1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔
  2. آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

تفسیر

'جدید فقہی مسائل' میں موضوعات آغاز کردہ از Naeem Mukhtar, ‏اگست 19، 2016۔

  1. ‏اگست 19، 2016 #1
    Naeem Mukhtar

    Naeem Mukhtar رکن
    جگہ:
    جدہ سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏اپریل 13، 2016
    پیغامات:
    81
    موصول شکریہ جات:
    25
    تمغے کے پوائنٹ:
    32

    یا معشر الجن والإنس إن استطعتم أن تنفذوا من أقطار السماوات والأرض فانفذوا لا تنفذون إلا بسلطان .

    السلام علیکم مجھے اس آیت کی تفسیر درکار ہے تفصیل سے۔۔

    Sent from my SM-J500F using Tapatalk
     
  2. ‏اگست 19، 2016 #2
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    6,372
    موصول شکریہ جات:
    2,404
    تمغے کے پوائنٹ:
    791

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    ( يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ تَنْفُذُوا مِنْ أَقْطَارِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ فَانْفُذُوا لَا تَنْفُذُونَ إِلَّا بِسُلْطَانٍ (سورہ الرحمن 33)
    ترجمہ : اے گروہِ جن و انس ! اگر تم آسمانوں اور زمین کی سرحدوں سے نکل سکتے ہو تو نکل جاؤ۔ نہیں نکل سکتے بغیر اختیار کے۔
    توضیح :
    ٣١۔۔ آسمانوں اور زمین کی سرحدوں سے مراد اس عالم کے حدود ہیں اور انسان اور جن مجبور ہیں کہ وہ اسی عالم میں رہیں۔ آسمان میں جن پرواز کرتے ہیں اور اب انسان بھی خلا میں پرواز کر رہا ہے مگر ان کی یہ پرواز اس عالم کی سرحدوں سے باہر نہیں ہے۔ وہ اس عالم کے باہر کہیں نہیں جاسکتے۔ اگر جاسکتے ہیں تو اس صورت میں جب کہ انہیں اللہ تعالیٰ اس کا اختیار بخشے۔
    بالفاظ دیگر اللہ کی طرف سے اس کا پروانہ (پاسپورٹ) مل جائے۔ مقصود یہاں انسانوں اور جنوں کی بے بسی کو ظاہر کرنا ہے کہ جب وہ اللہ کی بنائی ہوئی اسی دنیا میں رہنے کے لیے مجبور ہیں تو پھر اس سے بغاوت کر کے انہیں کہاں پناہ مل سکتی ہے؟

    یہاں اس شبہ کا بھی ازالہ ہونا چاہیے کہ انسان نے خلا میں پہنچ کر زمین کے اقطار (حدود) سے نکلنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
    آیت میں زمین سے پہلے آسمانوں کا ذکر ہوا ہے چنانچہ اقطار السمٰوٰت والارض (آسمانوں اور زمین کے حدود) فرمایا گیا ہے اور مراد بحیثیت مجموعی یہ عالم رنگ و بو ہے ورنہ اگر زمین کی کشش سے باہر خلا میں نکل جانا مراد ہوتا تو یہ چیلنج جنوں کو کیس کیا جاسکتا تھا جو پہلے ہی سے اوپر پرواز کرتے رہے ہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    علامہ عبد الرحمن کیلانیؒ تفسیر تیسیر القرآن میں لکھتے ہیں :
    نفذ کا لغوی مفہوم :۔ نفذ بمعنی آر پار نکل جانا۔ جیسے لوہے کی سلاخ کے ایک سرے کو آگ پر گرم کیا جائے تو تھوڑی دیر بعد حرارت دوسرے سرے تک از خود جا پہنچتی ہے۔ اور نفاذ بمعنی قوت سے کسی چیز کا اجراء ہونا، جیسے کہتے ہیں کہ اس ملک میں کل سے فلاں فلاں قانون نافذ ہوچکا ہے اور بمعنی چیز کا بسرعت داخل ہونا اور آر پار ہوجانا۔ جیسے برقی رو آر پار نکل جاتی ہے۔
    [٢٣] سُلْطٰنٍ بمعنی غلبہ اور شدید قوت بھی اور اتھارٹی لیٹر یا پروانہ راہداری بھی۔ اب اگر اس آیت کا اطلاق اس مادی دنیا پر کیا جائے، تو مطلب یہ ہوگا کہ زمین و آسمان کے کناروں تک پہنچنے کے لیے انتہائی قوت کی ضرورت ہے، جیسے انسان چاند پر، جو زمین کا سب سے قریبی سیارچہ ہے، پہنچنے میں کامیاب ہوا ہے اور اس کے لیے انتہائی قوت اور بل بوتے کی ضرورت ہے۔
    اور اتنا بل بوتا تم میں کبھی نہیں آسکتا کہ تم (مِنْ اَقْـطَار السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ 33۝ۚ) 55۔ الرحمن :33) کو پھاند سکو۔ اور اگر تم چاہو تو زور لگا کے دیکھ سکتے ہو۔ اور اگر اس آیت کا ربط سابقہ آیت یعنی حساب کتاب سے ملایا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ حساب کتاب اور اللہ کی گرفت سے تم میں سے کوئی شخص بھی ادھر ادھر بھاگ کر بچ نہیں سکتا الا یہ کہ کسی کو جنت کا پروانہ مل جائے۔ اس صورت میں اسے بھاگنے کی ضرورت ہی نہ رہے گی۔‘‘
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اور حافظ صلاح الدین یوسف صاحب لکھتے ہیں :
    ’’ یعنی اگر اللہ کی تقدیر اور قضا سے تم بھاگ کر کہیں جاسکتے ہو تو چلے جاؤ لیکن یہ طاقت کس میں ہے؟
    اور بھاگ کر آخر کہاں جائے گا کون سی جگہ ایسی ہے، جو اللہ کے اختیار سے باہر ہو، بعض نے کہا کہ یہ میدان محشر میں کہا جائے گا، جبکہ فرشتے ہر طرف سے لوگوں کو گھیر رکھے ہونگے۔ دونوں ہی مفہوم اپنی اپنی جگہ صحیح ہیں۔ ‘‘
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ۔۔
    والسبب في تقديم الجن على الإنس في هذه الآية: أن النفوذ من أقطار السموات والأرض بالجن أليق إن أمكن.
    اور جنوں کو انسانوں سے پہلے ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اگر زمین و آسمان کی حدود سے نکلنا ممکن ہوتا تو انسانوں کی نسبت جن اس کام کے لائق تھے ،
     
    Last edited: ‏اگست 19، 2016
    • شکریہ شکریہ x 2
    • علمی علمی x 1
    • لسٹ
  3. ‏اگست 19، 2016 #3
    محمد طارق عبداللہ

    محمد طارق عبداللہ سینئر رکن
    جگہ:
    ممبئی - مہاراشٹرا
    شمولیت:
    ‏ستمبر 21، 2015
    پیغامات:
    2,538
    موصول شکریہ جات:
    731
    تمغے کے پوائنٹ:
    276

    جزاک اللہ خیرا استاذ محترم
     
  4. ‏اگست 19، 2016 #4
    Naeem Mukhtar

    Naeem Mukhtar رکن
    جگہ:
    جدہ سعودی عرب
    شمولیت:
    ‏اپریل 13، 2016
    پیغامات:
    81
    موصول شکریہ جات:
    25
    تمغے کے پوائنٹ:
    32

    جزاکم اللہ خیرا۔۔۔ اسحاق بھائی آپ نے جو تفسیر پیش کی ہے۔۔ میرے اندازے کے مطابق بلکل ٹھیک ہے۔۔ اسلاف اور دور جدید کے علوم کی روشنی میں بہت موزوں ہے۔۔ ۔۔۔

    اللہ پاک آپ کے علم اور عمل میں برکت عطا فرمائے۔۔۔

    Sent from my SM-J500F using Tapatalk
     
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں