1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

'تفسیر قرآن' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏جنوری 07، 2014۔

  1. ‏جنوری 07، 2014 #1
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,362
    موصول شکریہ جات:
    6,591
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    تفسیراحسن البیان

    (تفسیر مکی)
    مولانا صلاح الدین یوسف
    قرآن مجید کی سورتوں کی فہرست​
    پارہ 01
    01سورة الفاتحة

    02سورة البقرة

    پارہ 02
    پارہ 03
    03سورة آل عمران

    پارہ 04
    04سورة النسآء

    پارہ 05
    پارہ 06
    05سورة المآئدہ

    پارہ 07
    06سورة الأنعام

    پارہ 08
    07سورة الاعراف

    پارہ 09
    08سورة الانفال

    پارہ 10
    09سورة التوبہ

    پارہ 11
    10سورة یونس
    11سورة ھود

    پارہ 12
    12سورة یوسف

    پارہ 13
    13سورة الرعد
    14سورة ابراہیم
    15سورة الحجر

    پارہ 14
    16سورة النحل

    پارہ 15
    17سورۃ بنی اسرائیل / الإسرَاء

    18سورة الکهف

    پارہ 16
    19سورة مریم
    20سورة طه

    پارہ 17
    21سورة الأنبیاء

    22سورة الحج

    پارہ 18
    23سورة المؤمنون
    24سورة النور
    25سورة الفرقان

    پارہ 19
    26سورة الشعراء
    27سورة النمل

    پارہ 20
    28سورة القصص
    29سورة العنکبوت

    پارہ 21
    30سورة الروم
    31سورة لقمان
    32سورة السجدة
    33سورة الأحزاب

    پارہ 22
    34سورة سبأ
    35سورة فاطر
    36سورة یس

    پارہ 23
    37سورة الصافات
    38سورة ص
    39سورة الزمر

    پارہ 24
    40سورة غافر
    41سورة فصلت

    پارہ 25
    42سورة الشورى
    43سورة الزخرف
    44سورة الدخان
    45سورة الجاثیة

    پارہ 26
    46سورة الأحقاف

    47سورة محمد
    48سورة الفتح
    49سورة الحجرات
    50سورة ق
    51سورة الذاریات

    پارہ 27
    52سورة الطور
    53سورة النجم
    54سورة القمر
    55سورة الرحمن
    56سورة الواقعة
    57 سورة الحدید

    پارہ 28
    58سورة المجادلة

    59سورة الحشر
    60سورة الممتحنة
    61سورة الصف
    62سورة الجمعة
    63سورة المنافقون
    64سورة التغابن
    65سورة الطلاق
    66سورة التحریم

    پارہ 29
    67سورة الملک

    68سورة القلم
    69سورة الحاقة
    70سورة المعارج
    71سورة نوح
    72سورة الجن
    73سورة المزمل
    74سورة المدثر
    75سورة القیامة
    76سورة الإنسان
    77سورة المرسلات

    پارہ 30
    78سورة النبأ

    79سورة النازعات
    80سورة عبس
    81سورة التکویر
    82سورة الإنفطار
    83سورة المطففین
    84سورة الانشقاق
    85سورة البروج
    86سورة الطارق
    87سورة الأعلى
    88سورة الغاشیة
    89سورة الفجر
    90سورة البلد
    91سورة الشمس
    92سورة اللیل
    93سورة الضحى
    94سورة الشرح
    95سورة التین
    96سورة العلق
    97سورة القدر
    98سورة البینة
    99سورة الزلزلة
    100سورة العادیات
    101سورة القارعة
    102سورة التکاثر
    103سورة العصر
    104سورة الهمزة
    105سورة الفیل
    106سورة قریش
    107سورة الماعون
    108سورة الکوثر
    109سورة الکافرون
    110سورة النصر
    111سورة المسد

    112سورة الإخلاص
    113سورة الفلق
    114سورة الناس
     
    • زبردست زبردست x 5
    • پسند پسند x 1
    • لسٹ
  2. ‏جنوری 07، 2014 #2
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,362
    موصول شکریہ جات:
    6,591
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    پارہ 01
    سورة الفاتحة

    (سورة الفاتحة ۔ سورۃ نمبر ۱ ۔ تعداد آیات ۷)​
    بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ ﴿١﴾
    شروع کرتا ہوں میں اللہ تعالٰی کے نام سے جو نہایت مہربان بڑا رحم والا ہے
    سورہ الفاتحہ قرآن مجید کی سب سے پہلی سورت ہے جس کی احادیث میں بڑی فضیلت آئی ہے فاتحہ کے معنی آغاز اور ابتداء کے ہیں ۔ اس لئے اسے الفاتحہ یعنی فاتحۃ الکتاب کہا جاتا ہے ۔ اس کے اور بھی متعدد نام احادیث سے ثابت ہیں مثلا ام القرآن ،السبع المثانی ، القرآن العظیم ،الشفاء ، الرقیہ (دم ) وغیرھامن الاسماء
    اس کا ایک اہم نام الصلوۃ بھی ہےجیساکہ ایک حدیث قدسی میں ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا قسمت الصلوۃ بینی وبین عبدی ۔ الحدیث صحیح مسلم کتاب الصلوۃ
    میں نے صلاۃ(نماز ) کو اپنے اور اپنے بندے کے درمیان تقسیم کردیا ہے مراد سورۃ فاتحہ ہے
    جس کا نصف حصہ اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء اور اس کی رحمت وربوبیت اور عدل وبادشاہت کے بیان میں ہے اور نصف حصے میں دعا ومناجات ہے جوبندہ اللہ کی بارگاہ میں کرتا ہے ۔
    اس حدیث میں سورۃ فاتحہ کو نماز سے تعبیر کیا گیا ہے جس سے یہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں اس کا پڑھنا بہت ضروری ہے ۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں اس کی خوب وضاحت کردی گئی ہے فرمایا۔ لاصلوۃ لمن لم یقرابفاتحہ الکتاب (صحیح بخاری ومسلم ) اس شخص کی نماز نہیں جس نے سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی ۔ اس حدیث میں (من ) کا لفظ عام ہے جو ہرنمازی کو شامل ہے منفرد ہو یاامام کے پیچھے مقتدی ۔ سری نماز ہویا جہری فرض نماز ہو یانفل ہرنمازی کے لئے سورۃ فاتحہ پڑھنا ضروری ہے ۔
    اس عموم کی مزید تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جس میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ نماز فجر میں بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرآن کریم پڑھتے رہے جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرات بوجھل ہوگئی ،نماز ختم ہونے کے بعد جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم بھی ساتھ پڑھتے رہے ہو؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لاتفعلواالابام القرآن فانہ لاصلوۃ لمن لم یقرابھا تم ایسا مت کرو(یعنی ساتھ ساتھ مت پڑھا کرو) البتہ سورۃ فاتحہ ضرورپڑھا کرو کیونکہ اس کے پڑھے بغیر نماز نہیں ہوتی (ابوداؤد ،ترمذی ،نسائی) اسی طرح حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ نے فرمایا من صلی صلوۃ لم یقرافیھا بام القرآن فھی خداج ۔ثلاثا غیر تمام جس نےبغیر فاتحہ کے نماز پڑھی تو اس کی نماز ناقص ہے تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کیا گیا (انانکون وراء الامام (امام کے پیچھے بھی ہم نمازپڑھتے ہیں اس وقت کیا کریں؟) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا (اقرابھا فی نفسک (امام کے پیچھے تم سورۃ فاتحہ اپنے جی میں پڑھو) صحیح مسلم ۔
    مذکورہ دونوں حدیثوں سے واضح ہواکہ قرآن مجید میں جوآتا ہے (وَاِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ)7۔ الاعراف:204)۔ جب قرآن پڑھا جائے تو سنو اور خاموش رہو،یاحدیث (واذاقرافانصتوا(بشرط صحت) جب امام قرات کرے توخاموش رہو۔ کا مطلب یہ ہے کہ جہری نمازوں میں مقتدی سورۃ فاتحہ کے علاوہ باقی قرات خاموشی سے سنیں ۔ امام کے ساتھ قرآن نہ پڑھیں ۔ یاامام سورۃ فاتحہ کی فاتحۃ کی آیات وقفوں کے ساتھ پڑھے تاکہ مقتدی بھی احادیث صحیحہ کے مطابق سورۃ فاتحہ پڑھ سکیں یاامام سورۃ فاتحہ کے بعد اتنا سکتہ کرے کہ مقتدی سورۃ فاتحہ پڑھ لیں۔
    اس طرح آیت قرآنی اور احادیث صحیحہ میں الحمد للہ کوئی تعارض نہیں رہتا۔دونوں پر عمل ہوجاتا ہے ۔ جب کہ سورۃ فاتحہ کی ممانعت سے یہ بات ثابت ہوتی کہ خاکم بدہن قرآن کریم اور احادیث ٹکراؤ ہے اور دونوں میں سے کسی ایک پرہی عمل ہوسکتا ہے ۔ بیک وقت دونوں پر عمل ممکن نہیں ۔ فتعوذباللہ من ھذا۔دیکھئے سورۃ اعراف آیت ۲۰۴کا حاشیہ (اس مسئلے کی تحقیق کے لئے ملاحظہ ہو کتاب تحقیق الکلام ازمولاناعبدالرحمن مبارک پوری وتوضیح الکلام مولانا ارشادالحق اثری حفظہ اللہ وغیرہ )۔ یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ کے نزدیک سلف کی اکثریت کا قول یہ ہے کہ اگرمقتدی امام کی قرات سن رہاہوتو نہ پڑھے اور اگر نہ سن رہاہو تو پڑھے (مجموع فتاوی ابن تیمیہ ۲۳/۲۶۵ )
    ۱ یہ سورۃ مکی ہے۔ مکی یا مدنی کا مطلب یہ ہے کہ جو سورتیں ہجرت (٣ ١نبوت) سے قبل نازل ہوئیں وہ مکی ہیں خواہ ان کا نزول مکہ مکرمہ میں ہوا ہو یا اس کے آس پاس اور مدنی وہ سورتیں ہیں جو ہجرت کے بعد نازل ہوئیں خواہ وہ مدینہ یا اس کے آس پاس میں نازل ہوئیں یا اس سے دور حتیٰ کہ مکہ اور اس کے اطراف ہی میں کیوں نہ نازل ہوئی ہوں۔ بِسْمِ اللّٰهِ کی بابت اختلاف کہ آیا یہ ہر سورت کی مستقل آیت ہے یا ہر سورت کی آیت کا حصہ ہے یا یہ صرف سورۃ فاتحہ کی ایک آیت ہے یا کسی بھی سورت کی مستقل آیت نہیں ہے اسے صرف دوسری سورت سے ممتاز کرنے کیلئے ہر سورت کے آغاز میں لکھا جاتا ہے علماء مکہ و کوفہ نے اسے سورۃ فاتحہ سمیت ہر سورت کی آیت قرار دیا ہے جبکہ علماء مدینہ بصرہ اور شام نے اسے کسی بھی سورت کی آیت تسلیم نہیں کیا۔ سوائے سورۃ نمل کی آیت نمبر٣٠ کے کہ اس میں بالاتفاق بِسْمِ اللّٰهِ اس کا جزو ہے۔ اس طرح (جہری) نمازوں میں اس کے اونچی آواز سے پڑھنے پر بھی اختلاف ہے۔ بعض اونچی آواز سے پڑھنے کے قائل ہیں اور بعض سری (دھیمی) آواز سے اکثر علماء نے سری آواز سے پڑھنے کو بہتر قرار دیا ہے۔ بِسْمِ اللّٰهِ کو آغاز میں ہی الگ کیا گیا ہے یعنی اللہ کے نام سے پڑھتا یا شروع کرتا یا تلاوت کرتا ہوں ہر اہم کام کے شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ پڑھنے کی تاکید کی گئی ہے۔ چنانچہ حکم دیا گیا ہے کہ کھانے، ذبح، وضو اور جماع سے پہلے بِسْمِ اللّٰهِ پڑھو۔ تاہم قرآن کریم کی تلاوت کے وقت، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ، سے پہلے ( اَعُوْذُ باللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ) پڑھنا بھی ضروری ہے جب تم قرآن کریم پڑھنے لگو تو اللہ کی جناب میں شیطان رجیم سے پناہ مانگو۔
     
    • پسند پسند x 4
    • زبردست زبردست x 4
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  3. ‏جنوری 07، 2014 #3
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,362
    موصول شکریہ جات:
    6,591
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَ‌بِّ الْعَالَمِينَ ﴿٢﴾
    سب تعریفیں اللہ تعالٰی کے لیے ہیں (۱) جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے (۲)
    ف۱ اَلْحَمْدُ میں ' ال ' مخصوص کے لئے ہے یعنی تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں یا اس کے لئے خاص ہیں کیونکہ تعریف کا اصل مستحق اور سزاوار صرف اللہ تعالٰی ہے۔ کسی کے اندر کوئی خوبی، حسن یا کمال ہے تو وہ بھی اللہ تعالٰی کا پیدا کردہ ہے اس لئے حمد (تعریف) کا مستحق بھی وہی ہے۔ اللہ یہ اللہ کا ذاتی نام ہے اس کا استعمال کسی اور کے لئے جائز نہیں لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ افضل الذکر اور اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کو افضل دعا کہا گیا ہے۔ (ترمذی، نسائی وغیرہ) صحیح مسلم اور نسائی کی روایت میں ہے اَلْحَمْدُ لِلّہِ میزان کو بھر دیتا ہے اسی لئے ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ اللہ اس بات کو پسند فرماتا ہے کہ ہر کھانے پر اور پینے پر بندہ اللہ کی حمد کرے۔ (صحیح مسلم)
    ف۲ (رَبْ) اللہ تعالٰی کے اسمائے حسنٰے میں سے ہے، جس کا معنی ہر چیز کو پیدا کر کے ضروریات کو مہیا کرنے اور اس کو تکمیل تک پہنچانے والا۔ اس کے استعمال بغیر اضافت کے کسی اور کے لئے جائز نہیں (الْعَالَمِيْنَ) عَالَمْ (جہان) جہان کی جمع ہے۔ ویسے تو تمام خلائق کے مجموعہ کو عالم کہا جاتا ہے، اس لئے اس کی جمع نہیں لائی جاتی۔ لیکن یہاں اس کی ربوبیت کاملہ کے اظہار کے لئے عالم کی بھی جمع لائی گئی ہے، جس سے مراد مخلوق کی الگ الگ جنسیں ہیں۔ مثلا عالم جن، عالم انس، عالم ملائکہ اور عالم وحوش و طیور وغیرہ۔ ان تمام مخلوکات کی ضرورتیں ایک دوسرے سے قطعا مختلف ہیں لیکن رَبِّ الْعَالَمِيْنَ سب کی ضروریات، ان کے احوال و ظروف اور طباع و اجسام کے مطابق مہیا فرماتا ہے۔
     
    • پسند پسند x 4
    • علمی علمی x 2
    • لسٹ
  4. ‏جنوری 07، 2014 #4
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,362
    موصول شکریہ جات:
    6,591
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ ﴿٣﴾
    بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا (١)۔
    ف۱ رحمن بروز فعلان اور رحیم بروزن فعیل ہے ۔ دونوں مبالغے کے صیغے ہیں ۔ جن میں کثرت اور دوام کا مفہوم پایا جاتا ہے ۔ یعنی اللہ تعالٰی بہت رحم کرنے والا ہے اور اس کی یہ صفت دیگر صفات کی طرح دائمی ہے۔ بعض علماء کہتے ہیں رحمٰن میں رحیم کی نسبت زیادہ مبالغہ ہے اسی لیے رحمٰن الدنیا والآخرہ کہا جاتا ہے۔ دنیا میں اس کی رحمت جس میں بلا تخصیص کافر و مومن سب فیض یاب ہو رہے ہیں اور آخرت میں وہ صرف رحیم ہو گا۔ یعنی اس کی رحمت صرف مومنین کے لئے خاص ہوگی۔ اللھم اجعلنا منھم ۔آمین
     
    • پسند پسند x 4
    • علمی علمی x 2
    • لسٹ
  5. ‏جنوری 07، 2014 #5
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,362
    موصول شکریہ جات:
    6,591
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ ﴿٤﴾
    بدلے کے دن (یعنی قیامت کا) مالک ہے (١)
    ف۱دنیا میں بھی اگرچہ کیئے کی سزا کا سلسلہ ایک حد تک جاری رہتا ہے تاہم اس کا مکمل ظہور آخرت میں ہوگا اور اللہ تعالٰی ہر شخص کو اس کے اچھے یا برے اعمال کے مطابق مکمل جزا یا سزا دے گا۔ اور صرف اللہ تعالٰی ہی ہوگا اللہ تعالٰی اس روز فرمائے گا آج کس کی بادشاہی ہے؟ پھر وہی جواب دے گا صرف ایک اللہ غالب کے لیے اس دن کوئی ہستی کسی کے لئے اختیار نہیں رکھے گی سارا معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہوگا، یہ ہوگا جزا کا دن۔
     
    • پسند پسند x 5
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  6. ‏جنوری 07، 2014 #6
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,362
    موصول شکریہ جات:
    6,591
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ﴿٥﴾
    ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں (۱)۔
    ف۱ عبادت کے معنی ہیں کسی کی رضا کے لیے انتہائی عاجزی اور کمال خشوع کا اظہار اور بقول ابن کثیر شریعت میں کمال محبت خضوع اور خوف کے مجموعے کا نام ہے، یعنی جس ذات کے ساتھ محبت بھی ہو اس کی ما فوق الاسباب ذرائع سے اس کی گرفت کا خوف بھی ہو۔ سیدھی عبارت ہم تیری عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے مدد چاہتے ہیں۔ نہ عبادت اللہ کے سوا کسی اور کی جائز ہے اور نہ مدد مانگنا کسی اور سے جائز ہے۔ ان الفاظ سے شرک کا سدباب کر دیا گیا لیکن جن کے دلوں میں شرک کا روگ راہ پا گیا ہے وہ ما فوق الاسباب اور ما تحت الاسباب استعانت میں فرق کو نظر انداز کر کے عوام کو مغالطے میں ڈال دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ دیکھو ہم بیمار ہو جاتے ہیں تو ڈاکٹر سے مدد حاصل کرتے ہیں بیوی سے مدد چاہتے ہیں ڈرائیور اور دیگر انسانوں سے مدد کے طالب ہوتے ہیں اس طرح وہ یہ باور کراتے ہیں کہ اللہ کے سوا اوروں سے مدد مانگنا بھی جائز ہے۔ حالانکہ اسباب کے ما تحت ایک دوسرے سے مدد چاہنا اور مدد کرنا یہ شرک نہیں ہے یہ تو اللہ تعالٰی کا بنایا ہوا نظام ہے۔ جس میں سارے کام ظاہر اسباب کے مطابق ہی ہوتے ہیں حتی کہ انبیاء بھی انسانوں کی مدد حاصل کرتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا (من انصاری الی اللہ) اللہ کے دین کیلئے کون میرا مددگار ہے؟ اللہ تعالٰی نے اہل ایمان کو فرمایا (ۘوَتَعَاوَنُوْا عَلَي الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى) 5۔المائدہ:2) نیکی اور تقوی کے کاموں پر ایک دوسرے کی مدد کرو ظاہر بات ہے کہ یہ تعاون ممنوع ہے نہ شرک بلکہ مطلوب و محمود ہے۔ اسکا اصطلاحی شرک سے کیا تعلق؟ شرک تو یہ ہے کہ ایسے شخص سے مدد طلب کی جائے جو ظاہری اسباب کے لحاظ سے مدد نہ کر سکتا ہو جیسے کسی فوت شدہ شحص کو مدد کے لیے پکارنا اس کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھنا اسکو نافع وضار باور کرنا اور دور نزدیک سے ہر ایک کی فریاد سننے کی صلاحیت سے بہرہ ور تسلیم کرنا۔ اسکا نام ہے ما فوق الاسباب طریقے سے مدد طلب کرنا اور اسے خدائی صفات سے متصف ماننا اسی کا نام شرک ہے جو بدقسمتی سے محبت اولیاء کے نام پر مسلمان ملکوں میں عام ہے۔ اعاذنا اللہ منہ۔
    توحید کی تین قسمیں۔
    اس موقع پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ توحید کی تین اہم قسمیں مختصرا بیان کردی جائیں ۔ یہ قسمیں ہیں ۔ توحید ربوبیت ،توحید الوہیت ، اور توحید صفات
    ۱۔ توحید ربوبیت کا مطلب ہے کہ اس کائنات کا خالق ، مالک ،رازق ،اور مدبر صرف اللہ تعالیٰ ہے ۔ اس توحید کو ملاحدہ و زنادقہ کے علاوہ تمام لوگ مانتے ہیں حتی کہ مشرکین بھی اس کے قائل رہے ہیں اور ہیں جیساکہ قرآن کریم نے مشرکیں مکہ اعتراف نقل کا ہے۔ مثلا فرمایا اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ان سے پوچھیں کہ تم آسمان و زمیں میں رزق کون دیتا ہے یا (تمہارے ) کانوں اور آنکھوں کامالک کون ہے اور بے جان سے جاندار اور جاندار سے بے جان کو کون پیدا کرتا ہے اور دنیا کے کاموں کا انتظام کون کرتا ہے ؟ جھٹ کہہ دیں گے کے اللہ (یعنی یہ سب کام کرنے والا اللہ ہے) (قُلْ مَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ اَمَّنْ يَّمْلِكُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَمَنْ يُّخْرِجُ الْـحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَنْ يُّدَبِّرُ الْاَمْرَ ۭ فَسَيَقُوْلُوْنَ اللّٰهُ ۚ فَقُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ 31 ) 10۔یونس:31) ۔دوسرے مقام پر فرمایا (وَلَىِٕنْ سَاَلْــتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ لَيَقُوْلُنَّ اللّٰهُ) 39۔الزمر:38) اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے پوچھیں گے کہ آسمان و زمین کا خالق کون ہے ؟ تو یقینا یہی کہں گے کہ اللہ ۔ ایک اور مقام پر فرمایا اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے پوچھیں کہ زمین اور زمین میں جو کچھ ہے یہ سب کس کا مال ہے ؟ ساتوں آسمان اور عرش عظیم کا مالک کون ہے ؟ ہر چیز کی بادشاہی کس کے ہاتھ میں ہے ؟ اور وہ سب کو پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابل کوئی پناہ دینے والا نہیں ۔ ان سب کے جواب میں یہ یہی کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ یعنی یہ سارے کام اللہ ہی کے ہیں۔(23۔المومنون :89-84) وغیرھا من الایات۔
    ۲۔ توحید الوہیت کا مطلب ہے کہ عبادت کی تمام اقسام کی مستحق صرف اللہ تعالیٰ ہے اور عبادت ہر وہ کام ہے جو کسی مخصوص ہستی کی رضا کے لئے ، یا اس کی ناراضی کے خوف سے کیا جائے ، اس لئے نماز ، روزہ ، حج اور زکوۃ صرف یہی عبادات نہیں بلکہ کسی مخصوص ہستی سے دعا و التجاء کرنا ۔ اس کے نام کی نذر ونیاز دینا اس کے سامنے دست بستہ کھڑا ہونا اس کا طواف کرنا اس سے طمع اور خوف رکھنا وغیرہ بھی عبادات ہیں ۔ توحید الوہیت میں شرک کا ارتکاب کرتے ہیں اور مذکورہ عبادات کی بہت سی قسمیں وہ قبروں میں مدفون افراد اور فوت شدہ بزرگوں کے لئے بھی کرتے ہیں جو سراسر شرک ہے ۔
    ۳۔ توحید صفات کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جو صفات قرآن وحدیث میں بیان ہوئی ہیں ان کو بغیر کسی تاویل اور تحریف کے تسلیم کریں اور وہ صفات اس انداز میں کسی اور کے اندر نہ مانیں ، مثلا جس طرح اس کی صفت علم غیب ہے یادور اور نزدیک سے ہر ایک کی فریاد سننے پر وہ قادر ہے کائنات میں ہرطرح کا تصرف کرنے کا اسے اختیار حاصل ہے یہ یا اس قسم کی اور صفات الٰہیہ ان میں سے کوئی صفت بھی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی نبی ، ولی یا کسی بھی شخص کے اندر تسلیم نہ کی جائیں ۔ اگر تسلیم کی جائیں گی تو یہ شرک ہوگا۔ افسوس ہے کہ قبر پرستوں میں شرک کی یہ قسم بھی عام ہے اور انہوں نے اللہ کی مذکورہ صفات میں بہت سے بندوں کو بھی شریک کررکھا ہے ۔ اعاذنااللہ منہ۔
     
    • پسند پسند x 4
    • زبردست زبردست x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  7. ‏جنوری 07، 2014 #7
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,362
    موصول شکریہ جات:
    6,591
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    اهْدِنَا الصِّرَ‌اطَ الْمُسْتَقِيمَ ﴿٦﴾
    ہمیں سچی اور سیدھی راہ دکھا (١)۔
    ف۱ ہدایت کے کئی مفہوم ہیں، راستے کی طرف رہنمائی کرنا، راستے پر چلا دینا، منزلِ مقصود تک پہنچا دینا۔ اسے عربی میں ارشاد توفیق، الہام اور دلالت سے تعبیر کیا جاتا ہے، یعنی ہماری صراط مستقیم کی طرف رہنمائی فرما، اس پر چلنے کی توفیق اور اس پر استقامت نصیب فرما، تاکہ ہمیں تیری رضا (منزلِ مقصود) حاصل ہو جائے۔ یہ صراط مستقیم محض عقل اور ذہانت سے حاصل نہیں ہو سکتی۔ یہ صراط مستقیم وہی ‏‏، الاسلام، ہے، جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کے سامنے پیش فرمایا اور جو اب قرآن و احادیث صحیحہ میں محفوظ ہے۔
     
    • پسند پسند x 4
    • علمی علمی x 2
    • لسٹ
  8. ‏جنوری 07، 2014 #8
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,362
    موصول شکریہ جات:
    6,591
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    صِرَ‌اطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ‌ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ﴿٧﴾
    اُن لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام کیا (۱)۔ ان کا نہیں جن پر غضب کیا گیا اور نہ گمراہوں کا۔ (۲)
    ف۱ یہ صراطِ مستقیم یہ وہ اسلام ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دُنیا کے سامنے پیش فرمایا اور جو اب قرآن و احادیث صحیحہ میں محفوظ ہے۔
    ف۲ صراط مُستقیم کی وضاحت ہے کہ یہ سیدھا راستہ وہ ہے جس پر لوگ چلے، جن پر تیرا انعام ہوا ۔(وَمَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰۗىِٕكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيْقِيْنَ وَالشُّهَدَاۗءِ وَالصّٰلِحِيْنَ ۚ وَحَسُنَ اُولٰۗىِٕكَ رَفِيْقًا 69؀ۭ) 4۔النساء:69) اور جو بھی اللہ تعالٰی کی اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری کرے وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ تعالٰی نے انعام کیا جیسے نبی اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ یہ بہترین رفیق ہیں۔ اس آیت میں یہ بھی وضاحت کر دی گئی ہے کہ انعام یافتہ لوگوں کا یہ راستہ اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا راستہ ہے نہ کہ کوئی اور راستہ۔ بعض روایات سے ثابت ہے کہ مَغْضُوْبُ عَلَیْھِمْ (جن پر اللہ کا غضب نازل ہوا ) سے مراد یہودی اور (وَلاَ الضَّآلِیْن) گمراہوں سے مراد نصاریٰ (عیسائی) ہیں ابن ابی حاتم کہتے ہیں کہ مفسرین کے درمیان اسمیں کوئی اختلاف نہیں مستقیم پر چلنے والوں کی خواہش رکھنے والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ یہود و نصاریٰ دونوں کے گمراہیوں سے بچ کر رہیں۔ یہود کی بڑی گمراہی تھی وہ جانتے بوجھتے صحیح راستے پر نہیں چلتے تھے آیات الٰہی میں تحریف اور حیلہ کرنے میں گریز نہیں کرتے تھے حضرت عزیر علیہ السلام کو ابن اللہ کہتے اپنے احبار و رھبان کو حرام و حلال کا مجاز سمجھتے تھے۔ نصاریٰ کی بڑی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ابن اللہ کہا حرام و حلال کا مجاز سمجھتے تھے۔ نصارٰی کی بڑی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں غلو کیا اور انہیں (اللہ کا بیٹا) اور تین خدا میں سے ایک قرار دیا۔ افسوس ہے کہ امت محمدیہ میں بھی یہ گمراہیاں عام ہیں اور اسی وجہ سے وہ دنیا میں ذلیل و رسوا ہیں اللہ تعالٰی اسے ضلالت کے گڑھے سے نکالے۔ تاکہ ادبار و نکبت کے برھتے ہوئے سائے سے وہ محفوظ رہ سکے۔ سورۃ کے آخر میں آمِیْن کہنے کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکید فرمائی اسلیے امام اور مقتدی ہر ایک کو آمین کہنی چاہئے۔ اے اللہ ہماری دعا قبول فرما۔
     
    • پسند پسند x 5
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  9. ‏جنوری 07، 2014 #9
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,362
    موصول شکریہ جات:
    6,591
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    سورة البقرة

    (سورة البقرة ۔ سورۃ نمبر ۲ ۔ تعداد آیات ۲۸٦)​
    بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
    شروع کرتا ہوں میں اللہ تعالٰی کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
    ف۱ اس سورت میں آگے چل کر گائے کا واقعہ بیان ہوا ہے اس لیے اس کو بقرہ (گائے کے واقعہ والی سورت کہا جاتا ہے) حدیث میں اس کی ایک خاص فضیلت بھی بیان کی گئی ہے کہ جس گھر میں یہ پڑھی جائے اس گھر سے شیطان بھاگ جاتا ہے۔ نزول کے اعتبار سے یہ مدنی دور کی ابتدائی سورتوں میں سے ہے البتہ اس کی بعض آیات جمعۃ الوداع کے موقع پر نازل ہوئیں۔ بعض علماء کے نزدیک اس میں ایک ہزار خبر ایک ہزار احکام اور ایک ہزار منہیات۔(ابن کثیر)
     
    • پسند پسند x 3
    • علمی علمی x 2
    • لسٹ
  10. ‏جنوری 07، 2014 #10
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,362
    موصول شکریہ جات:
    6,591
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    الم ﴿١﴾
    الم (۱)
    ف۱ الف لام میم انہیں حروف مقطعات کہا جاتا ہے، یعنی علیحدہ علیحدہ پڑھے جانے والے حروف ان کے معنی کے بارے میں کوئی مستند روایت نہیں ہے (وَاللّہ العالِمُ بمرادہ) البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ضرور فرمایا ہے میں نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف، میم ایک حرف اور لام ایک حرف ہر حرف پر ایک نیکی اور ایک نیکی کا اجر دس گنا ہے۔
     
    • پسند پسند x 4
    • زبردست زبردست x 1
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں