1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تزکیہ نفس کا مسنون طریقہ

'تزکیہ نفس کے بدعی طریقے' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏مارچ 27، 2014۔

  1. ‏مارچ 27، 2014 #1
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,376
    موصول شکریہ جات:
    6,595
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    تزکیہ نفس کا مسنون طریقہ

    لَقَدْ مَنَّ اللَّـهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَ‌سُولًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ ﴿١٦٤﴾آل عمران
    تزکیہ نفس کا مطلب ہے نفس کا پاک کرنا۔ اگر پاک ہے تو انسان کامیاب ہے اگر ناپاک ہے تو ناکام و نامراد ہے۔
    اللہ تعالی نے فرمایا:
    قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا ﴿٩﴾ وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا ﴿١٠﴾الشمں
    جس نے اس نفس کو پاک کر لیا وہ کامیاب ہوگیا اور جس نے اسے مٹی میں ملا دیا وہ ناکام اور نامراد ہوگیا۔
    یہ انسان جو اللہ تعالی کی رہنمائی نہ ہونے کی وجہ سے مٹی ، کیچڑ اور گندگی میں پھنسا ہوا تھا اسے نکالنے کے لیے اللہ تعالی نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا اور آپ کو وہ طریقے بتائے جن کے ذریعے آپ نے بنی نوع انسان کا تزکیہ کیا، انہیں پاک اور صاف کیا۔ میں نے شروع میں جو آیت لکھی اس میں اللہ تعالی نے یہی فرمایا ہے۔
    "یقینا اللہ نے مومنوں پر احسان فرمایا جب ان میں ایک رسول بھیجا خود ان میں سے ، وہ ان کے سامنے اس کی آیات پڑھتا ہے۔ ان کا تزکیہ کرتا ہے (انہیں پاک کرتا ہے) اور انہیں کتاب و حکمت سکھاتا ہے حالانکہ اس سے پہلے یقینا وہ کھلی گمراہی میں تھے۔"
    ان لوگوں میں بے شمار غلطیاں بے شمار برائیاں تھیں۔ اللہ تعالی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرما کر انہیں کندن بنا دیا، صاف ستھرا بنا دیا، تمام دنیا کا امام بنا دیا، سب آلودگیاں دور ہو گئیں، تمام پلیدگیاں ختم ہوگئیں۔ کس طرح پاک کیا، کتاب و سنت سکھا کر اور ایمان کی تعلیم دے کر۔
    کفر کی وجہ سے جسم کا ہر ہر حصہ پلید تھا۔ زبان پلید، دل پلید ، اعضاء ناپاک، اس لیے لازم تھا کہ ایسا ایمان ہو جو ہر ہر حصے کو پاک صاف کر دے اور اللہ تعالی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کتاب و سنت کے ذریعے ایسا ہی ایمان دے کر بھیجا کہ آپ لوگوں کو سکھائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
    "سب سے اعلٰی لاالہ الا اللہ کہنا ہے اور سب سے کمتر راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا ہے اور حیاء ایمان کی ایک شاخ ہے"
    صحیح بخاری، کتاب الایمان
    بعض روایات میں ستر سے زیادہ شاخیں بتائی گئی ہیں۔
    حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں وہ چیزیں جمع فرمادی ہیں جن پر قرآن مجید یا حدیث میں ایمان کا لفظ بولا گیا ہے، وہ ستر سے کچھ اوپر بنتی ہیں۔ ان میں سے بعض کا تعلق دل سے ہے، بعض کا دوسرے اعضاء اور بعض کا سبھی اعضاء سے۔ آدمی جب ان سب پر عمل کرتا ہے تو اس کا مکمل تزکیہ ہو جاتا ہے، وہ پوری طرح پاک صاف ہوجاتا ہے اگر بعض چیزوں پر عمل کرے بعض پر عمل نہ کرے، تو پوری طرح پاک نہیں ہو سکتا۔
    تزکیہ نفس اور تصوف
     
  2. ‏مارچ 28، 2014 #2
    Dua

    Dua سینئر رکن
    شمولیت:
    ‏مارچ 30، 2013
    پیغامات:
    2,579
    موصول شکریہ جات:
    4,379
    تمغے کے پوائنٹ:
    463

    جزاک اللہ خیرا۔۔۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں