1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تشہد میں اشارہ کرنا کیدانی حنفی کے نزدیک حرام ھے ؟؟؟!!!آخر کیوں ؟

'حنفی' میں موضوعات آغاز کردہ از ابن بشیر الحسینوی, ‏نومبر 07، 2011۔

  1. ‏جون 26، 2015 #11
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    یہ کس نے کہا ہے محترم بھائی کہ مضارع جب جملہ حالیہ میں آئے تو ہمیشگی اور تسلسل پر دلالت کرتا ہے۔ یہ بات تو ایسے ہے جیسے کوئی عربیت کے مزاج سے ناواقف ہو اور صرف الفاظ پڑھ کر یہ بات کرنے کی کوشش کرے۔
    دیکھیں میں ایک جملہ کہتا ہوں:
    رایت زیدا یقتل اخاہ
    یہاں مضارع بھی ہے اور جملہ حالیہ بھی۔ لیکن کیا کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ یہاں تسلسل اور ہمیشگی بھی ہوگی؟ زید ایک ہی بار قتل کر سکتا ہے بار بار نہیں۔ حالانکہ یہ جملہ بالکل ٹھیک ہے۔ اسی طرح:
    رایت عمروا یلطم اجیرہ لطمۃ
    اس کا مطلب کیا کوئی یہ نکال سکتا ہے کہ عمرو نے مستقل تھپڑ مارے ہوں گے؟ پھر لطمۃ کا کیا مطلب ہوگا؟ جبکہ جملہ بالکل ٹھیک ہے۔ اسی طرح اگر میں عدالت میں گواہی دیتے وقت کہوں:
    رایتہ یکسر سن فلان
    میں نے اسے فلاں کا دانت توڑتے ہوئے دیکھا۔ تو دانت تو ایک ہی بار ٹوٹے گا نا۔ اب میرے اس قول سے کتنے دانت ٹوٹنے کا قصاص آئے گا؟
    فتدبروا
     
  2. ‏جون 26، 2015 #12
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    ادھر ادھر کی باتیں چھوڑیں ۔پہلے اشھداللہ پر انگلی اٹھنے کی دلیل پیش کریں
     
  3. ‏جون 26، 2015 #13
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,650
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    محترم جناب اشماریہ صاحب! کیا آپ یہ بیان فرمائیں گے کہ گزشتہ مراسلوں میں پیش کردہ اس حدیث میں ملون الفاظ کو آپ کس طرح فقہ حنفی کے موافق ڈھالیں گے!!
     
  4. ‏جون 27، 2015 #14
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    کیا آپ عربی سے بالکل ناواقف ہیں؟ یحرکہا حال اول ہے اور یدعو بہا حال ثانی ہے۔
    اگر آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ یدعو بہا کا مطلب یہ ہے کہ درود شریف کے بعد جو دعا ہوتی ہے اس میں انگلی ہلا رہے تھے تو پھر دو سیدھے سے سوال ہیں:
    1: آپ کے اور ہمارے سب کے نزدیک تشہد سے سلام تک کے افعال دل میں ادا کیے جاتے ہیں۔ تو پھر صحابی نے یہ کیسے سن لیا کہ دعا کے وقت ہی آپ ﷺ ہلا رہے تھے؟ اس کا مطلب ہے کہ آپ کو استدلال میں کہیں غلطی ہوئی ہے۔
    2: اگر صحابی نے صرف دعا میں انگلی ہلاتے ہوئے آپ ﷺ کو دیکھا تھا تو پھر آپ حضرات تشہد اور درود شریف میں کیوں ہلاتے ہیں؟ یعنی یہاں بھی استدلال میں غلطی ہے۔

    لیکن میں یہ عرض کرتا ہوں کہ یدعو کا ایک معنی دعا کرنا اور دوسرا معنی پکارنا ہے۔ یعنی جب اللہ پاک کی توحید کو پکار رہے تھے لا الہ الا اللہ سے تو اسے ہلا رہے تھے (یعنی ابتدا میں اوپر اور انتہا میں نیچے کی جانب لا رہے تھے۔ یہ مکمل حرکت ہے)۔ اگر میرے اس استدلال میں کوئی سقم ہے تو نشاندہی فرمائیں جیسے میں نے نشاندہی کی ہے۔
     
  5. ‏جون 27، 2015 #15
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    دلائل جب آپ خود ذکر کر رہے ہیں تو مجھ سے کیوں پوچھ رہے ہیں؟
     
  6. ‏جون 27، 2015 #16
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    تشہد میں شہادت کی انگلی سے اشارہ کرنا،اوراسے مسلسل حرکت دینا
    ----------------------------------------------------------------------------
    (1) نمازکاپہلاتشہد ہویادوسرا اس میں سنت یہ ہے کہ پورے تشہد میں مسلسل شہادت کی انگلی سے اشارہ کیاجائے اورساتھ ہی ساتھ اسے مسلسل حرکت بھی دیا جائے،یہ دونوں عمل احادیث صحیحہ سے ثابت ہیں ،دلائل ملاحظہ ہوں:
    انگلی سے مسلسل اشا رہ کرنے کی دلیل:
    عَن نُمَیْرٍرضی اللہ عنہ قَالَ : رَأَیْتُ رَسُولَ اللہِ صلی اللہ علیہ وسلم وَاضِعًا یَدَہُ الْیُمْنَی عَلَی فَخِذِہِ الْیُمْنَی فِی الصَّلاَةِ ، وَیُشِیرُ بِأُصْبُعِہِ.
    صحابی رسول نمیررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:''میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نمازمیں اپنے داہنے ہاتھ کواپنی دا ہنی ران پررکھے ہوئے تھے اورانگلی سے اشارہ کررہے تھے۔(نسائی:ـکتاب السھو:باب الاشارة فی التشھد،رقم1271،و ابن ماجہ :ـکتاب اقامة الصلاة والسنة فیھا،رقم 911 والحدیث صحیح)۔
    اس حدیث میں ''یشیر''(یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اشارہ کرہے تھے)فعل مضارع استعمال ہواہے جوہمیشگی اورتسلسل کامعنی دیتاہے،یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اشارہ کایہ عمل پور ے تشہد میں کرتے تھے۔
    اورصحیح ابن خزیمہ کی ایک حدیث میں یہ الفاظ ہیں :''ثم حلق وجعل یشیر بالسباحة یدعو'' یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشہد میں بیٹھنے کے بعدشہادت کی انگلی سے اشارہ کرنے لگے،(صحیح ابن خزیمة :ج 1ص353حدیث نمبر713)۔
    اس حدیث میں ''یشیر'' فعل مضارع پر''جعل'' داخل ہے اوریہ کسی عمل کوشروع سے مسلسل کرنے پردلالت کرتاہے یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشہد میں بیٹھنے کے بعد اس عمل کوشروع سے لیکرتشہد کے اختتام تک مسلسل کرتے رہے۔
    نیزابن خزیمہ کی اسی حدیث میں آگے ''یدعو''ہے،یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم شہادت کی انگلی کے ذریعہ دعاکرنے لگے اورتشہد، پوراکا پورا دعاؤں پرمشتمل ہے، چنانچہ پہلے ''التحیات ''کی دعاء پھر''درود'' کی دعاء پھردیگر دعائیں ہیں ،اور اوپرکی حدیث سے معلوم ہواکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعائیں شہادت کی انگلی کے اشارہ کے ساتھ ساتھ پڑھتے تھے،لہٰذا ثابت ہواکہ جس طرح پورے تشہد میں دعائیں پڑھی جاتی ہیں ایسے ہی پورے تشہد میں اشارہ بھی کیاجائے گا،کیونکہ یہ عمل (اشارہ) دعاؤں سے جڑا ہوا ہے،لہٰذاجب پورے تشہد میں دعاء ہے توپورے تشہد میں یہ عمل (اشارہ کرنا)بھی ہے۔
    (2) تشہدمیں انگلی سے مسلسل اشارہ کاثبوت ملاحظہ کرنے کے بعدمعلوم ہوناچاہے،اس اشارہ کے ساتھ ساتھ اسے مسلسل حرکت دینے کاثبوت بھی احادیث صحیحہ میں موجودہے،ملاحظہ ہو:
    انگلی کومسلسل حرکت دینے کی دلیل:
    عَنْ وَائِلَ بْنَ حُجْرصٍ قَالَ: قُلْتُ:لأَنْظُرَنَّ ا ِلَی صَلاَةِ رَسُولِ اللہِ صلی اللہ علیہ وسلم کَیْفَ یُصَلِّی ؟ فَنَظَرْتُ ِلَیْہِ فَوَصَفَ ، قَالَ : ثُمَّ قَعَدَ وَافْتَرَشَ رِجْلَہُ الْیُسْرَی ، وَوَضَعَ کَفَّہُ الْیُسْرَی عَلَی فَخِذِہِ وَرُکْبَتِہِ الْیُسْرَی ، وَجَعَلَ حَدَّ مِرْفَقِہِ الأَیْمَنِ عَلَی فَخِذِہِ الْیُمْنَی ، ثُمَّ قَبَضَ اثْنَتَیْنِ مِنْ أَصَابِعِہِ ، وَحَلَّقَ حَلْقَةً ، ثُمَّ رَفَعَ أُصْبُعَہُ فَرَأَیْتُہُ یُحَرِّکُہَا یَدْعُو بِہَا،
    صحابی رسول وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے کہاکہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازکوضروردیکھوں گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح نمازپڑھتے ہیں ،چنانچہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازکودیکھا،پھرصحابی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نمازکاطریقہ بیان فرمایااورکہاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے اوربایاں پاؤں بچھایا،اوربائیں ہتھیلی بائیں ران اورگھٹنے پررکھی اوردائیں ہاتھ کی کہنی دائیں طرف کی ران کے برابرکی ،پھردوانگلی بند کرلی،اورایک حلقہ باندھ لیا،پھرانگلی اٹھائی تومیں میں نے دیکھاآپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کوہلاتے تھے اوراس سے دعاء کرتے تھے۔(نسائی :ـکتاب السھو:باب قبض الثنتین من أصابع الیدالیمنی وعقد الوسطی،رقم1268،صحیح ابن خزیمہ ،رقم714، صحیح ابن حبان،رقم1860،المعجم الکبیر:2235واسنادہ صحیح)۔
    اس حدیث میں شہادت کی انگلی کے ساتھ دوعمل کاذکرہے،ایک اشارہ کرنے کا،چنانچہ اس کے لئے کہاگیا:'' ثُمَّ رَفَعَ أُصْبُعَہُ''یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت کی انگلی کواٹھایایعنی مسلسل اشارہ کرنے کے لئے جیساکہ آگے کے الفاظ اور اوپرکی احادیث سے اس کی وضاحت ہوتی ہے، اب اشارہ کاعمل ذکرہونے کے بعدآگے ایک اورعمل ذکرہے''فَرَأَیْتُہُ یُحَرِّکُہَا یَدْعُو بِہَا''یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم انگلی سے اشارہ کرنے کے ساتھ ساتھ اسے (مسلسل) حرکت بھی دے رہے تھے،اس حدیث سے ثابت ہواکہ تشہد میں انگلی سے مسلسل اشارہ کرنے کے ساتھ ساتھ،اسے مسلسل حرکت دینابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ ہے۔
    واضح رہے کہ اس حدیث میں بھی'' یُحَرِّکُہَا''(یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم حرکت دے رہے تھے)فعل مضارع استعمال ہواہے جوہمیشگی اورتسلسل کامعنی دیتا ہے،یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم حرکت دینے کایہ عمل پور ے تشہد میں کرتے تھے۔
    اوراسی حدیث میں آگے '' یَدْعُو بِہَا'' ہے،یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم شہادت کی انگلی کوحرکت دے دے کر دعاکرنے لگے اورتشہد پوراکاپورادعاؤں پرمشتمل ہے،چنانچہ پہلے ''التحیات ''کی دعاء پھر''درود'' کی دعاء پھردیگر دعائیں ہیں ،لہٰذا ثابت ہواکہ جس طرح پورے تشہد میں دعائیں پڑھی جاتی ہیں ایسے ہی پورے تشہد میں انگلی کوحرکت بھی دیاجائے گا،کیونکہ یہ عمل دعاؤں سے جڑاہوہے،لہٰذاجب پورے تشہد میں دعاء ہے توپورے تشہد میں یہ عمل(انگلی کوحرکت دینا) بھی ہے۔
     
  7. ‏جون 27، 2015 #17
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    اس بات کی کوئی ٹھوس دلیل دیں
     
  8. ‏جون 27، 2015 #18
    ابن داود

    ابن داود فعال رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    3,313
    موصول شکریہ جات:
    2,650
    تمغے کے پوائنٹ:
    556

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    میرے بھائی! اول تو یہ عربی کے بھرم کسی اور مجلس میں آزمائے گا!
    دوم یہ کہ مجھے اتنا بتلا دیں کہ حَرِّکُہَا اور یَدْعُو بِہَا میں ضمیر کس کی جانب لوٹتی ہے!! اور یہ یقیناً أُصْبُعَہُ کی جانب لوٹتی ہے، یعنی کہ حرکت کا تعلق بھی انگلی کے ساتھ ہے اور دعا کاتعلق بھی انگلی کے ساتھ ہے! اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی کو تشہد میں بیٹھتے ہی اسی حرکت والی پوزیشن میں باندھ لیا تھا، حدیث کے الفاظ دیکھیں!
    ثُمَّ قَعَدَ وَافْتَرَشَ رِجْلَہُ الْیُسْرَی ، وَوَضَعَ کَفَّہُ الْیُسْرَی عَلَی فَخِذِہِ وَرُکْبَتِہِ الْیُسْرَی ، وَجَعَلَ حَدَّ مِرْفَقِہِ الأَیْمَنِ عَلَی فَخِذِہِ الْیُمْنَی ، ثُمَّ قَبَضَ اثْنَتَیْنِ مِنْ أَصَابِعِہِ ، وَحَلَّقَ حَلْقَةً ،
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے اوربایاں پاؤں بچھایا،اوربائیں ہتھیلی بائیں ران اورگھٹنے پررکھی اوردائیں ہاتھ کی کہنی دائیں طرف کی ران کے برابرکی ،پھردوانگلی بند کرلی
    یہاں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ بائیں ہاتھ کی انگلیوں سے حلقہ نہیں بنایا گیا، اور اسی وقت دائیں ہاتھ کی انگلیوں سے حلقہ بنایا گیا! اس سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تشہد کے دوران نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں ہاتھ کی پوزیشن اور بائیں ہاتھ کی پوزیشن شروع سے الگ الگ تھی، یعنی بائیں ہاتھ کی انگلیوں کا حلقہ نہیں ، اور دائیں ہاتھ کی انگلیوں کا حلقہ ہے۔
    اب آتے ہیں اہل حدیث کا مؤقف اس حدیث کے موافق ہے یا مقلدین حنفیہ کا؟
    تو میرے بھائی! اہل حدیث کا مؤقف تو اس کے مطابق ہے کہ وہ شروع تشہد سے اپنی انگلیوں سے حلقہ بناتے ہیں!!
    رہی بات احناف کی تو احناف تشہد کے دوران أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّه پر حلقہ بناتے ہیں ۔ بعض یہ حلقہ فوراً ختم بھی کردتے ہیں!!
    بھائی جان! ایک بات عرض کروں! آپ نے اگر کی بنیاد پر ہی دو سوال داغ دئیے!!! یہ عجیب طرز عمل ہے!!
    نہیں ہمارا یہ مطلب نہیں ہے کہ یدعو بها کا مطلب تشہد کے بعد کی دعا ہے!! ہمارا مؤقف اسی تھریڈ میں بیان بھی کیا گیا! مگر نہ جانے کیوں آپ نے اسے نظر انداز کر کے یہ تخیلاتی گھوڑے دوڑا دئے!!ہمارا مؤقف یوں پیش کیا گیا تھا:
    اب فرمائیں! کم سے کم تھریڈ کے پہلے مراسلہ کو تو بغور پڑھنا چاہئے تھا ، کہ وہی تو اس تھریڈ کا موضوع ہے!!!
    آپ کا یہ سوال آپ کے غلط تخیل کی بنیاد پر ہے ، جو آپ نے پہلے بیان کیا!! صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تشہد کے تمام اذکار کو بھی دعا ہی کہا ہے!! اور ہم بھی اسی کے قائل ہیں!! لہٰذا، ہمارے استدلال میں یہ غلطی نہیں!!
    اب آپ خود دیکھیں! ایک تخیل قائم کر نے اس طرح کے سوالات جنم لیتے ہیں!!
    نہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف تشہد کے بعد کی دعا کو یدعوبها کا مصداق ٹھہرایا ہے اور نہ ہی ہمارا یہ مؤقف ہے!! لہٰذا نہ صحابی رضی اللہ عنہ کے بیان میں کوئی خامی ہے اور نہ ہمارے استدلال میں کوئی غلطی!!
    بھائی جان! جب آپ خود بھی یہ مانتے ہو کہ یدعو کے ایک معنی دعا کرنا اور دوسرا پکارنا ہے، تو صرف یہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ہی اس یدعو بها کا مصداق کیونکر ٹھہرا!!
    یعنی يدعو بها کا مصداق تشہد درود اور دعائیں تمام اذکار قرار پاتے ہیں! اور بات یہی صحیح ہے!! اور یہی ہمارا مؤقف ہے!
    اب آپ کا مؤقف ہے کہ صرف أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ہی یدعو بها کا مصداق ہے!! اس کا تقید آپ ثابت کر دیں!!
    یہ حدیث تو آپ کے مؤقف کے باطل ثابت کرتی ہے!! الا یہ کہ آپ کے پاس اس میں تقید کی کوئی دلیل ہو!!
    اور ہم یہ بخوبی جانتے ہیں کہ اس کی کوئی دلیل نہیں!! فتدبر!!
     
    • علمی علمی x 2
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  9. ‏جون 29، 2015 #19
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    جزاک اللہ ابن داود بھائی
    آپ کی بات اور استدلال مضبوط ہے۔ پہلا مراسلہ مجھے پڑھے ہوئے کافی عرصہ ہو گیا ہے اور میرے ذہن میں آپ کا مسلک خلط ہو گیا تھا۔ تشہد پورا دعا ہے اس بات کو تو ظاہر ہے تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ اس حدیث سے جو استدلال آپ نے کیا ہے وہ مضبوط معلوم ہوتا ہے (اگر چہ اس میں ثم ہے جو تراخی پر دلالت کرتا ہے لیکن بات آپ کی درست معلوم ہوتی ہے)۔
    اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ مجھے اس مسئلہ میں مکمل تحقیق کرنی چاہیے اور تمام روایات کو دیکھنا چاہیے۔ میں ان شاء اللہ موقع ملنے پر یہ کروں گا اور اگر آپ کا مسلک مضبوط معلوم ہوا تو یہی میرا مسلک بھی ہوگا ان شاء اللہ۔ تب تک میں اس بحث سے دستبردار ہوتا ہوں۔
     
    • پسند پسند x 3
    • شکریہ شکریہ x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  10. ‏جون 30، 2015 #20
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,769
    موصول شکریہ جات:
    8,335
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    لله درك ۔
     
    • شکریہ شکریہ x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں