1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تعریف شرک پر ایک شبہ کا اذالہ

'توحید وشرک' میں موضوعات آغاز کردہ از قادری رانا, ‏دسمبر 05، 2015۔

  1. ‏جنوری 12، 2016 #11
    خضر حیات

    خضر حیات علمی نگران رکن انتظامیہ
    جگہ:
    طابہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 14، 2011
    پیغامات:
    8,764
    موصول شکریہ جات:
    8,333
    تمغے کے پوائنٹ:
    964

    میں آپ کے تینوں جوابات کو اوپر پیش کردہ تینوں اشکالات کے سامنے رکھتا ہوں ، شاید کسی اور کو ان جوابات کی سمجھ آجائے
    ممکن ہے ، میں آپ کے جوابات مناسب طریقہ سے پیش نہ کرسکا ہوں ، لہذا آپ سے گزارش ہے کہ آپ بنفس نفیس میرے اشکال کا اقتباس لیں ، اور نیچے اس کا واضح جواب دیں ۔
    پھر بات آگے بڑھائیں گے ، إن شاءاللہ ۔
     
  2. ‏جنوری 13، 2016 #12
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    پیارے رانا صاحب پہلے تو یہ بتایا جائے کہ مانا کا لفظ جو تعریف میں آیا ہے وہ مندرجہ ذیل میں سے کون سا ماننا ہے
    1۔دل میں ماننا
    2۔زبان سے ماننا
    3۔عمل سے ماننا

    اگر پہلا کہتے ہیں تو پھر بھی مشرکین مکہ مشرک نہیں ہوتے کیونکہ دلوں کے حال تو اللہ جانتا ہے اور اس پہ ہمارے سامنے اسامہ رضی اللہ عنہ والی حدیث موجود ہے کہ کیا تم نے اسکا دل چیر کر دیکھ لیا تھا
    پس کسی کے دل سے کسی کو مستحق العبادت ماننے یا نہ ماننے کا پتا ہم یا آپ کبھی نہیں چلا سکتے
    پس یا تو اس تعریف میں زبان سے ماننا لکھیں یا عمل سے ماننا لکھیں پھر آگے بات کرتے ہیں
    ویسے یہی بات دوسری طرف الوہیت کا مدار کس پہ ہے اس میں چل رہی ہے شکریہ
     
    • پسند پسند x 5
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
  3. ‏فروری 06، 2016 #13
    قادری رانا

    قادری رانا رکن
    شمولیت:
    ‏جون 20، 2014
    پیغامات:
    669
    موصول شکریہ جات:
    54
    تمغے کے پوائنٹ:
    93

    اب کوئی اور مسئلہ ہو تو وہ بھی عرض کیا جائے
     
  4. ‏فروری 06، 2016 #14
    قادری رانا

    قادری رانا رکن
    شمولیت:
    ‏جون 20، 2014
    پیغامات:
    669
    موصول شکریہ جات:
    54
    تمغے کے پوائنٹ:
    93

    حضرت دل کے اندر عقیدہ ہوتا ہے جس کا اظہار زبان اور عمل سے ہوتا ہے اور مشرکین الہ مانتے تھے جس کا اظہار زبان و عمل دونوں سے ہے عبدہ@ بھائی آپ واپس شروع کریں ہمارا موضوع تاکہ اس کوا ختتام تک پہنچایا جائے
     
  5. ‏فروری 06، 2016 #15
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,357
    موصول شکریہ جات:
    714
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

     
  6. ‏فروری 06، 2016 #16
    قادری رانا

    قادری رانا رکن
    شمولیت:
    ‏جون 20، 2014
    پیغامات:
    669
    موصول شکریہ جات:
    54
    تمغے کے پوائنٹ:
    93

    حضرت ان کو دوبارہ پوسٹ کرنے کا مطلب ؟میں نے اوپر لطائف سنائے ہیں کہ گانے؟جس کے جواب میں دوبارہ پوسٹ کر دیا ہے۔میں جواب دیا ہے ان کا یا تو ان کو تسلیم کیا جائے یا ان کا جواب دیا جائے
     
  7. ‏فروری 06، 2016 #17
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,357
    موصول شکریہ جات:
    714
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

     
  8. ‏فروری 06، 2016 #18
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,357
    موصول شکریہ جات:
    714
    تمغے کے پوائنٹ:
    224

     
  9. ‏فروری 06، 2016 #19
    عبدہ

    عبدہ سینئر رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    لاہور
    شمولیت:
    ‏نومبر 01، 2013
    پیغامات:
    2,038
    موصول شکریہ جات:
    1,160
    تمغے کے پوائنٹ:
    425

    پیارے رانا صاحب آپکا بہت بہت شکریہ کہ مجھے یاد رکھا آپ سے اختلاف اپنی جگہ مگر گفتگو سلجھے انداز میں کرتے ہیں اسی لئے ہم بات کرنے کو تیار رہتے ہیں
    اب آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ آپ کے نزدیک مشرکین مکہ اور عیسائی وغیرہ اپنے بزرگوں وغیرہ کو مستحق العبادت سمجھ کر عبادت کرتے تھے جبکہ ا صحابہ ایک دوسرے سے جب مافوق الاسباب مانگتے تھے تو وہ اس وقت مانگے جانے والی ہستی کو مستحق العبادت نہیں سمجھ رہے ہوتے تھے
    تو اشکال یہ ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ اور صحابہ کو کیسے علم ہوتا تھا کہ کون بزرگوں سے انکو مستحق العبادت سمجھ کر مانگ رہا ہے اور کون اسکے برعکس
    لازمی بات ہے یہ انکے قول سے یا عمل سے پتا چلتا ہو گا پس اسکی مثال قرآن و حدیث سے بتا دیں بہت بہت شکریہ

    نوٹ: یہ مثالیں تو قرآن و حدیث میں بہت زیادہ ہونی چاہیں کیونکہ شرک ہی بنیادی مسئلہ تھا اور اس بنیادی مسئلہ کا انحصار آپ کی تعریف کے مطابق صرف اور صرف اس بات کے معلوم ہونے پہ تھا کہ کون مستحق العبادت سمجھ کر مانگ رہا ہے اور کون نہیں پس پورا زور ہی اسکی پہچان پہ قرآن و حدیث میں ہونا چاہئے پس اسکی مثال بتا دیں
     
    Last edited: ‏فروری 06، 2016
  10. ‏فروری 06، 2016 #20
    قادری رانا

    قادری رانا رکن
    شمولیت:
    ‏جون 20، 2014
    پیغامات:
    669
    موصول شکریہ جات:
    54
    تمغے کے پوائنٹ:
    93

    حضرت جی آپ کے سوال کے جواب سے پہلے ایک سوال ہے کہ اگر ایک ہندو کہے کہ فصل ربیع نے اگائی اور ایک مسلمان کہے کہ فصل ربیع نے اگائی کیا ان دونوں میں کچھ فرق ہوگا یا نہیں؟اگر ہوگا تو کیا؟
    اور اگلی بات ایک ہندو کہے رام نے مردہ کو زندہ کیا اور ایک مسلمان کہے کہ عیسی علیہ السلام نے مردے کو زندہ کیا تو ان میں کیا فرق ہے؟
    اگر ایک ہندو کہے کہ میرے رام کی قمیص شفا دیتی ہےاور ایک مسلمان کہے کہ یوسف علیہ السلام کی قمیص سے یعقوب کی آنکھوں کوشفا ملی ؟ان دونوں میں کیا فرق ہے؟
    ہم مافوق الاسباب مدد کے قائل ہی نہیں توبحث کیسی؟
    اور ہم وسیلہ کو استعانت سے تعبیر کرتے ہیں۔جیسے پانی ہوتا تو سبب ہے مگر نسبت پیاس بھجانے کی اس کی طرف کی جاتی ہے لہذا ہم مانتے وسیلہ ہیں مگر نسبت وسیلہ کیطرف کرتے ہیں۔لیکن حقیقی فاعل اللہ کومانتے ہیں۔(ملاحظہ ہو سفید وسیاہ،الستمداد ازاعلی حضرت،گلشن توحید و رسالت ،عقائد ونظریات )
    عقائد و نظریات اور توضیح البیان میں اس پر تفصیلی بحث ہے کہ ہم وسیلہ کے قائل ہیں اور یہ ہمارا عقیدہ کے کوئی بھی اللہ کے سوا بیٹا نہیں دیتا ۔ہاں بحث وسیلہ کی ہے اس پر اگر بات کر لیتے ہیں۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں