1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تعریف شرک پر ایک شبہ کا اذالہ

'توحید وشرک' میں موضوعات آغاز کردہ از قادری رانا, ‏دسمبر 05، 2015۔

  1. ‏دسمبر 05، 2015 #1
    قادری رانا

    قادری رانا رکن
    شمولیت:
    ‏جون 20، 2014
    پیغامات:
    669
    موصول شکریہ جات:
    54
    تمغے کے پوائنٹ:
    93

    شرک کی تعریف یہ ہے کہ شرک تب ہوگا جب کسی کو اللہ کے سوا واجب الوجود مانا جائے یا مستحق العبادت مانا جائے۔
    یہ معیار الوہیت ہیں۔اس پر اعتراض کرتے ہوئے جناب عمر صدیق اور مبشر ربانی صاحب فرماتے ہیں کہ اس اصول پر تو مکے کے مشرک بھی مشرک نہیں رہتے کیوں کہ وہ بھی اپنے بتوں کو قدیم واجب الوجود نہیں مانتے تھے کیوں اپنے ہاتھ سے جو ان کو بناتے تھے۔
    جواب اس کا یہ ہے کہ تعریف میں لفظ یا ہے۔اسے کا مطلب ہے دونوں یا دونوں میں سے ایک کام بھی پایا جائے تو شرک ثابت ہوگا۔دیکھو ایک آدمی کہے کہ اگر کوئی جماع کرے یا کھانا کھائے تو روزہ ٹوٹ جائے تو اس کا مطلب ہے کہ اگر دونوں میں سے ایک بھی کام کرے گا تو روزہ ٹوٹ جائے گا ایسے ہی اگر کوئی کسی کو واجب وجود مانے اور مستحق العبادت نہ جانے پھر بھی مشرک اور کسی کو واجب الوجود تو نہ مانے مگر مستحق العبادت جانے پھر بھی مشرک اور مشرکین کمہ اپنے بتوں کی عبادت کرتے تھے۔لہذا مشرک تھے۔
     
  2. ‏دسمبر 05، 2015 #2
    ابن قدامہ

    ابن قدامہ مشہور رکن
    جگہ:
    درب التبانة
    شمولیت:
    ‏جنوری 25، 2014
    پیغامات:
    1,772
    موصول شکریہ جات:
    421
    تمغے کے پوائنٹ:
    198

    شرک کی تعریف یہ ہے کہ جو صفات اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ مخصوص ہیں ان صفات کو اسی کیفیت کے ساتھ غیراللہ (مخلوق) کے لئے ثابت کرنایعنی ان صفات میں مخلوق میں سے کسی کو اللہ کے برابر مانناشرک ہے اور اس کامرتکب دائرہ اسلام سے خارج ہے ۔
    شرک کی کئی اقسام ہیں مثلا: شرک فی الذات،،،شرک فی الصفات،،،،شرک فی العبادات،،،،شرک فی الحکم،،،،شرک فی العلم والقدرۃ وغیرہ،
    '''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''
    مجمع الأنهر - (ج 4 / ص 399)
     
    • متفق متفق x 3
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  3. ‏دسمبر 05، 2015 #3
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,357
    موصول شکریہ جات:
    714
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

    شریعت اللہ سے انکار کون کر سکتا هے؟ شرک کو حرام کون قرار دے سکتا هے؟ یہی تو حد فاصل هے اسلام اور کفروشرک کے درمیاں ۔
     
  4. ‏دسمبر 05، 2015 #4
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,764
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    اگر آپ ان کا مکمل جواب نقل کرتے تو یقینا آپ اس زحمت سے بچ جاتے ، اہل حدیث حضرات نے واجب الوجود اور مستحق عبادت دونوں کی وضاحت کر رکھی ہے ، ملاحظہ فرمائیں :

    اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
    {وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ لِيُجَادِلُوكُمْ وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ إِنَّكُمْ لَمُشْرِكُونَ} (الانعام:۱۲۱)
    ''بیشک شیطان اپنے دوستوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے ہیں تاکہ وہ تم سے بحث کریں اور اگر تم نے ان کی اطاعت کی تو تم مشرک ہوجاؤ گے۔'' (ترجمہ از غلام رسول سعیدی صاحب، تبیان القرآن:۳؍۶۳۶)
    (ہـ)جسٹس ریٹائرڈ پیر کرم شاہ ازہری صاحب راقم ہیں:
    ''اس آیت سے معلوم ہوا کہ جو شخص اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال یقین کرتاہے وہ مشرک ہوجاتا ہے۔'' (ضیاء القرآن:۱؍۵۹۷)
    (و) نعیم الدین مراد آبادی صاحب اس آیت کے تحت لکھتے ہیں:
    ''کیونکہ دین میں حکم الٰہی کو چھوڑ دینا اور دوسرے حکم کا ماننا اللہ کے سوا اور کو حاکم قرار دینا شرک ہے۔'' (خزائن العرفان، حاشیہ سورئہ انعام ، آیت :۱۲۱)
    (ز) کوئی مسلمان، شیطان یا اس کے اولیا کو واجب الوجود مانتا ہے، نہ ان کی کسی صفت کو قدیم اور مستقل بالذات مانتا ہے اور نہ ان کو مستحق عبادت قرار دیتا ہے لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ''اگر تم نے ان کی اطاعت کی تو تم مشرک ہوجاؤ گے۔'' (الانعام:۱۲۱)
    تومعلوم ہوا کہ شرک کے پائے جانے یا کسی کے مشرک ہونے کے لیے یہ شرط لگانا غلط ہے اور قرآنِ پاک کے خلاف ہے۔
    مکمل مضمون کے مطالعہ کے لیے :
    امت مسلمہ میں شرک کا وجود
    امت مسلمہ میں وجود شرک پر شبہات کا ازالہ
     
    • پسند پسند x 5
    • متفق متفق x 3
    • لسٹ
  5. ‏دسمبر 06، 2015 #5
    قادری رانا

    قادری رانا رکن
    شمولیت:
    ‏جون 20، 2014
    پیغامات:
    669
    موصول شکریہ جات:
    54
    تمغے کے پوائنٹ:
    93

    یہاں فی الحال صرف اتنا عرض ہے کہ یہاں اطاعت سے مراد کفر و شرک والی اطاعت ہے نہ معصیت والی اس کا تفصیلی جواب جلالی صاحب نے دیا ہے وہ ویڈیو بھی پیسٹ کر دی جاتی ہے۔اگر کوئی اور اشکال ہو تو پیش فرمائے
     
  6. ‏دسمبر 07، 2015 #6
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,764
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    جلالی صاحب وغیرہ شرک کی جو تعریف بیان کرتے ہیں ، اس پر کئی ایک اشکالات ہیں ، آپ نے بھی وہی تعریف کی ہے
    اس پر ہمارے اشکالات نوٹ فرمائیں :
    پہلا اشکال : اس تعریف میں توحید ربوبیت اور توحید أسماء و صفات کو نظر انداز کردیا گیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی ان دو چیزوں کو نظر انداز کرے تو مشرک نہیں ہوگا حالانکہ یہ بات قرآن وسنت کی صریح نصوص کے خلاف ہے ، توحید کی ان دونوں اقسام پر کئی آیات دلالت کرتی ہیں ۔
    دوسر اشکال : اس تعریف کے مطابق تو حضور کے دور کے مشرکین بھی مشرک ثابت نہیں ہوتے حالانکہ قرآن مین جگہ جگہ اللہ نے ان کو مشرک قراردیا ہے ۔ کیونکہ وہ اپنے بتوں کو واجب الوجود یامستحق عبادت نہیں سمجھتے تھے بلکہ وہ تو ان کو اللہ تک پہنچنے کا ذریعہ مانتےتھے
    چنانچہ قرآ ن مجید میں مشرکین کا موقف یوں بیان کیا گیا ہے :
    ما نعبدہم إلا لیقربونا إلی اللہ زلفی
    تیسرا اشکال : اس تعریف پر تیسرا اعتراض یہ وارد ہوتا ہے کہ اس تعریف کے ذریعے یہ بات ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ امت مسلمہ میں شرک پایا ہی نہیں جا سکتا ہے (کیونکہ بقول آپ حضرات کہ کوئی بھی مسلمان غیر اللہ کو واجب الوجود ، مستحق عبادت وغیرہ نہیں سمجھتا )
    اور یہ بات قرآن وحدیث کی ان واضح نصوص کے خلاف ہے جن میں اس امت کے اندر وجود شرک پر واضح دلالت ہے ۔
    مثلا حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے :
    «وإنما أخاف على أمتي الأئمة المضلمين وإذا وضع السيف في أمتي لم يرفع عنها إلىٰ يوم القيامة ولا تقوم الساعة حتى تلحق قبائل من أمتي بالمشركين وحتى يعبدوا الأوثان وانه سيكون في أمتي ثلاثون كذابون كلهم يزعم انه نبي وأنا خاتم النبيين لا نبي بعدي ولا تزال طائفة من أمتي على الحق»
    ''مجھے اپنی امت پر گمراہ کن ائمہ کا خوف ہے اور جب میری امت میں ایک بار تلوار چل پڑی تو قیامت تک اُٹھائی نہیں جائے گی، اور اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہو گی جب تک میری اُمت میں سے قبائل مشرکین کے ساتھ نہ مل جائیں اور یہاں تک کہ وہ بتوں کی عبادت نہ کرنے لگیں اور عنقریب میری اُمت میں تیس کذاب ہوں گے ان میں سے ہر ایک کا یہی گمان ہوگا کہ وہ نبی ہے حالانکہ میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا اور میری اُمت میں سے ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہے گا۔'' ( حوالہ )
     
    • پسند پسند x 4
    • علمی علمی x 2
    • شکریہ شکریہ x 1
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  7. ‏دسمبر 07، 2015 #7
    قادری رانا

    قادری رانا رکن
    شمولیت:
    ‏جون 20، 2014
    پیغامات:
    669
    موصول شکریہ جات:
    54
    تمغے کے پوائنٹ:
    93

    اگر فارم پر سب لوگ فضول باتوں کی بجائے ایسے علمی گفتگو کریں تو ایک تو اصلاح ہو گی دوسر علم میں اضافہ ہوگا ۔اوربحث کرنے کا مزہ بھی
     
    • شکریہ شکریہ x 2
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  8. ‏دسمبر 07، 2015 #8
    قادری رانا

    قادری رانا رکن
    شمولیت:
    ‏جون 20، 2014
    پیغامات:
    669
    موصول شکریہ جات:
    54
    تمغے کے پوائنٹ:
    93

    آپ نے یوں علمی طریقے سے اشکالات کئے خوشی ہوئی اور امید ہے کہ آگے بھی یہی انداز اپنایا جائے گا۔
    حضرت آپ نے کہا کہ مشرکین اپنے بتوں کو مستحق العبادت نہیں مانتے تھے۔جناب اس سلسلہ میں عرض ہے کہ جو آیت آپ نے پیش کی اس میں یہ بات موجود ہے کہ وہ بتوں کی عبادت کرتے تھے ۔اب آپ کے حکیم صادق سیالکوٹی صاحب فرماتے ہیں جن کو ہم اس کی عبادت میں شریک کریں گے۔ان کو گویا ہم خدا کے مقابل اور معبود بنائیں گے،اگرچہ زبان سے ہم ان کے خدا اور معبود ہونے کا اقرار نہ کریں۔(انوارالتوحیدص141)
    ذیل میں مبشر ربانی صاحب کی ویڈیو پیش خدمت ہے جس میں وہ کہتے کہ مشرکین بتوں کو معبود و الہ مان کر انکی عبادت کرتے تھے۔

    جہاں تک صفات کی بات تو اللہ کی تمام صفات ذاتی ہیں اور وہ اپنی صفات میں کسی کا محتاج نہیں۔اور واجب الوجود بھی وہی ہے جو اپنی ذات کو قائم رکھنے میں کسی کا محتاج نہ ہو۔جب اس کی ذات ذاتی ہے تو صفات بھی ذاتی ہیں ۔لہذا کسی میں اگر اللہ کی طرح اللہ کی صفات مانی جائیں تو شرک۔
    جہاں تک آپ کی پیش کردہ حدیث کا تعلق ہے تو اس کی وضاحت مسلم شریف کی دوسری حدیث میں ہے کہ حضرت عائشہ نے اس پر سوال کیا کہ میں وت یہ سمجھی ہوئی تھی کہ یہ دین آخر تک ہے ۔تو رسول اللہ نے فرمایا کہ اللہ جب تک چاہے گا اس کو عروج بخشے گا پھر ایک پاکیزہ ہوا بھیجے گا اور جس میں ارءی کے دانے برابر بھی ایمان ہوگا وہ فوت ہوجائیں گئے اور پیچھے برے لوگ رہ جائے گئے جو اپنے آبا کے دین کی طرف پھر جائیں گئے۔لہذا کوئی تعارض نہیں۔اور مزے کی بات یہ ہے کہ بقول اسماعیل دہلوی صاحب یہ ہوا چل چکی ہے۔
    مزید کوئی اشکال ہو تو وہ اسی طریقہ سے پیش کر کے شکریہ کا موقع دیں۔
     
  9. ‏دسمبر 10، 2015 #9
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,764
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    میری نظر میں آپ نے اشکال نمبر 1 کا بالکل بھی جواب نہیں دیا ، دوسرے کا الزامی جواب دیا ہے ، تیسرے کا جواب گول مول کرگئے ہیں ۔
    گزارش ہے کہ جس طرح اشکال بالکل واضح ہیں ، ان کے سامنے جواب بھی بالکل واضح انداز میں عنایت فرمادیں ۔
     
  10. ‏جنوری 12، 2016 #10
    قادری رانا

    قادری رانا رکن
    شمولیت:
    ‏جون 20، 2014
    پیغامات:
    669
    موصول شکریہ جات:
    54
    تمغے کے پوائنٹ:
    93

    سبحان اللہ جناب دوبارہ کچھ عرض ہے اگر سمجھنے کی کوشش فرمائے
    1۔واجب الوجود کا مطلب ہوتا ہے جس کا وجود ذاتی ہو اور وہ اپنے وجود کے قائم رکھنے میں کسی کا محتاج نہ ہو۔(یہ تعریف مبشر ربانی صاحب نے کی ہے)
    اب اس میں دو باتیں ہیں ایک وجود ذاتی اور ایک صمدیت ۔تو واجب الوجود کی زات کی صفات بھی ذاتی اور کسی کی محتاج نہیں۔لہذا کسی اور میں ایسی صفات ماننا شرک ہے
    2۔دوسری بات کا جواب آپ کے مسلمہ لوگوں سے نقل کیا تھا مگر چلیں اس کے بعد فی الحال عر ض ہے اللہ نے مشرکیں کے عقیدے کو رد کرتے ہوئے بار بار کہا کہ کیا اللہ سوا بھی کوئی الہ ہے(سورت نمل)اس کا صاف مطلب ہے کہ انہوں نے اللہ کے سوا اور معبود بنائے ہوئے تھے۔
    3۔تیسری بات کا جواب گول مول نہیں بہت سیدھا تھا کہ اس حدیث کی تشریح صحیح مسلم کی دوسری حدیث کرتی ہے جو اوپر بیان ہو چکی ۔اور اس پر میں نے آپ پر ایک اعتراض کیا تھا کہ تقویۃ الایمان کے مطابق وہ ہوا چل چکی ہے تو کیا اب سارے لوگ مشرک ہیں بشمول اہلحدیث(المعروف وہابی غیر مقلدین)
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں