1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تعلیم دو ، ووٹ لو الیکشن 2018 کے تناظر میں سوات میں ہونے والے سیمینار کی حقیقت(ظفر اقبال ظفر)

'تازہ مضامین' میں موضوعات آغاز کردہ از ظفر اقبال, ‏اگست 29، 2018۔

  1. ‏اگست 29، 2018 #1
    ظفر اقبال

    ظفر اقبال رکن
    شمولیت:
    ‏جنوری 22، 2015
    پیغامات:
    238
    موصول شکریہ جات:
    18
    تمغے کے پوائنٹ:
    71

    بدھ 27جون 2018کوسوات میں’’تعلیم دو ، ووٹ لو‘‘کے موضوع پر سمینار
    سوات میں غیر سرکاری تنظیم کی جانب سے '''تعلیم دو ، ووٹ لو'' کے موضوع پر سمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں سینئر صحافی رحیم اللہ یوسف زئی نے بھی شرکت کی۔ سمینار میں سابق اراکین اسمبلی اور موجودہ امیدواروں نے شرکت کی اورتعلیم کے لئے اپنے حلقہ میں کئے جانے والے کاموں کے بارے میں شرکا کو آگاہ کیا۔
    امیدواروں نے تعلیم کی ترقی کے بارے میں اپنا منشور بیان کیا۔ اس موقع پر حاضرین نے امیدواروں سے سوالات کئے جن کے انہوں نے جوابات دیئے۔ سمینار کے شرکا نے اپنے خطاب میں کہا کہ دہشت گردی سے متاثرہ ضلع سوات میں دوسرے مسائل کے ساتھ لڑکیوں کی تعلیم متاثر ہوئی تھی۔ اب آہستہ آہستہ حالات بہتری کی طرف جارہے ہیں۔ لڑکے اور لڑکیاں اب سکول جاتے ہیں، مگر اب بھی کافی مسائل کا شکار ہیں۔
    کچھ ایسا ہی وعدہ 22 فروری 2014 میں پاکستان میں تعلیم کیلئے سرگرم غیر سرکاری تنظیم 'الف اعلان' کے زیرِ اہتمام سندھ کی نو اہم سیاسی جماعتوں کی قیادت نے اپنی سیاسی جماعت کی اسکولوں کی حالت بہتر کرنے کی حکمتِ عملی پیش کرتے ہوئے، سندھ کے بچوں سے وعدہ پر دستخط کئے، جو کہ تمام سیاسی جماعتوں کا سندھ میں تعلیم کی سرپرستی کا میثاق ہے۔
    یہ عہد ایک ایسے وقت ہوا ہے جب سندھ کی تعلیم کی خراب صورتحال خبروں کی زینت بن رہی ہے۔ سپریم کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے کے مطابق، پاکستان کے ہر چار میں سے تین غیرفعال یا ’گھوسٹ اسکول‘ سندھ ہی میں ہیں اور صوبے کی تعلیمی صورتحال سے متعلق اعداد و شمارخراب ترین بتائے جاتے ہیں۔ زیادہ تر سرکاری اسکولوں کی عمارت دگرگوں اور تعلیمی معیار خراب ہے۔
    کچھ ایسا ہی وعدہ 6فروری 2018 کو یونیسکو ملالہ فنڈ کے ذریعے پاکستان میں تعلیم کے شعبے میں ستر لاکھ ڈالر کی رقم فراہم کرے گا جس سے آئندہ پانچ سالوں میں دو دراز علاقوں میں لڑکیوں کے لیے بنیادی و ثانوی تعلیم کی سہولتوں کے فروغ، خواتین اساتذہ کو ملازمت کے مواقع اور اساتذہ کی تربیت سمیت کئی اقدامات کیے جائیں گے۔جس میں سےایک پاکستان میں تعلیم کے فروغ کے لیے امریکہ بھی اعانت فراہم کرتا آرہا ہے جس میں قابل ذکر امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کے تحت پاکستان میں تقریباً ساڑھے سات کروڑ ڈالر مالیت کے ٹیچر ٹریننگ اور ڈگری پروگرام ، اساتذہ کی میرٹ پر تقرری ، اساتذہ کا تربیتی پروگرام،فیسوں کی واپسی ، سکولوں و کالجوں کی تعداد میں اضافہ اور اپ گریڈیشن ،سائنس و کمپیو ٹر لیبارٹریوں کی تعدا د میں اضافہ،تعلیم کے مختلف شعبہ جات جیسے ٹیکنکل تعلیم ،ا نجینئرنگ کی تعلیم ،ڈاکٹری تعلیم اور ادبی مقابلہ جات
    کے دعوےقابل ذکر ہیں ۔
    الیکشن2018 اور اسکولوں میں پانی کی فراہمی
    اس دفعہ عام انتخابات جولائی کے گرم مہینے میں ہو رہے ہیں اور آج بھی ملک میں ایسے کئی سکول موجود ہیں جن میں پینے کے پانی سہولت ہی دستیاب نہیں اور ان میں سے کئی اسکولوں میں پولنگ سٹیشن بھی بنیں گے۔ اگرچہ اس وقت ملک کےاکثرعلاقوں میں گرمیوں کی چھٹیاں چل رہی ہیں لیکن عام انتخابات کے بعد بچے جب سرکاری اسکولوں میں واپس جائیں گے تو ان کو وہی سہولیات سے محروم اسکول اور سیکھنے کا نامناسب ماحول ملے گا جو وہ دو ماہ پہلے چھوڑ گئے تھے۔ میرے خیال میں سیاسی اُمیدواروں کی انتخابی مہم کے ذریعے اس مسئلے کو حل کیا جاسکتا ہے ۔
    آج عوام سے ووٹ مانگنے والے سیاست دان انہی سرکاری اسکولوں میں بننے والی پولنگ اسٹیشنز سے منتخب ہوکر عالیشان عمارتوں والی قومی و صوبائی اسمبلیوں میں پہنچ جائیں گے۔سب سے زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ یہ نمائندے اسمبلیوں میں پہنچ کر ان اسکولوں کی بہتری کیلئےعملی اقدامات نہیں کرتے۔ جو اسکول پولنگ سٹیشن بنائے جاتے ہیں صرف ان کی مرمت و تزئین و آرائش کی جاتی ہے اورالیکشن کے وقت سجایا جاتا ہے جس کے بعد کوئی بھی ان پر توجہ نہیں دیتا، نہ سیاست دان اور نہ ہی محکمہِ تعلیم۔
    حب میں جلسہ تعلیم کا انعقاد،قومی و صوبائی اسمبلی پر نامزد امیدواروں کی شرکت
    3جولائی2018 کو
    حب میں جلسہ تعلیم کا انعقاد،قومی و صوبائی اسمبلی پر نامزد امیدواروں کی شرکت۔ تقریب سے متحدہ مجلس عمل کے رہنما شاہ محمد صدیقی نے خطاب کرتے ہوئے کہ کہ فروغ تعلیم کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی خاص کر مخلوط نظام تعلیم رائج کیاجائے گا تاکہ لڑکیوں کو حصول تعلیم میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑئے انہوں نے کہا کہ ہمارا تعلیمی منشور اسلامی نظام تعلیم ہے جہاں دینی تعلیم لازمی ہے۔ تقریب سے بلوچستان نیشل پارٹی کے رہنما عاصم رونجھو نے خطاب کرتے ہوئے کہ کہ بی این پی ہمیشہ فروغ تعلیم کے لیے کوشاں ہے سردار اختر جان نے ہمیشہ اعلی تعلیم کے فروغ کے لیے کوشش کی ہے جس کی تازہ مثال وڈھ میں لس بیلہ یونیورسٹی کے لیے مفت زمین کی فراہمی ہے،انہو ں نے مزید بتایا کہ میرٹ کا فروغ ہماری پہلی ترجیع ہوگی ،تقریب سے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عامر حسین مگسی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ عمران خان نے خیبر پختنواہ میں بہتر تعلیمی ماحول کا فروغ عمل میں لایا ہے انہوں نے کہاکہ کامیابی کی صورت میں ہم لسبیلہ کے اندر تعلیمی حوالے سے نئے لسبیلہ کی بنیاد رکھیں گے اور لسبیلہ میں اساتذہ کی ٹریننگ،سائنس و ریاضی کی تعلیم و دیگر سہولیات کی فراہمی کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔
     
  2. ‏نومبر 16، 2018 #2
    سید عزیز کاظمی

    سید عزیز کاظمی مبتدی
    شمولیت:
    ‏نومبر 16، 2018
    پیغامات:
    1
    موصول شکریہ جات:
    0
    تمغے کے پوائنٹ:
    3

    حکومت پاکستان ملک بھر میں بچیوں کی بچوں کے ساتھ مخلوط تعلیم کا فوری خاتمہ کرے. بازاروں, دفاتر اور تعلیمی اداروں میں عورت کی حرمت کو یقینی بنایا جاے
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں