1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تعویذ لٹکانے والوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بددعاء :

'سحر و جادو' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد عامر یونس, ‏نومبر 13، 2015۔

  1. ‏نومبر 13، 2015 #1
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,961
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

  2. ‏اپریل 11، 2016 #2
    محمد عامر یونس

    محمد عامر یونس خاص رکن
    جگہ:
    karachi
    شمولیت:
    ‏اگست 11، 2013
    پیغامات:
    16,961
    موصول شکریہ جات:
    6,506
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,069

    12993475_967848909950045_77382991671342709_n.jpg

    بسم اللہ الرحمن الرحیم


    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ !

    تميمة (تعویذ ، گنڈے ، دھاگہ ، چمڑے کے ٹکڑے)

    دس افراد کا قافلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نو (9) افراد سے بیعت لی اور ایک کو چھوڑ دیا ، لوگوں نے عرض کی کہ اس کا کیا معاملہ ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے بازو میں تميمة ہے ، اس آدمی نے اِس کو کاٹ دیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بیعت لے کر فرمایا کہ جس نے یہ پہنا ، یا ، لٹکایا ، اس نے شرک کیا

    -----------------------------------------------------------

    (غاية المرام للألباني:294، ،الترغيب والترهيب :4/239، ،
    صحيح الترغيب :3455 ، ، السلسلة الصحيحة :1/889 ، ،
    مجمع الزوائد :5/106 ، ، مسند أحمد: مسند العشرة المبشرين بالجنة : مسند الشاميين : حديث عقبة بن عامر الجهني عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم :17091)
    عربی زبان میں التمیمة کے معنی اس دھاگے، تار ، یا گنڈے کے ہیں، جسے گلے یا جسم کے کسی اور حصے میں باندھا جائے۔

    اصطلاح میں تمیمة کسے کہتے ہیں اس سلسلے میں حافظ ابن حجر اور ابن الأثیر الجزری وغیرہ اہل علم کی تعریفات کا خلاصہ یہ ہے کہ اس سے مراد وہ دھاگے، گنڈے اور تیر کے تانت ہیں جنھیں اہل عرب جاہلیت میں انسانوں خود ، جانوروں یا گھروں وغیرہ پر کسی متوقع یا بالفعل واقع شر مثلا، مرض، نظربد، بخار ، جادو، ٹونے اور ٹوٹکے یا دیگر آفات ومصائب وغیرہ سے حفاظت کی خاطر لٹکایا باندھا کرتے تھے ، جسے اسلام نے حرام قرار دیا ہے۔

    (فتح الباری،10/166، والنھایة، 1/198)۔
    قرآنی تعویذ پہننا یا اس کا کوئی طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں اور نہ ہی اس کی صحابہ کرام کو کبھی تعلیم فرمائی ،، دم کرنا کرانا جائز ہے کہ وہ احادیث سے ثابت ہے
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں