1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر احسن البیان (تفسیر مکی)

'تفسیر قرآن' میں موضوعات آغاز کردہ از محمد نعیم یونس, ‏جنوری 07، 2014۔

  1. ‏مارچ 20، 2014 #4651
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    سورة الکافرون

    (سورة الکافرون ۔ سورہ نمبر ۱۰۹ ۔ تعداد آیات ٦)​
    بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
    شروع کرتا ہوں میں اللہ تعالٰی کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
    *صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طواف کی دو رکعتوں اور فجر اور مغرت کی سنتوں میں (قل یٰٓایھا الکٰفرون) اور سورہ اخلاص پڑھتے تھے۔ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض صحابہ رضی اللہ عنہ کو فرمایا کہ رات کو سوتے وقت، یہ سورت پڑھ کر سوؤ گے تو شرک سے بری قرار پاؤ گے۔ بعض روایت میں خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بھی یہ بتلایا گیا ہے۔(ابن کثیر)
    قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُ‌ونَ ﴿١﴾
    آپ کہہ دیجئے کہ اے کافرو (١)
    ١۔١ الکفرون میں الف لام جنس کے لیے ہے لیکن بطور خاص صرف ان کافروں سے خطاب ہے جن کی بابت اللہ کو علم تھا کہ ان کا خاتمہ کفر و شرک پر ہوگا۔ کیونکہ اس سورت کے نزول کے بعد کئی مشرک مسلمان ہوئے اور انہوں نے اللہ کی عبادت کی (فتح القدیر)
     
  2. ‏مارچ 20، 2014 #4652
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    لَا أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ ﴿٢﴾
    نہ میں عبادت کرتا ہوں اس کی جس کی تم عبادت کرتے ہو۔
    وَلَا أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ ﴿٣﴾
    نہ تم عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کرتا ہوں۔
    وَلَا أَنَا عَابِدٌ مَّا عَبَدتُّمْ ﴿٤﴾
    اور نہ میں عبادت کرونگا جسکی تم عبادت کرتے ہو۔
    وَلَا أَنتُمْ عَابِدُونَ مَا أَعْبُدُ ﴿٥﴾
    اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی میں عبادت کر رہا ہوں۔
    بعض نے پہلی آیت کو حال کے اور دوسری کو استقبال کے مفہوم میں لیا ہے، لیکن امام شوکانی نے کہا ہے کہ ان تکلفات کی ضرورت نہیں ہے۔ تاکید کے لیے تکرار، عربی زبان کا عام اسلوب ہے، جسے قرآن کریم میں کئی جگہ اختیار کیا گیا ہے۔ جیسے سورہ رحمٰن، سورہ مرسلات میں ہے۔ اسی طرح یہاں بھی تاکید کے لیے یہ جملہ دہرایا گیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ یہ کبھی ممکن نہیں کہ میں توحید کا راستہ چھوڑ کر شرک کا راستہ اختیار کرلوں ، جیسا کہ تم چاہتے ہو۔ اور اگر اللہ نے تمہاری قسمت میں ہدایت نہیں لکھی ہے، تو تم بھی اس توحید اور عبادت الہی سے محروم ہی رہو گے۔ یہ بات اس وقت فرمائی گئی جب کفار نے یہ تجویز پیش کی کہ ایک سال ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معبود کی اور ایک سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے معبودوں کی عبادت کریں۔
     
  3. ‏مارچ 20، 2014 #4653
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ ﴿٦﴾
    تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین ہے۔ (١)
    ٦۔۱یعنی اگر تم اپنے دین پر راضی ہو اور اسے چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہو، تو میں اپنے دین پر راضی ہوں میں اسے کیوں چھوڑوں۔؟(لنا اعمالنا ولکم اعمالکم)
     
  4. ‏مارچ 20، 2014 #4654
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    سورة النصر

    (سورة النصر ۔ سورہ نمبر ۱۱۰ ۔ تعداد آیات ۳)​
    بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
    شروع کرتا ہوں میں اللہ تعالٰی کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
    *نزول کے اعتبار سے یہ اخری سورت ہے۔(صحیح مسلم، کتاب التفسیر) جس وقت یہ سورت نازل ہوئی تو بعض صحابہ رضی اللہ سمجھ گئے کہ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری وقت آ گیا ہے ، اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسبیح وتحمید اور استغفار کا حکم دیا گیا ہے جیسے حضرت ابن عباس اور حضرت عمر رضی اللہ عنھما کا واقعہ صحیح بخاری میں ہے۔(تفسیر سورۃ النصر)
    إِذَا جَاءَ نَصْرُ‌ اللَّـهِ وَالْفَتْحُ ﴿١﴾
    جب اللہ کی مدد اور فتح آ جائے۔
    وَرَ‌أَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّـهِ أَفْوَاجًا ﴿٢﴾
    اور تو لوگوں کو اللہ کے دین میں جوق در جوق آتا دیکھ لے (١)
    ٢۔١ اللہ کی مدد کا مطلب، اسلام اور مسلمانوں کا کفر اور کافروں پر غلبہ ہے، اور فتح سے مراد فتح مکہ ہے، جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مولد و مسکن تھا، لیکن کافروں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ کرام کو وہاں سے ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ چنانچہ جب ۸ ہجری میں یہ مکہ فتح ہوگیا تو لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے شروع ہوگئے، جب کہ اس سے قبل ایک ایک دو دو فرد مسلمان ہوتے تھے فتح مکہ سو لوگوں پر یہ بات بالکل واضح ہو گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے پیغمبر ہیں اور دین اسلام دین حق ہے، جس کے بغیر اب نجات اخروی ممکن نہیں، اللہ تعالٰی نے فرمایا جب ایسا ہو تو۔
     
  5. ‏مارچ 20، 2014 #4655
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَ‌بِّكَ وَاسْتَغْفِرْ‌هُ ۚ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا ﴿٣﴾
    تو اپنے رب کی تسبیح کرنے لگ حمد کے ساتھ اور اس سے مغفرت کی دعا مانگ، بیشک وہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا ہے (١)
    ٣۔١ یعنی یہ سمجھ لے کہ تبلیغ رسالت اور احقاق حق کا فرض، جو تیرے ذمہ تھا، پورا ہوگیا اور اب تیرا دنیا سے کوچ کرنے کا مرحلہ قریب آ گیا ہے، اس لئے حمد و تسبیح الٰہی اور استفغار کا خوب اہتمام کر۔ اس سے معلوم ہوا کہ زندگی کے آخری ایام میں ان چیزوں کا اہتمام کثرت سے کرنا چاہئے۔
     
  6. ‏مارچ 20، 2014 #4656
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    سورة المسد

    (سورة المسد ۔ سورہ نمبر ۱۱۱ ۔ تعداد آیات ٥)​
    بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
    شروع کرتا ہوں میں اللہ تعالٰی کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
    اسے سورۃ المسد بھی کہتے ہیں۔ اس کی شان نزول میں آتا ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوا کہ اپنے رشتہ داروں کو انذار و تبلیغ کریں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا پہاڑی پر چڑھ کر یا صباحاہ! کی آواز لگائی۔ اس طرح کی آواز خطرے کی علامت سمجھی جاتی ہے،چنانچہ اس آواز پر لوگ اکٹھے ہوگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ذرا بتلاؤ ، اگر میں تمہیں خبردوں کہ اس پہاڑ کی پشت پر ایک گھڑ سوار لشکر ہے جو تم پر حملہ آور ہوا چاہتا ہے، تو تم میری تصدیق کرو گے؟ انہوں نے کہا، کیوں نہیں۔ ہم نے کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھوٹا نہیں پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر میں تمہیں ایک بڑے عذاب سے ڈرانے آیا ہوں۔(اگر تم کفرو شرک میں مبتلا رہے) یہ سن کر ابو لہب نے کہا تباً لنا تیرے لیے ہلاکت ہو، کیا تو نے ہمیں اس لیے جمع کیا تھا؟جس پر اللہ تعالٰی نے یہ سورۃ نازل فرما دی۔(صحیح بخاری، تفسیر سورۃ تبت ) ابو لہب کا اصل نام عبدالعزیٰ تھا، اپنے حسن جمال اور چہرے کی سرخی کی وجہ سے اسے ابو لہب (شعلہ فروزاں) کہا جاتا تھا۔ علاوہ ازیں اپنے انجام کے اعتبار سے بھی اسے جہنم کی آگ کا ایندھن بننا تھا ۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حقیقی چچا تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا شدید دشمن تھا اور اس کی بیوی ام جمیل بنت حرب بھی دشمنی میں اپنے خاوند سے کم نہ تھی۔
    تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ ﴿١﴾
    ابو لہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ (خود) ہلاک ہوگیا (١)
    ١۔١ یدا، ید (ہاتھ) کا تثنیہ ہے، مراد اس سے اس کا نفس ہے، جز بول کر کل مراد لیا گیا ہے یعنی ہلاک اور برباد ہو جائے یہ بد دعا ان الفاظ کے جواب میں ہے جو اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق غصے اور عداوت میں بولے تھے۔ وَ تَبَّ (اور وہ ہلاک ہوگیا) یہ خبر ہے یعنی بد دعا کے ساتھ ہی اللہ نے اس کی ہلاکت اور بربادی کی خبر دے دی،چنانچہ جنگ بدر کے چند روز بعد یہ عدسیہ بیماری میں مبتلا ہوگیا، جس میں طاعون کی طرح گلٹی سی نکلتی ہے، اسی میں اس کی موت واقع ہوگئی۔ تین دن تک اسکی لاش یوں ہی پڑی رہی، حتیٰ کہ سخت بدبو دار ہوگئی۔ بالآخر اس کے لڑکوں نے بیماری کے پھیلنے اور عار کے خوف سے، اس کے جسم پر دور سے ہی پتھر اور مٹی ڈال کر اسے دفنا دیا۔(ایسر التفاسیر)
     
  7. ‏مارچ 20، 2014 #4657
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    مَا أَغْنَىٰ عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ ﴿٢﴾
    نہ تو اس کا مال اس کے کام آیا اور نہ اس کی کمائی۔ (١)
    ۲۔۱کمائی میں اس کی رئیسانہ حثییت اور جاہ ومنصب اور اس کی اولاد بھی شامل ہے یعنی جب اللہ کی گرفت آئی تو کوئی چیز اس کے کام نہ آئی۔
     
  8. ‏مارچ 20، 2014 #4658
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    سَيَصْلَىٰ نَارً‌ا ذَاتَ لَهَبٍ ﴿٣﴾
    وہ عنقریب بھڑکنے والی آگ میں جائے گا۔
    وَامْرَ‌أَتُهُ حَمَّالَةَ الْحَطَبِ ﴿٤﴾
    اور اس کی بیوی بھی (جائے گی) جو لکڑیاں ڈھونے والی ہے (١)
    ٤۔١ یعنی جہنم میں یہ اپنے خاوند کی آگ پر لکڑیاں لا لا کر ڈالے گی، تاکہ مزید آگ بھڑکے۔ یہ اللہ کی طرف سے ہوگا۔ یعنی جس طرح یہ دنیا میں اپنے خاوند کی، اس کے کفر وعناد میں مددگار تھی آخرت میں بھی عذاب میں اس کی مددگار ہوگی۔ (ابن کثیر) بعض کہتے ہیں کہ وہ کانٹے دار جھاڑیاں ڈھو ڈھو کر لاتی اور نبی کریم کے راستے میں لا کر بچھا دیتی تھی۔ اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اس کی چغل خوری کی عادت کی طرف اشارہ ہے۔ چغل خوری کے لیے یہ عربی محاورہ ہے۔ یہ کفار قریش کے پاس جا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی غیبت کرتی اور انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عداوت پر اکساتی تھی۔(فتح الباری)
     
  9. ‏مارچ 20، 2014 #4659
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    فِي جِيدِهَا حَبْلٌ مِّن مَّسَدٍ ﴿٥﴾
    اس کی گردن میں پوست کھجور کی بٹی ہوئی رسی ہوگی۔
    جید گردن۔ مسد، مضبوط بٹی ہوئی رسی۔ وہ مونج کی یا کھجور کی پوست کی ہو یا آہنی تاروں کی۔ جیسا کہ مختلف لوگوں نے اس کا ترجمہ کیا ہے بعض نے کہا ہے کہ یہ وہ دنیا میں ڈالے رکھتی تھی جسے بیان کیا گیا ہے۔ لیکن زیادہ صحیح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ جہنم میں اس کے گلے میں جو طوق ہوگا، وہ آہنی تاروں سے بٹا ہوا ہوگا۔ مسد سے تشبیہ اس کی شدت اور مضبوطی کو واضح کرنے کے لیے دی گئی ہے۔
     
  10. ‏مارچ 20، 2014 #4660
    محمد نعیم یونس

    محمد نعیم یونس خاص رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏اپریل 27، 2013
    پیغامات:
    26,402
    موصول شکریہ جات:
    6,600
    تمغے کے پوائنٹ:
    1,207

    سورة الإخلاص

    (سورة الإخلاص ۔ سورہ نمبر ۱۱۲ ۔ تعداد آیات ٤)​
    بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
    شروع کرتا ہوں میں اللہ تعالٰی کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
    "*یہ مختصر سی سورت بڑی فضیلت کی حامل ہے، اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ثلث (ایک تہائی ۱/۳) قرآن قرار دیا ہے اور اسے رات کو پڑھنے کی ترغیب دی ہے۔(بخاری) بعض صحابہ رضی اللہ ہر رکعت میں دیگر سورتوں کے ساتھ اسے بھی ضرور پڑھتے تھے، جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا"تمہاری اس کے ساتھ محبت تمہیں جنت میں داخل کردے گی"(بخاری) اس کا سبب نزول یہ بیان کیا گیا ہے کہ مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اپنے رب کا نسب بیان کرو۔(مسند احمد)
    قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ ﴿١﴾
    آپ کہہ دیجئے کہ وہ اللہ تعالٰی ایک (ہی) ہے
    اللَّـهُ الصَّمَدُ ﴿٢﴾
    اللہ تعالٰی بےنیاز ہے (١)
    ٢۔١ یعنی سب اس کے محتاج ہیں، وہ کسی کا محتاج نہیں۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں