime

    lovelyalltime سینئر رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مارچ 28، 2012
    پیغامات:
    3,735
    موصول شکریہ جات:
    2,842
    تمغے کے پوائنٹ:
    436






    رکوع میں جاتے ہوئے اور رکوع سے کھڑا ہوتے وقت ہاتھوں کو کندھوں یا کانوں تک اٹھانا سنت ہے۔ اسے رفع الیدین کہتے ہیں۔ اس کا ثبوت بکثرت اور تواتر کی حد کو پہنچی ہوئی احادیث سے ملتا ہے جنہیں صحابہ کی ایک بڑی جماعت نے روایت کیا ہے۔ ہم پہلے اس بارے میں صحیح احادیث بیان کرتے ہیں، اس کے بعد فقہاء کے اختلاف کا سبب اور دوسرے ضروری امور کیوضاحت شامل کی
    جائے گی ان شاء اللہ۔



    پہلی حدیث:

    عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَذْوَمَنْكِبَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ وَإِذَا كَبَّرَ لِلرُّكُوعِ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا كَذَلِكَ أَيْضًا
    صحیح البخاری کتاب الاذان باب رفع الیدین فی التکبیرۃ الاولی مع الافتتاح سواء،


    عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نماز شروع کرتے وقت اپنے دونوں ہاتھ کندھوں تک بلند کیا کرتے تھے، اور جب رکوع کے لیے تکبیر کہتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تب بھی انہیں اسی طرح اٹھاتے تھے"

    دوسری حدیث:

    عَنْ أَبِي قِلَابَةَ أَنَّهُ رَأَى مَالِكَ بْنَ الْحُوَيْرِثِ إِذَا صَلَّى كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ رَفَعَ يَدَيْهِ وَحَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ هَكَذَا

    صحیح البخاری کتاب الاذان باب رفع الیدین اذا کبر و اذا رکع و اذا رفع، صحیح مسلم کتاب الصلاۃ باب استحباب رفع الیدین حذو المنکبین مع تکبیرۃ الاحرام

    ابو قلابہ کہتے ہیں کہ میں نے مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے نماز پڑھتے وقت تکبیر کہی اور ہاتھ اٹھائے، پھر رکوع کرتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت بھی ہاتھ اٹھائے اور بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے بھی (نماز میں) ایسا ہی کیا تھا"۔

    تیسری حدیث:

    وَائِلِ بْنِ حُجْرٍأَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ كَبَّرَ وَصَفَ هَمَّامٌ حِيَالَ أُذُنَيْهِ ثُمَّ الْتَحَفَ بِثَوْبِهِ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ أَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنْ الثَّوْبِ ثُمَّ رَفَعَهُمَا ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ
    فَلَمَّا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَفَعَيَدَيْهِ

    صحیح مسلم کتاب الصلاۃ باب وضع یدہ الیمنٰی علی الیسرٰی بعد تکبیرۃ الاحرام

    “وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو دیکھا کہ انہوں نے نماز شروع کرتے وقت ہاتھ اٹھائے اور تکبیر کہی، ۔ ۔ ۔ ۔پھر رکوع کرنے کا ارادہ کیا تو اپنے ہاتھ چادر سے نکالے اور انہیں بلند کیا اور تکبیر کہی اور رکوع کیا، پھر سمع اللہ لمن حمدہ کہتے وقت بھی دونوں ہاتھ اٹھائے"۔

    چوتھی حدیث:

    ابو حمید الساعدی رضی اللہ عنہ نے دس صحابہ کے سامنے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم رکوع میں جاتے اور کھڑے ہوتے وقت رفع الیدین کرتے تھے اور ان سب نے اس بات کی تصدیق کی۔


    سنن ابی داؤد کتاب الصلاۃ باب افتتاح الصلاۃ، صحیح و ضعیف سنن ابی داؤد حدیث نمبر 730


    پانچویں حدیث:

    عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ وَيَصْنَعُ مِثْلَ ذَلِكَ إِذَا قَضَى قِرَاءَتَهُ وَأَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ وَيَصْنَعُهُ إِذَا رَفَعَ مِنْ الرُّكُوعِ

    سنن ابی داؤد کتاب الصلاۃ باب من ذکر انہ یرفع یدیہ اذا قام من الثنتین، صحیح و ضعیف سنن ابی داؤد حدیث نمبر 744

    “علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم جب فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہتے اور اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک بلند کرتے، اور جب قراءت سے فارغ ہو کر رکوع کرنے کا ارادہ کرتے تب اور رکوع سے اٹھتے وقت بھی اسی طرح ہاتھ اٹھاتے تھے"

    چھٹی حدیث:

    عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ وَإِذَا رَكَعَ

    سنن ابن ماجہ اقامۃ الصلاۃ و السنۃ فیھا باب رفع الیدین اذا رکع و اذا رفع راسہ من الرکوع، صحیح و ضعیف سنن ابن ماجہ حدیث نمبر 866

    انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نمازشروع کرتے وقت اور رکوع میں جاتے وقت ہاتھ اٹھایا کرتے تھے"۔

    ساتویں حدیث:

    عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ وَإِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ وَيَقُولُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ

    سنن ابن ماجہ اقامۃ الصلاۃ و السنۃ فیھا باب رفع الیدین اذا رکع و اذا رفع راسہ من الرکوع، صحیح و ضعیف سنن ابن ماجہ حدیث نمبر 868

    “جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نماز شروع کرتے وقت، رکوع میں جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت ہاتھ اٹھاتے تھے اور کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو ایسا ہی کرتے دیکھا ہے"۔

     
  9. ‏اپریل 15، 2013 #29
    lovelyalltime

    lovelyalltime سینئر رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مارچ 28، 2012
    پیغامات:
    3,735
    موصول شکریہ جات:
    2,842
    تمغے کے پوائنٹ:
    436


    آٹھویں حدیث:

    عَنْ أَبِى مُوسَى الأَشْعَرِىِّ قَالَ هَلْ أُرِيكُمْ صَلاَةَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَكَبَّرَوَرَفَعَ يَدَيْهِ ثُمَّ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ لِلرُّكُوعِ ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ هَكَذَا فَاصْنَعُوا وَلاَ يَرْفَعُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ.

    سنن الدار قطنی کتاب الصلاۃ باب ذکر التکبیر و رفع الیدین عند الافتتاح و الرکوع، اصل صفۃ صلاۃ جلد 2 ص 609

    “ابو موسٰی الاشعری رضی اللہ عنہ نے (ایک دن) کہا "کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی نماز (جیسی نماز پڑھ کر) نہ دکھاؤں؟ پھر انہوں نے تکبیر کہی اور ہاتھ اٹھائے، پھر رکوع میں جاتے وقت ہاتھ اٹھائے، پھر سمع اللہ لمن حمدہ کہا اور ہاتھ اٹھائے۔ پھر کہنے لگے "تم بھی اسی طرح کیا کرو"۔ اور دو سجدوں کےد رمیان انہوں نے ہاتھ نہیں اٹھائے تھے"۔





    نویں حدیث:

    عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ حِينَ يُكَبِّرُوَيَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ وَحِينَ يَرْكَعُ وَحِينَ يَسْجُدُ

    مسند احمد مسند المکثرین من الصحابہ مسند عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ، اصل صفۃ صلاۃ جلد 1 ص 193

    ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نماز شروع کرتے وقت جب تکبیر کہتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے اور رکوع اور سجدے میں بھی ایسا کرتے"

    دسویں حدیث:

    عن أبي بكر الصديق رضي الله عنه قال :صليت خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم فكان يرفع يديه إذا افتتح الصلوة وإذا ركع وإذا رفع رأسه من الركوع

    السنن الکبریٰ للبیہقی جلد 2 ص 73۔ اصل صفۃ صلاۃ جلد 2 ص 610

    ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، وہ نماز شروع کرتے وقت، رکوع کرتے وقت، اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت ہاتھ اٹھایا کرتےتھے"


    یہ دس احادیث دس مختلف صحابہ نے روایت کی ہیں۔ ان میں دس ان صحابہ کو شامل کر لیا جائے جن کا ذکر ابو حمید رضی اللہ عنہ والی حدیث میں ہے تو ان کی تعداد بیس ہو جاتی ہے۔پورے ذخیرہ احادیث میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی ایک روایت کےسوا کوئی ایسی چیز صحیح سند کے ساتھ موجود نہیں ہے جو ان احادیث کے مخالف ہو۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک دن اپنے ساتھیوں سے فرمایا:

    "
    کیا میں تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی نماز (جیسی نماز) نہ پڑھوں؟"
    پھر انہوں نے نماز پڑھی اور پہلی دفعہ (تکبیر تحریمہ کہنے) کے بعدپھر (باقی نماز میں) ہاتھ نہیں اٹھائے
    "

    اس حدیث کو امام احمد، ابو داؤد، ترمذی، نسائی، طحاوی، بیہقی اور ابن حزم نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی اسے حسن اور امام ابن حزم صحیح کہتے ہیں جبکہ کچھ دوسرے محدثین عبداللہ بن مبارک، دار قطنی اور امام ابن حبان و غیرھم نے اسے ضعیف کہا ہے لیکن درست بات یہی ہے کہ سند کے اعتبار سے اس میں کوئی طعن نہیں ہے۔ اس کے تمام راوی صحیح مسلم کے راوی ہیں اور یہ روایت صحیح اور ثابت ہے۔

    فقہاء کے درمیان اس مسئلے میں اصل اختلاف یہ واقع ہوا ہے کہ رفع الیدین اور ترک رفع الیدین میں افضل اور سنت کے قریب تر کون سا عمل ہے۔
    امام شافعیاور امام احمد بن حنبل رحمہا اللہ رفع الیدین کرنے کے قائل ہیں کیونکہ صحابہ کرام کی کثیر تعداد نے مختلف مواقع اور مختلف اوقات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے رفع الیدین کرنا بیان کیا ہےجس سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم عمومًا اپنی نمازیں رفع الیدین کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔ ابن عساکر کے بیان کے مطابق امام مالک بن انس رحمۃ اللہ علیہ نے بھی آخر میں رفع الیدین کرنے کو اختیار کر لیا تھا۔ جبکہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے اصحاب عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ والی حدیث کو دلیل بناتے ہوئے رفع الیدین نہ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔


    یہ وہ بنیادی سبب ہے جس کی وجہ سے ان ائمہ کے متبعین اور مقلدین کے درمیان طویل نزاع برپا ہوا ہے۔ دونوں طرف سےاپنے امام اور مسلک کے حق میں دلائل پیش کیے جاتے رہے ہیں۔بنظر انصاف دیکھا جائے تو ائمہ ثلاثہ کا موقف قوی تر معلوم ہوتا ہے کیونکہ رفع الیدین تواتر کی حد کو پہنچی ہوئی احادیث سے ثابت ہے جس کا انکار جاہل یا متعصب آدمی ہی کر سکتا ہے چنانچہ احناف میں بھی ایسے علماء موجود رہے ہیں جو رکوع میں جاتے اور کھڑے ہوتے وقت رفع الیدین کیا کرتے تھے۔ ان میں سب سےمشہور نام عصام بن یوسف رحمہ اللہ کا ہے جو امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد تھے۔ البتہ متاخرین احناف کی جانب سے ایک دلیل یہ دی جاتی ہے کہ رفع الیدین کا حکم منسوخ ہو چکا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا آخری عمل ترک رفع الیدین کا تھا لہٰذا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ والی حدیث باقی تمام صحابہ کی روایات کو منسوخ کر دیتی ہے۔ اہل علم جانتے ہیں کہ یہ بات بالکل غلط ہے۔ تمام مسالک کے علماء کے ہاں طے شدہ اصول ہے کہ دو متعارض احادیث میں تطبیق ممکن ہو تو ان میں سے کوئی بھی ناسخ یا منسوخ نہیں ہوتی۔ رفع الیدین اور ترک رفع الیدین والی احادیث میں تطبیق یوں دی جا سکتی ہے کہ ممکن ہے دونوں باتیں ٹھیک ہوں، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا عام معمول رفع الیدین کرنے کا معلومہوتا ہے کیونکہ اسے بیان کرنے والے بیسیوں صحابہ ہیں جبکہ نہ کرنے کی روایت صرف عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔

    دوم:

    علماء
    و فقہاء کا اصول ہے کہ اثبات نفی پر مقدم ہوتا ہے۔ یعنی اگر دو راویوں میں سے ایک کہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے یہ کام کیا اور دوسرا کہے کہ نہیں کیا تو اس راوی کی بات پر عمل کیا جائے گا جس نے کام کرنے کا ذکر کیا ، کیونکہ عین ممکن ہے کہ جب وہ کام سر انجام دیا گیا تو دوسرا شخص وہاں موجود نہ ہو اور عدم اطلاع کی بنا پر نہ کرنے کو ٹھیک سمجھ بیٹھا ہو ۔

    امام بخاری نے جزء
    رفع الیدین میں تفصیل کے ساتھ اس اصول کی وضاحت کی ہے۔ صحابہ کے اقوال کا معاملہ بھی اس سے ملتا جلتا ہے یعنی صحابہ کی ایک بڑی جماعت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے رفع الیدین کرنا بیان کیا ہے تو ان کا قول نہ کرنے والی روایت پر مقدم ہو گا۔

    نسخ کا دعویٰ اس لیے بھی درست نہیں ہے کہ بعض خلفائے راشدین سمیت صحابہ کی کثیر تعداد سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی وفات کے بعد بھی رفع الیدین کرنا ثابت ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جو عبادت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم دن میں پانچ مرتبہ سب کے سامنے ادا فرماتے تھے اس میں کوئی عمل منسوخ ہو جائے اور ایک صحابی کے سوا کسی دوسرے کو اس
    بات کا علم بھی نہ ہو سکے؟

    عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جب دیکھتے کہ کوئی شخص رکوع میں جاتے اور اٹھتے ہوئے رفع الیدین نہیں کرتا تو کنکریاں مار کر اسے متوجہ کرتے تھے۔

    ابو الحسن سندھی حنفی رحمہ اللہ سنن ابن ماجہ کی شرح میں لکھتے ہیں:

    جن لوگوں نے رفع الیدین کا منسوخ ہونا بیان کیا ہے ان کا قول بلا دلیل ہے۔ اگر نسخ کا واقع ہونا تسلیم بھی کر لیا جائے تو وہ اس کے برعکس ہے جو وہ کہتے ہیں۔ کیونکہ مالک بن حویرث اور وائل بن حجر رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے ساتھ عمر مبارک کے آخری دنوں میں نماز پڑھی تھی اور یہ دونوں صحابی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے نماز میں رفع الیدین کیا تھا۔ پس ان کی روایتوں سے آخر تک رفع الیدین کرنے اور نسخ کے قول کے غلط ہونے کی دلیل ملتی ہے۔۔۔ ۔ ۔۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ رفع الیدین کرنا اور نہ کرنا دونوں صحیح روایات سے ثابت ہے لیکن کرنے کی روایات زیادہ اور قوی تر ہیں"

    علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ (دار العلوم دیوبند) نے بھی "فیض الباری" میں رفع الیدین منسوخ ہونے کے قول کو غلط قرار دیا ہے۔

    لہٰذا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت کی وجہ سے باقی تمام صحیحاحادیث کو منسوخ کہہ دینا دلائل سے ثابت نہیں ہوتا۔ البتہ اس سے یہ ضرور معلوم ہوتا ہے کہ رفع الیدین کرنا فرض نہیں سنت ہے۔ امام ابن حزم کہتے ہیں:

    “اگر یہ حدیث موجود نہ ہوتی تو جھکتے (یعنی رکوع میں جاتے) وقت اور اٹھتے (یعنی رکوع سے کھڑے ہوتے) وقت رفع الیدین کرنا ہر نمازی پر فرض قرار پاتا، لیکن ابن مسعود رضی اللہ عنہ والی حدیث کیونکہ صحیح ہے اس لیے معلوم ہوا کہ تکبیر تحریمہ کے علاوہ باقی مواقع پر رفع الیدین کرنا فرض نہیں بلکہ سنت اور مستحب ہے"



    عبد الله بن عمر

    736- حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِىِّ أَخْبَرَنِى سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رضى الله عنهما قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صلى اللهعليه وسلم - إِذَا قَامَ فِى الصَّلاَةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ ، وَكَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ حِينَ يُكَبِّرُ لِلرُّكُوعِ ، وَيَفْعَلُ ذَلِكَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَيَقُولُ « سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ » . وَلاَ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِى السُّجُودِ . أطرافه 735 ، 738 ، 739 - تحفة 6979 - 188/1

    محمد بن مقاتل، عبداللہ بن مبارک، یونس، زہری، سالم بن عبداللہ ، عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ نماز میں اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں شانوں کے برابر تک اٹھاتے اور جب آپ رکوع کے لئے تکبیر کہتے یہی (اس وقت بھی) کرتے اور یہی جب آپ رکوع سے اپنا سر اٹھاتے اس وقت بھی کرتے اور سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہتے (لیکن) سجدہ میں آپ یہ عمل نہ کرتے تھے۔

    الكتاب : صحيح البخارى




    المؤلف : محمد بن إسماعيل بن إبراهيم بن المغيرة البخاري، أبو عبد الله

    887 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِىُّ وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ كُلُّهُمْ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ - عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِىَ مَنْكِبَيْهِ وَقَبْلَ أَنْ يَرْكَعَ وَإِذَا رَفَعَ مِنَالرُّكُوعِ وَلاَ يَرْفَعُهُمَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ.

    یحیی بن یحیی تیمیی، سعید بن منصور، ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، زہیر بن حرب، ابن نمیر، سفیان بن عیینہ، زہری سالم، حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا جب نماز شروع کرتے تو اپنے ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے اور رکوع کرنے سے پہلے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت اور اپنے دونوں ہاتھوں کو بلند نہ کرتے تھے دونوں سجدوں کے درمیان۔

    الكتاب : صحيح مسلم
    المؤلف : مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشيري النيسابوري

    722 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِىُّ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِىُّ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاَةِرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى تَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ كَبَّرَ وَهُمَا كَذَلِكَ فَيَرْكَعُ ثُمَّ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْفَعَ صُلْبَهُ رَفَعَهُمَا حَتَّى تَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ وَلاَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِى السُّجُودِ وَيَرْفَعُهُمَا فِى كُلِّ تَكْبِيرَةٍ يُكَبِّرُهَا قَبْلَ الرُّكُوعِ حَتَّى تَنْقَضِىَ صَلاَتُهُ.

    محمد بن مصفی، سالم، حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو دونوں ہاتھ مونڈھوں تک اٹھاتے پھر ہاتھ اٹھاتے ہوئے رکوع کی تکبیر کہتے اس کے بعد رکوع کرتے جب رکوع سے سر اٹھاتے تو پھر دونوں ہاتھوں کو مونڈھوں تک اٹھاتے اور سَمِعَ اللہ لِمَن حَمِدَہ۔ کہتے مگر سجدوں میں ہاتھ نہیں اٹھاتے بلکہ ہر رکعت میں رکوع میں جانے کے لیے جب تکبیر کہتے تب دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز پوری ہو جاتی۔

    الكتاب : سنن أبى داود
    المؤلف : سليمان بن الأشعث بن شداد بن عمرو، الأزدي أبو داود، السجستاني

    163 - حَدَّثَنِى يَحْيَى عَنْ مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَهُمَا كَذَلِكَ أَيْضًا وَقَالَ « سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ». وَكَانَ لاَ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِى السُّجُودِ.

    عبد اللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب شروع کرتے تھے نماز کو اٹھاتے تھے دونوں ہاتھ برابر دونوں مونڈھوں کے اور جب سر اٹھاتے تھے رکوع سے تب بھی دونوں ہاتھوں کو اسی طرح اٹھاتے اور کہتے سمع اللہ لمن حمدہ ربنا ولک الحمد اور سجدوں کے بیچ میں ہاتھ نہ اٹھاتے نہ سجدے کو جاتے وقت ۔

    الكتاب : موطأ مالك
    المؤلف : مالك بن أنس ابن مالك بن عامر الأصبحي المدني، إمام دار الهجر
     
  10. ‏اپریل 15، 2013 #30
    lovelyalltime

    lovelyalltime سینئر رکن
    جگہ:
    سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏مارچ 28، 2012
    پیغامات:
    3,735
    موصول شکریہ جات:
    2,842
    تمغے کے پوائنٹ:
    436

    علي بن أبي طالب

    3423 - حدثنا الحسن بن علي الخلال حدثنا سليمان بن داود الهاشمي حدثنا عبد الرحمن بن أبي الزناد عن موسى بن عقبة عن عبد الله بن الفضل عن عبد الرحمن الأعرج عن عبيد الله بن أبي رافع عن علي بن أبي طالب : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه كان إذا قام إلى الصلاة المكتوبة رفع يديه حذو منكبيه ويصنع ذلك أيضا إذا قضى قراءته وأراد أن يركع ويصنعها إذا رفع رأسه من الركوع ولا يرفع يديه في شيء من صلاته وهو قاعد وإذا قام من سجدتين رفع يديه كذلك

    حسن بن علی خلال، سلیمان بن داؤد ہاشمی، عبدالرحمن بن ابی زناد، موسیٰ بن عقبہ، عبداللہ بن فضل، عبدالرحمن اعرج، عبید اللہ بن ابی رافع، حضرت علی بن ابی طالب سے روایت ہے۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب فرض نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے قرات کے اختتام پر رکوع میں جاتے وقت بھی ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھاتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی دونوں ہاتھوں کو شانوں تک اٹھاتے لیکن آپ تشہد اور سجدوں کے دوران ہاتھ نہ اٹھاتے (یعنی رفع یدین نہ کرتے) پھر دو رکعتیں پڑھنے کے بعد کھڑے ہوتے تو بھی دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھاتے ۔

    الكتاب : الجامع الصحيح سنن الترمذي
    المؤلف : محمد بن عيسى أبو عيسى الترمذي السلمي

    864 - حدثنا العباس بن عبد العظيم العنبري . حدثنا سليمان بن داود أبو أيوب الهاشمي حدثنا عبد الرحمن بن أبي الزناد عن موسى بن عقبة عن عبد الله بن الفضل عن عبد الرحمن الأعرج عن عبيد الله بن أبي رافع عن علي بن أبي طالب قال
    : - كان النبي صلى الله عليه و سلم إذا قام إلى الصلاة المكتوبة كبر ورفع يديه حتى يكونا حذو منكبيه . وإذا أراد أن يركع فعل مثل ذلك . وإذا رفع رأسه من الركوع فعل مثل ذلك . وإذا قام من السجدتين فعل مثل ذلك .

    قال الشيخ الألباني : حسن صحيح

    عباس بن عبدالعظیم عنبری، سلیمان بن داؤد ابوایوب ہاشمی، عبدالرحمن بن ابی زناد، موسیٰ بن عقبہ، عبداللہ بن فضل، عبدالرحمن اعرج، عبید اللہ بن ابی رافع، حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابی طالب بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو ، اللَّهُ أَکْبَرُ ، کہتے اور اپنے کندھوں کے برابر تک ہاتھ اٹھاتے اور جب رکوع میں جانے لگتے تو بھی ایسا ہی کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی ایسا ہی کرتے اور جب دونوں سجدوں سے کھڑے ہوتے تب بھی ایسا ہی کرتے ۔

    الكتاب : سنن ابن ماجه
    المؤلف : محمد بن يزيد أبو عبدالله القزوين




    أبوهريرة

    694 - أنا أبو طاهر نا أبو بكر نا أبو زهير عبد المجيد بن إبراهيم المصري نا شعيب - يعني ابن يحيى التجيبي أخبرنا يحيى بن أيوب عن ابن جريج عن ابن شهاب عن أبي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث أنه سمع أبا هريرة يقول : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا افتتح الصلاة كبر ثم جعل يديه حذو منكبيه وإذا ركع فعل مثل ذلك وإذا سجد فعل مثل ذلك ولا يفعله حين يرفع رأسه من السجود وإذا قام من الركعتين فعل مثل ذلك





    قال الأعظمي : إسناده صحيح إن كان عبد المجيد بن ابراهيم ثقة فإني لم أجد له ترجمة نعم هو صحيح لغيره فقد رواه أبو داود 738 من طريق الليث بن سعد عن يحيى بن أيوب نحوه

    ، حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب تکبیر تحریمہ کہتے تو دونوں ہاتھ مونڈھوں تک اٹھاتے اور جب رکوع کرتے تب بھی ایسا ہی کرتے اور جب (رکوع سے فارغ ہو کر) سجدہ کے لیے کھڑے ہوتے تب پھر ایسا ہی کرتے اور جب دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہوتے تو بھی ایسا ہی کرتے۔





    الكتاب : صحيح ابن خزيمة
    المؤلف : محمد بن إسحاق بن خزيمة أبو بكر السلمي النيسابوري

    144 - نا محمد بن عصمة ، نا سوار بن عمارة ، نا رديح بن عطية ، عن أبي زرعة بن أبي عبد الجبار بن معج قال رأيت أبا هريرة فقال لأصلين بكم صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم لا أزيد فيها ولا أنقص فأقسم بالله إن كانت هي صلاته حتى فارق الدنيا قال : فقمت عن يمينه لأنظر كيف يصنع ، فابتدأ فكبر ، ورفع يده ، ثم ركع فكبر ورفع يديه ، ثم سجد ، ثم كبر ، ثم سجد وكبر حتى فرغ من صلاته قال : أقسم بالله إن كانت لهي صلاته حتى فارق الدنيا

    ابو عبدالجبار سے روایت ہے کی انہوں نے حضرت ابو ہریرہ کو دیکھا انہوں نے کہا کہ میں آپ کو رسول اللہ کی نماز پڑھاوں گا اس میں زیادہ کروں گا نہ کم پس انہوں نے اللہ کی قسم اٹھا کی کہا پس آپ کی یہی نماز تھی حتی کہ آپ اس دنیا سے تشریف لے گئے ، راوی نے کہا میں آپ کے دائیں جانب کھڑا ہوگیا کہ دیکھوں آپکیا کرتے ہیں ، پس انہوں نے نماز کی ابتدا کی اللہ اکبر کہا اور رفع الیدین کیا پھررکوع کیا ،پس تکبیر کہی اور رفع الیدین کیاپھر سجدہ کیا اور اللہ اکبر کہا حتی آپاپنی نماز سے فارغ ہو گئےحضرت ابو ہریرہ نے فرمایا نے اللہ کی قسم آپ کی یہی نماز تھی حتی کہ آپ اس دنیا سے تشریف لے گئے ۔
    الكتاب : معجم ابن الأعرابي




    أَبِى مُوسَى الأَشْعَرِىِّ

    1134 - حَدَّثَنَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شِيرَوَيْهِ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنِ الأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِى مُوسَى الأَشْعَرِىِّ قَالَ هَلْ أُرِيكُمْ صَلاَةَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ ثُمَّ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ لِلرُّكُوعِ ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ هَكَذَافَاصْنَعُوا وَلاَ يَرْفَعُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ.

    الكتاب : سنن الدارقطنى
    المؤلف : أبو الحسن علي بن عمر بن أحمد بن مهدي بن مسعود بن النعمان بن دينارالبغدادي




    عبد الله بن الزبيروأبي بكر الصديق رضي الله عنه

    2349 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصفار الزاهد إملاء من أصل كتابه قال قال أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل السلمي : صليت خلف أبي النعمان محمد بن الفضل فرفع يديه حين افتتح الصلاة وحين ركع وحين رفع رأسه من الركوع فسألته عن ذلك فقال صليت خلف حماد بن زيد فرفع يديه حين افتتح الصلاة وحين ركع وحين رفع رأسه من الركوع فسألته عن ذلك فقال صليت خلف أيوب السختياني فكان يرفع يديه إذا افتتح الصلاة وإذا ركع وإذا رفع رأسه من الركوع فسألته فقال رأيت عطاء بن أبي رباح يرفع يديه إذا افتتح الصلاة وإذا ركع وإذا رفع رأسه من الركوع فسألته فقال صليت خلف عبد الله بن الزبير فكان يرفع يديه إذا افتتح الصلاة وإذا ركع وإذا رفع رأسه من الركوع فسألته فقال عبد الله بن الزبير صليت خلف أبي بكر الصديق رضي الله عنه فكان يرفع يديه إذا افتتح الصلاة وإذا ركع وإذا رفع رأسه من الركوع وقال أبو بكر صليت خلف رسول الله صلى الله عليه و سلم فكان يرفع يديه إذا افتتح الصلاة وإذا ركع وإذا رفع رأسه من الركوع رواته ثقات

    الكتاب : سنن البيهقي الكبرى
    المؤلف : أحمد بن الحسين بن علي بن موسى أبو بكر البيهقي




    جابر بن عبدالله

    حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا أَبُو حُذَيْفَةَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ کَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ وَإِذَا رَکَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّکُوعِ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِکَ وَيَقُولُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ مِثْلَ ذَلِکَ وَرَفَعَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ يَدَيْهِ إِلَی أُذُنَيْهِ

    محمد بن یحییٰ، ابوحذیفہ، ابراہیم بن طہمان، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ جب نماز شروع کرتے تو رفع یدین کرے اور جب رکوع میں جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے تو بھی ایسا کرتے اور فرماتے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا اور راوی ابراہیم بن طہمان نے اپنے ہاتھ کانوں تکاٹھائے

    سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 868 حدیث متواتر حدیث مرفوع

    (93) حدثنا محمد بن طريف أبو بكر الأعين قثنا أبو حذيفة قثنا إبراهيم بن طهمان عن أبي الزبير قال: رأيت جابر عن عبدالله يرفع يديه إذ كبر وإذا ركع وإذا رفع رأسه من الركوع ولم يرفع بين ذلك، فقلت له: ما هذا ؟ فقال: هكذا رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يصلي.

    الكتاب : مسند السراج
    أنس بن مالک

    3793 - حدثنا أبو بكر حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن حميد : عن أنس قال : رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم يرفع يديه إذا افتتح لصلاة وإذا ركع وإذا رفع رأسه من الركوع

    قال حسين سليم أسد : رجاله رجال الصحيح
    الكتاب : مسند أبي يعلى
    المؤلف : أحمد بن علي بن المثنى أبو يعلى الموصلي التميمي
    الناشر : دار المأمون للتراث – دمشق








    پہلے اور بعد محدثین کے ابواب اور ناسخ و منسوخ کے بارے میں غلط فہمی








    [TABLE="width: 568, align: right"]
    [TR]
    [TD]امام ترمذی نےپہلے رفع یدین کا باب باندھاپھر عددم رفع یدین کا باب باندھا اور حدیث لاءے تو آپ کو شاید محدیثین کا اصول معلوم نہیں کہ محدیثین پہلا باب اس عمل کا لاتے ہیں جو منسوخ ہوچکا ہو اور پھر اس کے بعد اس عمل کا باب لاتے ہیں جو ناسخ ہوتا ہے[/TD]
    [/TR]
    [/TABLE]





















    اس ضمن میں یہ
    خود ساختہ قاعدہ و قانون بہت زور و شور سے بیان کیا جاتا ہے کہ محدثین نے پہلے منسوخ اور پھر ناسخ روایات نقل کی ہیں!!! اس خود ساختہدعوے کی تردید میں بے شمار دلائل پیش کئے جا سکتے ہیں لیکن یہاں ہم صرف دس حوالوں پر ہی اکتفا کر رہے ہیں جو امید ہے اس غلط فہمی کے ازالے کے لئے کافی و شافی ہوں گے۔


    1




    امام ابو داؤد نے باب باندھا:

    "
    باب من لم یر الجھر ببسم اللہ الرحمٰن الرحیم" (سنن ابی داؤد ص ۱۲۲ قبل حدیث۷۸۲)

    اس کے بعد امام ابو داؤد نے دوسرا باب باندھا:

    "
    باب من جھر بھا" (سنن ابی داؤد ص ۱۲۲ قبل حدیث ۷۸۶)

    یعنی امام ابو داؤد نے پہلے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم عدمِ جھر (سراً فی الصلٰوة) والا باب لکھا اور بعد میں بسم اللہ بالجھر والا باب باندھا تو کیا حنفی مقلدین تیار ہیں کہ سراً بسم اللہ کو منسوخ اور جہراً بسم اللہ کو ناسخ قرار دیں؟ اگر نہیں تو پھر ان کا اصول کہاں گیا؟

    نوٹ: امام ترمذی نے بھی ترکِ جہر کا پہلے اور جہر کا باب بعد میں باندھا ہےدیکھئے سنن الترمذی ص ۶۸-۶۷ قبل حدیث ۲۴۴-۲۴۵




    2




    امام ترمذی نے باب باندھا:

    "
    باب ما جاء فی الوتر بثلاث" (سنن الترمذی ص ۱۲۲ قبل حدیث ۴۵۹)

    پھر بعد میں یہ باب باندھا:

    "
    باب ما جاء فی الوتر برکعة" (سنن الترمذی قبل حدیث ۴۶۱)

    کیا اپنے خود ساختہ قاعدے و قانون کی رو سے تین وتر کو منسوخ اور ایک وتر کو ناسخ سمجھ کر ایک وتر پڑھنے کے قائل و فاعل ہو جائیں گے؟
    !!!

    3




    امام ابنِ ماجہ نے پہلے خانہ کعبہ کی طرف پیشاب کرنے کی ممانعت والا باب باندھا:

    "
    باب النھي عن استقبال القبلة بالغائط والبول" (سنن ابن ماجہ ص ۴۸ قبل حدیث۳۱۷)

    اور بعد میں یہ باب باندھا:

    "
    باب الرخصة في ذلک فی الکنیف و إباحتھ دون الصحاری" یعنی صحراء کی بجائے بیت الخلاء میں قبلہ رخ ہونے کے جواز کا بیان (سنن ابن ماجہ ص ۴۹ قبل حدیث ۳۲۲)

    بتائیں کہ کیا وہ اپنے خود ساختہ اصول کی وجہ سے قبلہ رخ پیشاب کرنے کی ممانعت کو منسوخ سمجھتے ہیں؟

    4




    امام نسائی نے رکوع میں ذکر (یعنی تسبیحات) کے کئی باب باندھے مثلاً:

    "
    باب الذکر فی الرکوع" (سنن النسائی ص ۱۴۴قبل حدیث ۱۰۴۷)

    اور بعد میں یہ باب باندھا:

    "
    باب الرخصة فی ترک الذکر فی الرکوع" (سنن النسائی ص ۱۴۵قبل حدیث ۱۰۴۵)

    کیا تقلیدی قاعدے کی رو سے رکوع کی تسبیحات پڑھنا بھی منسوخ ہے؟




    5




    امام ابن ابی شیبہ نے نماز میں ہاتھ باندھنے کا باب درج زیل الفاظ میں لکھا:

    "
    وضع الیمین علی الشمال" (مصنف ابن ابی شیبہ ۳۹۰/۱ قبل حدیث ۳۹۳۳)

    اور بعد میں یہ باب باندھا:

    "
    من کان یرسل یدیھ فی الصلٰوة" (مصنف ابن ابی شیبہ جلد ۱ ص۳۹۱ قبل حدیث۳۹۴۹)

    کیا اپنے تقلیدی اصول کی رو سے ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھنے کے لئے تیار ہیں؟

    6




    امام نسائی نے پہلے نمازِ عصر کے بعد نوافل پڑھنے کی ممانعت والا باب باندھا:

    "
    النھی عن الصلاة بعد العصر" (سنن النسائی ص ۷۸ قبل حدیث ۵۶۷)

    اور بعد میں یہ باب باندھا:

    "
    الرخصة فی الصلاة بعد العصر" (سنن النسائی ص ۷۹ قبل حدیث ۵۷۴)

    کیا تقلیدی قاعدے کی رو سے عصر کے بعد نوافل کی ممانعت والی حدیث منسوخ ہے؟

    7




    امام ابو داؤد نے تین تین دفعہ اعضائے وضو دھونے کا باب باندھا:

    "
    باب الوضوء ثلاثاً ثلاثاً" (سنن ابی داؤد ص ۲۹ قبل حدیث ۱۳۵)

    اور بعد میں ایک دفعہ اعضائے وضو دھونے کا باب باندھا:

    "
    باب الوضوء مرة مرة" (سنن ابی داؤد ص ۳۰ قبل حدیث ۱۳۸)

    کیا وضو میں تین تین دفعہ اعضاء دھونا منسوخ ہے؟ اگر نہیں تو تقلیدی قاعدہ کہاں گیا؟

    8




    امام نسائی نے سجدوں کی دعا کے کئی باب باندھے مثلاً:

    "
    عدد التسبیح فی السجود" (سنن النسائی ص ۱۵۷ قبل حدیث ۱۱۳۶)

    اور بعد میں یہ باب باندھا:

    "
    باب الرخصة فی ترک الذکر فی السجود" (سنن النسائی ص ۱۵۷ قبل حدیث۱۳۷)

    کیا تقلیدی قاعدے کی رو سے سجدے کی تسبیحات بھی منسوخ ہیں؟

    9

    امام ابن ابی شیبہ نے " من قال: لاجمعة ولا تشریق الا في مصر جامع" کا باب باندھ کر وہ روایات پیش کیں جن سے بعض لوگ یہ استدلال کرتے ہیں کہ گاؤں میں جمعہ نہیں پڑھنا چاہئے دیکھئے مصنف ابن ابی شیبہ ۱۰۲/۲ قبل حدیث ۵۰۵۹

    اور بعد میں یہ باب باندھا:

    "
    من کان یری الجمعة فی القری وغیرھا" یعنی جو شخص گاؤں وغیرہ میں جمعہ کا قائل ہے پھر وہ صحیح روایات پیش کیں جن سے گاؤں میں نماز جمعہ پڑھنے کاثبوت ملتا ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ جلد ۲ ص ۱۰۱-۱۰۲ قبل حدیث ۵۰۶۸)

    کیا اپنے نرالے قاعدے کی لاج رکھتے ہوئے گاؤں میں نماز جمعہ کی مخالف تمام روایات کو منسوخ سمجھتے ہیں؟

    10




    امام ابن ابی شیبہ نے نماز جنازہ میں چار تکبیروں کا باب باندھا:

    "
    ما قالوا فی التکبیر علی الجنازة من کبّر أربعاً" (مصنف ابن ابی شیبہ ۲۹۹/۳ قبل حدیث ۱۱۴۱۶)

    اور اس کے فوراً بعد پانچ تکبیروں کا باب باندھا:

    "
    من کان یکّبر علی الجنازة خمساً" (مصنف ابن ابی شیبہ ۳۰۲/۳ قبل حدیث۱۱۴۴۷)

    کیا کسی میں جرات ہے کہ وہ اپنے تقلیدی قاعدے کی لاج رکھتے ہوئے جنازے کی چار تکبیروں کو منسوخ اور پانچ کو ناسخ کہہ دے؟


    امام ابوحنیفہ کا مقام امام عبداللہ بن مبارک کے نزدیک اور آل دیوبند کی نا انصافی





    مسئلہ رفع الیدین


    پر




    امام عبداللہ بن المبارک




    کی




    امام ابوحنیفہ




    سے گفتگو !






    ایک بار مسجد کوفہ میں امام ابن المبارک رحمہ اللہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے ۔ ابن المبارک رحمہ اللہ رفع الیدین کرتے تھے ۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے نماز سے فارغ ہو کر ابن المبارک رحمہ اللہ سے کہا




    ترفع یدیک فی کل تکبیرۃ کانک ترید ان تطیر




    ” آپ نماز کی ہر تکبیر ( اس میں تسمیع بھی شامل ہے یعنی رکوع سے اٹھتے وقت ) میں رفع الیدین کرتے ہیں گویا اڑنا اور پرواز کرنا چاہتے ہیں ۔ “




    امام ابن المبارک رحمہ اللہ نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے جواب میں کہا :




    ان کنت انت تطیر فی الاولیٰ فانی اطیر فیما سواھا




    اگر آپ تحریمہ کے وقت رفع الیدین کرتے ہوئے ارادہ پرواز و اڑان رکھتے ہوں تو میں آپ ہی کی طرح باقی مواقع میں نماز میں پرواز کرنا چاہتا ہوں ۔












    امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ امام ابن المبارک رحمہ اللہ کے اس جواب سے اس طرح کی بات رفع الیدین کی بابت کہنے سے ہمیشہ کے لیے خاموش رہے ۔ امام وکیع نے امام ابن المبارک رحمہ اللہ کے اس جواب کی بڑی تحسین و تعریف کی ۔

    کتاب السنۃ لعبداللہ بن احمد بن حنبل ، ص : 59 ، تاویل مختلف الحدیث لابن قتیبی ، ص : 66 ، سنن بیہقی ، ج : 2 ، ص :82 ، ثقات ابن حبان ، ج : 4 ، ص : 17، تاریخ خطیب ، ج : 13 ، ص :406 ، تمھید لابن عبدالبرج :5 ، ص :66 ، جزءرفع الیدین للبخاری مع جلاءص : 125,123

    اس واقعے سے امام ابو حنیفہ کا مقام ابن مبارک کے نزدیک کیا ہے باکل واضح ہو جاتا ہے

    جس طرح ابن المبارک رحمہ اللہ کی طرف سے مسکت جواب پا کر امام ابوحنیفہ اس معاملہ میں خاموش و ساکت رہ گئے اسی طرح ان کی تقلید میں امام ابوحنیفہ کا دم بھرنے والوں کو بھی خاموش رہنا چاہئیے ۔ مگر مدعیان تقلید ابی حنیفہ اپنے دعوی تقلید ابی حنیفہ رحمہ اللہ میں سچے نہیں ہیں ۔ اسی بنا پر وہ آئے دن اس سنت نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کتابیں لکھتے رہتے ہیں اور اس سنت نبویہ کے خلاف شدید جارحیت
    اختیار کرتے ہیں ۔

    اور اصل حقیقت یہ ہے اس کو کیوں بھول جاتے ہیں





    کہ امام بن مبارک کے نزدک امام ابوحنیفہ ضعیف تھے !!




    امام عبداللہ بن مبارک کا ابوحنیفہ پر تبصرہ




    امام صاحب کے شاگرد رشید امام عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں کان ابو احنیفۃ یتیما فیا الحدیث کہ امام ابو حنیفہ حدیث میں یتیم ہیں (قیام اللیل ص١٢٣ ،بغدادی ص٤١٥ج١٣،الضعفائ لابن حبان ص٧١ج٣)وغیرہ بعض حضرات نے تفنن طبع کا ثبوت دیتے ہوئے ’’یتیمکے معنی یکتا زمانہ ‘‘کے کئے ہیں مگر کیا کیا جائے جب کہ اب کے یہ الفاظ بھی ہیں کان ابوحنیفٰۃ مسکینا فی الحدیث (الجرح والتعدیال ص٤٥٠ج٤،ق١ )کہ وہ حدیث میں مسکین تھے ۔




    امام ابن حبان بسند متصل نقل کیا ہے کہ ابراہیم بن شماس فرماتے ہیں میں نے امام ابن مبارک کو ثغر کے مقام میں دیکھا کہ وہ کتاب لوگوں پر پڑھ رہے تھے جبامام ابوحنیفہ کا ذکر آتا تو فرماتے اضربو ا علیہ ۔اس پر نشان لگا لو ۔اور یہ آخری کتاب تھی جوانھوں نے لوگوں کو سنائی تھی (الثقات ترجمہ ابراہیم بن شماس )السنۃ لابن احمد میں ہے کی یہ واقعہ امام ابن مبارک کی وفات سے بضعۃ عشر تیرہ چودہ دن پہلے کا ہے ۔ابراہیم بن شماس ثقہ ہے (تقریب ص٢٢)اور ابن حبان نے اب سے یہ روایت بواسطہ عمر بن محمد الجبیری یقول سمعت محمد بن سھل بن عسکر بیان کی ھے ۔اور محمد بن سھل بن ثقہ امام ھے۔ اور عمر بن محمدالجبیری حافظ حدیث اور ثقہ امام ھیں (تزٖکرہ ص؛٧١٩) ۔اور یہ قول ابراھیم سے مختلف اسانید کے ساتھ تاریخ بغداد ص٤١٤ج١٣ اور المجروحین لابن حبان (ص٧١ج٣)السنۃ لعبداللہ بن احمد (ص٢١١،٢١٤ج١)،العلل و معرفۃ الرجال(ج٢ص٢٤٢)میں بھی دیکھا جا سکتا ہے








    امام عبداللہ بن مبارک مزید فرماتے ہیں کہ میں نے امام ابو حنیفہ سے چار سو حدیثیں نقل کی ہیں ۔جب میں واپس عرق جاوں گا توانھیں مسخ کر دوں گا ۔(بغدادی ص٤١٤ج١٣)




    اور امام ابن عبدالبر بسند متصل معلی بن اسد سے نقل کرتے ہیں

    قلت لابن المبارک کان الناس یقولون انک تذہبن الی قول ابی حنیفٰۃ قال لیس کل ما یقول الناس یصیبونم فیہ قد کنا ناتیہ زمانا و نحن لا نعرفہ فلما عرفناہ ترکناہ ۔

    (الانتقاء ص١٥١)




    یعنی میں نے ابن مبارک سے کہا لوگ کہتے ہیں کہ تم ابو حنیفہ کے قول کی اقتدا کرتے ہو تو انھوں نے جواب دیا لوگوں کی ہر بات صحیح نہیں ہوتی ۔ہم ایک زمانہ تک ان کے پاس جاتے تھے مگر انھین پہچانتے نہ تھے لیکن جب ہمیں معلوم ہو گیا تو انھیں چھوڑ دیا ۔




    امام ابن ابی حاتم غالبا انھیں اقوال کی روشنی میں لکھتے ہیں :ترکہ ابن امبارک بآخرہ ۔کہ ابن مبارک نے بالآخر انھی÷ں چھوڑ دیا تھا۔




    علمائے احناف امام ابوحنیفہ کی تعریف میں امام ابن مبارک کا نام بڑے اچھوتے انداز میں کرتے ہیں اور ان کے غیر مستند قصائد اور اقوال شہ سرخیوں سے ذکر کرتے ہیں ۔حالانکہ مندرجہ بالا اقوال ان کے یکسر منافی ہیں ۔اگر ان اقوال کو صحیح تسلیم کر لیا جائے تو ان میں تطبیق کی صورت بالکل ظاہر ہے کہ آخری عمر میں امام ابن مبارک کی ابو حنیفہ سے عقیدت کافور ہو چکی تھی ۔جیسا کہ امام ابی حاتم نے کہا ہے بلکہ امام ابن مبارک کے شاگرد رشید ابراہیم بن شماس کے الفاظ بھی یہی ہیں کہ:ّّترکہ ابن المبارک فی آخر امری ٗٗ(المجروحین لابن حبان ص٧١ج٣ )




    بحوالہ توضیح الکالام لشیخنا محدث العصر ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ ص:933۔








    قاضی عیاض لکھتے ہیں کہ امام شیرازی کہتے ہیں




    امام ابن مبارک نے امام مالک اور ثوری سے فقہ حاصل کی




    اور ابتدائ وہ امام ابو حنیفہ کے اصحاب میں سے تھے




    پھرانھیں چھوڑ دیا اور ان کے مذہب سے رجوع کر لیا ۔ابن وضآع کہتے ہیں
    کہ انھو
    ں
    اپنی کتابوں میں
    امام ابو حنیفہ کی روایات کو قلم زد کر دیا تھا اور انھیں لوگوں کو نہیں سناتےتھے


    (ترتیب المدارک ص300ج1)








    پیران پیر شیخ عبدالقادر جیلانی رحم اللہ علیہ کا ایک سوال پر جواب

    رفع الیدین کیا ہے؟ کیونکر کی جاتی ہے اور کہاں کہاں کی جاتی ہے۔ اس کے کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟




    جواب:

    رفع الیدین عند الافتتاح والرکوع والرفع منہ وھو ان یکون کفاہ مع منکبیہ

    ( غنیة الطالبین صفحہ11 )

    رفع الیدین دونوں ہاتھوں کے بلند کرنے کو کہتے ہیں۔ نماز میں اس سے مراد دونوں ہاتھوں کا کندھوں کے برابر تک بلند کرنا ہے۔




    پس اس غرض سے پہلی بات نماز کے لیے کھڑے ہو کر تکبیر تحریمہ کے ساتھ ہی کندھوں تک دونوں ہاتھ بلند کےے جائیں۔ پھر رکوع کے لیے جھکنے سے پہلے اور پھر رکوع سے اٹھتے ہوئے یہی عمل دہرایا جائے۔

    جلسہ بین السجدتین




    جلسہ بین السجدتین




    ( دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا )








     
    • شکریہ شکریہ x 6
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں