1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر عثمانی اور عقائد اہلسنت

'تفسیر قرآن' میں موضوعات آغاز کردہ از مصبور صدیقی, ‏مارچ 11، 2018۔

  1. ‏مارچ 15، 2018 #11
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    اسی مسئلے پر تحقیق کرتے ہوئے میں نے عقائد پڑھے تھے اور اوپر مذکور نتیجے تک پہنچا تھا۔
    اشاعت والوں کے عقیدے کے سلسلے میں دو خرابیاں ہوئی ہیں:
    1۔ ان کا اس حوالے سے عقیدے میں اختلاف ہے۔ ان کے بعض حضرات الگ عقیدہ بیان کرتے ہیں۔ بعض تو اس قدر متشدد ہیں کہ وہ آپ ﷺ کے لیے کسی بھی قسم کی حیات کا انکار کرتے ہیں، ان میں ایک نام احمد سعید چتروڑی صاحب کا بھی لیا جاتا ہے۔
    2۔ ان کا صحیح عقیدہ بھی منقول ہوتے وقت کچھ کا کچھ ہو جاتا ہے۔
    ان دونوں چیزوں کا اثر ان پر لگنے والے فتاوی پر ہوتا ہے۔ کچھ تعصب بھی بیچ میں آتا ہے اور کچھ نبی کریم ﷺ سے بے پناہ محبت بھی معروف عقیدے کے الفاظ تک کو بدلنے کی گنجائش نہیں دیتی۔ ان تمام باتوں کا نتیجہ وہی نکلتا ہے جو آپ کے سامنے ہے۔
    ہم نے زمانہ طالب علمی میں یہ کوشش کی تھی کہ کسی طرح ہم اس اختلاف کی اصل بنیادوں تک پہنچ کر اسے کم سے کم کر سکیں۔ اس کے لیے ایک کتابچہ ہم نے اشاعت والے حضرات کے پاس پہنچایا تھا۔ ایک عہدیدار کے صاحب زادے ہمارے ہم جماعت تھے۔ لیکن ان حضرات نے غالباً اس پر غور نہیں فرمایا۔ کچھ الیکشن کی ہماہمی بھی تھی اور ان کے اجلاس اسی حوالے سے ہو رہے تھے۔ وہ حضرات وقت کی ضروریات سے زیادہ واقف ہوں گے۔ بہرحال معاملہ ختم ہو گیا۔

    مذکورہ بالا عقیدہ مکمل نہیں ہے۔ برزخ کو کون جانتا ہے کہ اس کی شکل کیا ہے اور وہ کہاں واقع ہے؟ کیا معلوم کہ یہ دنیوی قبر ہی برزخ کا حصہ بھی ہو۔انسان جب سوتا ہے تو روحانی طور پر وہ بہت کچھ دیکھ آتا ہے لیکن اس کے جسم سے اس کا ایسا تعلق ہوتا ہے کہ وہ تمام دیکھی ہوئی چیزوں کا اثر محسوس کرتا ہے۔ بسا اوقات مشقت والے خواب دیکھنے کے بعد جب انسان جاگتا ہے تو وہ خود کو تھکا ہوا محسوس کرتا ہے۔ اس مذکورہ عقیدے میں اس بات کی وضاحت ہی نہیں ہے کہ نبی کریم ﷺ کی روح مبارک کا ان کے جسم اطہر سے کوئی تعلق ہے یا نہیں اور جسد مبارک ان انعامات کو محسوس کرتا ہے جو آپ ﷺ کو عطا ہوتے ہیں یا نہیں؟ آپ ﷺ سلام کو سنتے ہیں یا نہیں اور آپ پر پیش کیا جاتا ہے یا نہیں؟
    جتنا عقیدہ مذکور ہے یہ تو تقریباً قائلین حیات اور قائلین ممات کا ایک جیسا ہی ہے، الفاظ اور تعبیر کا فرق ہے۔
    آپ نے جو یہ کہا ہے:

    اس کا تعلق پورے عقیدے سے ہے۔ اس کے پہلے دو جملوں میں اس طرف خفیف سا اشارہ موجود ہے لیکن وضاحت نہیں ہے۔
     
  2. ‏مارچ 15، 2018 #12
    علی معاویہ بھائی بھائی

    علی معاویہ بھائی بھائی رکن
    شمولیت:
    ‏مئی 05، 2014
    پیغامات:
    196
    موصول شکریہ جات:
    40
    تمغے کے پوائنٹ:
    81

    میرے انتہائی مکرم و محترم اشماریہ صاحب
    غالبا آپ نے توجہ سے اشاعت توحید والوں کا مسلک نہیں پڑھا ؟ آپ ان کے بعض علماء کی بات نہ کریں یہ ان کے اکابریں جماعت کا متفقہ مسلک ہے جس پر اس وقت کے 50 علماء کرام کے دستخط موجود ہیں ۔ صاحب انوارالباری صاحب تسکین الصدور نے اسے ادھورا عقیدہ نہیں کہا خر کیوں ؟؟؟ ان کے مقابلہ میں ایک احمد سعید کی بات یا نظریہ کی کوئی وقعت نہیں ہونی چاہئیے

    کیا ان سب علماء کرام نے اپنا مسلک و عقیدہ ادھورا لکھا ہے


    مولانا ظفر احمد عثمانی صاحب کا نظریہ پڑہیں

    جو حیات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت حاصل ہے وہ دوسری قسم کی حیات ہے جو دنیاوی حیات کی جنس سے نہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حیات دنیویہ کے اعتبار سے میت ہیں اوراس برزخی حیات کے ساتھ زندہ ہیں جو اس دنیا بھی حیات سے الگ ہے

    اعلاء السنن جلد 17 صفحہ 272

    مفتی عبدالکریم گمتھلوی کا نظریہ پڑھیں

    انبیاء علیہ السلام کی حیات بعدالموت حیات برزخیہ ہے ۔ جو دوسری اموات کی حیات برزخیہ سے اقوی ا شد ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    امداد الاحکام جلد 1 صفحہ 250

    مفتی مہدی حسن صاحب کا فتوی پڑھیں

    محققین اکابر کی تحقیق ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم حیات برزخی حاصل ہے ، جو اس حیات دنیاوی سے بدرجہا بڑھ چڑھ

    کر ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ظاہر احادیث سے حیات دنیویہ ثابت ہوتی ہے ، مگر بحالت موجودہ اقوی اور قوی تر ہے ۔
    دونوں قول موجود ہے راجح اول ھے (یعنی برخی حیات کا) ۔

    ماہنامہ تعلیم القرآن اپریل 1958 صفحہ 41

    مولانا محمد اشرف علی تھانوی کا نظریہ پڑھیں

    امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک خاص حیات بعد وفات کے بھی بھی مسلم ہے صحابہ رضی اللہ عنہ بھی اس سے واقف تھے گو وہ حیات اس حیات کے مثل نہیں ہے بلکہ حیات برزخیہ ہے

    مواعظ اشرفیہ صفحہ 446

    مفتی کفایت اللہ صاحب دہلوی کا فتوی

    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک قسم کی حیات برزخی حاصل ہے جس کی کیفیت خدا تعالیٰ ہی جانتا ہے لیکن حیات دنیوی کہنا خلاف اہلسنت والجماعت ہیں

    تسکین الصدور صفحہ 276 طبع دوم

    ڈاکٹر خالد محمود صاحب کا نظریہ پڑھیں

    ہم شہداء اور انبیاء کو اس عالم (دنیا) میں نہیں اگلے جہان (عالم برزخ) میں زندہ مانتے ہیں ۔ انتقال دارین ہوچکا ہے اور اب یہ حضرات اس عالم کے افراد نہیں ،اس جہان کے رہنے والے ہیں

    مقام حیات صفحہ 130

    مفتی محمد شفیع صاحب کا نظریہ

    حٰیات دنیاوی ظاہری کا تو دنیا میں کوئی بھی قائل نہیں ، قرآن پاک کی اتنی صریح مخالفت کو مسلمان کر سکتا ہے َ؟ جو بھی قائل ہیں حیات برزخی ہی کے قائل ہیں ۔

    مقام حیات صفحہ 236 طبع دوم
    کیا ان سب نے اپنا عقیدہ ادھورا لکھا ہے
    ابھی کچھ لکھنا باقی ہے




    ؀릍Ȕᘀ릵ȓ
     
  3. ‏مارچ 15، 2018 #13
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    میرے پیارے بھائی آپ نے مجھ سے یہ پوچھا تھا کہ ان پر اس قسم کے فتوے کیوں لگائے جاتے ہیں؟ تو میں نے اسی تناظر میں آپ کو بتایا ہے کہ یہ عقیدہ یہاں تک مکمل نہیں ہے جس پر فتوی لگتا ہے۔ یہاں تک تو عقیدہ متفقہ ہے اور تعبیر مختلف ہے۔ اس سے اگلے مسائل کی بنیاد پر سب حکم لگائے جاتے ہیں۔
    اگر آپ مزید کچھ حوالہ جات بھی نقل فرما دیں گے تو اس سے کیا فائدہ ہوگا؟ اس سے بہتر ہے کہ آپ یہ سمجھ لیں کہ ہم کس چیز کی بات کر رہے ہیں۔

    اگر کوئی لا الہ الا اللہ کہتا ہے تو بذات خود یہ کوئی ادھورا عقیدہ نہیں ہے۔ لیکن اگر فتوی محمد رسول اللہ کہنے اور نہ کہنے پر لگ رہا ہے تو پھر ہم اس کی بات کریں گے اور صرف لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر فتوی یا فتوے کی وجہ پوچھنے والے کو یہی کہیں گے کہ آگے کی بات کریں۔
     
  4. ‏دسمبر 17، 2018 #14
    raisrow

    raisrow مبتدی
    شمولیت:
    ‏اکتوبر 09، 2018
    پیغامات:
    2
    موصول شکریہ جات:
    1
    تمغے کے پوائنٹ:
    6

    محترم و مکرم اشماریہ صاحب میں آپکی تحقیق سے انتہائی درجہ میں متاثر ہوا.. اللہ آپکو جزائے خیر دے.. جس طرح سے آپنے بات سمجھانے کی کوشش کی ہے شاید پہلے اس طرح کسی سے نہیں سنا ہےاور ماشاءاللہ آپکے جوابات بہت مدلل ہوتے ہیں.. اللہ جزائے خیر دے.. محترم آپ سے گزارش ہے کہ عقیدہ سلف صالحین پر کسی ایسے کتاب کا نام بتائیں جو تشفی بخش ہو آپکی نظر میں.. میں انتہائی مشکور رہوں گا

    Sent from my Redmi Note 4 using Tapatalk
     
  5. ‏جنوری 10، 2019 #15
    اشماریہ

    اشماریہ سینئر رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏دسمبر 15، 2013
    پیغامات:
    2,684
    موصول شکریہ جات:
    740
    تمغے کے پوائنٹ:
    290

    جزاک اللہ خیرا۔ اگر مختصراً کوئی رسالہ دیکھنا چاہیں تو امام طحاویؒ کی العقیدۃ الطحاویہ دیکھ لیں۔ ایک عام شخص کو غالباً اس سے زیادہ ضرورت نہیں ہوتی۔ اور اگر مزید تفصیل چاہیے ہو تو پھر مختلف کتب ہیں۔
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں