1. آئیے اہم اسلامی کتب کو یونیکوڈ میں انٹرنیٹ پر پیش کرنے کے لئے مل جل کر آن لائن ٹائپنگ کریں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ کے ذریعے آپ روزانہ فقط دس پندرہ منٹ ٹائپنگ کر کے ہزاروں صفحات پر مشتمل اہم ترین کتب کو ٹائپ کرنے میں اہم کردار ادا کرکے صدقہ جاریہ میں شامل ہو سکتے ہیں۔ محدث ٹائپنگ پراجیکٹ میں شمولیت کے لئے یہاں کلک کریں۔۔
  2. محدث ٹیم منہج سلف پر لکھی گئی کتبِ فتاویٰ کو یونیکوڈائز کروانے کا خیال رکھتی ہے، اور الحمدللہ اس پر کام شروع بھی کرایا جا چکا ہے۔ اور پھر ان تمام کتب فتاویٰ کو محدث فتویٰ سائٹ پہ اپلوڈ بھی کردیا جائے گا۔ اس صدقہ جاریہ میں محدث ٹیم کے ساتھ تعاون کیجیے! ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔ ۔

تفقہ کا صحیح مفہوم

'فقہ' میں موضوعات آغاز کردہ از عدیل سلفی, ‏مئی 28، 2017۔

  1. ‏مئی 28، 2017 #1
    عدیل سلفی

    عدیل سلفی مشہور رکن
    جگہ:
    کراچی
    شمولیت:
    ‏اپریل 21، 2014
    پیغامات:
    1,256
    موصول شکریہ جات:
    343
    تمغے کے پوائنٹ:
    147

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    اہل علم سے درخواست ہے کیا فقہ کی یہ تعریف صحیح ہے

    الفقه : هو التوصل إلى علم غائب بعلم شاهد، فقہ کا لفظی معنی ہے ظاہری علم سے مخفی علم تک رسائی حاصل کرنا ليكن قرآن و حدیث میں علم شریعت پر فقہ کا لفظ بولا گیا ہے اور اس اعتبار سے ہر عالم دین فقیہ ہے آیت قرآنی (ليتفقهوا في الدين) (کہ وہ دین کا علم اور اس میں تفقہ حاصل کریں) اور حدیث میں ہے (من يرد الله به خيرا يفقهه في الدين) (اللہ تعالی جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کا علم اور فہم عطا کردیتا ہے) سے یہی علم فقہ یعنی علم شریعت مراد ہے کیونکہ جس دور میں یہ آیت نازل ہوئی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ارشاد فرمایا اس وقت مروجہ فقہوں کا کوئی وجود نہیں تھا اس لیے اس آیت و حدیث سے اصطلاحی فقہ مراد نہیں لی جاسکتی جو شریعت اور غیر شریعت یعنی قرآن و حدیث اور اقوال و افکار آئمہ دونوں کا مجموعہ ہے
     
  2. ‏مئی 28، 2017 #2
    ابن داود

    ابن داود سینئر رکن رکن انتظامیہ
    شمولیت:
    ‏نومبر 08، 2011
    پیغامات:
    2,745
    موصول شکریہ جات:
    2,470
    تمغے کے پوائنٹ:
    489

    السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
    تفصیل تو ان شاءا للہ شیوخ بتلائیں گے، مجھے اس جملہ پر اشکال ہے!
    اگر صرف قرآن و سنت کا متن ہی فقہ کہلائے، قرآن کی کسی آیت سے استنباط و استدالال کرنے والا امتی استدلال و استنباط کی بناء پر کسی اخذ کردہ مسئلہ کو اپنے الفاظ میں ہی بیان کرے گا، لا محالہ یہ الفاظ قرآن و حدیث کا متن تو نہ ہوں گے! اب اسے فقہ کیوں نہیں کہا جائے گا۔ یہ الگ بات ہے کہ اس مسئلہ کے استخراج میں غلطی ہو گئی ہو، تو اس کی فہم و فقہ غلط قرار پائے گی! اور صواب پر ہے تو شریعت کے موافق ہے!
    اور یہی معاملہ تمام فقہی مسائل و اقوال کا ہے، خواہ وہ فقہائے حنابلہ کے اقوال ہوں یا فقہائے شافعیہ کے!
    یوں کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ شریعت قرآن وحدیث میں محصور ہے، اور فقہ اور فقہی اقوال شریعت کے موافق بھی ہیں اور بوجہ خطا شریعت کے مخالف بھی!
    اور جب یہ آیت نازل ہو ئی تھی، اس وقت جو فقہاء مسئلہ اخذ کرتے، تو کیا ان کی فقہ قرآن و حدیث قرار پاتی ہے!
    ہم احادیث سے جانتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کا غسل کے لئے مٹی میں لیٹنے لوٹنے کی فقہ کو غلط قرار دیا تھا!
    فقہی مسئلہ میں خطا ہو جانا تو صحابہ سے بھی بعید نہیں! جیسا کہ ایک مثال ابھی بیان کی!
    تفصیلی جواب کے لئے شیوخ کا انتظار کرتے ہیں!
     
    Last edited: ‏مئی 28، 2017
    • متفق متفق x 2
    • مفید مفید x 1
    • لسٹ
  3. ‏مئی 28، 2017 #3
    اسحاق سلفی

    اسحاق سلفی فعال رکن رکن انتظامیہ
    جگہ:
    اٹک ، پاکستان
    شمولیت:
    ‏اگست 25، 2014
    پیغامات:
    4,670
    موصول شکریہ جات:
    2,014
    تمغے کے پوائنٹ:
    650

    وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
    اس سوال کے جواب کیلئے آپ محترم بھائی @محمد نعیم یونس صاحب کا قائم کردہ تھریڈ ( فقہ کا معنی و مفہوم ) ملاحظہ فرمائیں ؛
    ان شاء اللہ مفید تفصیل ملے گی ۔
     
    • پسند پسند x 2
    • زبردست زبردست x 1
    • لسٹ
لوڈ کرتے ہوئے...

اس صفحے کو مشتہر کریں