1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر ابن عبّاس کی سند کے بارے میں کچھ علم درکار ہے

'نماز باجماعت' میں موضوعات آغاز کردہ از danish ghaffar, ‏دسمبر 20، 2017۔

  1. ‏دسمبر 20، 2017 #1
    danish ghaffar

    danish ghaffar رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 30، 2017
    پیغامات:
    93
    موصول شکریہ جات:
    15
    تمغے کے پوائنٹ:
    52

    السلام علیکم
    محترم قارئین
    اسحاق سلفی
    خضر حیات
     
  2. ‏دسمبر 20، 2017 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !
    ـــــــــــــــــــــــــــ

    تفسیر ابن عباس کی تحقیق


    "تنویر المقباس فی تفسیر ابن عباس " کے نام سے مشہور تفسیر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ثابت نہیں ہے
    بلکہ یہ محمد بن مروان السدی اور کلبی کی من گھڑت تفسیر ہے جسے انہوں نے کذب بیانی کرتے ہوئے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منسوب کردیا ہے۔ اس تفسیر کے شروع میں اس کی جو سند لکھی ہوئی ہے، وہ کچھ یوں ہے:
    "(أخبرنا) عبد الثقة ابن المأمور الھروي قال أخبرنا أبي قال أخبرنا أ بو عبد اللہ قال أخبرنا أبو عبید اللہ محمود بن محمد الرازي قال أخبرنا عمار ابن عبد المجید الھروي قال أخبرنا علي بن إسحاق السمرقندي عن محمد ابن مروان عن الکلبي عن أبي صالح عن ابن عباس۔۔۔۔۔"
    (تنویر المقباس ص۲)

    موضوع (من گھڑت): تفسیر ابن عباس نامی کتاب ثابت نہیں بلکہ موضوع اور من گھڑت ہے، کیونکہ:
    ۱:اس کا پہلا راوی ابو صالح باذام ہے، جسے جمہور محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔
    ٭امام بخاری نے اسے کتاب الضعفاء میں ذکر کیا۔ (تحفۃ الاقویاء ص۲۱)
    ٭ابو حاتم الرازی نے کہا: یکتب حدیثه ولا یحتج به (الجرح والتعدیل: ۴۳۲/۲)
    ٭امام نسائی نے کہا: "ضعیف کوفي" (الضعفاء والمتروکین: ۷۲)
    ٭حافظ ذہبی نے فرمایا: "ضعیف الحدیث" وہ حدیث میں ضعیف ہے۔ (دیوان الضعفاء: ۵۴۴)
    ٭حافظ ابن حجر العسقلانی نے فرمایا: "ضعیف یرسل" (تقریب التہذیب: ۶۳۴)
    ٭امام ابن حبان نے فرمایا: "یحدث عن ابن عباس ولم یسمع منه" وہ ابن عباس (رضی اللہ عنہ) سے حدیثیں بیان کرتا تھا، اور ان سے سنا نہیں تھا۔ (کتاب المجروحین لابن حبان: ۱۸۵/۱)
    یعنی یہ سند منقطع ہے۔
    ٭بعض علماء نے باذام مذکور کی توثیق کر رکھی ہے مگر جمہور محدثین کی جرح کے مقابلے میں یہ توثیق مردود ہے۔

    ۲: اس کا دوسرا راوی محمد بن السائب الکلبی "کذاب " و "متروک"ہے:
    ٭سلیمان التیمی نے کہا: "کان بالکوفة کذابان أحدھما الکلبي" کوفی میں دو کذاب تھے، ان میں سے ایک کلبی ہے۔ (الجرح والتعدیل: ۲۷۰/۷ وسندہ صحیح)
    ٭قرہ بن خالد نے کہا: "لوگ یہ سمجھتے تھے کہ کلبی جھوٹ بولتا ہے۔" (الجرح والتعدیل: ۲۷۰/۷ وسندہ صحیح)
    ٭سفیان ثوری نے کہا: "ہمیں کلبی نے بتایا کہ تجھے جو بھی میری سند سے عن ابی صالح عن ابن عباس بیان کیا جائے تو وہ جھوٹ ہے اسے روایت نہ کرنا" (الجرح والتعدیل: ۲۷۱/۷ وسندہ صحیح)
    ٭یزید بن ربیع نے کہا: "کلبی سبائی تھا" (الکامل لابن عدي: ۲۱۲۸/۵وسندہ صحیح)
    ٭محمد بن مہران نے کہا: "کلبی کی تفسیر باطل ہے" (الجرح والتعدیل: ۲۷۱/۷ وسندہ صحیح)
    ٭جوزجانی نے کہا: "کذاب ساقط" (احوال الرجال: ۳۷)
    ٭یحییٰ بن معین نے کہا: لیس بشئي، کلبي کچھ چیز نہیں ہے۔ (تاریخ ابن معین، روایۃ الدوری: ۱۳۴۴)
    ٭ابو حاتم الرازی نے کہا: "اس کی حدیث کے متروک ہونے پر لوگوں کا اجماع ہے۔ اس کے ساتھ وقت ضائع نہ کیاجائے وہ حدیث میں گیا گزرا ہے۔ " (الجرح والتعدیل: ۲۷۱/۷)
    ٭حافظ ابن حجر نے کہا: "المفسر متھم بالکذب ورمي بالرفض" (تقریب التہذیب: ۵۹۰۱)
    ٭حافظ ذہبی نے کہا: "ترکوہ" یعنی (محدثین نے) اسے ترک کردیا ہے۔ (المغنی فی الضعفاء: ۵۵۴۵)

    ۳: اس کا تیسرا راوی محمد بن مروان السدی الکوفی ہے،جو السدی الصغیر یا السدی الصغر کے لقب سے معروف ہے، اس کے بارے میں:
    ٭ امام ابن نمیر نے کہا:" کذاب ہے" (الضعفاء الکبیر للعقیلی: ۱۳۶/۴)
    ٭امام بخاری نے کہا: سکتواعنه یہ متروک ہے (التاریخ الکبیر: ۲۳۲/۱)؛ مزید لکھتے ہیں: "لایکتب حدیثه البتة، اس کی حدیث بالکل لکھی نہیں جاتی" (الضعفاء الصغیر: ۳۵۰)
    ٭یحییٰ بن معین نے کہا: "لیس بثقه" وہ ثقہ نہیں ہے۔ (الجرح والتعدیل: ج۸ص۸۶وسندہ صحیح)
    ٭ابو حاتم رازی نے کہا: "وہ حدیث میں گیا گزرا ہے، متروک ہے، اس کی حدیث بالکل نہیں لکھی جاتی" (الجرح والتعدیل: ۸۶/۸)
    ٭امام نسائی نے کہا: "یروي عن الکلبي، متروک الحدیث" وہ کلبی سے روایت کرتا ہے، حدیث میں متروک ہے۔ (الضعفاء والمتروکون: ۵۳۸)
    ٭یعقوب بن سفیان الفارسی نے کہا: "وھو ضعیف غیر ثقه" (المعرفۃ والتاریخ: ۱۸۶/۳)
    ٭امام ابن حبان نے کہا: "یہ ثقہ راویوں سے موضوع روایتیں بیان کرتا تھا، پرکھ کے بغیر اس کی روایت لکھنا حلال نہیں ہے۔ کسی حال میں بھی اس سے حجت پکڑنا جائز نہیں ہے۔" (المجروحین: ۲۸۶/۲)
    ٭حافظ ہیثمی نے کہا: "وھو متروک" (مجمع الزوائد: ۹۹/۸)؛ مزید لکھتے ہیں: "أجمعوا علی ضعفه" اس کے ضعیف ہونے پر اجماع ہے۔ (مجمع الزوائد: ۲۱۴/۱)
    ٭حافظ ذہبی نے کہا: "کوفي متروک متھم" (دیوان الضعفاء: ۳۹۶۹)
    ٭حافظ ابن حجر نے کہا: "متھم بالکذب" (تقریب التہذیب: ۶۲۸۴)

    ۴:عمار بن عبد المجید الہروی کی توثیق نامعلوم ہے۔
    ۵: ابو عبید اللہ محمود بن محمد الرازی کی توثیق مطلوب ہے۔
    ۶:ابو عبد اللہ کون تھا؟ تعین و توثیق مطلوب ہے۔
    ۷:المأمور الہروی کون تھا؟ تعین وتوثیق مطلوب ہے۔
    ۸: عبد اللہ الثقہ کون تھا؟ اسماء الرجال کی کتابوں سے تعارف مطلوب ہے۔

    فائدہ:
    ٭ ٭ احمد رضاخان صاحب نے ایک سوال کاجواب دیتے ہوئے لکھا ہے: "یہ تفسیر کہ منسوب بسیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما ہے نہ اُن کی کتاب ہے نہ اُن سے ثابت، یہ بسند محمد بن مروان عن الکلبی عن ابی صالح مروی ہے اور ائمہ دین اس سند کو فرماتے ہیں کہ یہ سلسلۂ کذب ہے۔۔۔۔۔" (فتاویٰ رضویہ ج۲۹ص۳۹۶)
    ٭ ٭جسٹس تقی عثمانی، قرآنی علوم پر مبنی اپنی معروف کتاب "علوم القرآن" کے صفحہ نمبر ۴۵۸ پر "مروجہ تفسیر ابن عباس (رض) کی حیثیت" کے زیر عنوان لکھتے ہیں: "ہمارے زمانے میں ایک کتاب"تنویر المقباس فی تفسیر ابن عباس" کے نام سے شائع ہوئی ہے جسے آج کل عموماً "تفسیر ابن عباس" کہا اور سمجھا جاتا ہے، لیکن حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف اس کی نسبت درست نہیں کیونکہ یہ کتاب۔۔۔۔
    ٭ محمد بن مروان السدی عن محمد بن السائب الکلبی عن ابی صالح عن ابن عباس
    کی سند سے مروی ہے جسے محدثین نے "سلسلۃ الکذب (جھوٹ کا سلسلہ)" قرار دیا ہے لہٰذا اس پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔”
    ٭ امام احمد بن حنبل نے فرمایا کہ کلبی کی تفسیر اول سے لے کر آخر تک سب جھوٹ ہے اس کو پڑھنا بھی جائز نہیں ہے۔ (ازالۃ الریب ص۳۱۶،۳۱۷ بحوالہ تذکرۃ الموضوعات: ص۸۲)
    ٭علامہ محمد طاہر الحنفی لکھتے ہیں کہ کمزور ترین روایت فن تفسیر میں کلبی عن ابی صالح عن ابن عباس ہے اور ۔ ۔ ۔ ۔ (ازالۃ الریب ص۳۱۶،۳۱۷ بحوالہ تذکرۃ الموضوعات: ص۸۲واتقان ج۲ص۱۸۹)
    ٭امام بیہقی نے تفسیر ابن عباس (تنویر المقباس ص۱۳۰) سے ایک آیت کی تفسیر نقل کرکے فرمایا: "پس یہ روایت منکر ہے۔" (الاسماء والصفات ص۴۱۳، دوسرا نسخہ ص۵۲۱)
    ٭امام مروان بن محمد نے فرمایا: "کلبی کی تفسیر باطل ہے" (الجرح التعدیل: ۲۷۱/۷، وسندہ صحیح)
    (مضمون کا لنک )
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
    • علمی علمی x 4
    • متفق متفق x 1
    • لسٹ
  3. ‏دسمبر 20، 2017 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    تفسیر ابن عباس (رض) کی حقیقت اور علماء دیوبند و بریلوی کا نقطہ نظر


    عربی تفسیر ابن عباس

    کا اصل نام
    "تنویر المقباس" ہے ۔
    واضح رہے کہ یہ تفسیر حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی خود کی تحریر کردہ نہیں ہے جیسا کہ عموماً تاثر دیا جاتا ہے۔
    بلکہ یہ تفسیر
    جمعه ابو طاہر محمد بن يعقوب الفيروز آبادى الشافعی (المتوفى : 817 ھ) کی تصنیف ہے۔ اور انہوں نے اس تفسیر کو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے منسوب کیا ہے۔

    جسٹس تقی عثمانی ، قرآنی علوم پر مبنی اپنی معروف کتاب "علوم القرآن" کے صفحہ نمبر 458 پر "مروجہ تفسیر ابن عباس (رض) کی حیثیت" کے زیر عنوان لکھتے ہیں :
    اقتباس:
    ہمارے زمانے میں ایک کتاب " تنویر المقباس فی تفسير ابن عباس" کے نام سے شائع ہوئی ہے جسے آج کل عموماً "تفسیر ابن عباس" کہا اور سمجھا جاتا ہے ، لیکن حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف اس کی نسبت درست نہیں کیونکہ یہ کتاب ۔۔۔
    محمد بن مروان السدی عن محمد بن السائب الکلبی عن ابی صالح عن ابن عباس
    کی سند سے مروی ہے جسے محدثین نے "سلسلۃ الکذب (جھوٹ کا سلسلہ)" قرار دیا ہے لہذا اس پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
    امت مسلمہ نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو "ترجمان القرآن" کا لقب دیا ہے۔ آپ کی فضیلت میں بیان ہوئی صحیح بخاری کی ایک حدیث یوں ہے :
    حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
    مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینے سے لگایا اور فرمایا :
    اے اللہ ! اسے حکمت کا علم عطا فرما !

    صحيح بخاري ، كتاب فضائل الصحابة ، باب : ذكر ابن عباس رضى الله عنهما ، حدیث : 3801

    کئی برحق وجوہات کی بنا پر حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو "امام المفسرین" بھی کہا جاتا ہے۔ تفسیر القرآن کے معاملے میں سب سے زیادہ روایات آپ ہی سے مروی ہیں۔
    البتہ ان سے جو روایات مروی ہیں ، ان کا ایک بڑا حصہ ضعیف بھی ہے لہذا اُن کی روایات سے استفادہ کی خاطر انہیں اصولِ حدیث کی شرائط پر جانچنا بہت ضروری ہے۔


    "تنویر المقباس فی تفسير ابن عباس" کے صفحۂ اول پر درج ہے کہ یہ مکمل تفسیر ذیل کی سند سے مروی ہے :

    محمد بن مروان السدی عن محمد بن السائب الکلبی عن ابی صالح عن ابن عباس

    ڈاکٹر محمد حسين الذهبي اپنی کتاب "التفسیر والمفسرون" ، جلد اول ، باب نمبر 56 کے تحت لکھتے ہیں :
    امام شافعی کا قول ہے کہ اس سند (مروان عن کلبی عن ابی صالح عن ابن عباس) سے یہ تفسیر ، ابن عباس کی جانب ثابت نہیں ہے۔


    امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ اپنی معروف کتاب "الاتقان" ، جلد دوم ، صفحہ نمبر 189 پر لکھتے ہیں :
    محمد بن مروان اگر اس سند (عن کلبی عن ابی صالح عن ابن عباس) سے روایت کرے تو یہ پوری سند "سلسلۃ الکذب (جھوٹ کا سلسلہ)" کہلاتی ہے۔


    واضح رہے کہ "سلسلۃ الکذب (جھوٹ کا سلسلہ)" کی ترکیب ، محدثین کے نزدیک "
    سلسلة الذهب (سونے کا سلسلہ / سونے کی زنجیر)" کے مقابلے میں تخلیق کی گئی ہے۔
    " سلسلة الذهب (سونے کی زنجیر)" کی سند یوں ہے :
    الشافعي عن مالك عن نافع عن ابن عمر

    امام شوکانی رحمۃ اللہ علیہ اپنی مشہور کتاب " الفوائد المجموعة " ( صفحہ:316) پر لکھتے ہیں :
    اس تفسیر (تفسیر ابن عباس) کے راوی "الکلبی" ، "السدی" اور "مقاتل" جھوٹے راویان ہیں۔ اور ابن تیمیہ (رحمۃ اللہ) سے بھی یہی بات معروف ہے۔


    امام ابو حاتم رحمۃ اللہ اپنی کتاب "الجرح و التعدیل" ، جلد اول ، صفحہ 36 پر لکھتے ہیں :
    سفیان ثوری رحمۃ اللہ نے کہا کہ محمد بن السائب الکلبی اگر اس سند عن ابی صالح عن ابن عباس سے روایت کرے تو حدیث نہیں لی جائے گی کہ یہ سند جھوٹی ہے۔

    دیوبندی وبریلوی حضرات بعض مسائل میں بڑے فخرسے ابن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب مذکورہ تفسیر کاحوالہ دیتے ہیں،کوئی رفع الیدین کے مسئلہ میں اس کا حوالہ دیتاہے تو کوئی نوروبشرپربحث کرتے ہوئے اس کانام لیتاہے حالانکہ یہ تفسیر دونوں مکتب فکرکے اکابر کی تحقیق کی روشنی میں غیرمستند ہے،دیوبندی مکتب فکرکاحوالہ توآپ نے اوپرپڑھ لیا-

    اب بریلوی مکتب فکرکا حوالہ بھی ملاحظہ فرمائیے:
    بریلویت کے بانی امام احمد رضاصاحب کی تحقیق کی روسے بھی عبداللہ بن عباس رضی اللہ کی طرف منسوب مذکورہ تفسیرکی سند غیرمعتبر ہے

    کیونکہ اس سند میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے اس تفسیرکاناقل جسے بتلایاگیاہے وہ ''ابوصالح ''ہے اور''ابوصالح '' کانام ''باذام'' ہے ،اورامام احمد رضا صاحب اس ''باذام'' کی مرویات کوضعیف قراردیتے ہیں ،چنانچہ سنن اربعہ کی وہ روایت جس میں قبروں پرچراغ جلانے والوں پرلعنت کی گئی ہے،اسے امام احمد رضاصاحب نے صرف اس لئے ضعیف قراردے کرردکردیا کہ اس کی سند میں ''باذام'' راوی ضعیف ہے،واضح رہے کہ سنن اربعہ میں بھی یہ راوی اپنے نام''باذام '' کے ساتھ نہیں بلکہ اپنی کنیت ''ابوصالح''ہی کے ساتھ مذکورہے،سب سے پہلے یہ روایت سنن أربعہ سے مع سند متن ملاحظہ ہو:
    امام أبوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    اقتباس:

    حدثنا محمد بن ثیر خبرنا شعب عن محمد بن جحاد قال سمعت أبا صالح یحدث عن ابن عباس قال : لعن رسول اللہ صل اللہ علیہ و سلم زائرات القبور والمتخذین علیہا المساجد والسرج . (سنن بی داود :ـکتاب الجنائز :باب فی زیارة النساء القبور،حدیث نمبر 3236 )
    امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    اقتباس:
    حدثنا قتیب حدثنا عبد الوارث بن سعید عن محمد بن جحاد عن أبی صالح عن ابن عباس قال : لعن رسول اللہ صل اللہ علیہ و سلم زائرات القبور والمتخذین علیہا المساجد والسرج (سنن الترمذی:ـأبواب الصلوٰة:باب ما جا فی کراہییة أن یتخذ عل القبر مسجدا،حدیث نمبر 320)
    امام نسائی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    اقتباس:
    اخبرنا قتیب قال حدثنا عبد الوارث بن سعید عن محمد بن جحاد عن آبی صالح عن بن عباس قال : لعن رسول اللہ صل اللہ علیہ و سلم زائرات القبور والمتخذین علیہا المساجد والسرج (سنن النسائی :ـکتاب الجنائز: التغلیظ فی اتخاذ السرج عل القبور،حدیث نمبر2043)
    امام ابن ماجہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
    اقتباس:
    حدثنا زہر بن مروان حدثنا عبد الوارث حدثنا محمد بن جحاد عنا أ بی صالح عن ابن عباس :قال لعن رسول اللہ صل اللہ علیہ و سلم زوارات القبور(سنن ابن ماجہ :ـکتاب الجنائز: باب ما جا فی النہی عن زیار النسا القبور ،حدیث نمبر1575)
    تنبیہ :ابن ماجہ کی روایت مختصرہے۔
    قارئین ملاحظہ فرمائیں کہ مذکورہ حدیث سنن أربعہ کی ہے اورسب کی سند میں ''أبوصالح (باذام)'' موجودہے ،اب اس حدیث کے سلسلے میں امام احمد رضا صاحب کی تحقیق ملاحظہ فرمائیے:
    کسی زید نامی شخص کے حوالے سے امام احمد رضا صاحب کے سامنے ایک سوال پیش ہو اجس میں یہ الفاظ بھی تھے:
    اقتباس:

    ''میں بقسم شرعیہ اس کو باور کراتا ہوں کہ میں نے کوشش کی کہ چراغانِ قبور کا کسی تاویل سے استحسان ثابت ہو جائے تومیں رسم قدیم کی مخالفت نہ کروں، چنانچہ فتاوی عالمگیری کو دیکھا اس میں نکلا کہاخراج الشموع الی المقابر بدع لااصل لہ ( مزارات پر چراغان کرنا بدعت ہے اس کی کوئی اصل نہیں ۔ت) اسی طرح فتاوی بزازیہ میں ہے۔ درمختار میں بھی یہی نکلا۔ پھر میں نے حدیث شریف کو دیکھا۔ مشکو شریف میرے پاس تھی اس میں یہ حدیث نکلی :لعن رسول اللہ زائرات القبوروالمتخذین علیھا المساجد والسرج ۔ رواہ الترمذی والنسائی۔لعنت کی رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے زائرات قبور پر اورجو پکڑیں قبروں پر مسجدیں ( یعنی قبروں کی طرف سجدہ کریں) اور قبروں پر چراغ روشن کریں۔ اسے ترمذی اور نسائی نے روایت کیا''(منقول بذریعہ یونی کوڈ کنورٹرازفتاوی رضویہ سوفٹ ویر جلد٩ص111)
    اس سوال میں زید کی طرف سے جوحدیث پیش کی گئی اس پرغضب ناکی کا اظہار کرتے ہوئے احمد رضاصاحب فرماتے ہیں:
    اقتباس:
    حدیث مذکور کو زید نے بالجزم رسول خدا کا ارشاد بتایا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۔ یہ سخت بیباکی وجرت ہے ۔ وہ حدیث صحیح نہیں ۔ ا س کی سند کا مدار ابوصالح باذام پر ہے ۔ باذام کو ائمہ فن نے ضعیف بتایا۔ تقریب امام ابن حجر عسقلانی میں ہے:باذام بالذال المعجم ویقال اخرہ نون ابوصالح مولی ام ھانی ضعیف مدلس ۔باذام ذال معجمہ سے اور کہا جا تا ہے کہ اخرمیں نون یعنی باذان ابوصالح ام ہانی کا آزاد کردہ غلام ضعیف تدلیس کرنے ولا ہے۔ یہیں سے ظاہر ہو ا کہ یہ حدیث قابلِ احتجاج نہیں''
    (
    منقول بذریعہ یونی کوڈ کنورٹرازفتاوی رضویہ سوفٹ ویر جلد٩ص118)
    نیزیہی امام صاحب ایک اورمقام پرلکھتے ہیں:
    اقتباس:
    ''یہ اس تقدیر پرہے کہ حدیث مذکورکی صحت مان لی جائے ،والاففیہ باذام ضعیف وان حسنہ الترمذی فقدعرف رحمہ اللہ تعالی بالتساہل فیہ کمابینناہ فی مدارج طبقات الحدیث''(احکام شریعت:حصہ اول ص٦٩،مطبوعہ قادری کتاب گھر بریلی)
    قارئین غورکریں کہ امام احمد رضا صاحب نے جس راوی ''أبوصالح باذام ''کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بھی بیان کردہ حدیث کوناقابل احتجاج قراردیاہے اورامام ترمذی کی تحسین کوبھی رد کردیاہے،ٹھیک وہی راوی مذکورہ تفسیرکی سند میں بھی موجود ہے،لہٰذا اس سند سے آنے والی مذکورہ تفسیربھی امام احمد رضاکے اصول کے مطابق ناقابل احتجاج ہے۔نیزجس طرح امام احمد رضاکے بقول أبوصالح کے طریق سے آنے والی حدیث کوبیان کرنا سخت بیباکی وجرت ہے اسی طرح اس راوی کی طریق سے آنے والی تفسیرکوبھی بیان کرنا سخت بیباکی وجرت ہے ۔
    لہٰذابریلوی حضرات کوچاہئے کہ اپنے امام کی تحقیق کی قدرکریں اوریہ کہناچھوڑدیں کہ قرآنی آیت:
    (
    قَدْ جَاء َکُمْ مِنَ اللَّہِ نُور وَکِتَاب مُبِین ) (المائدة: 15)کی تفسیرمیں میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے نورسے مراد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوبتلایاہے۔

    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
    مضمون کا لنک
     
    Last edited: ‏دسمبر 20، 2017
    • پسند پسند x 2
    • متفق متفق x 1
    • علمی علمی x 1
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  4. ‏دسمبر 20، 2017 #4
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791


    الكتاب المنسوب إلى ابن عباس رضي الله عنهما في التفسير موضوع عليه


    السؤال :
    هل كتب الصحابي عبد الله بن عباس تفسير ابن عباس ؟ وهل حادثة " الغرانيق" المذكورة في فتح الباري ثابتة ؟

    --------------------------------
    الجواب :
    الحمد لله
    أولا :
    هذا الكتاب الذي يعرف بـ "تفسير ابن عباس" كتاب مختلق موضوع ، لا تصح نسبته إلى ابن عباس رضي الله عنهما ، ولا يعرف عن ابن عباس أنه ألف كتابا لا في التفسير ولا غيره .
    قال شيخ الإسلام ابن تيمية رحمه الله :
    " وموسى بن عبد الرحمن هذا – وهو الثقفي الصنعاني - من الكذابين ، قال أبو أحمد بن عدي فيه : منكر الحديث ، وقال أبو حاتم ابن حبان : دجال يضع الحديث ، وضع على ابن جريج عن عطاء عن ابن عباس كتابا في التفسير ، جمعه من كلام الكلبي ومقاتل " .
    انتهى من "مجموع الفتاوى" (1 /259) .

    وقال السيوطي رحمه الله :
    " وأوهى طرقه – يعني طرق التفسير عن ابن عباس - طريق الكلبي عن أبي صالح عن ابن عباس ، فإن انضم إلى ذلك رواية محمد بن مروان السدي الصغير فهي سلسلة الكذب " انتهى من "الإتقان في علوم القرآن" (2 /497-498) .

    وقال الشيخ محمد حسين الذهبي رحمه الله :
    " وقد نُسب إلى ابن عباس رضي الله عنه جزء كبير فى التفسير، وطُبع فى مصر مراراً باسم "تنوير المقياس من تفسير ابن عباس" ، جمعه أبو طاهر محمد بن يعقوب الفيروز آبادى الشافعى ، صاحب القاموس المحيط ، وقد اطلعتُ على هذا التفسير ، فوجدتُ جامعه يسوق عند الكلام عن البسملة الرواية عن ابن عباس بهذا السند : "أخبرنا عبد الله الثقة بن المأمون الهروى، قال: أخبرنا أبى ، قال: أخبرنا أبو عبد الله محمود بن محمد الرازى ، قال: أخبرنا عمار بن عبد المجيد الهروى ، قال: أخبرنا على بن إسحاق السمرقندى ، عن محمد بن مروان ، عن الكلبى ، عن أبى صالح ، عن ابن عباس .
    وعند تفسير أول سورة البقرة وجدته يسوق الكلام بإسناده إلى عبد الله ابن المبارك ، قال: حدثنا علىّ بن إسحاق السمرقندى عن محمد بن مروان ، عن الكلبى ، عن أبى صالح ، عن ابن عباس .
    وفى مبدأ كل سورة يقول : وبإسناده عن ابن عباس .
    ... وهكذا يظهر لنا جلياً أن جميع ما روى عن ابن عباس فى هذا الكتاب يدور على محمد بن مروان السدى الصغير ، عن محمد بن السائب الكلبي ، عن أبى صالح ، عن ابن عباس " .انتهى من "التفسير والمفسرون" (2 /20) .
    وقال أيضا :
    " وليس للمعترض أن يعترض علينا بتفسير ابن عباس ، فإنه لا تصح نسبته إليه ، بل جمعه الفيروز آبادى ونسبة إليه معتمداً في ذلك على رواية واهية ، هي رواية محمد بن مروان السدى ، عن الكلبي ، عن أبى صالح ، عن ابن عباس " انتهى من "التفسير والمفسرون" (2 /26) .

    وقد نُقِل الشيخ عبد الله الأمين الشنقيطي ابن صاحب أضواء البيان أن هذا التفسير ليس جامعه الفيروز ابادي ، فقد وُجدت مخطوطة له قبل الفيروز ابادي .
    ينظر الرابط التالي : www.ahlalhdeeth.com
    والسدي هذا : قال الذهبي في ترجمته :
    " محمد بن مروان السدى الكوفى ، وهو السدى الصغير ، يروى عن هشام بن عروة والأعمش ، تركوه ، واتهمه بعضهم بالكذب . وهو صاحب الكلبي " انتهى .
    "ميزان الاعتدال" (4 /32)
    أما الكلبي : فهو محمد بن السائب الكلبي ، أبو النضر الكوفى المفسر ، وهو وضاع مشهور .
    قال سفيان : قال لى الكلبي : كل ما حدثتك عن أبي صالح فهو كذب .
    وقال أحمد بن زهير: قلت لأحمد بن حنبل: يحل النظر في تفسير الكلبى ؟ قال: لا.
    وقال ابن حبان: مذهبه في الدين ووضوح الكذب فيه أظهر من أن يحتاج إلى الإغراق في وصفه ، يروى عن أبي صالح عن ابن عباس التفسير ، وأبو صالح لم ير ابن عباس ، ولا سمع الكلبى من أبي صالح إلا الحرف بعد الحرف ، لا يحل ذكره في الكتب، فكيف الاحتجاج به .
    "ميزان الاعتدال" (3 /557-559)

    وقال ابن معين : " بالعراق كتاب ينبغي أن يدفن : تفسير الكلبي عن أبى صالح " .
    "ميزان الاعتدال" (1 /645)
    وهناك بعض الأعمال النافعة التي جمعت مرويات ابن عباس في التفسير ، ويستغنى بها عن مثل هذا الكتاب الزور ، منها كتاب "تفسير ابن عباس ومروياته في التفسير من كتب السنة" لمؤلفه : عبد العزيز بن عبد الله الحميدي .
    وأيضا كتاب "ابن عباس ومنهجه في التفسير، وتفسيراته الصحيحة في الثلث الأول من القرآن" لمؤلفه : آدم محمد علي .
    ثانيا :
    قصة الغرانيق : قد اختلف العلماء حولها من بين مثبت لها ونافٍ ، وقد صح خبرها عن غير واحد من التابعين ، منهم سعيد بن جبير ، وأبو بكر بن عبد الرحمن بن الحارث ، وأبو العالية ، وقتادة ، والزهري .
    ولكن لم تُرو مسندةً بذكر أحد من الصحابة في خبر صحيح .
    قال ابن كثير رحمه الله : " قد ذكر كثير من المفسرين قصة الغَرَانيق ، وما كان من رجوع كثير من المهاجرة إلى أرض الحبشة ، ظَنا منهم أن مشركي قريش قد أسلموا ، ولكنها من طرق كلها مرسلة ، ولم أرها مسندة من وجه صحيح ، والله أعلم " انتهى من "تفسير ابن كثير" (5 /441).

    فقد يقال : هذه قصة عظيمة ، يجب أن تتوافر الهمم والدواعي على نقلها لو ثبتت ، وحيث إنها لم ترو ولا بسند واحد صحيح ، فإن ذلك يكفي للحكم عليها بعدم الصحة والثبوت .

    وقد يقال : يكفي لثبوتها ورودها عن غير واحد من السلف مع صحة الإسناد إليهم ، فضلا عمن رويت عنهم بأسانيد ضعيفة ، وهو مما يدل على أن للقصة أصلا ثابتا .

    وقد يقال بالتوسط فيقال : على فرض ثبوتها : يكون ذلك ممّا ألقاه الشيطان في مسامع الكفار ، لا على لسان رسول الله صلى الله عليه وسلم .
    ولعل ذلك هو الأقرب .
    راجع جواب السؤال رقم : (4135) ، (103304) .

    والله تعالى أعلم .
    موقع الإسلام سؤال وجواب
    https://islamqa.info/ar/179020
     
  5. ‏دسمبر 20، 2017 #5
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,398
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    عربی کتب کے عظیم ذخیرہ (المکتبۃ الوقفیۃ ) http://waqfeya.com پر اس تفسیر کاتعارف حسب ذیل ہے ؛

    تنوير المقباس من تفسير ابن عباس


      • عنوان الكتاب: تنوير المقباس من تفسير ابن عباس
      • المؤلف: ينسب إلى: عبد الله بن عباس - جمعه: مجد الدين أبو طاهر محمد بن يعقوب الفيروزآبادى
      • حالة الفهرسة: غير مفهرس
      • الناشر: دار الكتب العلمية
      • سنة النشر: 1412 - 1992
      • عدد المجلدات: 1
      • رقم الطبعة: 1
      • عدد الصفحات: 664
      • الحجم (بالميجا): 26
      • نبذة عن الكتاب: تنبيه:
        قال الشيخ صالح آل الشيخ:
        أحد الإخوة أراد تنبيه على تفسير ينسب لابن عباس مطبوع اسمه «تنوير المقباس من تفسير ابن عباس» وهذا تفسير لـ «فيروز آبادي» المشهور صاحب «القاموس»، ونقل فيه تفاسير ابن عباس المنقولة بطريق واحد، وهذا الطريق طريق موضوع مكذوب؛ لأنه من طريق السُّدِّي الصغير -وهو أحد المتهمين بالوضع والكذب- عن الكلبي -وهو أحد المتهمين بالكذب-، وإذا كان كذلك فنقول تفسير تنوير المقباس من تفسير ابن عباس هو أوهى التفاسير عن ابن عباس، ابن عباس أصح الطرق عنه في التفسير صحيفة علي بن أبي طلحة عن ابن عباس، وأوهى الطرق عنه في التفسير هذا الطريق وهو ما روي في هذا الكتاب الذي هو من طريق بشر بن مروان السُّدِّي الصغير عن الكلبي إلى آخره.
        فإذن تنوير المقباس موضوع مكذوب لا يجوز أن يُنظر فيه على أنه من تفاسير ابن عباس رضي الله عنهما، وإنما هو ملفق، وفيه بدع، وفيه أقوال مخترعة، وفيه مصائب عظيمة لا يجوز النظر فيه إلا لمن يعرف حاله من أهل العلم.
        (من شريط مناهج المفسرين)
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں