1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تعدّد ازواج

'تعدد ازواج' میں موضوعات آغاز کردہ از غزنوی, ‏فروری 18، 2012۔

  1. ‏فروری 18، 2012 #1
    غزنوی

    غزنوی رکن
    شمولیت:
    ‏جون 21، 2011
    پیغامات:
    177
    موصول شکریہ جات:
    659
    تمغے کے پوائنٹ:
    76

    تعدّد ازواج

    نظام اجتماعی کے لئے بنائے گئے قوانین اسی وقت کامل ، ترقی پسندا ور فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں جب انسانی فطرت کے مطابق ہوں اور بشری ضرورتوں کو مکمل طور پر پورا کرتے ہوں۔قوانین بناتے وقت واضع قانون کے سامنے معاشرے کے تمام حالات ہوں ۔ اگر یہ صورت نہیں ہے تو پھر وہ قوانین باقی نہیں رہ سکتے ۔
    اسلام کے بر خلاف کلیسا اور مسیحی مبلغین نے تعدّد ازواج کے مسئلہ کو اس طرح غلط طریقے سے پیش کیا کہ آج یہ مسئلہ دنیا میں محل بحث بن گیا ہے۔ اپنی کمزور و سست پوزیشن کو بچانے کے لئے کلیسا ناواقف لوگوں پر تعدد ازواج کے مسئلے کوہزاروں تہمت و تبدیلی ٴحقائق کے ساتھ پیش کرتا ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ یہ مسئلہ عورتوں پر ظلم و جور کے مرادف ہے کیونکہ عیسائی مبلغین لوگوں کو یہ باور کراتے ہیں کہ مردوں کو حسب دل خواہ کسی قید و بند کے بغیر عورتوں سے شادی کرنے کا اختیار ہے اور اپنی سختیوں کا پابند بنانے کا حق ہے ۔
    گذشتہ انبیاء کی تاریخ اور موجودہ ادیان کے مطالعہ سے یہ حقیقت بخوبی واضح ہو جاتی ہے کہ تعدد ازواج کا مسئلہ اسلام سے پہلے رائج و مرسوم تھا یہ کوئی نئی بات نہیں ہے جس کو صرف اسلام نے ایجاد کیا ہو ۔ مثلا چین میں ” لیکی “ قانون کی بناء پر ایک شخص کو ۱۳۰ عورتوں سے شادی کرنے کا حق تھا اور یہودی قانون میں ایک مرد کئی سو عورتوں سے شادی کر سکتا تھا ۔ (۱)
    اسی طرح ” ارد شیر بابکان “ اور ” شارلمانی “ کے لئے لکھا گیاہے کہ ان میں سے ہر ایک کے حرم سرا میں تقریباً چار سو عورتیں تھیں ۔
    توریت ( جو تعدد ازواج کو جائز سمجھتی ہے ) کے خلاف انجیل نے بھی کوئی آواز نہیں اٹھائی بلکہ اس مسئلے میں خاموش ہے۔ اسی لئے آٹھویں صدی عیسوی کے نصف آخر تک یعنی شارلمانی بادشاہ فرانس کے زمانے تک مسیحی یورپ میں تعدد ازواج کی باقاعدہ رسم تھی اور کلیسا اس کی مخالفت نہیں کرتا تھا لیکن اسی بادشاہ ( شارلمانی ) کے زمانے میں کلیسا کے حکم سے پورے یورپ کے اندر یہ مسئلہ منسوخ قرار دیا گیا اور جن لوگوں کے پاس کئی کئی عورتیں تھیں ان کو شرعی لحاظ سے صرف ایک ایک عورت پر اکتفا کرنا پڑا اور اسی باعث عیسائی بد کاری و زنا کاری کی طرف مائل ہونے لگے اور جن کے پاس صرف ایک بیوی تھی وہ فسق و فجور کی طرف مائل ہو گئے زمانہٴ جاہلیت میں عرب کے مختلف قبیلوں میں نہایت نا پسند یدہ طریقے سے تعدد ازواج کا مسئلہ رائج تھا اورعدالت، مالی حیثیت اور دیگر شرائط کا لحاظ کئے بغیر ہر شخص اپنی حسب ِ خواہش جتنی عورتیں چاہے رکہ سکتا تھا ۔ اس وقت عورتوں کی کوئی قدر و قیمت نہیں تھی ، ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنا ایک عام بات تھی ۔ مردوں کی مطلق العنانی نے عورتوں پر عرصہٴ حیات تنگ کر رکھا تھا ۔
    اسلام نے اس ظلم کی مخالفت کی اور اس فساد کا خاتمہ کر دیا لیکن مخصوص شرائط کے ساتھ ۔اسلام نے اصل مسئلہ تعدد ازواج کو قبول کیا البتہ معاشرے کی ضرورتوں اور مرد و عورت کے مصالح کو پیش نظر رکھتے ہوئے عورتوں کی تعداد کو صرف چار میں محدود کر دیا ۔
    اس کے علاوہ تعدد ازواج کا قانون تمام مسلمانوں کے لئے نماز ، روزے کی طرح ہر شخص پر واجب و لازم نہیں ہے کہ اگر ایک شخص چند عورتوں کے ساتھ عادلانہ برتاؤ کر سکتا ہو اور اس کے معاشی حالت بھی چند عورتوں سے شادی کی اجازت دیتی ہو اور وہ اس کے باوجود صرف ایک عورت سے شادی کرے تو گویا اس نے فعل حرام کا ارتکاب کیا ! ایسا قطعاًنہیں ہے ۔
     
  2. ‏فروری 18، 2012 #2
    غزنوی

    غزنوی رکن
    شمولیت:
    ‏جون 21، 2011
    پیغامات:
    177
    موصول شکریہ جات:
    659
    تمغے کے پوائنٹ:
    76

    تعدد ازواج کے مسئلے میں عورتوں کو بھی ارادہ و عمل کی آزادی بخشی گئی ہے تاکہ وہ اپنی مرضی سے اس کام کو کریں کوئی جبر نہیں کیا گیا ہے ۔ تعدد ازواج کی اجازت دے کر اسلام نے عورتوں کی کسی قسم کی اہانت نہیں کی ہے بلکہ عورتوں کو صرف اجازت دی گئی ہے کہ حالات کے لحاظ سے اگر وہ چاہیں تو ایسا کر سکتی ہیں ان کو قید تنہائی پر مجبور نہیں کیا گیا ہے ۔
    آئے دن کی جنگوں ، مشکل کاموں کی انجام دہی ، معادن کے اندر کام کرنا ( جس میں ہزاروں آدمی ہلاک ہوتے رہتے ہیں ) وغیرہ ان اسباب کی بناء پر مردوں کی تعداد کم ہوتی جاتی ہے اور عورتوں کی تعداد بڑہتی جاتی ہے ۔ اب یہاں پر اعداد و شمار کر کے فیصلہ کیجئے کہ کیا کیا جائے کیونکہ صحیح فیصلہ تو مردم شماری کے بعد ہی ہوگا ۔ اعداد و شمار کے مطابق پوری دنیا میں قطعی طور پر عورتوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور یہ زیادتی مندرجہ بالا اسباب کی بنا پر ہمیشہ سے دنیا میں رہی ہے ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے فرار ممکن نہیں ہے ۔ اس صورت حال میں تعداد ازواج کے علاوہ اس کا اورکیا حل ہو سکتا ہے ؟
    فرانس کے اعداد و شمار کے مطابق وہاں ہر سو پیدا ہونے والی لڑکیوں کے مقابلے میں ایک سو پانچ بچے پیدا ہوتے ہیں لیکن اس کے با وجود عورتوں کی تعداددس لاکہ سات سو پینسٹہ ہزار سے زیادہ ہے ۔ حالانکہ پورے فرانس کی آبادی پانچ کروڑسے زیادہ نہیں ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عورتوں کے مقابلے میں مردوں میں امراض کا مقابلہ کرنے کی طاقت کم ہے اس لئے پانچ فیصد لڑکے انیس سال کی عمر تک ختم ہو جاتے ہیں ، کچھ پچیس سال تک اسی طرح مردوں کی تعداد گھٹتی رہتی ہے اور اب یہ حال ہے کہ ۶۵ سال کی عمر میں پندرہ لاکہ عورتوں کے مقابلے میںساڑھے سات ہزار سے زیادہ مرد باقی نہ رہیں گے ۔(۲)
    اس وقت امریکہ میں دو کروڑ عورتیں شوہر نہ ملنے کی وجہ سے کنواری ہیں اور مختلف عادتوں کی شکار ہیں ۔ (۳)
    جس طرح عورت ضروریات زندگی کا احساس کرتی ہے اسی طرح وہ اندرونی طور پر شوہر ، تولید نسل ، پرورش اولاد کی بھی ضرورت کا احساس کرتی ہے اور اس کی یہ خواہش شادی کے بغیر پوری نہیں ہو سکتی ۔ محض وسائل زندگی کا مہیا ہو جانا اس کے باطنی التہاب کو ختم نہیں کر سکتا اور عورت ہی کیا مرد کے یہاں بھی یہ احساس موجود ہے اور اصولا ًان باتوں کا انکار ممکن نہیں ہے ۔
    دنیا میں عورتوں کی کثرت کی علت بیان کرتے ہوئے اخبار اس اہم مسئلے کا بھی ذکر کرتے ہیں ۔ عورتوں کی تعداد روز بروز دنیا میں کیوں بڑہ رہی ہے ؟ اس کی دو علتیں ہیں ۔
    یہ حقیقت ہے کہ عورتوں کی بہ نسبت مردوں کی عمر یں کم ہوتی ہیں ۔ اعداد و شمار کے مطابق ایک غیر شادی شدہ مردکے مقابلے میں بیس بیوہ عورتیں موجود ہیں۔ عورت کی تنہائی اس کے لئے بہت دشوار اور افسردہ کرنے والی چیز ہے ۔ غیر شوہر دار عورتیں ہمیشہ شریک زندگی کے انتظار میں رہتی ہیں اور ان کی پوری زندگی انتظار کے کمرے میں گزر جاتی ہے ۔
    فاضل اور زائد عورتوں کا حل اسلام نے تعدد ازواج کی صورت میں نکالا ہے کہ عورتوں کو یہ حق ہے کہ شادی شدہ مرد کے ساتھ شادی کر کے اپنے رنج وتنہائی اور دیگر محرومیتیوں سے نجات حاصل کریں ۔
    مردوں میں تولید نسل کی صلاحیت اور جنسی خواہش تقریباً ہمیشہ باقی رہتی ہے لیکن عورتیں پچاس سال کے بعد حمل و پیدائش کی صلاحیت کھو بیٹھتی ہیں ۔ اب جس زمانے میں عورت کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے مرد کی شہوت پھر بھی بیدار رہتی ہے ۔ اس لئے اگر مردوں کے لئے دوسری شادی کرنا غیر قانونی ہو جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ عمر کے ایک حصے میں مرد کو اپنی اس صلاحیت سے فائدہ اٹھا نانا ممکن ہو جائے گا ۔
    اس کے علاوہ بہت سی عورتیںعقیم ہوتی ہیں لیکن میاں بیوی کے آپسی محبت کی بناء پر مرد سے جدائی بھی نہیں چاہتیں اور ادہر مرد کے اندر وجود فرزند اور بقائے نسل کی فطری خواہش موجود ہے ، ایسی صورت میں کس جرم کی بناء پر مرد پوری زندگی اولاد کی خاطر آتش حسرت میں جلتا رہے اور اپنے مقصد کو کیوں نہ حاصل کرے ؟
     
  3. ‏فروری 18، 2012 #3
    غزنوی

    غزنوی رکن
    شمولیت:
    ‏جون 21، 2011
    پیغامات:
    177
    موصول شکریہ جات:
    659
    تمغے کے پوائنٹ:
    76

    ایرانی اخبار” اطلاعات “ ” ایک مرد کی تین بیویاں شوہر کی چوتھی شادی پر راضی “ کے عنوان سے لکھتا ہے :
    جو قانون مرد کو اس کی خواہش پوری نہ کرنے دے یعنی اولاد کی خواہش کو پوری نہ ہونے دے ، کیا وہ مرد کے حق میں ظالم قانون نہیں ہے ۔؟
    اسی طرح زائد عورتوں کی صورت میں جب مردو عورت دونوں کے مصالح پیش نظر رکھے جائیں تو تعدد ازواج کی صورت کے علاوہ کون سا ایسا طریقہ ہے کہ معاشرے میں خلل واقع نہ ہو اورنسل کے اندر تعاون و توازن موجود رہے ؟
    یہ ایک روحی، حیاتی و اجتماعی ضرورت ہے اور ایک واقعی حقیقت ہے جس کا سامنا کرنا ہی ہے،یہ کوئی افسانہ یا تخیل نہیں ہے ۔ اسی طرح کبھی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ عورت کسی زمانے میں کسی زمین گیر بیماری میں گرفتار ہو جائے جو ناقابل علاج ہو اور ہمبستری کے لائق بھی نہ ہو، دوسری طرف مرد کی شہوت میں کوئی کمی نہ ہو اور اسلام عفت و پاکدامنی کے مخالف کام کی اجازت تو دیتا نہیں اب دوسری شادی کو بھی روک دے تو یہ کتنا بڑا ظلم ہو گا ۔ اس موقع پر تعدد ازواج کے قانون سے بہتر کون سا طریقہ ہے جس سے مرد کی ضرورت پوری ہوجائے ؟
    اسی طرح اگر شوہر کسی ایسی بیماری میں مبتلا ہو جائے جو ناقابل علاج ہو اور جنسی رابطہ عورت کے لئے نقصان دہ ہو تو اس کو بھی حق ہے کہ قاضی اسلام کی طرف رجوع کر کے طلاق کی خواہش کرے اور حاکم شرع شوہر سے اس کو طلاق دلوا دے گا ۔ اگر شوہر طلاق دینے پر تیار نہ ہو تو حاکم شرع اپنے اختیارات کو استعمال کر کے خود طلاق نافذ کر سکتا ہے ۔
    اب ایسی صورت میں کہ جب عورت زمین گیر مرض میں مبتلا ہو کیا یہ بہتر ہے کہ مرد اس کو طلاق دیدے اور اس عضو معطل کے ذریعہ معاشرے کے بے سر و ساماں لوگوں میںایک اور فرد کا اضافہ کر دے ؟ یا پھر تعدد ازواج پر عمل کرتے ہوئے دوسری شادی کر لے اور اس عورت کو اپنی سر پرستی میں رکہ کر علاج و معالجہ کرائے ؟ ظاہر ہے دوسری صورت بہتر ہے کیونکہ جس عورت نے اپنی زندگی کے قیمتی حصے کو شوہر کے گھر میں گزارا ہو اس کے رنج و غم خوشی و مسرت میں برابر کی شریک رہی ہو کیا انصاف اور وجدان کا تقاضا یہ ہے کہ شوہر تندرستی کے زمانے میں تو شریک زندگی بنائے لیکن بیمار ہونے کے بعد اس کو علیحدہ کر دے ؟ کیا یہی انسانیت اور شرافت ہے؟
    حفظ عفت عمومی اور جنسی بے راہ روی کی روک تھام کرنے ہی کے لئے اسلام نے ” تعدد ازواج “ جیسا موثر قانون ایجاد کیا ہے جس سے لاکھوں عورتوں کو انحرافات جنسی سے بچا کر ان کی فطری شوہر و اولادکی خواہش کو پورا کیا جا سکتا ہے۔
    دوسری جنگ عظیم میں جب کروڑوں افراد لقمہٴ اجل بن گئے اور بہت سی عورتیں بغیر شوہر کے رہ گئیں تو عورتوں کی انجمن نے جرمنی حکومت سے جرمن کے اندر ” تعدد ازواج “ کے قانون کے نفاذ کی مانگ کی لیکن کلیسا کی مخالفت کی وجہ سے ان کی مانگ پوری نہیں کی گئی اور خود کلیسا نے اس مسئلے کا کوئی عملی و منطقی حل نہیں پیش کیا اس لئے عورتیں مختلف اخلاقی مفاسد اور جنسی بے راہ روی کی شکار ہو گئیں اور ناجائز اولاد کی بھر مار ہو گئی ۔
    اخباروں نے اس طرح تفصیل لکھی ہے :
    زندگی کی وحشت تنہائی، بیس سالہ عورتوں تک میں عام ہو رہی ہے تیس چالیس سالہ عورتوں کا پوچھنا ہی کیا ۔ مردوں اور عورتوں کی آزادی بھی عورتوں کے دل سے ( شوہر ) کی خواہش نہیں نکال سکی ۔ آج بھی” بنت حوا“ کی نظریں ” ابن آدم “ کی متلاشی ہیں ۔ تمام امکانی صورتوں اور ترقیوں کے باوجود جو اتحادی جرمنی کے اندر عورتوں کے لئے مہیا کی گئی تھیں، آج بھی عورت اپنی حفاظت و پاسداری کے لئے شوہر کی تلاش میں ہے ۔
    مغرب کا دعویٰ ہے کہ اس نے عورتوں کے ساتھ بڑی مہربانی برتی ہے اور ان کو کامل آزادی بخشی ہے۔ اگر ایسا ہے تو ان کی جائز خواہشوں اور گھر بسانے کی تمنا کے سامنے کیوں دیوار کھڑی کرتا ہے ؟ ان کو ان کے اصلی فریضے ۔ تولید فرزند و تربیت اولاد ۔ سے کیوں محروم کرتا ہے ؟
    ایک مرد کے گھر میں ایک یا چند عورتوں کے ساتھ رہ کر زندگی بسر کرنے پر آمادگی خود بتاتی ہے کہ بے شوہری اور تنہائی کی زندگی سے ”تعدد ازواج “ بہتر ہے ۔ یہ بے چارہ مرد ہے جو کئی شادیاں کر کے اپنی ذمہ داریوں میںاضافہ کر لیتا ہے ۔
    اگر مردان چیزوں میں کوتاہی کرتا ہے تو عرف اس کو فرائض کی انجام دہی پر مجبور کرے گا اس خاتون کے عقیدے کے لحاظ سے تعدد ازواج کے سلسلے میں نادانستہ جتنے اعتراض عورتوں کی زبان سے ہوتے ہیں یہ در حقیقت مردوں کے اعتراض ہیں جو عورتوں کی زبان سے ہوتے ہیں ۔ عورتیں طوطی کی طرح رٹ کر ہر جگہ اس راگ کو الاپتی رہتی ہیں ( گویا یہ عورتوں کی بے وقوفی اور مردوں کی عقل مندی ہے ) کیونکہ در حقیقت مرد مختلف شبہات پیدا کر کے شادی سے روکتے ہیں کیونکہ اس قانون سے انہیںکو نقصان ہے عورتوں کو کوئی نقصان نہیںہے اور مرد یہ چاہتا ہے کہ قانونی پابندی سے بچ کر اپنی جنسی خواہش پوری کرتا رہے مگر نادان عورت اس بات کو نہیں سمجھ پاتی ۔ اگر کسی مرد کی دو بیویاں ہیں تو جنسی تعلق سے عورت کو کوئی نقصان نہیں ہے بس روحانی طور پر عورت کو یہ احساس ہوتا ہے کہ میرے شوہر کی دوسری بیوی بھی ہے لیکن یہ روحانی تکلیف بھی حقیقی چیز نہیں ہے بلکہ مردوں کی سمجھائی ہوئی بات ہے اور اس کی دلیل یہ ہے زمانہٴ سابق میںلوگوں کی کئی بیویاں ہوتی تھی اب بھی ایسی مثالیں مل جائیں گی کہ ایک گھر میں دو تین بیویاں مل کر زندگی بسر کرتی ہیں اور کسی کو کسی قسم کی کوئی تکلیف نہیں ہے لیکن مردوں کے بہکائے میں آکر اب ان کو بھی تکلیف کا احساس ہونے لگا ہے اگر واقعاً دوسری بیوی باعث تکلیف ہوتی تو پہلے زمانے میں یہ احساس کیوں نہیں تھا ؟
     
  4. ‏فروری 18، 2012 #4
    غزنوی

    غزنوی رکن
    شمولیت:
    ‏جون 21، 2011
    پیغامات:
    177
    موصول شکریہ جات:
    659
    تمغے کے پوائنٹ:
    76

    اب آپ سمجھئے کہ مغرب نے جنسی بے راہ روی توجائزقرار دے دی لیکن فطری خواہش ( شوہر و اولاد ) پر پابندی لگا دی لیکن اسلام لوگوں کو معقول آزادی دیتا ہے اور ایسی آزادی جو مصالح فرد یا اجتماع کے لئے نقصان دہ ہو، اس کی کسی قیمت پر اجازت نہیں دیتا ۔
    چونکہ اسلام کی نظر میں عدل و انصاف، فرد و اجتماع کی سعادت کا اہم جزو ہے اسی لئے ” تعدد ازواج “ میں بھی اسلام نے عدالت کی شرط رکھی ہے اور مختلف امور میں عورتوں کے ساتھ کیسی عدالت برتی جائے اس سلسلے میں فقہ اسلامی کے اندر بہت زیادہ دستور بتائے گئے ہیں اور عورتوں کی آزادی و برابر ی کے حقوق وغیرہ کی بہت عمدہ طریقے سے ضمانت دی گئی ہے ۔
    بہت سی ایسی عورتیں بھی ہیں جو رضا و رغبت کے ساتھ اپنے شوہروں کو دوسری شادی کی اجازت دے دیتی ہیں ، عورتوں کی یہ رضا مندی اس بات کی دلیل ہے کہ ” تعدد ازواج “ کا مسئلہ انسانی فطرت سے ہم آہنگ ہے ۔ اگر یہ خلاف فطرت قانون ہوتا تو عورت کسی بھی قیمت پر مرد کو دوسری شادی کی اجازت نہ دیتی۔
    مختصر یہ بعض اوقات کچہ مردوں کے غیر معقول اور سخت گیر رویہ سے گھروں میں شدید اختلاف پیدا ہو جاتا ہے اور شرعی و اخلاقی فریضہ میں بیویوں سے انصاف نہ کرنے کی وجہ سے گھر یلو ماحول مہر و محبت کے بجائے دہکتا ہوا جہنم بن جاتا ہے ۔ اس لئے مسلمانوں کے اعمال کی طرف توجہ دئے بغیر اسلام کے احکام کی گہرائی کو سوچنا چاہئے تاکہ حقیقت کا پتہ چل سکے ۔ اسلام کے اندر ایسے بھی دستور و قانون موجود ہیں جن کی بناء پر مردوں کو عورتوں سے منصفانہ سلوک کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے مثلاً اگر کوئی مرد بیوی کا نان و نفقہ نہیں دیتا یا بیویوں میں عدالت سے کام نہیں لیتا اور اپنی ذمہ داری کا احساس نہیں کرتا تو اس سے شرعی باز پرس ہو گی اور اس کو سز ابھی دی جائے گی ۔
    البتہ دلی لگاؤ اور قلبی جھکاؤ انسان کی قدرت سے باہر کی چیز ہے اور بہت ممکن ہے کہ کسی عورت کے اندر زیادہ خصوصیات ہوں جس کی بناء پر مرد اس سے زیادہ محبت کرتا ہو ، اسی لئے اسلام نے مرد کونان و نفقہ ، مکان ،ہمبستری اور تمام روحانی ، جسمانی اور مالی خواہشات کی مساوات پر مجبور کیاہے یعنی جو چیزیں انسان کے بس کی ہیں ان میں عدالت شرط ہے اس میں کسی قسم کی زیادتی اور ظلم و ستم جائز نہیں ہے لیکن جو باتیں انسان کے بس سے باہر ہیں ان میں عدالت شرط نہیں ہے ۔
    حضور سرور کائناتﷺ کے زمانے میں جب یہ حکم نافذ ہوا تو جن اصحاب کے پاس چار بیویاں تھیں ان کو پابند بنایا گیا کہ اگر سب کے ساتھ انصاف نہ کر سکو تو صرف ایک بیوی پر اکتفا کرو اور اگر انصاف بھی کر سکتے ہو تو چار بیویوں سے زیادہ نہیں رکھ سکتے ۔ اس حکم کے ذریعے اسلام نے ” تعدد ازواج “ کے غیر عادلانہ برتاؤ، عورتوں کے حقوق سے لا پرواہی اورمطلق العنان جنسی بے راہ روی پر پابندی عائد کر دی اور ہر ظلم و ستم کا خاتمہ کر دیا ۔
    مسلمانوں میں جو مذہبی قانون کے پابند تھے ان میں ایسے لوگ بھی ملتے ہیں جنہوں نے عورتوں کے مرنے کے بعد بھی عدالت و انصاف کے دامن کو ہاتھ سے نہیں چھوڑا مثلاً
    مغرب میں بھی بعض ایسے منصف مزاج دانش مند پیدا ہوئے ہیں جنہوں نے اس مسئلے پر کافی غور و خوض کے بعد فیصلہ دیا ہے کہ ” تعدد ازواج “ معاشرے کی ایک اہم ضرورت ہے ۔ مشہور جرمنی فلسفی شوپنہاور (SCHOPENHAUER) اپنی کتاب عورتوں کے بارے میں چند باتیں میں تحریر کرتا ہے : جس مذہب میں ” تعدد ازواج “ کا قانون موجود ہے اس میں اس کا امکان ہے کہ عورتوں کی ایسی اکثریت جوکُل کے قریب ہو شوہر ،فرزند اور سرپرست سے ہمکنار ہو ۔ لیکن یورپ کے اندر کلیسا ہم کو اس بات کی ا جازت نہیں دیتا اس لئے شوہر دار عورتیں بغیر شوہر والی عورتوں سے کئی گنا کم تعداد میں ہیں۔ بہت سی کنواریاں شوہر کی آرزو لے کر اور بہت سی عورتیں اولاد کی خواہش لے کر اس دنیا سے چلی گئیں اور بہت سی عورتیں اور لڑکیاں جنسی خواہش کے ہاتھوں مجبور ہو کر اپنی عفت کھو بیٹھیں اور بد نام ہو گئیں اور ساری زندگی آتش عصیاں و تنہائی میں جلتی رہیں اور انجام کار اپنی فطری خواہش تک نہ پہنچ سکیں اگر تعدد ازواج کا قانون ہوتا تو یہ بات نہ ہوتی ۔
    کافی غور وخوض کے بعد بھی کوئی دلیل نہیں ملی کہ اگر کسی مرد کی بیوی زمین گیر مرض میں گرفتار ہو یا بانجھ ہو ، یا عمل حمل و وضع سے عاجز ہو تو وہ بے چارہ دوسری عورت سے شادی کیوں نہ کرے ؟ اس کا جواب کلیسا کو دینا چاہئے مگر کلیسا کے پاس کوئی جواب نہیں ہے ۔ بہترین قانون وہ ہوتا ہے جس کے سہارے زندگی کی سعادت محفوظ رہے نہ کہ وہ جس کی بدولت زندگی جہنم کا نمونہ بن جائے ۔
    ڈاکٹر گوسٹاو لبون ( Dr. GUSTAVELEBON)لکھتا ہے : مشرقی رسم و رواج میںسے ” تعدد ازواج “ کے مسئلے کو مغرب میں جس قدر غلط طریقے سے پیش کیا گیا ہے کسی بھی رسم کے بارے میںایسا نہیں ہوا ہے ، اور کسی بھی مسئلے پر مغرب نے اتنی غلطی نہیں کی ہے جتنی ” تعدد ازواج “ کے مسئلے پر کی ہے ، میں واقعاً متحیر ہوں اور مجھے نہیں معلوم کہ مشرق میں” تعدد ازواج “ کا مسئلہ مغرب کے ” فریبی ازدواج “ سے کس طرح کم ہے اور اس میں کیا کمی ہے ۔ میرا تو یہ عقیدہ ہے کہ ” تعدد ازواج “ کا شرعی مسئلہ ہر لحاظ سے بہتر و شائستہ ہے ۔ ( ۱۰)
     
  5. ‏فروری 18، 2012 #5
    غزنوی

    غزنوی رکن
    شمولیت:
    ‏جون 21، 2011
    پیغامات:
    177
    موصول شکریہ جات:
    659
    تمغے کے پوائنٹ:
    76

    حوالہ جات
     
  6. ‏اپریل 10، 2013 #6
    بخاری سید

    بخاری سید رکن
    جگہ:
    اسلام آباد
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2013
    پیغامات:
    255
    موصول شکریہ جات:
    469
    تمغے کے پوائنٹ:
    77

    ایک سوال جس کا جواب درکار ہے۔۔

    السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ! محترمی میرا سوال یہ ہے کہ چار بیویاں ایک وقت میں رکھنے کی اجازت ہے یا پوری زندگی میں چار شادیوں کی اجازت ہے؟ یہ ایسا اشکال ہے جو دور نہیں ہوا اس تحریر کو پڑھنے کے بعد یا شاید میری ناقص عقل اس معاملے میں آپ کی بیان کردہ تفصیل سمجھنے سے قاصر رہی۔ امید ہے آپ بہتر راہنمائی فرمائیں گے۔ اور چار شادیوں والے حکم کا جو بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جاری ہوا اس کا مکمل متن بمعہ ریفرنس بھی اگر یہیں اس پوسٹ کے جواب میں دے دیں تو میری معلومات میں اضافے کا سبب ہو گی آپ کی یہ نوازش۔
     
  7. ‏اپریل 10، 2013 #7
    غزنوی

    غزنوی رکن
    شمولیت:
    ‏جون 21، 2011
    پیغامات:
    177
    موصول شکریہ جات:
    659
    تمغے کے پوائنٹ:
    76

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ
    عزیزم نقطہ یہ ہے کہ بیوی کو کب بیوی کہا جاتا ہے؟ جس وقت بیوی کو بیوی کہا جاتا ہے اس وقت میں چار بیویوں کی اسلام نے اجازت دی ہے۔ جب کسی عورت کو طلاق دی جائے تو وہ بیوی ہی نہیں رہتی تو پھر تعداد میں کیسے شمار ہوگی؟
    اس لیے اگر کوئی بندہ بیک وقت چار ہی بیویاں رکھتا ہے لیکن ان چار میں سے کسی کو طلاق دے کر اس کی جگہ پہ کسی اور کو لے آتا ہے تو یہ صورت اسلام میں منع نہیں۔واللہ اعلم
     
  8. ‏اپریل 10، 2013 #8
    بخاری سید

    بخاری سید رکن
    جگہ:
    اسلام آباد
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2013
    پیغامات:
    255
    موصول شکریہ جات:
    469
    تمغے کے پوائنٹ:
    77

    ماشا اللہ نہایت بہترین مختصر مگر جامع جواب دیا ہے آپ نے۔ اگر اسے سمندر کو کوزے میں بند کرنا کہا جائے تو مناسب ہوگا۔ اللہ تعالیٰ آپ کے علم میں مزید اضافہ فرمائیں اور ہمیں اس سے مستفید ہونے کی توفیق عطاء فرمائیں۔ آمین۔
    بس ایک چھوٹی سی عرض دوبارہ کہ دربار رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جاری ہونے والے اس حکم کا مکمل متن بمعہ اردو ترجمہ یہاں شیئر کر دیں کہ مجھ جیسا کم علم مسلمان بھی اسے اپنی یاداشت میں محفوظ کر لے۔
    جزاک اللہ
     
  9. ‏اپریل 10، 2013 #9
    غزنوی

    غزنوی رکن
    شمولیت:
    ‏جون 21، 2011
    پیغامات:
    177
    موصول شکریہ جات:
    659
    تمغے کے پوائنٹ:
    76

    رب غفور کا پیغام
     
  10. ‏اپریل 11، 2013 #10
    انس

    انس منتظم اعلیٰ رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏مارچ 03، 2011
    پیغامات:
    4,177
    موصول شکریہ جات:
    15,224
    تمغے کے پوائنٹ:
    800

    أنَّ غيلانَ بنَ سلمةَ الثَّقفىَّ أسلمَ ولَهُ عشرُ نسوةٍ في الجاهليَّةِ فأسلمنَ معَهُ فأمرَهُ النَّبيُّ صلى الله عليه وسلم أن يتخيَّرَ منْهنَّ أربعًا
    الراوي: عبدالله بن عمر المحدث:الألباني - المصدر: صحيح الترمذي - الصفحة أو الرقم: 1128
    خلاصة حكم المحدث: صحيح
    الدرر السنية - الموسوعة الحديثية[]=1420&xclude=

    کہ جاہلیت میں غیلان ثقفی کے نکاح میں دس عورتیں تھیں۔ جب غیلان ثقفی﷜ مسلمان ہوئے تو وہ سب بھی ان کے ساتھ مسلمان ہوگئیں تو نبی کریمﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ ان میں سے چار کو منتخب کرلیں (باقیوں کو چھوڑ دیں۔)
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں